انصاف نیوز نیٹ ورک :
اگلے چھ ماہ میں سپر ایل نینو کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے دنیا بھر میں ساڑھے چار لاکھ (4500000)سے زائد افراد کی موت ہو سکتی ہے! اور شدید گرمی کی لہر و اس سے وابستہ عوامل (خشک سالی، جنگل کی آگ، سیلاب وغیرہ) کی وجہ سے اس متوقع اموات کی فہرست میں بھارت چوتھے نمبر پر ہو سکتا ہے! یونیورسٹی آف شکاگو پر مبنی تحقیقاتی ادارے ’کلائمیٹ امپیکٹ لیب‘نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ پیش گوئی کی ہے۔
’کلائمیٹ امپیکٹ لیب‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے بتایا ہے کہ رواں سال ستمبر سے فروری 2027ء کے درمیانی عرصے میں اندازاً 4 لاکھ 51 ہزار افراد کی شدید گرمی کے باعث اموات کا خدشہ ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ درجہ حرارت کی وجہ سے ہونے والی اموات کی اعلیٰ شرح جون یا جولائی 2027ء تک جاری رہ سکتی ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے ایک طبقے نے اسے ’گوڈزیلا ایفیکٹ‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔
متوقع اموات کی ملک وار فہرست
متوقع اموات کی فہرست میں نائجیریا پہلے نمبر پر ہے، جہاں سپر ایل نینو کی وجہ سے31,203افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
| ملک | متوقع اموات |
نائجیریا31,230|
| انڈونیشیا19.251|
سوڈان17,430|
| بھارت15,670|
|
اس کے علاوہ امریکہ میں بھی تقریباً3 ,500افراد کی موت ہو سکتی ہے۔
تاہم، امپیریل کالج لندن کی ماہرِ موسمیات فریڈرک اوٹو (Friederike Otto) اور ان کے ساتھی محققین کے مطابق، یہ کوئی حتمی اموات کا عدد نہیں ہے بلکہ ایک قبل از وقت خبردار کرنے والی تنبیہ (وارننگ) ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر دنیا بھر میں سپر ایل نینو سے نمٹنے کے لیے فوری بیداری، کولنگ سینٹرز کا قیام، مزدوروں کا تحفظ اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو ان ساڑھے چار لاکھ میں سے ایک بڑے حصے کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
’کلائمیٹ امپیکٹ لیب‘ کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر مائیکل گرین اسٹون نے بتایا کہ سپر ایل نینو کی وجہ سے 2027ء کے وسط تک دنیا بھر میں زمین کا اوسط درجہ حرارت معمول سے تقریباً 1.2ڈگری سیلسیس زیادہ رہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، بحر الکاہل کے پانی کے درجہ حرارت میں اس غیر معمولی اضافے کا واقعہ اس بار ماضی کے تمام ریکارڈ توڑنے والا ہے۔ جس کی وجہ سے ساحلی علاقوں کی ہوا شدید گرم ہونے کا خطرہ ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے ہونے والی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس بار کا سپر ایل نینو مزید تباہ کن شکل اختیار کرنے جا رہا ہے۔
ایل نینو اور سپر ایل نینو کیا ہیں؟
ایل نینو زمین کے آب و ہوا پر اثر انداز ہونے والا سب سے طاقتور نظام ہے۔ یہ دنیا بھر میں موسم کے انداز کو بدل دیتا ہے اور بارش، خشک سالی اور شدید موسمی حالات کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر استوائی بحر الکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ جانے کا عمل ہے۔ عام طور پر یہ 2 سے 7 سال کے وقفے سے ہوتا ہے اور 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔
یہ کیسے بنتا ہے؟عام حالات میں بحر الکاہل کے مشرقی حصے کا پانی نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے اور مغربی حصے میں گرم پانی جمع ہوتا ہے۔ لیکن ایل نینو کے دوران یہ معمول کی ہوا کا بہاؤ کمزور ہو جاتا ہے، جس سے گرم پانی مشرق کی طرف پھیل جاتا ہے اور سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
سپر ایل نینو یہ ایل نینو کی ہی ایک انتہائی شدید اور طاقتور شکل ہے۔ اس کا اثر زراعت پر شدید پڑے گا اور اندازاً 5 کروڑ افراد قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ 1877ء میں بھی دنیا ایسے ہی ایک خوفناک قدرتی سانحے کی گواہ بنی تھی۔ اس سال سپر ایل نینو کے اثر سے گرمی کی لہر عروج پر پہنچ گئی تھی، جس کے نتیجے میں شدید خشک سالی، فصلوں کی تباہی اور قحط پیدا ہوا تھا اور لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ امریکی محققین کی اس رپورٹ میں اسی تاریخ کے دہرائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
