کلکتہ (انصاف نیوز نیٹ ورک):
سرپرست نیوز کے ایڈیٹر محبوب رضا پر گزشتہ رات چند نوجوانوں نے اس وقت اچانک حملہ کر دیا جب وہ وارڈ نمبر 43، ہرن باڑی لین میں مقامی لوگوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق چند نوجوانوں نے پہلے ان کا گھیراؤ کیا اور پھر اچانک مارپیٹ شروع کر دی۔ فوٹیج میں محبوب رضا کو زمین پر گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس واقعے کے بعد محبوب رضا نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے ناخدا مسجد کے نائب امام قاری شفیق کے خلاف رپورٹنگ کیوں کی اور ان پر الزامات کیوں عائد کیے؟ اس کے بعد ان پر تشدد کیا گیا۔
حملے کے بعد محبوب رضا کو کلکتہ میڈیکل کالج و ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا ایکسرے اور ایکو ٹیسٹ کیا گیا۔ محبوب رضا کے جسم پر خون کے دھبے بھی موجود تھے۔ اگرچہ ان کی میڈیکل رپورٹ فی الحال انصاف نیوز نیٹ ورک کو موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کے جسم کے متعدد حصوں میں شدید چوٹیں آئی ہیں، دانت ہل رہے ہیں، ہاتھ میں گہری چوٹ ہے اور سینے میں شدید درد ہے۔ محبوب رضا نے اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن میں شکایت بھی درج کرا دی ہے۔
صحافتی تنظیموں کا ردِعمل
بنگال ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے اس حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔بنگال ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر اور قلم ٹائمز کے ایڈیٹر محمد فاروق نے ‘انصاف نیوز نیٹ ورک’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ رپورٹنگ کے دوران کسی صحافی پر اس نوعیت کا حملہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ہم پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نامزد افراد کے خلاف فوراً کارروائی کی جائے اور حملہ آوروں کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔”
ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور انصاف نیوز نیٹ ورک کے ایڈیٹرنور اللہ جاوید نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ “کسی صحافی کی رپورٹنگ سے اختلاف یا ناراضگی کا اظہار ہر کسی کا حق ہے، لیکن اس کے لیے تشدد کا سہارا لینا قطعی ناقابلِ قبول اور آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ ہے۔ پولیس کو اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرنی چاہئیں۔”
قاری شفیق اور دیگر کا موقف
دوسری جانب، ناخدا مسجد کے نائب امام قاری شفیق سے جب انصاف نیوز نیٹ ورک نے محبوب رضا کے دعووں پر ردِعمل مانگا، تو انہوں نے واٹس ایپ پیغام کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہاکہ “جو ہوا وہ غلط ہوا، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔”*
بعد ازاں جب انصاف نیوز نیٹ ورک کے نمائندے عبدالحمید انصاری نے قاری شفیق سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس قسم کی کسی بھی پرتشدد کارروائی میں ملوث نہیں ہیں اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔
ایک عینی شاہد کے مطابق وہ تمام حملہ آوروں کی شناخت تو نہیں کر سکتے، لیکن حملہ آور قاری شفیق قاسمی کا نام لے کر مارپیٹ کر رہے تھے اور الزام لگا رہے تھے کہ محبوب رضا نے امام صاحب کو برا بھلا کہا ہے۔ جبکہ ایک اور عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ قاری شفیق کا چھوٹا بیٹا بھی حملہ آوروں میں شامل تھا۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی قاری شفیق پر تشدد کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔ امجد قاسمی اور ناخدا مسجد کے مؤذنین نے بھی ماضی میں ان پر مارپیٹ کے الزامات لگائے تھے، جن کی فوٹیج انصاف نیوز نیٹ ورک کے فیس بک اور یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ ان پر مصلیٰ پر بدزبانی کے بھی الزامات لگ چکے ہیں۔
مقامی کونسلر کے شوہر کی وضاحت
وارڈ نمبر 43 کے کونسلر کے شوہرمحمد تاج ہسپتال پہنچ کر اس واقعے سے خود کو الگ کرتے دکھائی دیے۔ واضح رہے کہ ماضی میں محمد تاج اور قاری شفیق کے قریبی تعلقات اور ایک وسرے کی حمایت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ محمد تاج نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے وقت وہ ایک میٹنگ میں تھے اور انہیں اس کی اطلاع بعد میں ملی۔
تاہم، چند مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب محبوب رضا نے محمد تاج پر براہِ راست کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا، تو وہ خود صفائی کیوں پیش کر رہے ہیں؟ بعض عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حملے کے پیچھے محمد تاج کا ہاتھ ہو سکتا ہے، تا کہ ایک طرف صحافی کو خاموش کرایا جا سکے اور دوسری طرف پورا ملبہ قاری شفیق پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیا جا سکے۔
