نور اللہ جاوید
بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد ایک طرف سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسلم شخصیات کے نام پر منسوب سڑکوں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں، تعلیم اور ملازمت میں مسلمانوں کی شمولیت کو یقینی بنانے والے او بی سی ریزرویشن سے مسلم برادری کو بڑی حد تک محروم کر دیا گیا ہے۔ سیفٹی ایکٹ کے نام پر اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے، خوراک اور تعلیم کا بھگواکرن جاری ہے، جبکہ یونیفارم سول کوڈ کے نام پر مسلمانوں کو ان کے پرسنل لا سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب مسلمانوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندے یا تو بی جے پی کے خیمے میں جا چکے ہیں یا پھر اس کی سرپرستی میں نام نہاد اپوزیشن کا حصہ بن گئےہیں۔ ایسے حالات میں بنگال کے مسلمانوں کے مستقبل سے متعلق کئی اہم سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟ وہ اپنے اجتماعی وجود اور اداروں کا تحفظ کیسے کریں گے؟اور اس کی ان کی ترجیحات کیا ہونی چاہیے
گزشتہ 75 برسوں تک اقتدار کے سائے میں پروان چڑھنے والی نام نہاد مسلم قیادت اقتدار سے محروم ہونے کے بعد گویا ’’مرغِ بسمل‘‘ بن چکی ہے۔ اقتدار کی قربت نے انہیں اخلاقی قوت، جرأت اور خود اعتمادی سے محروم کر دیا۔ یہ صورتِ حال نہایت تشویشناک اور کسی المیے سے کم نہیں ہے۔اسی دوران ان حالات کا مقابلہ کرنے یا پھر مستقبل بینی بجائے ایک دوسرے کے گریبان کو چاک کرنے کی کوشش نظرآرہی ہے۔جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا مسلمانوں کے ادارے بھی سیاسی اتار چڑھاؤ، سیاست دانوں کے مفادات اور اقتدار کے حصول و محرومی کے تابع چلیں گے؟
’’ملی اداروں کو بچاؤ‘‘ کے عنوان سے ایک کارنر میٹنگ کا اشتہار سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ اس پروگرام میں کلکتہ کی متعدد اہم شخصیات، جن میں بکاس رنجن بھٹاچاریہ، ایڈوکیٹ شمیم احمد اور دیگر افرادکے نام شامل ہیں ۔میں نے ان دونو ں کے نام کا اس لئے ذکر کیا ہے کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے یہ سینئر وکلا اس وقت شہر ی حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کے امیدوں کے مرکز ہیں ۔یہ دونوں نامور وکلااور ان کی ٹیم سول رائٹس اور اقلیتی کے مسائل اور بدعنوانی کےخلاف اہم لڑائی لڑرہے ہیں مگر ان دونوں کو آپسی لڑائی کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس سے قبل انجمن مفید الاسلام میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر ہنگامہ آرائی ہوئی۔ پھر موجودہ انتظامیہ نے ایک ہائی پروفائل پریس کانفرنس کے ذریعے ان الزامات کی تردید کی۔ اس کے بعد خود کو ’’انجمن بچاؤ‘‘کا علمبردار کہنے والے گروہ نے کلکتہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اور اب کارنر میٹنگوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے انجمن مفید الاسلام، اسلامیہ اسپتال، یتیم خانہ اسلامیہ، مسلم انسٹی ٹیوٹ اور دیگر اداروں کی موجودہ انتظامیہ کے خلاف کھلے عام محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
گزشتہ تین دہائیوں سے کلکتہ کے مسلم ادارے سیاست دانوں کی انا اور طاقت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ حکمراں جماعت کے مسلم رہنماؤں نے ان اداروں پر قبضے کو اپنی سیاسی بالادستی کا ذریعہ بنایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ صورتِ حال مزید خراب ہوتی گئی۔اس کی شروعات بائیں محاذ کے لوگوں نے کی اور بدترین صورت حال میں ترنمول کانگریس کے لوگوں نے پہنچادیا ۔
2011 میں بائیں محاذ کی حکومت کے خاتمے اور ترنمول کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم اداروں پر قبضے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ سیاسی وفاداری کی بنیاد پر متعدد باصلاحیت اور باوقار افراد کو انتہائی ذلت آمیز انداز میں اداروں سے باہر کر دیا گیا۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں حکمراں جماعت کی اندرونی گروہ بندی نے ان اداروں کو بری طرح متاثر کیا۔ جن اداروں کو کلکتہ کے مسلمانوں نے اپنی محنت اور قربانی سے قائم کیا تھا، وہ سیاسی اجارہ داری کا شکار ہو گئے۔اقربا پروری نے اداروں کو تباہ کردیا
خلافت کمیٹی کے صدر جاوید احمد خان، جو آج کل ممتا بنرجی کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں۔اس شخص نے ممتا بنرجی کی نگاہ میں معتبریت حاصل کرنے کیلئے مصلیٰ کے تقدس کو بھی پامال کردیا ۔اسی طرح کی صورت حال کم و بیش تمام اداروں میں تھی ۔اداروں کے مفادات سے کہیں زیادہ سیاسی وفاداری زیادہ عزیز تھی۔
آج ایک بار پھر بنگال میں اقتدار بدل چکا ہے، مگر اس بار حالات مختلف ہیں۔ موجودہ حکومت کو ملی اداروں سے کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان اداروں کے وجود کو بھی پسند نہیں کرتی۔ بی جے پی حکومت کے دور میں اگر یہ ادارے آپسی لڑائی کا شکار ہو کر کمزور پڑ گئے، تو حکومت کو ان پر سرکاری ایڈمنسٹریٹربٹھانے یا انہیں ہڑپ کرنے کا آسان موقع مل جائے گا۔ یہ نادان دوست اپنے سیاسی عزائم میں یہ بھول رہے ہیں کہ ان کی اس لڑائی کا حتمی فائدہ ہندوتوا طاقتوں کو ہوگا، جو مسلم اداروں کی خود مختاری ختم کرنا چاہتی ہیں۔
اس لیے 2011 جیسی صورت حال تو نہیں پیدا ہوئی ہے، مگر ملی اداروں پر قابض گروہ کی سیاسی حیثیت کمزور اور غیر یقینی ضرور ہو چکی ہے۔ ترنمول کانگریس خود بھی مشکل دور سے گزر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پندرہ برس بعد ایک مرتبہ پھر ملی اداروں کو سیاسی مفادات، وفاداریوں اور ذاتی عزائم کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
ایک صحافی کی حیثیت سے میں نے ’’انصاف نیوز آن لائن‘‘ اور دیگر پلیٹ فارمز پر مسلسل ملی اداروں میں موجود مافیا کلچر اور بدعنوانیوں کے خلاف رپورٹنگ کی ہے۔ اداروں کی خامیوں اور غیر شفاف نظام کی نشاندہی کی ہے۔ آج بھی ان تمام خبروں کا ریکارڈ موجود ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کی مخالفت کرتا رہا ہوں کہ سیاسی رقابت کی آگ میں ملی اداروں کو نہیں جھونکا جانا چاہیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بار اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی اداروں پر قابض افراد کو ہٹانے کی مہم کیوں شروع ہوتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ نئے ادارے قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ پرانے اداروں پر قبضہ کرکے اپنی سیاسی شناخت زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان کی اس روش سے ملت کی امانت اور اجتماعی سرمایہ تباہ ہو سکتا ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی شخص بیک وقت کئی ملی اداروں کا سربراہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یا ایک ہی گروہ مختلف اداروں پر مسلسل قابض کیسے رہ سکتا ہے؟ یہی غیر شفاف نظام عوام کے اعتماد کو ختم کر رہا ہے۔ اگر اس میں اصلاح نہ کی گئی تو یہ ادارے اپنی روح، کردار اور افادیت کھو بیٹھیں گے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ تبدیلی کیسے آئے گی؟
کیا سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کرکے ملی اداروں کو قبضہ مافیا سے آزاد کرایا جا سکتا ہے؟ اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو کیا اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ ادارے کسی دوسرے قبضہ مافیا کے ہاتھوں میں نہیں چلے جائیں گے؟ کیا ایک سیاسی گروہ کی جگہ دوسرے سیاسی گروہ کو بٹھا دیناکہاں کی عقل مندی ہوگی
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ تخریبی ذہن رکھنے والے لوگ کبھی ادارے تعمیر نہیں کر سکتے ہیں۔ جو افراد لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت سے محروم ہوں، وہ احتجاج اور شور تو برپا کر سکتے ہیں، مگر اداروں کو کامیابی سے نہیں چلا سکتے ہیں۔
اگر واقعی ہم چاہتے ہیں کہ ملی اداروں کی شکل و صورت بدلے، ان کا فیض عام ہو اور وہ ملت کی حقیقی خدمت انجام دیں، تو وقت آ گیا ہے کہ انہیں ہر قسم کے قبضہ مافیا سے آزاد کیا جائے۔ ساتھ ہی ایسے افراد کے حوالے بھی نہ کیا جائے جو تخریبی ذہن رکھتے ہوں اور تعمیری صلاحیت سے محروم ہوں۔دہائیوں سے ایک ہی طرز کے روایتی لوگ یا مخصوص لابی ان اداروں پر قابض ہے۔ اگر ان اداروں کو بچانا ہے تو کلکتہ کے مسلم نوجوانوں اور مخلص پروفیشنلز کو آگے لانا ہوگا، تاکہ اداروں کو مافیا کلچر سے نکال کگورننس اور پروفیشنلزم کی طرف لے جایا جا سکے۔
تبدیلی صرف جمہوری طریقۂ کار، شفاف انتخابات، اتفاقِ رائے، قربانی اور سیاسی آلودگی سے پاک قیادت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بدترین لوگوں سے ادارے چھین کر مزید بدتر لوگوں کے حوالے کر دینا کسی بھی طرح دانشمندی نہیں۔ سیاسی مداخلت کی بڑی وجہ ان اداروں کے کمزور اور پرانے قوانین ہیں۔ جب تک ان اداروں میں مستقل “آڈٹ سسٹم” اور گورننگ باڈی میں ممبرشپ کے سخت ضوابط طے نہیں ہوں گے، تب تک کوئی بھی سیاسی گروہ آکر ان پر قابض ہوتا رہے گا۔ تبدیلی صرف چہروں کی نہیں، بلکہ پورے سسٹم کے ڈھانچے کی ہونی چاہیے۔
جب تک ملت کے معزز شہری، دانشور اور عام عوام ان اداروں کے معاملات میں خاموش تماشائی بنے رہیں گے، تب تک تخریبی عناصر فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ آپسی لڑائی کا حصہ بننے کے بجائے، شہر کے مخلص معززین پر مشتمل ایک ایسی “حکمیا مشاورتی کمیٹی” ہونی چاہیے جو عدالتوں یا سڑکوں پر تماشہ بننے سے پہلے ان تنازعات کو اندرونی طور پر حل کرائے۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم سنجیدہ غور و فکر کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم وقتی مفادات کو قربان کرکے ملت کے طویل المدتی مفاد اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کے لیے سوچنے پر آمادہ ہیں؟۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ملی اداروں کا تحفظ صرف سڑکوں پر نعرے بازی سے نہیں، بلکہ انہیں قانونی طور پر مضبوط اور پروفیشنل بنا کر ہی ممکن ہے۔ آج کے دور میں جب فاشسٹ طاقتیں ہمارے وجود اور شناخت کے درپے ہیں، ہمارے اداروں کا آپسی خلفشار خودکشی کے مترادف ہے۔ کلکتہ کے دانشوروں، مخلص وکلا اور نئی نسل کے پروفیشنلز کو آگے آکر ایک ایسی غیر سیاسی ‘سول سوسائٹی تشکیل دینی ہوگی جو ان اداروں میں شفاف آڈٹ، آئینی اصلاحات اور نئے خون کی شمولیت کو یقینی بنائے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے اداروں کو روایتی سیاستدانوں اور تخریبی ذہن کے حاملین کی ہوسِ اقتدار سے آزاد نہ کرایا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
