ڈاکٹر محمد فاروق
آج مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ‘ نظریات کی متحرک روایت اور آئینی اقدار جس خوفناک اور ہولناک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہیں‘ یہ صرف اقتدار کی تبدیلی کا قصہ نہیں ہےبلکہ یہ ان فریب کاریوں‘ اصولی سودے بازیوں اور ہوس اقتدار کا وہ عبرت ناک و منطقی انجام ہے‘ جس کا زہریلا بیج دہائیوں پہلے بویا گیا تھا۔
شوبھندو ادھیکاری کی قیادت میں 9 مئی 2026 کو قائم ہونے والی بی جے پی حکومت نے آج 19 اگست 2026 کو 100 دن پورے کر لئے ہیں۔ یہ پہلے 100 دن اس ریاست کے آئینی‘ معاشی اور ملی وجود پر فاشزم کے باقاعدہ غلبے‘ مسلم دشمن ایجنڈے کے سرکاری نفاذ اور ایک زندہ قوم کی دینی و معاشی شناخت کو مٹانے کے ایک منظم منصوبے کا بھیانک ترین دیباچہ ثابت ہوئے ہیں۔
3کروڑسے زائد نفوس پر مشتمل مسلم اقلیت‘جو ریاست کی کل آبادی کا تقریباً 30 حصہ ہے‘کو جس ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی نے اپنے عروج کی خاطر ’خوف کا سیاسی قیدی‘ بنائے رکھا اور ’سیکولرازم‘ کے دلفریب و مصنوعی نقاب تلے ان کا بدمعاشانہ استحصال کیا‘ آج وہی سیاسی صف بندی اپنے ہی تراشے ہوئے کانٹوں کی فصل کاٹ رہی ہے۔ بائیں بازو اور روایتی اپوزیشن کا بیخ و بن سے صفایا کر کے جو سیاسی خلا پیدا کیا گیا‘ اس نے سنگھ پریوار اور فاشسٹ قوتوں کیلئے اقتدار کا دہانہ کھول دیا۔ ممتا حکومت کی دہائیوں پر محیط منافقانہ سیاست‘ تعلیمی و معاشی حقوق سے مسلسل محرومی اور مسلمانوں کو محض یرغمال ووٹ بینک بنائے رکھنے کی بزدلانہ حکمت عملی نے آخر کار ریاست کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ’تُشٹی کرن‘ (مسلم خوشامد) کے الزامات کی آڑ لے کر مسلمانوں کے آئینی‘ شہری اور مذہبی حقوق کا سرعام قتل کیا جا رہا ہے۔
شوبھندو حکومت کے ان پہلے 100 دنوں کے دوران مسلم مخالف ایجنڈے کو ریاست کا باقاعدہ قانون اور سرکاری پالیسی بنا کر نافذ کیا جا رہا ہے۔’مذہب دیکھ کر مالی امداد دینے کا دور مغربی بنگال سے اب جا چکا ہے‘جیسے زہریلے اور نفرت انگیز نعروں کی آڑ میں اقلیتوں کو ملنے والی تمام تر سرکاری سہولیات‘ گرانٹس اور فلاحی مراعات پر مکمل جھاڑو پھیر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی‘ آیوشمان بھارت اور پردھان منتری آواس یوجنا جیسی اہم مرکزی اسکیموں کی بنگال میں عدم شمولیت کا سارا ملبہ بھی نام نہاد ’مسلم خوشامد‘ پر ڈال کر اقلیتی طبقے کو ہی ریاستی سطح پر مجرم اور طفیلیا بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔
مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور شعائر اسلام پر کاری ضرب لگاتے ہوئے مساجد کے میناروں سے بلند ہونے والی اذان کی آوازوں کو لاؤڈ اسپیکر کی پابندی کے نام پر انتظامی جبر سے دبایا جا رہا ہے۔ چوراہوں اور سڑکوں پر ٹریفک کے نظم و ضبط کا بہانہ بنا کر نماز کی ادائیگی پر مکمل‘ سخت اور بے لچک انتظامی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخی ریڈ روڈ پر قائم سالہا سال کی روایتی نماز عید اور جمعہ کے عظیم الشان اجتماعات‘ جہاں سابقہ حکومت میں سیاسی لیڈران اپنے مفاد کیلئے موجود رہتے تھے‘ اب 2026 کے بعد سے ریاستی فورسز اور ڈنڈے کے بل بوتے پر قطعی طور پر ختم کر دیئے گئے ہیں۔
دوسری طرف‘’’ڈیٹیکٹ‘ ڈیلیٹ‘ ڈیپورٹ‘‘ (تلاش کرو‘ ووٹر لسٹ سے نام کاٹو اور ملک بدر کرو) کے جارحانہ ایجنڈے کو حکومت اپنی سب سے بڑی شاندار کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس قانونی کارروائی کی آڑ میں مسلم شہریوں کی حب الوطنی اور شہریت پر سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش سرحد پر بارڈر سیکیورٹی فورس کو نام نہاد دراندازی روکنے کیئےآنکھیں بند کر کے وسیع پیمانے پر زمینیں فراہم کی جا رہی ہیں اور باڑ لگانے کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ سرحدی اضلاع کے مسلمان ہر لمحہ خوف‘ ہراسانی اور بے دخلی کے سائے میں جینے پر مجبور ہو جائیں۔
ذبیحۂ گاؤ پر مکمل پابندی‘ مویشیوں کی نقل و حمل کے نام پر گئو رکشکوں کے دہشت گرد گروہوں کو نام نہاد قانونی چھتری کی فراہمی اور اقلیتی تاجروں پر معاشی لشکر کشی اب ریاست کا نیا معمول بن چکی ہے۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک سازش وہ قانون سازی اور انتظامی طریقہ کار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو زمین اور جائیداد کی خریداری سے یکسر محروم کرنا ہے۔ مختلف شہری و دیہی محکموں کے ذریعے زمین کی منتقلی کے ایسے پیچیدہ ضوابط اور بیع نامے پر نام نہاد سیکیورٹی کلیئرنس کا شرطیہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی مسلمان جائیداد نہ خرید سکیں اور معاشی طور پر مفلوج ہو کر اپنے ہی وطن میں پناہ گزین بن کر رہ جائیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ یونیفارم سول کوڈ کا ڈرافٹ بل اسمبلی کے فلور پر لانے کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے‘ جس کے ذریعے مسلم پرسنل لا‘ نکاح‘ طلاق اور وراثت کے شرعی قوانین اور مسلمانوں کی آئینی ضمانتوں پر آخری وار کیا جائے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی شناخت اور وجود کے بحران پر سمجھوتہ کرتی ہیں‘ تو جغرافیے سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جاتا ہے۔ بنگال کے مسلمانوں کو اب اپنی سیاسی‘ معاشی اور نظریاتی خود مختاری کا آخری اور حتمی معرکہ لڑنا ہوگا۔ترنمول کانگریس اور اس کے ضمیر فروش مسلم کاسہ لیسوں کا ڈرامہ اب ختم ہو چکا ہے۔ اگر مسلمانوں پر سے اب بھی غفلت کا سحر نہ ٹوٹا‘ اگر ان سیاسی بازی گروں کا گریبان پکڑ کرحساب نہ مانگا گیا اور اگرمسلمان‘ شوبھندو حکومت کے اس فاشسٹ اور مسلم دشمن ایجنڈے کے سامنے ہمالیائی چٹان بن کر کھڑے نہ ہوئےتواس ریاست سے مسلمانوں کاوجود‘ ان کی تاریخ اوران کی آنے والی نسلوں کا دینی و معاشی نام و نشان حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے گا۔
