کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
خوراک کے معیار اور فوڈ سیفٹی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف کولکاتا میونسپل کارپوریشن نے شہر میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ کارپوریشن نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف علاقوں میں واقع ریستورینٹس، مٹھائی کی دکانوں، فوڈ آؤٹ لیٹس اور معروف شاپنگ مالز کے فوڈ کورٹس میں مسلسل معائنے اور چھاپہ ماری کی گئی۔
کارپوریشن کے مطابق، منگل تک 40 فوڈ آؤٹ لیٹس کے لائسنس معطلکیے جا چکے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل پیر کی رات تک معطل کیے گئے لائسنسوں کی تعداد 31 تھی، جس میں مزید 9 اداروں کے شامل ہونے کے بعد یہ تعداد 40 تک پہنچ گئی۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر اسمیتا پانڈے کے مطابق کارروائی کی زد میں شہر کے کئی معروف فوڈ برانڈز اور ریستوران بھی آئے ہیں۔معطل کیے گئے لائسنسوں میں نظامز ، کریمز ، بلرام ملک اینڈ رادھا رمن ملک، مشٹی مکھ، ارسلان اور شملہ بریانی جیسے معروف ہوٹل کے نام شامل ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی کسی مخصوص برانڈ یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ خوراک کے معیار اور صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہے۔ معائنے کے دوران جہاں بھی فوڈ سیفٹی کے ضوابط کی خلاف ورزی پائی گئی، وہاں متعلقہ ادارے کے خلاف کارروائی کی گئی۔کارپوریشن کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق، مہم کے دوران شہر بھر میں مجموعی طور پر 592 ریستورانوں، مٹھائی کی دکانوں اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا گیا۔
انتظامیہ نے خاص طور پر ان مقامات پر توجہ مرکوز کی جہاں کھانے کی تیاری، خام مال کی اسٹوریج، کچن کی صفائی، گوشت اور دیگر غذائی اشیا کو محفوظ رکھنے کے طریقوں اور کھانے میں استعمال ہونے والے اجزا کے معیار پر سوالات اٹھ سکتے تھے۔یہ کارروائی صرف چھوٹے یا مقامی کھانے کے مراکز تک محدود نہیں رہی بلکہ معروف شاپنگ مالز کے فوڈ کورٹس اور بڑے ریستورانوں میں بھی معائنہ کیا گیا۔
معائنے میں کیا خامیاں سامنے آئیں؟
فوڈ سیفٹی حکام کے معائنے کے دوران کئی سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پرباسی اور سڑا ہوا گوشت موجود پایا گیا۔ بعض مٹھائیوں میںپھپھوندی لگی ہوئی تھی۔کھانے کی تیاری میں کم معیار کے مصالحوں کے استعمال کی نشاندہی ہوئی۔بعض مقامات پر کھانے کو رنگ دینے کے لیے ممنوعہ مصنوعی رنگوںکے استعمال کا الزام سامنے آیا۔ کچن کی صفائی اور حفظانِ صحت کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ خام اور تیار شدہ غذائی اشیا کے اسٹوریج کے طریقوں میں بھی خامیاں پائی گئیں۔انتظامیہ کے مطابق اس طرح کی خامیاں نہ صرف فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ صارفین کی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
لائسنس منسوخ نہیں، فی الحال دو ہفتے کی معطلی
کارپوریشن نے واضح کیا ہے کہ موجودہ قانونی دفعات کے تحت لائسنس کو فوری طور پر مستقل طور پر منسوخ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی لیے ابتدائی مرحلے میں متعلقہ فوڈ آؤٹ لیٹس کے لائسنس دو ہفتوں کے لیے معطل کیے گئے ہیں۔اس مدت کے دوران متعلقہ اداروں کو اپنی خامیوں کا جواب دینا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ فوڈ سیفٹی کے مقررہ معیار پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔کارپوریشن کی جانب سے مزید کارروائی کا فیصلہ اداروں کے جواب، اصلاحی اقدامات اور آئندہ معائنے کے نتائج کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔
فوڈ سیفٹی مہم کا مقصد کیا ہے؟
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اس مہم کا بنیادی مقصد شہر میں فروخت ہونے والی خوراک کے معیار کو بہتر بنانا اور شہریوں کو غیر معیاری یا مضر صحت کھانے سے محفوظ رکھنا ہے۔ریستورانوں اور فوڈ آؤٹ لیٹس میں کچن کی صفائی، کھانے کی تیاری، خام مال کی کوالیٹی، گوشت اور دیگر اشیا کی اسٹوریج، مٹھائیوں کی تیاری اور خوراک میں استعمال ہونے والے رنگ و اجزا کی جانچ کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔کارپوریشن کے انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ یہ کارروائی صرف ایک ہفتے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ فوڈ سیفٹی قوانین کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے معائنے جاری رکھے جا سکتے ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاستی حکومت کی جانب سے بھی ملاوٹ، بدعنوانی اور صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی بات کہی گئی ہے۔حال ہی میں نیو مارکیٹ، جسے ہگ مارکیٹ بھی کہا جاتا ہے، میں کنزیومر پروٹیکشن ویک کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا تھا کہ ریاست میں بدعنوانی، ملاوٹ اور دھوکہ دہی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔فوڈ سیفٹی کے خلاف موجودہ کارروائی کو اسی وسیع تر صارف تحفظ مہم کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فوڈ سیفٹی صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ صارفین کا محتاط رہنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی ریستوران یا فوڈ آؤٹ لیٹ میں صفائی کے ناقص انتظامات، باسی کھانے، خراب اسٹوریج یا مشکوک اجزا کا استعمال نظر آئے تو صارفین متعلقہ حکام کو شکایت کر سکتے ہیں۔کولکاتا میں 592 فوڈ آؤٹ لیٹس کے معائنے اور 40 لائسنسوں کی معطلی نے شہر کے فوڈ بزنس میں حفظانِ صحت اور معیار کے حوالے سے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے۔کیا بڑے اور معروف ریستورانوں سمیت شہر کے تمام فوڈ آؤٹ لیٹس صارفین کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کرنے کے لیے مقررہ قوانین پر مکمل عمل کر رہے ہیں؟۔آنے والے دنوں میں کارپوریشن کی جانب سے مزید معائنوں اور کارروائیوں پر سب کی نظریں رہیں گی۔
