نمائندہ تصویر | دھوبری، آسام میں غیر ملکیوں کا ٹربیونل۔ |
گوہاٹی :انصاف نیوز آن لائن
گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ بنگالی نژاد مسلم خاتون ممتاز بیگم کو بنگلہ دیش بھیجے جانے کے معاملے میں لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی عدالت نے کسی شخص کو ملک بدری کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنگلہ دیش بھیجے جانے پر ریاستی حکومت پر معاوضہ عائد کیا ہے۔
ممتاز بیگم کے اہل خانہ کو اس وقت معلوم ہوا کہ انہیں زبردستی ملک سے باہر بھیج دیا گیا ہے جب انہوں نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں ہیبیئس کارپس درخواست دائر کی۔
ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں وزارت خارجہ کو بھی فریق بنایا اور کہا کہ وہ اسے ہدایت دے گی کہ’’بنگلہ دیش میں خاتون کا سراغ لگانے اور انہیں ہندوستان واپس لانے کی کوشش کی جائے۔‘‘
عدالت نے ممتاز بیگم کو ملک سے نکالے جانے میں ناگاؤں فارنرز ٹریبونل کے کردار پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ہیبیئس کارپس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے جسٹس کلیان رائے سرانا اور جسٹس سسمیتا پھوکن کھاؤنڈ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ٹریبونل کی جانب سے قانون کے معاملے میں بدنیتی کا عنصر موجود ہے۔‘‘فارنرز ٹریبونلز آسام میں قائم نیم عدالتی ادارے ہیں، جو دستاویزی شواہد کی بنیاد پر افراد کی شہریت سے متعلق معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں۔
2019 میں ممتاز بیگم کو غیر ملکی قرار دیا گیا
ناگاؤں فارنرز ٹریبونل نے 2019 میں ممتاز بیگم کو غیر ملکی قرار دیا تھا۔ ٹریبونل کا کہنا تھا کہ وہ یہ ثابت نہیں کر سکیں کہ وہ اپنے والد کی بیٹی ہیں۔تاہم، گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام کی اس بنگالی نژاد مسلم خاتون کے معاملے پر دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ٹریبونل نے فیصلہ کرتے وقت ممتاز بیگم کی جانب سے پیش کیے گئے تمام شواہد کا جائزہ نہیں لیا تھا۔30 مئی کو ممتاز بیگم ہائی کورٹ کی ہدایت پر ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئیں۔ لیکن رپورٹ کے مطابق، ٹریبونل کے جج نے مقدمے پر دوبارہ غور کرنے کے بجائے ممتاز بیگم کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔
چند ہی منٹوں میں انہیں ٹریبونل کے احاطے سے گرفتار کر لیا گیا۔
ان کے وکیلوں نے الزام لگایا کہ انہیں ٹریبونل کے حکم کی نقل تک فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ یہ نقل انہیں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا موقع فراہم کر سکتی تھی۔گزشتہ چار برسوں میں آسام کے فارنرز ٹریبونلز نے تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار افراد کو ہندوستانی شہریت سے محروم قرار دیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس عمل کو متعدد مرتبہ من مانی اور غریب و پسماندہ طبقات کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آسام میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے بعد 1997 میں ممتاز بیگم کو ’ڈی‘ یعنی مشتبہ ووٹرقرار دیا گیا تھا۔ اس عمل کے دوران تقریباً 3 لاکھ ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوگئے تھے۔ان میں سے بہت سے افراد کی طرح ممتاز بیگم کا معاملہ بھی آسام پولیس کی بارڈر برانچ نے فارنرز ٹریبونلز کو بھیج دیا تھا۔آسام کے شہریت کے تعین کے نظام سے ممتاز بیگم کا گزرنا ایک طویل اور انتہائی پریشان کن سفر رہا ہے۔2017 میں ناگاؤں فارنرز ٹریبونل نے فیصلہ دیا کہ وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔ تاہم، ممتاز بیگم نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا گیا۔ممتاز بیگم دوبارہ ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئیں، لیکن اس مرتبہ بھی انہیں غیر ملکی قرار دے دیا گیا۔
2019 میں انہوں نے ایک بار پھر گوہاٹی ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ اسی موقع پر عدالت نے نشاندہی کی کہ ٹریبونل نے ان کی جانب سے پیش کیے گئے تمام شواہد کا جائزہ نہیں لیا تھا اور اسے دوبارہ اپنی رائے دینے کی ہدایت کی۔لیکن 30 مئی کو ٹریبونل نے ایک مرتبہ پھر ممتاز بیگم کو غیر ملکی قرار دے دیا اور ان کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کے میرٹ پر کوئی بحث نہیں کی۔ہائی کورٹ نے ٹریبونل کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جج بیپُل کمار ناتھ نے اس معاملے کو دوبارہ غور کے لیے واپس بھیجے جانے پر ’’ذاتی رنجش‘‘ کا مظاہرہ کیا۔
عدالت نے کہا کہ ممتاز بیگم کو 30 مئی کے حکم کو چیلنج کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، جو( Expulsion from Assam Immigrant 1950 Act)کے تحت مقررہ معیاری طریقۂ کار کی ’’براہ راست خلاف ورزی‘‘ ہے۔اس قانون کے مطابق کسی شخص کو اس وقت تک ملک سے خارج نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنے لیے دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کے راستے استعمال نہ کر لے۔
’’فیصلہ کس تاریخ اور کس وقت لکھا گیا؟‘‘
عدالت نے آسام کے محکمہ داخلہ و سیاسی امور*کو بھی ہدایت دی، جو فارنرز ٹریبونلز کا انتظام دیکھتا ہے، کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ 30 مئی کو ٹریبونل کا حکم کس تاریخ اور کس وقت تحریر کیا گیا تھا۔اگر ضروری ہو تو حکومت کو ٹریبونل کے رکن کا کمپیوٹر قبضے میں لے کر یہ معلوم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی کہ جج نے یہ رائے یا فیصلہ کب تحریر کیا تھا۔ممتاز بیگم کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ 30 مئی کو وہ دوپہر12-30بجے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔اس کے صرف آدھے گھنٹے بعد جُریا پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے انہیں گرفتار کر لیا۔
ٹریبونل کے جج نے اس دعوے کی تردید کی۔
ناگاؤں کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بھی عدالت کو بتایا کہ بارڈر پولیس نے انہیں تقریباً دوپہر 2 بجے ٹریبونل کے احاطے کے قریب سے گرفتارکیا تھا۔تاہم، عدالت نے پولیس اور جج کے بیانات پر سوال اٹھایا۔
عدالت نے کہاکہ ’’اگر معزز ٹریبونل نے ممتاز بیگم کو زبانی طور پر بھی یہ اطلاع دے دی ہوتی کہ انہیں غیر ملکی قرار دیا گیا ہے تو اس بات کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ دوپہر- 30-1بجے سے 2 بجے کے درمیان ٹریبونل کے احاطے یا اس کے آس پاس موجود رہتیں، تاکہ پولیس اہلکار انہیں حراست میں لے سکیں۔‘‘
عدالت نے کہا کہ ٹریبونل کے جج نے ’’جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر‘‘ اپنا حکم جاری کرنے میں تاخیر کی، تاکہ ممتاز بیگم کو گرفتار کیا جا سکے، ناگاؤں ضلع سے نکال کر مٹیا حراستی مرکز منتقل کیا جا سکے اور پھر ملک سے باہر بھیجا جا سکے۔
لہٰذا ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ’’ریاستی مشینری نے باہم مل کر‘‘ ممتاز بیگم کو ’’ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے 30 مئی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے اپنے حق سے فائدہ اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی مکمل کرنے سے روک دیا۔‘‘
آسام حکومت کو 2 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم
عدالت نے کہا کہ ممتاز بیگم کو ’’درخواست گزار یا حراست میں لی گئی خاتون کے کسی بالغ اہل خانہ کو حراست کے بارے میں کوئی اطلاع دیے بغیر ہندوستان سے باہر نکال دیا گیا‘‘، اس لیے عبوری طور پر عدالت نے آسام حکومت کو ہدایت دینے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ درخواست گزار کو 2 لاکھ روپے کا عبوری معاوضہ ادا کرے۔ڈویژن بینچ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کسی فرد کی زندگی اور آزادی اتنی مقدس ہے کہ قانون کے اختیار کے بغیر اس میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔
ہائی کورٹ بنچ نے کہاکہ ’’یہ اصول تمام مہذب ممالک میں تسلیم کیا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ ہمارے آئین کے تحت آرٹیکل 21 نہ صرف ہندوستانی شہریوں بلکہ غیر ملکیوں کو بھی زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔‘‘
عدالت نے ریاست کے ہر ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی ہدایت دی کہ کسی شخص کو ’’اعلان شدہ غیر ملکی‘‘ قرار دے کر حراست میں لینے سے قبل اسے فارنرز ٹریبونل کے اس فیصلے سے آگاہ کیا جائے جو اس کے خلاف دیا گیا ہے۔
عدالت نے کہاکہ ’’ایسے اعلان شدہ غیر ملکیوں کو ضلع پولیس کے دائرۂ اختیار سے باہر منتقل کرنے سے قبل، اس غیر ملکی کے خاندان کے کسی بالغ فرد کو یہ اطلاع دی جانی چاہیے کہ زیرِ حراست شخص کو ان کے دائرۂ اختیار سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔‘‘
’اعلان شدہ غیر ملکیوں‘‘ کے خلاف آسام میں کارروائی
گزشتہ سال مئی میں آسام کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ممتاز بیگم جیسے ’’اعلان شدہ غیر ملکیوں‘‘ کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ ریاست بھر میں ایسے افراد کو ان کے گھروں سے اٹھایا گیا اور رات کے اندھیرے میں زبردستی بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔’’اعلان شدہ غیر ملکی‘‘ عموماً ایسے طویل عرصے سے آسام میں مقیم افراد ہوتے ہیں، جن کے خاندان اور جائیدادیں ریاست میں موجود ہوتی ہیں، لیکن وہ فارنرز ٹریبونلز کے سامنے دستاویزی شواہد کے ذریعے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
