الہ آباد : انصاف نیوز نیٹ ورک
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کوویڈ19 وباء کے دوران دہلی کے نظام الدین مرکز جانے کے الزام میںدو افراد کے خلاف درج مقدمہ کو خارج کردیا۔عدالت نے تبصرہکیا کہ انہیں محض قیاس اور مفروضےکی بنیاد پر ’’جھوٹے طور پر ملوث‘‘ کیا گیا تھا۔
جسٹس ڈاکٹر گوتم چودھری کی بنچ نے فیضان اور دوسرے ملزم کی جانب سے دائر سیکشن 528 بی این ایس ایس کی درخواست منظور کر لی۔ اس درخواست میں جاؤن پور کے اضافی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے داخل چارج شیٹ اور بعد کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
2 اپریل 2020 کو جاؤن پور کے شاہ گنج تھانے کے انچارج انسپکٹر نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ دونوں درخواست گزار دہلی کے حضرت نظام الدین مرکز میں مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے گئے تھے اور واپسی پر خفیہ طور پر اپنے گھروں میں خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اندیشہ ہے کہ انہیں کورونا وائرس ہو سکتا ہے اور وہ دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پوچھ گچھ پر درخواست گزاروں نے اعتراف کیا کہ وہ مذہبی اجتماع کے لیے دہلی گئے تھے۔ ان کا طبی معائنہ کر کے قرنطینہ سینٹر بھیج دیا گیاتھا ۔اس کے بعد ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 188، 269 اور 307، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کی دفعہ 51(ب) اور ایپیڈیمک ڈیزیزز ایکٹ 1897 کی دفعہ 3 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیے کہ ایف آئی آر جھوٹے اور فضول الزامات پر درج کی گئی تھی جو صرف اس اندیشے پر مبنی تھی کہ وہ کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے بعد تفتیشی ادارے نے شکایت کنندہ، پولیس اہلکاروں اور ڈاکٹر کے بیانات قلمبند کر کے ’’بے تکلف طریقے‘‘سے چارج شیٹ داخل کر دی۔ متعلقہ عدالت نے اس پر نوٹس لیا اور سمن جاری کیے۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر نے انہیں قرنطینہ بھیجا تھا مگر بعد میں ان کے کورونا ٹیسٹ منفی آئے۔
ریاست کے وکیل نے درخواست گزاروں کی جانب سے بیان کردہ حقائق سے انکار نہیں کیا۔
ریکارڈ پر موجود مواد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے تبصرہ کیا کہ ایف آئی آر اس اندیشے پر درج کی گئی تھی کہ درخواست گزار کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں اور دوسروں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کے ٹیسٹ منفی آئے تھے۔
عدالت نے کہاکہ ’’اس طرح یہ بالکل واضح ہے کہ درخواست گزاروں کو الٹیرا موٹیو اور بدنیتی کے ساتھ جھوٹے اور فضول الزامات کی بنیاد پر اور محض قیاس و مفروضے کی بنیاد پر جھوٹے طور پر ملوث کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ کارروائی جاری رکھنے سے عدالت اور قانون کے عمل کا ناجائز استعمال ہوگا اور ان حالات میں درخواست گزاروں کے خلاف کوئی استغاثہ قائم نہیں رہ سکتا۔
ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں (اسٹیٹ آف ہریانہ بمقابلہ چوہدری بھجن لال اور پرشانت بھارتی بمقابلہ اسٹیٹ این سی ٹی آف دہلی) پر بھی انحصار کیا۔ ان اصولوں کے تحت کیس کو کوریڈ قرار دیتے ہوئے عدالت نے درخواست منظور کر لی اور دونوں درخواست گزاروں کے خلاف تمام کارروائی خارج کر دی۔
