کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
بی جے پی نے 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں286.99کروڑ روپے خرچ کیے، جو کانگریس کی جانب سے مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں مجموعی طور پر خرچ کیے گئے248.55کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائے گئے انتخابی اخراجات کے بیانات کے مطابق، بی جے پی نے 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں288.99کروڑ روپے خرچ کیے۔ یہ رقم کانگریس کی جانب سے چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے—آسام، کیرالہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پڈوچیری—میں مجموعی طور پر خرچ کیے گئے 248.55کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
مغربی بنگال کا وہ اسمبلی انتخاب، جس میں بی جے پی نے پہلی بار حکومت تشکیل دی، پانچ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پارٹی کے مجموعی529.38کروڑ روپے کے انتخابی اخراجات کا نصف سے زیادہ تھا۔بی جے پی نے مغربی بنگال میں217.19کروڑ روپے عام انتخابی مہم پر، جبکہ 69.83 کروڑ روپے امیدواروں پر خرچ کیے۔
مغربی بنگال میں جن 293 نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا، ان میں بی جے پی نے 207 نشستیںجیتیں، جبکہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے 80 نشستوںپر کامیابی حاصل کی۔
کانگریس نے مغربی بنگال میں تمام 293 نشستوںپر آزادانہ طور پر انتخاب لڑا۔ پارٹی کو صرف دو نشستوں پر کامیابی ملی اور اس نے اپنے مرکزی دفتر اور ریاستی یونٹ کے ذریعے42.08کروڑ روپے کے اخراجات ظاہر کیے۔ ان میں سے12.96کروڑ روپےعام انتخابی مہم پر، جبکہ29.12کروڑ روپے امیدواروں اور متعلقہ اخراجات پر خرچ کیے گئے۔
سی پی آئی (ایم) نے197 نشستوںپر انتخاب لڑا اور ایک نشست جیتی۔ پارٹی نے اپنے ریاستی یونٹ کے ذریعے امیدواروں کے اخراجات سمیت 8.23کروڑ روپے خرچ کرنے کی اطلاع دی۔
ترنمول کانگریس کے انتخابی اخراجات کا بیان ابھی تک عوامی طور پر دستیاب نہیں ہوا تھا۔
کیرالہ میں کانگریس کے اخراجات بی جے پی سے زیادہ
کیرالہ میں کانگریس نے105.34کروڑ روپے خرچ کرنے کی اطلاع دی۔ اس میں71.30کروڑ روپےعام انتخابی مہم اور34.05کروڑ روپے امیدواروں پر خرچ کیے گئے۔اس کے مقابلے میں بی جے پی نے کیرالہ میں82.67کروڑ روپے خرچ کیے، جن میں54.93کروڑ روپے عام انتخابی مہم اور27.74کروڑ روپےامیدواروں پر خرچ ہوئے۔
سی پی آئی (ایم) نے کیرالہ میں مجموعی طور پر28.60کروڑ روپے خرچ کیے، جن میں 26.30کروڑ روپے عام انتخابی مہم اور2.8کروڑ روپےامیدواروں پر خرچ کیے گئے۔قابل ذکر ہے کہ کیرالہ میں تریشور کے ایک مقامی بی جے پی رہنما کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جب انتخابی نگرانی کرنے والی ٹیم نے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹروں کو متاثر کرنے کے مبینہ مقصد سے گھریلو استعمال کی اشیا کے غیر مجاز پیکٹ تقسیم کیے جانے کا معاملہ پکڑا تھا۔ ہر پیکٹ کی مالیت تقریباً 900 روپے بتائی گئی تھی اور حکام کے پہنچنے سے قبل تقریباً 100 پیکٹ تقسیم کیے جانے کی اطلاع تھی۔
پانچ انتخابات میں کانگریس کے مجموعی اخراجات
پانچوں انتخابات میں کانگریس نے مجموعی طور پر248.55کروڑ روپےخرچ کرنے کی اطلاع دی۔ اس میں 143 کروڑ روپے عام انتخابی مہم اور 105.55کروڑ روپے امیدواروں پر خرچ کیے گئے۔سی پی آئی (ایم) کے مجموعی انتخابی اخراجات39.04کروڑ روپےرہے۔
بی جے پی نے آسام میں 96.27کروڑ روپے، تمل ناڈو میں51.56کروڑ روپے اور پڈوچیری میں11.90کروڑ روپے خرچ کرنے کی اطلاع دی۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال اور کیرالہ میں بھی پارٹی کے انتخابی اخراجات ہوئے۔
بی جے پی اور کانگریس کو موصول ہونے والی رقوم
اس سے قبل جمع کرائی گئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی مدت کے دوران بی جے پی کے مرکزی دفتر کو1 ,472,8کروڑ روپے موصول ہوئے، جبکہ کانگریس نے اپنے مرکزی دفتر اور پانچ ریاستی یونٹوں کے ذریعے مجموعی طور پر207.17کروڑ روپےموصول ہونے کی اطلاع دی۔انتخابی مدت کے اختتام پر بی جے پی کے مرکزی دفتر کے پاس 7,627,2کروڑ روپے کا بیلنس تھا، جو انتخابات کے اعلان کے وقت موجود 6,722.6کروڑ روپے سے زیادہ تھا۔
اس کے برعکس، کانگریس کے مرکزی دفتر اور پانچ ریاستی یونٹوں کا مشترکہ بیلنس اسی مدت کے دوران تقریباً 169.06کروڑ روپےسے کم ہو کر 103.2کروڑ روپے رہ گیا۔
انتخابی ٹرسٹوں سے سیاسی جماعتوں کو بڑے عطیات
قابل ذکر ہے کہ 2024-25 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری 2024 میں سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی بانڈز کو منسوخ کیے جانے کے بعد سیاسی جماعتوں نے بڑے عطیات کے لیے انتخابی ٹرسٹوں پر زیادہ انحصار کیا۔بی جے پی کو انتخابی ٹرسٹوں کے ذریعے تقریباً 959 کروڑ روپےموصول ہوئے۔ ان میں سے757.6کروڑ روپےٹاٹا گروپ کے زیر کنٹرول پروگریسیو الیکٹورل ٹرسٹ کی جانب سے دیے گئے، جو ٹرسٹ کی مجموعی تقسیم کا تقریباً 83 فیصد تھا۔
بی جے پی کو دیگر انتخابی ٹرسٹوں سے بھی عطیات موصول ہوئے، جن میں نیو ڈیموکریٹک الیکٹورل ٹرسٹ سے 150 کروڑ روپے، ہارمونی ای ٹی سے30.1کروڑ روپے سے زیادہ، ٹرائمف ای ٹی سے 21 کروڑ روپے، جن کلیان ای ٹی سے 9.5لاکھ روپے اور این زیگارٹگ ای ٹی سے 7.57لاکھ روپےشامل ہیں۔
ان رقوم کو ملا کر انتخابی ٹرسٹوں سے بی جے پی کو موصول ہونے والی مجموعی رقم تقریباً 959 کروڑ روپے بنتی ہے۔اس کے مقابلے میں، 2018-19 کے لوک سبھا انتخابی سال میں پروگریسیو الیکٹورل ٹرسٹ نے مجموعی طور پر 454 کروڑ روپے تقسیم کیے تھے، جن میں سے 75 فیصد رقم بی جے پی کو دی گئی تھی۔
