کلکتہ، 18 اگست کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال میں پولیس کی جانب سے مساجد کی انتظامیہ کو مبینہ طور پر لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی زبانی ہدایات دیے جانے کے الزام پر دائر مفادِ عامہ کی عرضی کو خارج کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ عرضی میں لگائے گئے الزامات مبہم ہیں اور ان کی تائید کے لیے کوئی مخصوص دستاویز یا ٹھوس مواد پیش نہیں کیا گیا۔
قائم مقام چیف جسٹس تپابرَتا چکرورتی اور جسٹس اتَرُپ بینرجی پر مشتمل ڈویژن بنچ میں سماعت کے دوران کلیان بنرجی نے الزام عائد کیا گیا کہ مغربی بنگال پولیس کے بعض افسران نے مساجد کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انہیں زبانی طور پر لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ ایسی ہدایات اس وقت دی جا رہی ہیں جب سپریم کورٹ کے رہنما اصول لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں، بشرطیکہ مقررہ صوتی حد یعنی ڈیسی بل کی پابندی کی جائے۔
عرضی گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ کو سپریم کورٹ کے موجودہ رہنما اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت دی جائے اور مقررہ حد کے اندر لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے والوں کے خلاف غیر قانونی مداخلت نہ کی جائے۔
تاہم، ریاستی حکومت نے عدالت کے سامنے ان الزامات کی تردید کی۔
حکومت نے کہاکہ پولیس نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔سماعت کے آغاز ہی میں ریاست کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں حاصل شدہ ہدایات کے مطابق پولیس نے وہ کچھ نہیں کیا جس کا الزام عرضی میں عائد کیا گیا ہے۔بینچ نے اس پر مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا مساجد کے نمائندوں کے ساتھ مبینہ ملاقاتیں بھی نہیں ہوئی تھیں؟
عدالت نے سوال کیاکہ کیا ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی؟ایڈووکیٹ جنرل نے اس کا جواب نفی میں دیا اور ساتھ ہی پی آئی ایل کی سماعت کے قابل ہونے پر ابتدائی اعتراض اٹھایا۔
ریاست کی جانب سے دلیل دی گئی کہ عرضی گزار، جو خود ایک وکیل ہیں، نے اپنی پوری درخواست کسی نامعلوم اتھارٹی کی مبینہ زبانی ہدایات کی بنیاد پر دائر کی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مبینہ ہدایات کس پولیس افسر یا کس اتھارٹی نے جاری کی تھیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے کہا ک:یہ درخواست ایک اتھارٹی کی جانب سے دی گئی مبینہ زبانی ہدایت کی بنیاد پر ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ہدایات کس اتھارٹی نے جاری کیں۔
ریاست کا مزید کہنا تھا کہ کسی سرکاری دستاویز، تحریری حکم یا ایسے ثبوت کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ کسی سرکاری اتھارٹی نے قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
ریاستی حکومت نے عرضی کے بنیادی دعوے کو بھی مبہم قرار دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عرضی میں ایسے کسی مخصوص واقعے، مقام، پولیس افسر یا تحریری حکم کی نشاندہی نہیں کی گئی جس سے عدالت یہ نتیجہ اخذ کرسکے کہ مساجد کو لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔
ریاست نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عرضی گزار نے ائمہ اور مسجد کمیٹیوں کے نمائندوں سے مبینہ طور پر موصول ہونے والی معلومات کا حوالہ دیا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی متاثرہ شخص خود عدالت کے سامنے نہیں آیا۔ریاست کی جانب سے یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ عرضی گزار کے الزامات بڑی حد تک اخباری رپورٹوں پر مبنی ہیں، جن میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے لیے کہے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
عدالت نے لاؤڈ اسپیکر کے موجودہ رہنما اصولوں کا حوالہ دیا
سماعت کے دوران بینچ نے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق عدالت کے سابقہ احکامات اور رہنما اصولوں کا حوالہ دیا۔ عدالت نے ریاست سے اس دعوے پر جواب طلب کیا کہ اگر صوتی آلودگی مقررہ ڈیسی بل کی حد سے تجاوز نہیں کرتی تو کیا پولیس محض الزام کی بنیاد پر کارروائی کرسکتی ہے؟عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ بھی تھا کہ موجودہ قانونی اور عدالتی رہنما اصولوں میں اگر ضرورت سے زیادہ شور کی صورت میں کارروائی کا طریقہ کار موجود ہے، تو کیا اس سے قبل ہی محض کسی شکایت یا الزام کی بنیاد پر لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی ہدایت دی جاسکتی ہے؟ریاستی حکومت نے تاہم اس بات پر زور دیا کہ مبینہ پولیس ملاقاتوں کا دعویٰ ہی مناسب تفصیلات کے ساتھ عرضی میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے اسے بے بنیاد اور محض ایک الزام قرار دیتے ہوئے پی آئی ایل کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا اور اپنے موقف کی حمایت میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا۔
ریاست کے اعتراض کی مخالفت کرتے ہوئے درخواست گزار کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ کلیان بندوپادھیائے نے کہا کہ مفادِ عامہ کی عرضی کو عام دیوانی یا فوجداری مقدمے کے پیمانوں پر نہیں پرکھا جاسکتا۔
انہوں نے عدالت سے سوال کیاکہ آئیے پی آئی ایل کو سمجھتے ہیں۔ کیا یہ دیوانی یا فوجداری مقدمے کی طرح ہے؟ کیا شروع ہی میں سو فیصد ثبوت دینا ضروری ہے؟۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے ذریعے کا ایک الگ قانونی تصور اور دائرۂ کار تشکیل پایا ہے، اس لیے عام مقدمات میں اختیار کیے جانے والے سخت تکنیکی اصولوں کو مفادِ عامہ کی درخواست پر اسی انداز میں لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اےل میں اصل اہمیت عوامی شکایت یا عوامی مفاد سے متعلق مسئلے کی ہوتی ہے اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شکایت کی حقیقت کا جائزہ لے۔
بندیوپادھیائے نے کہاکہ پی آئی ایل مخالف فریقوں کے درمیان عام مقدمہ نہیں ہے۔ شکایت یا زیادہ اہم ہے۔ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکایت کو دیکھے۔انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ابتدائی مرحلے ہی میں کسی دیوانی مقدمے کی طرح مکمل ثبوت اور ہر تفصیل پیش کرے۔ان کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا عرضی میں ایسے بنیادی حقائق موجود ہیں جن کی بنیاد پر عدالت معاملے کی حقیقت جانچ سکے۔
کیا ہر امام کو عدالت آنا ہوگا؟
سینئر وکیل نے ریاست کی اس دلیل پر بھی اعتراض کیا کہ اگر واقعی پولیس نے مساجد کے نمائندوں کو لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کے لیے کہا تھا تو متاثرہ ائمہ یا مسجد کمیٹی کے ارکان خود عدالت میں کیوں نہیں آئے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی جانب سے بار بار یہ پوچھا جا رہا ہے کہ ائمہ عدالت میں کیوں نہیں آئے۔ان کے مطابق اگر ہر متاثرہ امام یا مسجد کمیٹی کے رکن کو خود عدالت آنا ضروری قرار دیا جائے تو معاملہ مفادِ عامہ کی عرضی کے بجائے ذاتی یا انفرادی مقدمہ بن جائے گا۔
انہوں نے عدالت سے کہاکہ بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ ائمہ کیوں نہیں آئے۔ اگر وہ آ جائیں تو پھر یہ پی آئی ایل نہیں رہ جائے گی۔
عدالت: “تکنیکی بنیاد پر شکایت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا”
سماعت کے دوران بینچ نے ایک موقع پر یہ مشاہدہ بھی کیا کہ پی آئی ایل میں اٹھائی گئی عوامی شکایت کو صرف تکنیکی بنیادوں پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے کہاکہ ہاں، شکایت کو دیکھا جانا چاہیے، تکنیکی باتوں میں نہیں الجھنا چاہیے۔
اس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ موجودہ پی آئی ایل کا مقصد کسی نئی اجازت یا رعایت کا مطالبہ کرنا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے پہلے سے موجود رہنما اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی مسجد مقررہ صوتی حدود کے اندر لاؤڈ اسپیکر استعمال کر رہی ہے تو صرف اس بنیاد پر پولیس کو مداخلت کا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ لاؤڈ اسپیکر مسجد میں استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے عدالت کے سامنے کہاکہ جب تک میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کر رہا ہوں، کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔
تاہم، ریاست کی جانب سے پیش کیے گئے ابتدائی اعتراضات، عرضی میں مبینہ طور پر مخصوص حقائق اور دستاویزی ثبوت کی عدم موجودگی اور پولیس کی جانب سے الزامات کی تردید کے پیش نظر کلکتہ ہائی کورٹ نے مفادِ عامہ کی عرضی کو خارج کر دیا۔
اس طرح عدالت کے سامنے زیرِ بحث اصل مسئلہ یہ نہیں رہا کہ مغربی بنگال میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال پر عمومی پابندی عائد کی جاسکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ تھا کہ کیا عرضی گزار نے ایسے مخصوص اور قابلِ تصدیق حقائق پیش کیے ہیں جن کی بنیاد پر عدالت پولیس کی مبینہ کارروائی کے خلاف مداخلت کرسکے۔
ریاست نے واضح طور پر کہا کہ نہ تو ایسی کوئی پولیس ہدایت جاری کی گئی اور نہ ہی مساجد کے نمائندوں کے ساتھ وہ مبینہ ملاقاتیں ہوئی تھیں جن کا ذکر پی آئی ایل میں کیا گیا تھا۔
دوسری جانب درخواست گزار کا موقف تھا کہ مفادِ عامہ کی درخواست میں ابتدائی مرحلے پر مکمل مقدمہ ثابت کرنا ضروری نہیں اور عدالت کو عوامی شکایت کی حقیقت جانچنے کے لیے معاملے کی تہہ تک جانا چاہیے۔
یہ معاملہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال، صوتی آلودگی اور مذہبی مقامات پر صوتی آلات کے حوالے سے سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے سابقہ احکامات میں مقررہ ڈیسی بل حدود اور قانونی ضابطوں کی پابندی پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ مقدمے میں تاہم کلکتہ ہائی کورٹ نے مبینہ زبانی ہدایات کے الزام کو مخصوص اور قابلِ اعتماد مواد کی عدم موجودگی میں قابلِ سماعت کارروائی کے لیے ناکافی قرار دیا۔
