انصاف نیوز نیٹ ورک
مرشد آباد میں 40 دن قبل ایک بنگالی مسلم خاندان کے چار افراد کو سادے کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ان چالیس دنوں میں ان چار افررادکا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا مگر اب ‘اسکرول ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کے روز پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان چاروں افراد کو بارڈر سیکیورٹی فورسیس کے حوالے کر دیا گیا تھا اور پولیس نے اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔
60 سالہ دبلو شیخ اور ان کے تین بیٹے — 29 سالہ قائم شیخ، 20 سالہ رضائل شیخ اور 16 سالہ اسماءُ اللہ شیخ — کو مرشد آباد کے بالیا گھاٹی گاؤں میں واقع ان کے گھر سے سادے کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ حقوقِ انسانی کی تنظیم ‘بنگلار مانو ادھیکار سرکشا منچ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 13 یا 14 اگست کی رات کو پیش آیا، اگرچہ دبلو شیخ کی اہلیہ کو حتمی تاریخ یاد نہیں ہے۔
دبلو شیخ اور قائم شیخ کے نام ‘ایس آئی آر (خصوصی اور گہرے نظر ثانی) کے بعد مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ میں شامل تھے اور انہوں نے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی ڈالا تھا۔ اس کے علاوہ، دبلو شیخ کے والد سک سمجانی بھی 1966 اور 1995 میں سوتی اسمبلی حلقے کے رجسٹرڈ ووٹر تھے۔
دبلو شیخ کی اہلیہ جہان آرا بی بی نے بتایا کہ پولیس نے ان کے شوہر اور بیٹوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد سے ان کی جائے وقوع یا موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی ہیں۔ انہوں نے پولیس کے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا کہ وہ بنگلہ دیشی ہیں۔
جہان آرا بی بی نے کہاکہ پولیس نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہمارے پاس بنگلہ دیش کی کوئی دستاویز ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ بنگلہ دیش کہاں ہے، ہم نے کبھی بنگلہ دیش دیکھا ہی نہیں۔
سوتی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر انچارج ابھجیت باسو ملک نے کہا کہ یہ چاروں افراد بنگلہ دیشی شہری تھے اور انہیں بنگلہ دیش ڈی پورٹ (جلاوطن) کر دیا گیا ہے۔ تاہم، بی ایس ایف کی جانب سے دبلو شیخ اور ان کے بیٹوں کو واقعی ڈی پورٹ کیے جانے کے حوالے سے کوئی رسمی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
جب سوتی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر انچارج ابھجیت باسو ملک سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا دبلو شیخ، قائم شیخ اور ان کے دیگر دو بھائیوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، تو انہوں نے کہا کہ ‘فارنرز ایکٹ کے تحت کوئی مقدمہ درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں مئی 2025 کے مرکزی وزارتِ داخلہ کے ایک سرکلر کے تحت حراست میں لیا گیا اور جنگی پور کے ہولڈنگ سینٹر بھیج دیا گیا۔
مئی میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد، مغربی بنگال حکومت نے مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے شناخت کرو، نام کاٹو، ڈی پورٹ کرو پالیسی کے تحت ہولڈنگ سینٹرز قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جون سے اب تک مغربی بنگال پولیس نے کم از کم 10 مسلمان مردوں اور دو بچوں کو حراست میں لے کر ان پر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگایا ہے۔ دبلو شیخ اور ان کے بیٹوں کے کیس کے بعد ایسی حراستوں کی کل تعداد 16 ہو گئی ہے۔
‘بنگلار مانو ادھیکار سرکشا منچ (معصوم) نے جمعرات کو مغربی بنگال کے ہوم سکریٹری کو خط لکھ کر دبلو شیخ اور ان کے بیٹوں کی بلاوجہ گرفتاری، غیر قانونی حراست، غیر قانونی طور پر ‘بنگلہ دیشی’ کا لیبل لگانے اور مبینہ ‘پش بیک (واپس دھکیلنے) کے خلاف شدید احتجاج درج کرایا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں جو سرکاری دعوے پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں کہ دبلو شیخ اور ان کے بیٹے غیر ملکی شہری ہیں۔
تنظیم نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ووٹر لسٹوں سے اس خاندان کی بھارت میں طویل مدتی موجودگی اور شہری حیثیت کی تصدیق ہونے کے باوجود پولیس نے انہیں غلط طریقے سے ‘بنگلہ دیشی قرار دیا۔ ‘معصوم نے یہ بھی واضح کیا کہ حراست میں لیے گئے چاروں افراد کے پاس شناختی کارڈ (آدھار)، راشن کارڈ اور رہائش سے متعلق دیگر تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا: “یہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ایک غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائے، نہ کہ کسی بھی غیر واضح انتظامی اعلان کے ذریعے کسی خاندان کو یکطرفہ طور پر بنگلہ دیشی قرار دے دیا جائے۔
مئی 2025 میں، مرکزی وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ان افراد کے کوائف اور دستاویزات کی تصدیق کریں جن پر بنگلہ دیش اور میانمار سے آئے غیر قانونی تارکینِ وطن ہونے کا شبہ ہو۔
اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے، کئی ریاستوں کی پولیس (جن میں سے اکثر بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ اقتدار ہیں) بنگالی بولنے والے افراد — بالخصوص مسلمانوں — کو حراست میں لے رہی ہے اور ان سے بھارتی شہری ہونے کے ثبوت مانگ رہی ہے۔
کئی لوگوں کو بھارتی شہریت ثابت نہ کر پانے پر زبردستی بنگلہ دیش کی سرحد میں دھکیل دیا گیا ہے۔ تاہم کچھ معاملات میں، جن لوگوں کو غلطی سے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا تھا، بھارت میں مقامی حکام کی جانب سے ان کی بھارتی شہریت کی تصدیق کے بعد وہ واپس بھارت لوٹ آئے ہیں۔
