گوہاٹی: انصاف نیوز نیٹ ورک
گولپاڑہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے نجی زرعی زمین پر قائم 73 بنگالی مسلم خاندانوں کے مکانات پر بلڈوزر چلائے جانے کو گوہاٹی ہائی کورٹ نے غیرقانونی قرار دیا۔
انتظامیہ نے 7 ستمبر کو ان مکانات کو بلڈوز کر دیا تھا۔ یہ تمام مکانات رہائشیوں کو سرکل آفیسر کی جانب سے 5 ستمبر کو نوٹس جاری کیے جانے کے محض دو دن بعد ہی انہدامی کارروائی کی گئی ہے۔نوٹس میں کہا گیا تھا کہ نجی زرعی زمین پر بنے ان مکانات کو خود منہدم نہیں کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ضلع انتظامیہ نے نوٹس میں کہا تھا کہ رہائشیوں کے خلاف یہ کارروائی ”آسام لینڈ اینڈ ریونیو ریگولیشن 1886′ کے سیٹلمنٹ قواعد اور ‘ڈسسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005’ کے تحت کی جائے گی۔21 رہائشیوں نے اس نوٹس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، اور موقف اپنایا تھا کہ انہیں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا موقع نہیں دیا گیا۔
7 ستمبر کو اس معاملے کی سماعت کے دوران، عدالت نے ریاست کے 2015 کے زمین کی موجوددرجہ بندی اور منتقلی کے ایکٹ (2015 state land reclassification and transfer Act) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بیگھہ تک کی زرعی زمین پر کسی شخص کو اپنے رہنے کے لیے دو منزلہ سے زیادہ کا مکان نہ بنانا ہو، تو کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عدالت نے کہا کہ ریاست کے اقدامات ”پہلی نظر میں غیر قانونی اور غیر مجاز معلوم ہوتے ہیں؟؟۔ عدالت کے مطابق یہ اقدامات آئین کے تحت فراہم کردہ قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی معلوم ہوتے ہیں۔عدالت نے کہاکہ موجودہ دور میں، جب طے شدہ اصولوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، یہ بالکل ناقابل تصور ہے کہ رہائشیوں کو کوئی موقع دیے بغیر اس انداز میں نوٹس جاری کیے جائیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ نوٹسز سے کسی ایسے فوری خطرے کا پتہ نہیں چلتا جس کی بنیاد پر نجی اراضی کے خلاف اتنے سخت اور انتہائی اختیارات استعمال کیے جاسکتے تھے۔
عدالت نے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی تھی کہ وہ وضاحت کرے کہ ایسا کون سا فوری خطرہ درپیش تھا جس کی وجہ سے مکانات گرانا ضروری ہو گیاتھا۔
اپنے 11 ستمبر کے حکم میں، عدالت نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے پیش کردہ ہدایات سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ مکانات گرانے کے لیے کسی فوری خطرے کی صورت حال موجود تھی۔
عدالت نے مزید کہا کہ سرسری مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مکانات کو بلڈوز کرنا ‘ڈسسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ ایکٹ’ کا غلط استعمال تھا۔
2016 میں آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، مختلف اضلاع میں مکانات گرانے کی متعدد مہمات چلائی گئی ہیں، جن میں زیادہ تر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
