کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال حکومت کی جانب سے ریاست کے252مدارس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے، جبکہ 100 دیگر مدارس کو شوکاز نوٹس بھیجا گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم ریاست گیر سطح پر کیے گئے ایک جائزہ سروے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں ان اداروں کے پاس درکار سرکاری منظوریوں اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کا فقدان پایا گیا تھا۔
اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے وزیر کشودی رام ٹوڈو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنے والے مدارس کو معمول کے مطابق کام جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمے کی جانب سے جون کے اوائل سے ریاست کے تمام اضلاع میں شروع کیے گئے اس سروے کے تحت مدارس کی قانونی حیثیت، ان کے انتظامی نظام اور تعلیمی و بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے جن100مدارس کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، ان کے جوابات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی مزید قانونی اقدامات طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پوری کارروائی وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی ہدایات کے تحت کی جا رہی ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ریاست میں کتنے مدارس قانونی اجازت کے ساتھ اور کتنے بغیر منظوری کے کام کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، ریاستی وزیر برائے پنچایتی راج دلیپ گھوش نے مدارس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کچھ اداروں سے متعلق مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ماضی میں کچھ کیسز میں مشکوک یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے افراد کا تعلق ایسے غیر قانونی اداروں سے پایا گیا۔ دلیپ گھوش نے واضح کیا کہ “جو مدارس قانون کے دائرے میں رہ کر اور حکومتی اجازت کے ساتھ چل رہے ہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، لیکن حکومت کو بغیر اجازت اندھا دھند مدارس کھولنے اور مسائل پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
دوسری جانب، اپوزیشن جماعت ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے حکومت کے اس اقدام پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام مدارس کو ایک ہی نظر سے دیکھنا اور انہیں نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانونی ضوابط کو پورا کرنے والے اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور بلاوجہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ کیا جائے۔
