نوراللہ جاوید
آزادی سے قبل کلکتہ ایک ایسا شہر تھا جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی آبادی تقریباً مساوی تھی، لیکن تقسیمِ ہند اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے شہر کی مسلم آبادی اور اس کے اداروں کو شدید متاثر کیا۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہجرت پر مجبور ہوئی، جبکہ متعدد مسلم تعلیمی و ثقافتی ادارے، مساجد، قبرستان اور وقف املاک بھی اس دور کے حالات سے متاثر ہوئے۔
تقسیم کے نتیجے میں کلکتہ مدرسہ اپنے نایاب علمی ذخیرے سے محروم ہوا اور اسلامیہ کالج سمیت بعض مسلم اداروں کی شناخت بھی تبدیل ہوئی۔ اس تاریخی المیے کی تفصیل انصاف نیوز نیٹ ورک کی اردو ویب سائٹ پر ’مسلم ورثہ‘ کے تحت انویشا سین گپتا کے مضمون **’’تقسیمِ ہند اور کلکتہ کے مسلمانوں کا اقلیتی بننے کا سفر‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
لیکن یہ مضمون ماضی کے اس المیے کی داستان دہرانے کے لیے نہیں ہے۔ اس سانحے کو گزرے ہوئے تقریباً آٹھ دہائیاں بیت چکی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان آٹھ دہائیوں میں کلکتہ کے مسلمانوں نے اپنے ورثے میں ملنے والے اداروں کی حفاظت، ترقی اور بازیابی کے لیے کیا کیا؟ تقسیم کے بعد جو ادارے باقی رہ گئے تھے، آج ان کی حالت کیا ہے؟ اور جن مساجد، قبرستانوں اور وقف املاک پر قبضے ہوئے، ان میں سے کتنی واپس حاصل کی جا سکیں؟
آٹھ دہائیاں کوئی کم مدت نہیں ہوتیں۔ آزادی کے بعد کی ابتدائی دو دہائیاں یقیناً مشکل تھیں، لیکن بعد کے برسوں میں حالات معمول پر آئے۔ کلکتہ میں مسلمان دوبارہ آباد ہوئے، اگرچہ ان کے متعدد علاقے رفتہ رفتہ ’گھیٹوائزیشن‘ کا شکار ہوئے، اور ایک متوسط طبقہ بھی ابھر کر سامنے آیا۔ ایسے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ وراثت میں ملنے والے مسلم ادارے آج کہاں کھڑے ہیں۔
وراثت میں مسلمانوں کو جو ادارے ملے، ان میں یتیم خانہ اسلامیہ، اسلامیہ اسپتال، انجمن مفید الاسلام، مسلم انسٹی ٹیوٹ، محمڈن اسپورٹنگ کلب، کلکتہ خلافت کمیٹی اور محمد علی لائبریری جیسے ادارے شامل تھے۔ آٹھ دہائیوں کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ان ملی اداروں کا مجموعی اور انفرادی جائزہ اور محاسبہ کیا جائے۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ کلکتہ کے برادرانِ وطن کے جو ادارے آزادی سے قبل موجود تھے، ان میں سے بہت سے کہاں سے کہاں پہنچ گئے، جبکہ ہمارے کئی ادارے زوال کا شکار ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مارواڑیوں کے اسپتالوں میں مسلم مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، جبکہ اسلامیہ اسپتال زبوں حالی اور نجی ہاتھوں کا شکار ہے؟ وہاں خدمت کا جذبہ کیوں مفقود اور تجارتی بے حسی کیوں نمایاں ہے؟
کلکتہ کا یتیم خانہ اسلامیہ شاید بنگال میں یتیموں کے لیے قائم ہونے والا پہلا ادارہ ہے۔ یہ ایک صدی کا سفر مکمل کر چکا ہے، مگر آج تنازعات اور اجارہ داری کی زد میں ہے۔ اس ادارے کی وقف جائیدادیں بربادی کے دہانے پر ہیں؛ بعض کے بارے میں غیر قانونی فروخت یا ویران پڑے رہنے کے الزامات ہیں۔ اس کے تحت چلنے والے اسکول بھی سیاست کا اکھاڑہ بن چکے ہیں۔
کم و بیش یہی صورت حال دیگر ملی اداروں کی بھی ہے۔ حال ہی میں انجمن مفید الاسلام کا قضیہ سامنے آیا، جس میں کئی سنگین الزامات عائد ہوئے، مگر معاملے کے فریق ہی مدعی اور منصف بن کر اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے نظر آئے۔
آزادی سے قبل مسلم انسٹی ٹیوٹ مسلم ادب و ثقافت کا ایک اہم مرکز تھا، جہاں قاضی نذر الاسلام نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم ’’باغی‘‘ پڑھی تھی، جس نے آزادی کی جوت جگانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ مگر آج سوال یہ ہے کہ یہ ادارہ کن ہاتھوں میں یرغمال ہے؟-کیا یہ ادارہ مسلمانوں کی علمی۔ادبی اور ثقافتی آبیاری کررہا ہے-
محمد علی لائبریری کی بدحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ، بقول ناقدین، یہ ادارہ اپنی سابقہ علمی حیثیت کھو کر کوڑے دان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسی طرح محمڈن اسپورٹنگ کلب جو کبھی بنگال کے مسلمانوں کی شاندار عظمتِ رفتہ کا گواہ تھا، آج خود مسلمانوں کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ شاید یہ جملہ کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے، مگر حقیقت یہی ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ آٹھ دہائیوں کے بعد بھی یہ ادارے چند عمارتوں کے اضافے سے آگے کیوں نہیں بڑھ سکے؟ بدانتظامی، بدعنوانی، اقربا پروری اور عام مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے میں ناکامی کیوں برقرار ہے؟ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے میں نے ماضی میں ان اداروں سے وابستہ رہ چکی متعدد شخصیات سے بات کی اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ آخر مسلمانوں کے اس ورثے کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔
کسی بھی ادارے کی انتظامی قیادت محض عہدوں کا معاملہ نہیں ہوتی۔ فلاحی، تعلیمی اور سماجی ادارے عام لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قوم میں تنظیمی صلاحیت، افراد سازی اور نئی قیادت پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔مگر افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارے یہ ادارے نہ صرف عام مسلمانوں کی ضروریات اور وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے میں ناکام رہے، بلکہ افراد سازی اور نوجوانوں کو تیار کرنے میں بھی بڑی حد تک ناکام ثابت ہوئے۔ آخر کیوں؟
اگر ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے تو آج ان اداروں کے عہدیداروں کی فہرست دیکھیے۔ کلکتہ کے بیشتر مسلم اداروں میں ایک مخصوص ٹولی مختلف اداروں میں مختلف عہدوں پر فائز نظر آتی ہے۔ یہ ایک ایسا گروہ ہے جس نے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے ان اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔
یتیم خانہ اسلامیہ، اسلامیہ اسپتال، مسلم انسٹی ٹیوٹ، انجمن مفید الاسلام اور محمڈن اسپورٹنگ کلب کے عہدیداروں کو دیکھیے؛ بظاہر محض ایک درجن کے قریب افراد ہی ان تمام اداروں کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ بعض تعلیمی اداروں کو چلانے والی ٹیم میں ماہرینِ تعلیم یا تعلیمی پس منظر رکھنے والے افراد کے بجائے سیاست دانوں کی چاپلوسی کرنے والے عناصر کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ایک شخص جو ہوٹل چلاتا ہے، اس کا کوئی تعلیمی پس منظر نہیں ہے وہ کالج کے فیصلے میں دخل دیتا ہے اور مسلم انسٹی ٹیوٹ جیسے ادبی و ثقافتی مرکز کے اہم عہدے پر بھی براجمان ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ شام کو ایک طاقتور سابق کونسلر کے دفتر میں حاضری دیتا ہے۔
مسلم انسٹی ٹیوٹ میں ایک شخص 18 برس سے اسسٹنٹ سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہے۔ وہی شخص یتیم خانہ اسلامیہ میں ممبر اور اسلامیہ اسپتال کی بلڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بھی ہے۔چونکہ اس نے تقریباً 150 افراد کو اپنے آدمیوں کے طور پر ممبر بنا رکھا ہے، اس لیے اپنے ووٹوں کی طاقت کے ذریعے مسلم انسٹی ٹیوٹ کو اپنے اشاروں پر چلاتا ہے۔ سیکریٹری کوئی بھی ہو، حکمرانی اسی بلڈر کی ہوگی، کیونکہ اس کے پاس 150 ممبران کی قوت ہے۔
ترنمول کانگریس کے سابق کونسلر امیر الدین بابی محمڈن اسپورٹنگ کلب کے صدر رہے، اگرچہ حکومت اور حالات کی تبدیلی کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اسلامیہ اسپتال کے جنرل سیکریٹری، انجمن مفید الاسلام کے صدر، مسلم انسٹی ٹیوٹ کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور ملی الامین کالج کی مدر باڈی اور کالج کے صدر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ ان کے چند مخصوص افراد بھی ان مختلف اداروں میں عہدوں پر موجود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کلکتہ شہر، جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 25 فیصد ہے، کیا افراد سازی کے اعتبار سے اتنا بنجر اور بانجھ ہو چکا ہے کہ ان اداروں کو چلانے کے لیے نئے افراد پیدا نہیں کر پا رہا؟ کیا ایک ہی شخص کو بیک وقت متعدد اداروں کی سربراہی یا انتظامی معاملات میں حاوی رہنا ضروری ہے؟ آخر عہدے اور اقتدار کی یہ ہوس کیوں ہے؟
اسلامیہ اسپتال میں ایک ہی شخصجسم میں جنبش نہیں ہے، مگر اسلامیہ اسپتال میں طویل عرصے سے کبھی اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری تو کبھی نائب صدر بنے ہوئے ہیں
۔ یتیم خانہ اسلامیہ کے جو صدر صاحب ہیں، وہ قوتِ سماعت، بصارت اور بصیرت تینوں سے محروم ہیں، مگر عہدے سے چپکے ہوئے ہیں کیونکہ امیر الدین بابی کو ایک ربر اسٹامپ صدر کی ضرورت ہے۔
کلکتہ شہر کی ایک نورانی صورت شخصیت بھی طویل عرصے تک محمڈن اسپورٹنگ کلب میں خزانچی اور ملی الامین کالج کے صدر و جنرل سیکریٹری رہے۔ جب اس سے بھی تسکین نہ ہوئی تو اپنے صاحبزادے کو امیر الدین بابی کے ذریعے ملی الامین کالج، انجمن مفید الاسلام اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کے عہدیداروں میں شامل کرا دیا۔
یوں یہ ملی ادارے ’زاغوں کے تصرف‘ میں آ کر اندر سے کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔ ملت کی تربیت اور افراد سازی کے بجائے شرپسند عناصر کو پناہ فراہم کیے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مسلم انسی ٹیوٹ جیسے ادب وثقافت کے اہم مرکز کے گورننگ باڈی کی ایک اہم میٹنگ میں، سیاست دان کی چاپلوسی کے بل بوتے پر ممبر بننے والے ایک شخص نے ایک حق گو صحافی کو صرف اس لیے جان سے مارنے کی دھمکی دی کہ وہ ان اداروں کی بدعنوانی اور نااہلی کو اجاگر کرتا ہے۔ اسے اور اس کی اہلیہ کو دھمکی دی گئی اور کہا گیا کہ ’’امیر الدین بابی نے اسے اب تک کیوں چھوڑ رکھا ہے؟‘‘
آخر اس شرپسندانہ سوچ کی پرورش کون کر رہا ہے؟ اور مسلم انسٹی ٹیوٹ جیسے فکری مرکز میں ایسے شخص کو گورننگ باڈی کا ممبر کس نے بنایا؟ کیا کسی صحافی کو اختلاف یا تنقید کی بنیاد پر جان سے مارنے کی دھمکی دینے والا شخص کسی ملی ادارے کا ذمہ دار تو کجا، ایک مہذب سماج کا حصہ کہلانے کا بھی حقدار ہے؟
آج جب متعدد ملی ادارے زوال پذیر ہیں، اقربا پروری کے اڈے بننے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیںیہاں تک کہ اپنے خاندان کے افراد کو ٹھیکے دیے جانے کے الزامات بھی سامنے آتے ہیںتو ایک صحافی اور ملت کے فرد کی حیثیت سے انصاف نیوز نیٹ ورک نے کلکتہ شہر کے ملی اداروں پر ایک مفصل تحقیقاتی سیریز کرنے اور اسے ڈاکیومنٹری کی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سیریز میں کلکتہ کے ملی اداروں کی موجودہ صورتِ حال کے ساتھ ان کی ماضی کی عظمت، انہیں باقی رکھنے والوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا بھی ذکر ہوگا۔ ساتھ ہی ان اداروں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے والوں کے کردار اور فیصلوں کی بھی تحقیقات کی جائیں گی، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اس ورثے کی پوری کہانی جان سکیں۔
ظاہر ہے کہ انصاف نیوز نیٹ ورک یہ کام آپ کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کے پاس ان ملی اداروں سے متعلق کوئی معلومات، دستاویز، کہانی یا شکایت ہے تو ہمیں ضرور بتائیں۔ ہم مناسب تحقیق اور تصدیق کے بعد اسے اپنی اسٹوری کا حصہ بنائیں گے۔
تاہم، اس پوری سیریز میں صحافتی اقدار، غیر جانب داری اور صداقت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا جائے گا۔ ہمارا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ان اداروں کے ماضی، حال اور مستقبل کو عوام کے سامنے لانا اور یہ سوال اٹھانا ہے کہ مسلمانوں کے اس تاریخی ورثے کا محافظ کون ہےاور اسے یرغمال بنانے کی اجازت آخر کب تک دی جائے گی؟
