نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز کرناٹک کے معروف موسیقی دان ٹی ایم کرشنا کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے، جس میں ’قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ، 1971‘ میں 2026 میں کی گئی ترمیم اور وزارت داخلہ کی جانب سے ’وندے ماترم‘ سے متعلق جاری کردہ ہدایات کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست میں خاص طور پر اس ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے بعد ’وندے ماترم‘ کو قانونی تحفظ حاصل ہوا ہے اور سرکاری تقریبات میں اس کے تمام چھ بند گانے سے متعلق ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ ’قومی گیت‘ کی حیثیت، اس کے متن یا اس کے بندوں کی تعداد کا فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام نہیں بلکہ یہ ریاست اور جمہوری عمل سے متعلق معاملہ ہے۔
تاہم، عدالت نے اس بنیادی قانونی سوال پر توجہ مرکوز کی کہ اگر کوئی شہری مذہبی یا ضمیر کی بنیاد پر ’وندے ماترم‘ گانے سے انکار کرتا ہے تو کیا اسے فوجداری کارروائی یا قانونی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
’بجو ایمانوئل‘ فیصلے کا اصول لاگو ہوگا
جسٹس باگچی نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت کو توقع ہے کہ 1986 کے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ’بجو ایمانوئل بنام ریاست کیرالہ‘ میں قائم قانونی اصول پر عمل کیا جائے گا۔
بنچ کے مطابق، اگر کوئی شخص اپنے ضمیر یا مذہبی عقیدے کی بنیاد پر کسی قومی علامت سے متعلق گانے میں حصہ نہیں لیتا اور اس کا اعتراض حقیقی طور پر ضمیر کی آزادی سے متعلق ہے، تو اسے محض اس بنیاد پر فوجداری نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
عدالت نے اس معاملے میں یہ بھی واضح کیا کہ قومی گیت سے وابستہ قومی جذبات یا اس کے سرکاری درجے کا تعین عدالت کا کام نہیں ہے۔
جسٹس باگچی نے کہا کہ یہ طے کرنا جمہوری ریاست کا اختیار ہے کہ قومی گیت کیا ہے اور اس میں کتنے بند شامل ہیں۔ تاہم، ضمیر کی بنیاد پر اعتراض کرنے والے شہری کو محض گانے سے انکار کی وجہ سے فوجداری نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
ٹی ایم کرشنا کی درخواست میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
معروف موسیقی دان ٹی ایم کرشنا نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں 1971 کے ’قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ‘ کی دفعہ 3 میں 2026 کی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ترمیم کے نتیجے میں ’وندے ماترم‘ سے متعلق ایسی قانونی صورت حال پیدا ہوئی ہے جس میں کسی شہری کو اس گیت کے بعض حصے گانے سے انکار کرنے پر فوجداری کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کرشنا کے مطابق، خاص طور پر آخری چار بندوں میں درگا، لکشمی اور سرسوتی سمیت ہندو مذہبی شخصیات اور دیویوں کا ذکر موجود ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ کسی ایسے شہری کو ان اشعار کی ادائیگی پر مجبور کرنا جو مذہبی عقیدے یا ضمیر کے اعتبار سے انہیں قبول نہیں کرتا، آئین میں دی گئی ضمیر کی آزادی اور مذہبی آزادی سے متصادم ہو سکتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کے اعتراض کی آئینی حیثیت کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ آیا اس کا اعتراض حقیقی اور ضمیر پر مبنی ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ اس کا مذہبی یا نظریاتی موقف اکثریتی نقطۂ نظر سے درست سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔
’وندے ماترم‘ کے چھ بند یا ابتدائی دو؟
درخواست کا ایک اہم حصہ ’وندے ماترم‘ کے تاریخی اور سرکاری استعمال سے متعلق ہے۔
کرشنا کی درخواست کے مطابق، ’وندے ماترم‘ ابتدا میں ایک نظم کے طور پر سامنے آیا اور بعد میں بنکم چندر چٹوپادھیائے کے ناول ’آنند مٹھ‘ میں شامل کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس کے ابتدائی دو بند ایک الگ گیت کے طور پر تخلیق کیے گئے تھے، جبکہ بعد کے چار بند ناول کے وسیع تر مذہبی و ادبی سیاق کا حصہ تھے۔
درخواست میں 1937 کے انڈین نیشنل کانگریس کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق مذہبی اعتراضات کے پیش نظر قومی اجتماعات میں ’وندے ماترم‘ کے ابتدائی دو بندوں تک ہی گائیکی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
درخواست کے مطابق اس وقت راجندر پرساد، سبھاش چندر بوس، جواہر لال نہرو اور رابندر ناتھ ٹیگور سمیت آزادی کی تحریک کے اہم رہنماؤں کی جانب سے اس انتظام کی حمایت کی گئی تھی۔
کرشنا کا مؤقف ہے کہ اس تاریخی پس منظر کو نظرانداز کرتے ہوئے 2026 میں وزارت داخلہ کے احکامات کے ذریعے ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بندوں کو سرکاری تقریبات میں گانے کی ہدایت دی گئی، جس سے ایک طویل عرصے سے قائم عملی روایت تبدیل ہوئی ہے۔
کیا ’وندے ماترم‘ باضابطہ طور پر قومی گیت ہے؟
درخواست میں یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ آئین ساز اسمبلی نے 24 جنوری 1950 کو ’جن گن من‘ کو قومی ترانے کے طور پر اپنایا تھا، جبکہ ’وندے ماترم‘ کو آئین ساز اسمبلی نے اسی انداز میں باضابطہ طور پر ’قومی گیت‘ کے طور پر آئینی متن میں شامل نہیں کیا۔
درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 51A(a) کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں شہریوں کو قومی پرچم اور قومی ترانے کا احترام کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
درخواست میں آئین ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کے 24 جنوری 1950 کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’وندے ماترم‘ کو ’جن گن من‘ کے برابر احترام دینے کی بات ضرور کہی گئی تھی، لیکن اس سے گیت کے تمام چھ بندوں کو لازمی طور پر گانے کی کوئی واضح آئینی یا قانونی ہدایت پیدا نہیں ہوتی۔
آرٹیکل 14، 15، 19، 21 اور 25 کے تحت چیلنج
درخواست گزار نے ترمیم کو آئین کے متعدد بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے۔
آرٹیکل 14 کے حوالے سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ ترمیم من مانی نوعیت کی ہے، کیونکہ اس نے ’وندے ماترم‘ کے استعمال سے متعلق تاریخی انتظام کو تبدیل کر دیا، لیکن ضمیر کی بنیاد پر اعتراض کرنے والوں کے لیے کوئی واضح استثنا فراہم نہیں کیا۔
آرٹیکل 15 کے تحت درخواست گزار نے مذہب کی بنیاد پر بالواسطہ امتیاز کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اشعار جن میں مخصوص مذہبی دیوی دیوتاؤں کا ذکر ہو، انہیں لازمی طور پر گانے کا حکم غیر ہندو شہریوں کے لیے مختلف نوعیت کا آئینی بوجھ پیدا کر سکتا ہے۔
آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی، آرٹیکل 21 کے تحت شخصی آزادی، وقار اور خود اختیاری، جبکہ آرٹیکل 25(1) کے تحت ضمیر اور مذہب کی آزادی کو بھی درخواست میں بنیاد بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ ریاست کسی شہری کو ایسی مذہبی یا نظریاتی نوعیت کی ادائیگی پر مجبور نہیں کر سکتی جسے وہ اپنے ضمیر کے خلاف سمجھتا ہو۔
سینئر وکیل ایس مرلی دھر کے دلائل
ٹی ایم کرشنا کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر ایس مرلی دھر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2026 کی ترمیم میں ’قومی گیت‘ کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ وزارت داخلہ کا متعلقہ آفس میمورنڈم گزٹ میں شائع نہیں کیا گیا۔
جب عدالت میں یہ سوال اٹھا کہ روایتی طور پر ’قومی گیت‘ سے مراد ’وندے ماترم‘ ہی لیا جاتا رہا ہے، تو مرلی دھر نے اس نکتے پر زور دیا کہ تاریخی طور پر اس کے ابتدائی دو بند ہی قومی اجتماعات میں گائے جاتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق، حکومت نے آفس میمورنڈم کے ذریعے اس دیرینہ سمجھ بوجھ میں تبدیلی پیدا کی ہے۔
’سیکولرازم اتنا محدود نہیں ہو سکتا‘
سماعت کے دوران امریکہ کے قومی ترانے میں مذہب سے متعلق الفاظ کے استعمال کا حوالہ بھی آیا۔
جسٹس باگچی نے امریکی قومی ترانے میں موجود ’In God We Trust‘ کے الفاظ کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ امریکہ کو مثبت سیکولرازم کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ سیکولرازم کو اتنے محدود مفہوم میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
حکومت کی جانب سے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے میں نوٹس جاری نہ کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق اس سے معاملہ غیر ضروری طور پر سنسنی خیز بن سکتا ہے۔
’نکسلائٹ‘ تبصرے پر وکیل کا اعتراض
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ایک تبصرے پر بھی تلخ بحث ہوئی۔
سالیسٹر جنرل نے کہا کہ قانون سازی اس نظریے کے مطابق نہیں ہو سکتی جسے وہ ’نکسلائٹ‘ طرزِ فکر سے تعبیر کر رہے تھے۔
مرلی دھر نے اس تبصرے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی آئینی چیلنج کو اس طرح کا سیاسی یا نظریاتی رنگ دینا مناسب نہیں اور سالیسٹر جنرل سے اپنا تبصرہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
سالیسٹر جنرل نے تبصرہ واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان افراد کی بات کر رہے تھے جو قانون سازی کے عمل کا احترام نہیں کرتے۔
سماعت کے اختتام پر مرلی دھر نے ایک مرتبہ پھر اس معاملے کو اٹھایا، تاہم بنچ نے اس بحث میں مداخلت نہیں کی اور صرف یہ واضح کیا کہ وہ ان تبصروں کا نوٹس نہیں لے رہی۔
’بجو ایمانوئل‘ کیس کیوں اہم ہے؟
ٹی ایم کرشنا کی درخواست کا بنیادی قانونی سہارا سپریم کورٹ کا 1986 کا ’بجو ایمانوئل بنام ریاست کیرالہ‘ فیصلہ ہے۔
اس مقدمے میں یہ سوال اٹھا تھا کہ کیا ایسے طلبہ کو قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جو اپنے مذہبی عقائد اور ضمیر کی بنیاد پر اسے نہیں گاتے، جبکہ وہ قومی ترانے کے دوران احترام کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس وقت ضمیر کی آزادی کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے ان طلبہ کو تحفظ فراہم کیا تھا۔
کرشنا کی درخواست میں اسی اصول کو موجودہ تنازع پر لاگو کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر ’بجو ایمانوئل‘ کے تحت ضمیر کی بنیاد پر قومی ترانہ نہ گانے والے شخص کو تحفظ حاصل ہو سکتا ہے تو مذہبی وجوہات کی بنا پر ’وندے ماترم‘ کے بعض اشعار نہ گانے والے شہری کے بنیادی حق کا بھی تحفظ ہونا چاہیے۔
25 مارچ 2026 کے فیصلے سے موجودہ درخواست کا تعلق
درخواست میں سپریم کورٹ کے 25 مارچ 2026 کے ایک سابقہ معاملے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
کرشنا کی درخواست کے مطابق، ’محمد سعید نوری بنام یونین آف انڈیا‘ معاملے میں عدالت نے وزارت داخلہ کے جنوری 2026 کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر مداخلت سے انکار کیا تھا، کیونکہ اس وقت ’وندے ماترم‘ نہ گانے پر کوئی واضح فوجداری سزا موجود نہیں تھی۔
موجودہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 2026 کی نئی ترمیم کے بعد قانونی صورت حال تبدیل ہو چکی ہے، کیونکہ اب قانون میں فوجداری نتائج کی بنیاد پیدا ہوئی ہے۔ اسی لیے درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سابقہ فیصلے کو موجودہ قانونی صورت حال پر براہ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست میں عدالت سے کیا مانگا گیا ہے؟
ٹی ایم کرشنا نے سپریم کورٹ سے بنیادی طور پر درج ذیل راحتیں طلب کی ہیں:
- 1971 کے ایکٹ کی دفعہ 3 میں 2026 کی ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
- وزارت داخلہ کے ان احکامات کو چیلنج کیا جائے جن کے تحت سرکاری تقریبات میں ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بند گانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- یہ واضح کیا جائے کہ ضمیر یا مذہبی عقیدے کی بنیاد پر ’وندے ماترم‘ نہ گانے والے شخص کو فوجداری کارروائی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
- عدالت اس امر کی وضاحت کرے کہ ’وندے ماترم‘ کے کون سے بند تاریخی طور پر قومی گیت کے طور پر اختیار کیے گئے تھے۔
- حتمی فیصلے تک درخواست گزار کو مناسب عبوری تحفظ فراہم کیا جائے۔
یہ درخواست ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایس پرسنا کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔
عدالت کا موجودہ مؤقف
سماعت کے اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے ترمیم یا وزارت داخلہ کے احکامات کی آئینی حیثیت پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔
عدالت نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے، جبکہ سماعت کے دوران اس نے یہ اہم قانونی نکتہ ضرور واضح کیا کہ ’بجو ایمانوئل‘ میں قائم ضمیر کی آزادی کے اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس طرح موجودہ مقدمے کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ ’وندے ماترم‘ کے کتنے بند قومی گیت کا حصہ ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کسی شہری کے ضمیر اور مذہبی آزادی کے آئینی حق کی حد کہاں تک ہے، اور ریاست قومی علامتوں سے متعلق قانونی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے اس حق کا کس طرح تحفظ کرے گی۔
سپریم کورٹ میں اس معاملے کی آئندہ سماعت میں مرکزی حکومت کا جواب اس آئینی تنازع کی مزید قانونی سمت واضح کرے گا۔
