نورا للہ جاوید
ستمبر کے دوسرے ہفتے میں یہ خبر سامنے آئی کہ مغربی بنگال حکومت نے 252 مدارس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ مزید 100 مدارس کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ وزارتِ اقلیتی امور کے ذرائع سے سامنے آنے والی اس خبر نے مغربی بنگال میں مدارس کے مستقبل کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
میڈیا کے ایک مخصوص طبقے نے حسبِ معمول اس خبر کو سنسنی خیز بنا کر مدارس کے نظام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ جبکہ خود وزارتِ اقلیتی امور کی ابتدائی رپورٹ میں یہ بات بالکل واضح تھی کہ یہ بنیادی کارروائی محض انتظامی ضوابط اور حتمی منظوری نہیں ہونے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی لیڈران جن میں ریاستی صدر شیامک بھٹاچاریہ اور دلیپ گھوش پیش پیش ہیںاسی پرانے اور گھسی پٹے بیانیے پر گامزن نظر آ رہے ہیں، جس کے تحت وہ ملک بھر میں یہ پروپیگنڈہ کرتے رہے ہیں کہ یہ مدرسے مشکوک اور ملک دشمن سرگرمیوں کے اڈے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن مدارس کو بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے وہ اصل میں کس نوعیت کے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی حقیقی وجہ کیا ہے؟
اگر بند کیے گئے مدارس کی پوری فہرست کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں سے اکثریت ان مدارس کی ہے جنہوں نے ماضی میں مغربی بنگال حکومت کے مدرسہ بورڈ سے منظوری کے لیے درخواستیں دے رکھی تھیں۔ پچھلی حکومت کے دور میں انہیں اصولی منظوری تو مل گئی تھی، لیکن سرکاری معیار اور بنیادی ڈھانچے پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے انہیں کوئی سرکاری گرانٹ یا مالی امداد نہیں ملتی تھی۔
چونکہ یہ مدارس برسوں سے حتمی منظوری کے منتظر تھے، اس لیے وسائل کی کمی کے باعث یہاں تعمیراتی ڈھانچہ اور طلبہ کی تعداد محدود رہی۔ اب موجودہ حکومت نے ان مدارس کو منظوری دینے کے عمل کو مکمل طور پر منجمد کر دیا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر ان کی تالہ بندی کی جا رہی ہے۔
2001 کا واقعہ اور بی جے پی کے بیانیے کی حقیقت
مغربی بنگال میں مدرسہ نظام اور اس کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ بی جے پی کے اس بیانیے کی حقیقت کھولی جائے جسے وہ بار بار دہراتی ہے۔ بی جے پی لیڈران اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سابق وزیرِ اعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ نے خود کہا تھا کہ ’’مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے‘‘۔سوال یہ ہے کہ کیا سابق وزیرِ اعلیٰ نے ریاست کے تمام مدارس کے بارے میں یہ بات کہی تھی یا کسی مخصوص واقعے کے تناظر میں؟ اور کیا انہوں نے بعد میں اس پر کوئی وضاحت پیش کی تھی؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ 2001 کے اواخر میں کولکاتا کے ‘امریکن سینٹر پر حملے کے بعد، 25 دسمبر 2001 کو سابق وزیرِ اعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ نے ایک بیان دیا تھا کہ سرحدی اضلاع میں واقع چند غیر رجسٹرڈ مدارس سے متعلق کچھ اطلاعات ملی ہیں۔ لیکن میڈیا اور سیاسی مخالفین نے ان کے اس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔مغربی بنگال اقلیتی کمیشن کی 2001-2002 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، اس وقت اقلیتی کمیشن نے اس بیان کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) ڈی سی واجپئی سے جواب طلب کیا تھا کہ پولیس کے پاس مدارس کے خلاف کیا ثبوت موجود ہیں؟
ڈی جی پی نے اپنی سرکاری رپورٹ میں واضح طور پر لکھا کہ:
> ’’محکمہ پولیس کے پاس مدارس کے خلاف ایسی کوئی رپورٹ نہیں ہے، اور نہ ہی اس دعوے میں کوئی صداقت ہے کہ سرحدی اضلاع میں مساجد اور مدارس کی تعداد میں اچانک کوئی مشکوک اضافہ ہوا ہے‘‘۔ اس رپورٹ کے بعد اقلیتی کمیشن کے اس وقت کے چیئرمین جسٹس خواجہ یوسف نے وزیرِ اعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ سے سوال کیا کہ انہوں نے یہ بیان کس بنیاد پر دیا تھا؟ نوٹس کے جواب میں سابق وزیرِ اعلیٰ نے اپنے بیان پر معذرت کی اور اس کی وضاحت پیش کی، جو اس وقت کے تمام اہم اخبارات میں شائع ہوئی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ بی جے پی آج بھی سابق وزیرِ اعلیٰ کے اس ادھورے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے تاکہ مدارسِ اسلامیہ کو بدنام کیا جا سکے؛ حالانکہ گزشتہ 25 سالوں میں بی جے پی یا کوئی بھی تحقیقاتی ایجنسی سرحدی اضلاع کے مدارس کے خلاف انتہاپسندی کا ایک بھی پختہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
موجودہ سیاسی صورتِ حال اور مجوزہ اصلاحات
مئی 2026 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی بنگال کی موجودہ بی جے پی حکومت خود کو سخت گیر ثابت کرنے کی جلد بازی میں ہے۔ اگر ان چند مہینوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف جہاں اعلیٰ حکومتی عہدیدار مسلم مخالف اقدامات اور بیانات میں پیش پیش نظر آ رہے ہیں، وہیں انتظامیہ کا یہ رویہ بنگال کی روایتی سیکولر اقدار کے منافی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ان چند مہینوں میں حکمرانی کا جو انداز اختیار کیا ہے، وہ کسی بھی صورت ‘گڈ گورننس کے زمرے میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب خود بنگالی دانشور اور وہ غیر مسلم طبقات جنھوں نے تبدیلی کی امید میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا، شدید ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بنگال پر جو نیا سیاسی اور نظریاتی کلچر تھوپنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ ‘بنگال کی روح اور رابندر ناتھ ٹیگور و سبھاش چندر بوس کے بنگال کے بالکل خلاف ہے۔
حال ہی میں شوبھندو ادھیکاری نے یہ متنازع سوال بھی کھڑا کیا ہے کہ ’’عالیہ یونیورسٹی اقلیتی امور کی وزارت کے تحت کیوں ہے؟‘‘ اور ’’مدرسہ بورڈ الگ سے کیوں کام کر رہا ہے؟‘‘۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ مدرسہ تعلیم کو عام ‘مدھیامک بورڈ (Secondary Board) اور ‘ہائر سیکنڈری بورڈ میں ضم (Merge) کر دیا جائے گا۔
اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنگال میں مدرسہ نظامِ تعلیم کی اصل تاریخ اور اس کا بنیادی ڈھانچہ (Structure) کیا ہے؟ اگر مدرسہ بورڈ کو مدھیامک اور ہائر سیکنڈری بورڈ میں ضم کر دیا جائے تو اس سے مسلمانوں کے تعلیمی و ثقافتی وجود پر کیا اثر پڑے گا؟ اور کیا یہ قدم مدارس کی حاکمیت اور خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے؟دراصل مغربی بنگال میں مدارس کا نظام دو حصوں پر مشتمل ہے:
خارجی (غیر سرکاری) مدارس: یہ وہ مدارس ہیں جو حکومت سے کسی قسم کی مالی امداد نہیں لیتے اور مسلمانوں کے زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کے ذریعے چلتے ہیں۔ یہ ادارے آئینِ ہند کے دفعہ 30 کی فراہم کردہ ضمانتوں کی بنیاد پر قائم ہیں، جو اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا مکمل حق دیتا ہے۔
2. سرکاری و منظور شدہ مدارس:*دوسرا نظام ریاست کے زیرِ انتظام چلنے والے سرکاری اور امداد یافتہ مدارس کا ہے، جس کی تاریخ دو صدیوں پر محیط ہے۔مغربی بنگال کے زیرِ انتظام چلنے والے یہ مدارس آزادی سے قبل اور بعد میں مسلسل اصلاحات کے مراحل سے گزرے ہیں۔ سن 2000 میں سابق بائیں محاذ حکومت کے دور میں آخری مرتبہ مدارس کے نصابِ تعلیم میں اہم تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
سابق گورنر مغربی بنگال ، بہار ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی کمیٹی نے مدرسہ تعلیم میں اصلاحات کے لیے کئی اہم سفارشات پیش کی تھیں، جن میں ‘کلکتہ مدرسہ (عالیہ مدرسہ) کو ڈگری کالج کا درجہ دینے کی سفارش بھی شامل تھی۔ یہی سفارش آگے چل کر ‘عالیہ مدرسہکو ایک مکمل یونیورسٹی (عالیہ یونیورسٹی) میں تبدیل کرنے کا سبب بنی۔
اس کے علاوہ، کمیٹی نے ہائی مدرسوں میں نصاب اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ‘اسکول سروس کمیشن کے طرز پر مدرسہ سروس کمیشن کے قیام کی سفارش کی، تاکہ مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے قابل اور باصلاحیت اساتذہ کا تعیّن ممکن ہو سکے۔مذکورہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں نصاب کی از سرِ نو تنظیم کی گئی۔ مدرسہ نصاب کے ہائی مدرسہ امتحان کے سرٹیفکیٹ کو ‘مغربی بنگال بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن’ کے مدھیامک امتحان کے بالکل مساوی قرار دیا گیا اور ہائی مدرسہ کا تعلیمی نظام عام مدھیامک اور ہائر سیکنڈری کی طرز پر استوار کر دیا گیا۔
2006 سے قبل تک مغربی بنگال میں مدرسہ تعلیم وزارتِ تعلیم کے ماتحت تھی۔ لیکن 2006 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد بائیں محاذ حکومت نے اسے مزید فعال بنانے کے لیے ’’وزارتِ اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کے نام سے ایک الگ وزارت تشکیل دی اور ڈاکٹر عبد الستار کو اس کا وزیرِ مملکت بنایا۔ قدوائی کمیٹی کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے اس وزارت نے 2008 میں باقاعدہ ‘مدرسہ سروس کمیشن قائم کیا۔
2009 میں نیشنل فاؤنڈیشن فار کمیونل ہارمنی (NFC)نے بنگال مدرسہ بورڈ کے نصاب کا جائزہ لینے کے بعد تبصرہ کیا تھاکہ یہ خوش آئند بات ہے کہ مغربی بنگال کے مدرسہ نصاب میں شامل کتابیں انتہائی معیاری ہیں، یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم طلبہ بھی بڑی تعداد میں ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔اسی طرح واشنگٹن کے معروف ادارے بروکنگز دوحہ سینٹرنے بھی بنگال کے مدرسہ نصاب کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا تھاکہ دنیا کے دیگر مدارس کو بنگال میں حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے مدارس کے نصابِ تعلیم سے سبق سیکھنا چاہیے، جو جدیدیت اور مذہبی تعلیم کا بہترین سنگم ہے۔
یہ نظامِ تعلیم عصری علوم (سائنس اور ٹیکنالوجی) کے ساتھ اخلاقی و دینی درس و تدریس (تھیولوجی اور اسلامک کلچر) کا ایک متوازن امتزاج ہے۔ اسے ‘اصلاحات و جدید کاری جائزہ کمیٹی 1978’ (پروفیسر مصطفیٰ بن قاسم) اور ‘مدرسہ ایجوکیشن کمیٹی 2002’ (ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی) کی سفارشات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔
حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے مدارس دو سطحوں پر کام کرتے ہیں
سینیئر مدرسہجہاں ریاضی، انگریزی، جغرافیہ، زبانوں اور دیگر عصری علوم کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ہائی مدرسہ اور جونیئر مدرسہ:ان کا نصاب وہی ہے جو عام اسکولوں کا ہے، صرف ایک اضافی مضمون ‘عربی کا پڑھایا جاتا ہے۔اسلامک اسٹڈیز ایک اختیاری مضمون ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان مدارس میں 20 سے 25 فیصد طلبہ غیر مسلم (ہندو)ہیں جو بلا تفریق تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مدرسہ بورڈ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مدرسہ بورڈ کو مدھیامک بورڈ اور ہائر سیکنڈری بورڈ میں ضم بھی کر دیا جائے تو تعلیمی نصاب میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا، لیکن یہ مدارس ایک مخصوص تہذیبی و اسلامی ماحول کا حصہ ہیں۔ یہی محفوظ ماحول دیہی علاقوں میں مسلم بچیوں کی بڑی تعداد کو تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
بائیں محاذ حکومت کے دور میں اساتذہ کی بحالی میں شفافیت لانے کے لیے جو ‘مدرسہ سروس کمیشن قائم کیا گیا تھا، وہ ایک دہائی تک قانونی پیچیدگیوں کا شکار رہا۔ پہلے کلکتہ ہائی کورٹ نے اسے اقلیتی اداروں کے حقوق میں مداخلت قرار دے کر کالعدم کر دیا تھا، مگر بعد میں سپریم کورٹ نے اس کی قانونی حیثیت کو بحال کر دیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق مدرسہ سروس کمیشن کے تحت حالیہ برسوں میں جو تقرری ہوئی ہیں، ان میں اکثریت غیر مسلم اساتذہ کی ہے؛ بالخصوص ہائی مدرسوں میں پڑھانے والے اساتذہ کا بڑا تعلق غیر مسلم برادری سے ہے۔ اس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مغربی بنگال کے ان سرکاری مدارس کے نام کے ساتھ اگرچہ ’’مدرسہ شامل ہے، لیکن اپنے تاریخی اور سماجی پس منظر کے ساتھ ان اداروں میں وہی معیاری اور جدید نصابِ تعلیم رائج ہے جو عام اسکولوں میں ہوتا ہے۔اس لیے یہ سوال اٹھانا کہ حکومتی اخراجات پر مذہبی تعلیم کیوں دی جا رہی ہے؟۔ مکمل طور پر بے بنیاد اور حقائق سے ناآشنائی پر مبنی ہے۔ اور یہ سوال اس وقت مزید غیر متعلق ہو جاتا ہے جب خود اعلیٰ حکومتی عہدیدار یہ برملا اعلان کرتے ہیں کہ وہ آر ایس ایس (RSS) کے زیرِ انتظام چلنے والے اسکولوں کو مزید قائم کرنے اور انہیں فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جہاں تک سوال یہ ہے کہ اگر مدرسہ بورڈ کو ختم کرکے مدھیامک بورڈ میں ضم کردیا جاتا ہے تو کیا فرق پڑے گا۔اس کا جواب واضح ہے کہ حکومت ان بچوں سے متعلق کیوں نہیں غور کررہی ہے جو 8ویں جماعت کے بعد درمیان میں تعلیم چھوڑ دیتے ہیں ، بنگال میں ڈراپ آئوٹ کی شرح دیگر ریاستوں کےمقابلے کہیں زیادہ ہے۔مدرسہ بورڈ کے وہ طلبا جنہوں نے مدھیامک پاس کیا ہے اگر وہ مدرسہ نظام کے تحت ہی ہائرسیکنڈری تعلیم حاصل کرتے ہیں تو اس کیلئے مدرسہ بورڈ میں کوئی نظام نہیں ہے بلکہ وہ طلبا ہائر سیکنڈری بورڈ کے تحت ہی امتحان دیتے ہیں ۔ایک طرح سے دیکھا جائے تو ہائی مدرسہ اور جونیئر مدرسہ کے نظام میں ختم کردیا جائے گا تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔پہلے یہیاں بڑی تعداد میں غیر مسلم اساتذہ کی ہے۔تاہم سینئر مدرسہ کے نظام میں فرق پڑسکتا ہے ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ وہ نظام نوآبادیاتی دور سے آرہا ہے اس نظام کے ساتھ چھیڑ خوانی کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔
