کاکس بازار:
میانمار سے بے گھر ہوکر بنگلہ دیش کے مختلف پناہ گزین کیمپوں میں مقیم دسیوں ہزار روہنگیا پناہ گزینوں نے منگل کو بڑے پیمانے پر ریلی نکال کر اپنے وطن میانمار کی ریاست رخائن میں محفوظ، باعزت اور پائیدار واپسی کا مطالبہ کیا۔
یہ احتجاج 25 اگست 2017 کو میانمار کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی نویں برسی کے موقع پر کیا گیا۔ روہنگیا برادری اس دن کو ’’روہنگیا نسل کشی کا دن‘‘قرار دیتی ہے
مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ رخائن ریاست میں ایسا محفوظ ماحول قائم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں جہاں روہنگیا اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور انہیں دوبارہ تشدد، بے دخلی یا امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کاکس بازار میں ایک ملین سے زائد روہنگیا
اس وقت میانمار کے روہنگیا نسلی و مذہبی اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والے 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکس بازار کے وسیع و عریض کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ان میں سے بڑی تعداد نے 2017 میں میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد بنگلہ دیش کا رخ کیا تھا۔ یہ کارروائی ایک روہنگیا مسلح گروہ کے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے مختلف اداروں نے اس فوجی کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر قتل، جنسی تشدد، دیہات کی تباہی اور جبری بے دخلی کی رپورٹس کے بعد میانمار پر نسل کشی اور نسلی تطہیر کے الزامات عائد کیے تھے۔
میانمار نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنی فوجی کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف جائز آپریشن قرار دیا ہے۔
’’ہم مزید 50 سال یہاں نہیں رہ سکتے‘‘

روہنگیا پناہ گزین رہنما سید اللہ نے ریلی کے موقع پر رخائن کی موجودہ صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق اگر اراکان آرمی اور میانمار کی فوج اسی طرح ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کرتے رہیں اور خطے میں امن و سلامتی قائم نہ ہو تو روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کیسے ممکن ہوگی؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا روہنگیا سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مزید 50 سال تک بنگلہ دیش کے کیمپوں میں رہیں؟
سید اللہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں رخائن میں امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روہنگیا اپنی سرزمین پر واپس جا سکیں۔
واپسی کی کوششیں پہلے بھی ناکام ہو چکی ہیں
بنگلہ دیش کی حکومت اس سے قبل کم از کم دو مرتبہ روہنگیا پناہ گزینوں کی میانمار واپسی کا عمل شروع کرنے کی کوشش کر چکی ہے، تاہم یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔پناہ گزینوں نے رخائن میں سکیورٹی کی صورتحال پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا اور واپس جانے سے انکار کیا۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی روہنگیا کو زبردستی میانمار واپس نہیں بھیجے گا۔روہنگیا پناہ گزینوں کا بنیادی مطالبہ ہے کہ واپسی صرف اس وقت ہو جب ان کی جان و مال کی حفاظت، شہریت اور بنیادی حقوق کی ضمانت ہو۔

صوبہ رخائن میں بدستور غیر یقینی صورت حال
2017 کے بعد سے رخائن ریاست میں حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکے۔ حالیہ برسوں میں وہاں مسلح تنازع مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔اراکان آرمی نے رخائن کے بڑے حصوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے اور وہ میانمار کی فوجی حکومت کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اس صورتحال نے روہنگیا کی ممکنہ واپسی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔روہنگیا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خواہ خطرہ میانمار کی فوج کی جانب سے ہو یا اراکان آرمی کی جانب سے، جب تک رخائن میں مستقل امن اور سلامتی قائم نہیں ہوتی، بڑے پیمانے پر واپسی ممکن نہیں ہوگی۔
میانمار 3 لاکھ روہنگیا کو واپس لینے پر آمادہ
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ حکومت نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں رہنے والے 3 لاکھ سے زیادہ روہنگیادراصل رخائن ریاست کے سابق باشندے ہیں۔میانمار کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد وہ ان پناہ گزینوں کی واپسی قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔تاہم بنگلہ دیش نے میانمار کے اعداد و شمار پر اعتراض کیا ہے۔بنگلہ دیش اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ میانمار کی جانب سے روہنگیا کو مسلسل ’’بنگالی‘‘ قرار دینا ان کی شناخت سے انکار کے مترادف ہے۔ روہنگیا خود کو میانمار کے رخائن خطے سے تعلق رکھنے والی ایک الگ نسلی و مذہبی برادری سمجھتے ہیں۔
عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ
روہنگیا بحران کا معاملہ عالمی عدالت انصاف (ICJ) تک بھی پہنچ چکا ہے۔ رواں سال جنوری میں عدالت نے میانمار کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں سماعت کی۔تین ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائی میں عدالت نے دستاویزی شواہد، ماہرین کی گواہی اور نجی گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیا۔ ان شواہد میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر قتل، منظم جنسی تشدد اور روہنگیا کے دیہات کی تباہی سے متعلق مواد شامل تھا۔میانمار نے عدالت میں اپنے خلاف نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا اور اپنی فوجی کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی قرار دیا۔
2017 میں لاکھوں افراد نے بنگلہ دیش کا رخ کیا
2017 کے فوجی کریک ڈاؤن کے دوران لاکھوں روہنگیا مسلمان گولہ باری، تشدد، قتل و غارت اور دیگر کارروائیوں سے بچنے کے لیے پیدل اور کشتیوں کے ذریعے بنگلہ دیش پہنچےبنگلہ دیش نے اس بڑے انسانی بحران کے دوران اپنی سرحد کھول دی اور بالآخر **7 لاکھ سے زائد نئے روہنگیا پناہ گزینوں** کو پناہ دی۔ یہ تعداد ان تقریباً 3 لاکھ روہنگیا افراد کے علاوہ تھی جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران میانمار میں ہونے والے تشدد کے بعد پہلے ہی بنگلہ دیش میں مقیم تھے۔یوں کاکس بازار دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزین مراکز میں تبدیل ہوگیا۔
’ہم کب تک کیمپوں میں رہیں گے؟‘
نویں برسی کے موقع پر روہنگیا پناہ گزینوں کی ریلی نے ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے بنیادی سوال رکھا ہے کہ کیا لاکھوں روہنگیا ہمیشہ کے لیے پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور رہیں گے، یا انہیں محفوظ اور باعزت طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جانے کا موقع ملے گا؟روہنگیا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مستقل طور پر آباد ہونا نہیں چاہتے بلکہ اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن واپسی اسی وقت ممکن ہوگی جب رخائن میں امن، سلامتی اور ان کے بنیادی حقوق کی مؤثر ضمانت موجود ہو۔نو سال بعد بھی روہنگیا بحران کا بنیادی مسئلہ وہیں موجود ہے: محفوظ واپسی کیسے ممکن بنائی جائے اور روہنگیا کی شناخت، سلامتی اور حقوق کی ضمانت کون دے گا۔
