نور اللہ جاوید
بڑی عوامی تحریکیں اپنے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے پیچھے ایسے سوالات چھوڑ جاتی ہیں جو برسوں تک معاشرے، سیاست اور جمہوریت کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔پیپر لیک، امتحانی بدعنوانیوں، شفاف بھرتیوں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات پر شروع ہونے والی طلبہ تحریک، جس کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی تھی، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد بظاہر اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔لیکن اس تحریک نے جس کا دائرہ ملک بھر میں پھیل گیا تھا ۔کئی بنیادی سوالات چھوڑ گئی ہے۔ 20جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی کارروائی، مظاہرین پر طاقت کے استعمال، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس معاملے پر ہونے والی سیاسی کشمکش، نوجوانوں کی زبان و لہجے، اور احتجاج کے بدلتے ہوئے انداز پر بہت کچھ لکھا جارہا ہے اور اس پر باتیں بھی ہورہی ہیں ۔ مگر ایک ایسا سوال بھی ہے جس پر سنجیدہ اور دیانت دارانہ گفتگو کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، لیکن شاید خود میڈیا اس پر کھل کر بات کرنے سے گریزکررہی ہے۔ یہ شاید اس لیے بھی ہے کہ میڈیا کے ایک حصے نے خود احتسابی اور تنقیدی جائزے کی روایت کو کمزور ہونے دیا، جس کے نتیجے میں عوام اور میڈیا کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔طلبا تحریک کے دوران دہلی کے جنتر منتر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مین اسٹریم میڈیا کے صحافیوں کو سخت عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔ کہیں مائیک دیکھتے ہی نوجوانوں نے انٹرویو دینے سے انکار کیا، کہیں رپورٹرز کو احتجاجی مقامات سے واپس جانے کے نعرے سننے پڑے، اور کہیں میڈیا پر جانبداری کے الزامات لگائے گئے۔ یہ واقعات صرف دہلی تک محدود نہیں تھے۔ ممبئی، کلکتہ اور دیگر شہروں میں یہ واقعات رونما ہوئے ۔ چند برس پہلے تک عوام کی بڑی تعداد رپورٹر کو دیکھ کر اپنی بات کہنے کے لیے بے تاب رہتی تھی۔نیوز اینکر س کو سیلیبریٹی کا درجہ حاصل تھا ۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ بہت سے نوجوان مین اسٹریم میڈیا کے مائیک کو شک، غصے یا بے اعتمادی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔سپر اسٹار نیوز اینکر ز کو سیکورٹی کے درمیان چلنا پڑتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا بدل گیاکہ نوجوانوں کا ایک طبقہ اب مین اسٹریم میڈیا کو اپنا نمائندہ نہیں سمجھتا؟ یا پھر صحافیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی تلخی محض وقتی عوامی غصہ نہیں، بلکہ ایک گہرے اعتماد کے بحران کی علامت ہے؟
یہ سوال صرف میڈیا کا نہیں، بلکہ جمہوریت کا بھی ہے۔ کیونکہ ایک صحت مند جمہوریت میں آزاد میڈیا اور باخبر عوام ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہوتے ہیں۔ اگر عوام میڈیا پر اعتماد کھو دیں، یا میڈیا عوام کی آواز سننے اور اپنے احتساب کی صلاحیت سے محروم ہو جائے، تو اس کا نقصان صرف صحافت کو نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کو پہنچتا ہے۔یہ مضمون اسی اعتماد کے بحران کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ہندوستانی نیوز رومز میں گزشتہ برسوں کے دوران کیا تبدیلیاں آئی ہیں، میڈیا کے کردار کو نوجوان کس نظر سے دیکھ رہے ہیں، نیوز رومز میں تنوع اور نمائندگی کے سوال کیوں اہم ہوتے جا رہے ہیں، اور آزادیٔ صحافت، ادارتی خودمختاری اور عوامی جوابدہی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی جمہوریت میں صحافت کی اصل طاقت صرف آزادی میں نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔یہ سوال کسی ایک چینل، ایک صحافی یا ایک احتجاج تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اس تعلق سے جڑا ہے جس پر جمہوری معاشروں میں صحافت کی ساکھ قائم ہوتی ہے۔ اگر یہی رشتہ کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات صرف نیوز روم تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔
جنتر منتر سے نیوز روم تک: احتجاج نے میڈیا کے بارے میں کیا سوال کھڑے کیے؟
میڈیا کے حوالے سے پولرائزیشن یا عوام کے ایک طبقے کی بداعتمادی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مذہبی اقلیتوں، دلت برادری، آدیواسی سماج، دیہی آبادی اور دیگر حاشیے پ موجود طبقات کی یہ شکایت رہی ہے کہ مین اسٹریم میڈیا ان کے مسائل کو یا تو نظرانداز کرتا ہے یا انہیں مطلوبہ اہمیت نہیں دیتا ہے۔ ان شکایات کی اپنی تاریخی، سماجی اور ادارتی وجوہات ہیں، تاہم آج ہمارا یہ موضوع نہیں ہے۔بلکہ آج ہم طلبا اور نوجوانوں کے ذریعہ صرف میڈیا کی کوریج پر اعتراض نہیں بلکہ خود مین اسٹریم میڈیا کی ساکھ اور غیر جانب داری پر کھلے عام سوال اٹھائے گئے۔ دہلی کے جنتر منتر سے لے کر ملک کے دیگر احتجاجی مقامات تک متعدد ایسے مناظر سامنے آئے جہاں نوجوانوں نے مین اسٹریم میڈیا کو انٹرویو دینے سے انکار کیا، بعض مقامات پر رپورٹرز کو احتجاجی مقام چھوڑنے کے نعرے سننے پڑے، جبکہ کئی مظاہرین نے کیمرے کے سامنے آکر یہ الزام بھی دہرایا کہ ان کی تحریک کو یا تو نظرانداز کیا جا رہا ہے یا اس کی مسخ شدہ تصویر پیش کی جا رہی ہے۔اس احتجاج کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ نوجوانوں نے اپنی ناراضی کے اظہار میں وہ ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جو ماضی میںمیڈیا سے نالاں اور برہم طبقات اپنی سوچ کو پیش کرنے میں ہچکچاہٹ کے شکار تھے ۔انہیں اس بات کا خوف نظر نہیں آیا کہ ان کے بیانات کو میڈیا اپنے مخصوص بیانیے کا حصہ بنا دے گا۔ اس کے برعکس، تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے متعدد مواقع پر مین اسٹریم میڈیا کے بائیکاٹ کی پالیسی کا اعلانیہ اظہار کیا اور اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ متبادل پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آواز عوام تک پہنچائیں۔یہ صورتِ حال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا میڈیا کے تئیں عوام کی بداعتمادی صرف ایک احتجاجی تحریک کا وقتی ردعمل تھا، یا اس کے پیچھے برسوں سے پنپتا ہوا اعتماد کا بحران کارفرما ہے؟ اگر نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ مین اسٹریم میڈیا کو اپنی آواز کا مؤثر نمائندہ نہیں سمجھتا، تو اس کے اسباب کیا ہیں؟ اور کیا ہندوستانی نیوز رومز ان سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
ظاہر ہے کہ یہ ردِ عمل راتوں رات پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے لیے کسی ایک فریق کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے، جس میں میڈیا کے بدلتے کردار، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے عروج، سیاسی پولرائزیشن، کارپوریٹ دباؤ اور صحافت کے بدلتے معیارات نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔اس بحران کی جھلک رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2026میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک دہائی قبل بھارت میں مین اسٹریم میڈیا پر عدم اعتماد رکھنے والوں کی شرح تقریباً 4 فیصد تھی، جو بڑھ کر 39 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ عالمی اوسط 37 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ میڈیا پر عوامی اعتماد کا بحران محض ایک تاثر نہیں بلکہ ایک قابلِ توجہ رجحان بنتا جا رہا ہے۔
ہندوستانی صحافت کی سینئر مدیر کلپنا شرما بھی اس تبدیلی کو ایک بڑے سماجی اور صحافتی سوال کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کے مطابق اصل کہانی صرف طلبہ کے احتجاج کی نہیں، بلکہ اس نئی نسل کی ہے جسے عموماً غیر سنجیدہ، صارفیت پسند یا سیاست سے لاتعلق سمجھا جاتا تھا، مگر اس نے اپنے حقوق کے لیے منظم انداز میں سڑکوں پر آ کر اس تصور کو چیلنج کر دیا۔کلپنا شرما کے خیال میں اس احتجاج نے مین اسٹریم ٹیلی ویژن میڈیا کی ساکھ پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔ ان کے مطابق صحافت کا بنیادی فریضہ زمینی حقائق کی غیر جانب دارانہ رپورٹنگ ہے، نہ کہ ایسے بیانیوں کو تقویت دینا جو عوامی تجربات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ ان کا استدلال ہے کہ احتجاج کے دوران سینکڑوں شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز نے یہ بھی دکھایا کہ اطلاعات کی ترسیل اب صرف روایتی میڈیا تک محدود نہیں رہی۔یہ نکتہ محض کلپنا شرما کا مشاہدہ نہیں، بلکہ موجودہ میڈیا منظرنامے کی ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل خبر کی محض صارف نہیں بلکہ اس کی تخلیق اور ترسیل کا بھی حصہ بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ روایتی میڈیا سے صرف خبر نہیں بلکہ شفافیت، دیانت داری اور جوابدہی کی بھی توقع رکھتی ہے۔ جب یہ توقع پوری نہیں ہوتی تو بے اعتمادی جنم لیتی ہے، اور یہی بے اعتمادی جنتر منتر سے لے کر ملک کے مختلف احتجاجی مقامات تک کھل کر سامنے آئی۔
ایک ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز نے دنیا بھر میں خبروں کے بنیادی ذریعہ کے طور پر ٹی وی اور نیوز ویب سائٹس دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہےاور بھارت عالمی سطح پر یوٹیوب پر خبریں دیکھنے کے حوالے سے سب سے آگے ہے۔ خبروں کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) چیٹ بوٹ کا استعمال بھی بھارت میں نمایاں طور پر زیادہ ہے جو کہ 22 فیصد ہے، جبکہ عالمی اوسط 10 فیصد ہے۔ایسے میں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ مین اسٹریم میڈیا اپنے ناظرین کیوں کھو رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اس کے نیوز روم اس بحران کو سمجھنے اور خود کو بدلنے کی ادارتی صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا پھر ان کا اندرونی ڈھانچہ اس قدر تبدیل ہو چکا ہے کہ اصلاح کی خواہش بھی عملی تبدیلی میں تبدیل نہیں ہو سکتی؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے صرف ناظرین کے بدلتے رویوں کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ نیوز روم کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد صحافیوں، سابق ایڈیٹروں اور تحقیقی مطالعات نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ کئی اداروں میں ادارتی خودمختاری، ایڈیٹر کے اختیارات اور خبر کے انتخاب کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔حال ہی میں این ڈی ٹی وی کے سابق دو صحافیوں کاا یک انٹرویو سامنے آیا ہے۔یہ وہ دو صحافی ہیں جنہوں نے حالیہ احتجاج کے دوران اپنے کوریج کی وجہ سے سرخیوں میں رہے نے کہا کہ این ڈی ٹی وی کی ملکیت تبدیل ہوتے ہی نیوز روم کا ماحول یکسر تبدیل ہوتا چلایا گیا۔اہم خبروں کی اشاعت روک لگائی جانے لگی ۔ایڈیٹر کا دبدبہ ختم ہوتا چلا گیا۔یہ صورت حال کسی ایک نیوز روم یا ایک میڈیا ادارے تک محدود نہیں ہے۔ مختلف مطالعات، صحافیوں کی شہادتوں اور میڈیا پر ہونے والی تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ تبدیلیاں پوری صنعت میں مختلف شدت کے ساتھ دیکھی جا رہی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی نیوز روم کے اندر فیصلہ سازی کا مرکز بدل رہا ہے، تو پھر یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آج خبر کا ایجنڈا کون طے کرتا ہے؟ ایڈیٹر، رپورٹر، مالک، اشتہارات، یا پھر ڈیجیٹل الگورتھم؟ ہندوستانی صحافت کے موجودہ بحران کوسمجھے بغیر اس سوال کا جواب ممکن نہیں۔
بدلتے ہوئے نیوز روم: خبر کا فیصلہ کون کرتا ہے؟۔
اگر یہ جاننا ہو کہ گزشتہ برسوں میں ہندوستانی نیوز رومز کے اندر کیا تبدیلیاں آئی ہیں تو سابق ایڈیٹروں کے تجربات اس کی ایک اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔2021میں انگریزی میگزین آئولک کے سابق ایڈیٹر انچیف، روبن بنرجی نے میگزین سے علاحدگی سے متعلق کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے دراصل مودی حکومت کے خلاف اپنی کور سٹوری کی وجہ سے آؤٹ لک کی نوکری کھو دی۔ جس لمحے میں نے وہ کور سٹوری کی، وہ پورے بھارت میں بحث کا موضوع بن گئی۔ فوراً، اسی دن، میرے مالکان نے مجھے بتایا کہ ہم مزید ایسی کہانیاں نہیں کر سکتے‘‘۔آئوٹ لک دراصل کارپوریٹ ادارہ راجن راہیجا گروپ — کی ملکیت میں چلنے والا ادارہ ہے۔یہ رئیل اسٹیٹ، سیمنٹ اور مالیاتی خدمات میں مفادات رکھنے والا ایک متنوع کارپوریٹ گروپ ہے اور وہ حکومت کے ساتھ ٹکراؤ نہیں چاہتا۔بنرجی کی برطرفی کوئی اکلوتا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ بھارت میں ادارتی دباؤ کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے، جہاں میڈیا مالکان اکثر صحافتی دیانت پر سیاسی خوشنودی کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر جب ان کا سامنا ایسی خبروں سے ہوتا ہے جو طاقتور شخصیات پر تنقید کرتی ہیں۔
بھارت کے میڈیا کے منظر نامے پر کارپوریٹ ملکیت کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، جہاں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی جیسے کاروباری ٹائیکون، جنہیں حکمران بی جے پی کا قریبی سمجھا جاتا ہے، نمایاں خبر رساں اداروں میں حصص حاصل کر رہے ہیں۔2019 تک، امبانی ملک میں 72 ٹی وی چینلز کے مالک تھے۔ دوسری طرف، اڈانی نے پچھلے چند سالوں میں دو میڈیا آؤٹ لیٹس — این ڈی ٹی وی اور کوئنٹ — کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جنہیں حکومت کے خلاف تنقیدی رپورٹنگ کے آخری قلعے سمجھا جاتا تھا۔ دسمبر 2022 میں، دنیا کے اس وقت کے تیسرے امیر ترین شخص، اڈانی نے این ڈی ٹی وی پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور پھر کوئنٹ کو خرید کر اپنے میڈیا اثر و رسوخ کو بڑھایا۔
سوال کسی ایک صنعت کار کا نہیں، بلکہ میڈیا کی ملکیت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز کا ہے۔ جب چند بڑے کاروباری گروپ اطلاعات کے ایک بڑے حصے پر اثر انداز ہونے لگیں تو ادارتی آزادی کے بارے میں سوال اٹھنا فطری ہے۔ایسا نہیں ہے کہ حالیہ برسوں میں ہی میڈیا صنعت میں کارپوریٹ گھرانے کی پکڑ مضبوط ہوئی ہے۔تاریخی طور پر، ملک کی میڈیا انڈسٹری میں کارپوریٹ اثر و رسوخ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔آزادی کے بعد بڑے اخبارات کو کنٹرول کرنے والے جوٹ کے سرمایہ داروں سے ہوئی۔ بنرجی کے مطابق ایک علامتی ‘چینی دیوار روایتی طور پر ادارتی آزادی کو کاروباری مفادات سے الگ رکھتی تھی۔ گزشتہ برسوں میں وہ دیوار ٹوٹ چکی ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اب ادارتی فیصلے ایڈیٹرز کے بجائے کارپوریٹ مالکان کی طرف سے مسلط کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کاروبار اور میڈیا کی ملکیت کے درمیان مٹتی ہوئی لکیروں نے صحافت کی آزادی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، خبروں کی رپورٹنگ میں تنوع کو کم کر دیا ہے، اور عوام تک پہنچنے والے بیانیے کو کنٹرول کر کے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔اس کارپوریٹ قبضے کی وجہ سے خبروں سے وہ کہانیاں غائب کر دی جاتی ہیں جو ان مالکان کے مفادات سے ٹکراتی ہیں۔ اب ادارتی محکمے آزاد نہیں رہے، بلکہ مارکیٹنگ اور اشتہارات دینے والوں کے ماتحت ہو چکے ہیں۔یہ سنسر شپ صرف قومی سطح پر نہیں بلکہ ہر ریاست میں موجود ہے۔ مختلف اداروں کے سابق صحافیوں کا انکشاف ہے کہ نیوز رومز میں ایک غیر تحریری قانون نافذ ہے جس کے تحت حکومت کی اعلیٰ قیادت یا بڑے کارپوریٹ اداروں (جیسے ریلائنس اور پتنجلی) کے خلاف کوئی بھی تحقیقاتی یا تنقیدی خبر شائع کرنے کی مکمل ممانعت ہے۔ مالکان یا انہیں اشتہارات دینے والی کمپنیوں پر تنقید قطعی برداشت نہیں کی جاتی۔نوجوان صحافیوں کی مایوسیاس گھٹن زدہ ماحول اور ادارتی آزادی کے مکمل خاتمے نے نوجوان صحافیوں کو شدید مایوس کیا ہے۔ خبروں کی سرخیاں اور مواد کارپوریٹ مفادات کے تحت تبدیل کروا دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی باصلاحیت صحافی یہ کہہ کر مین اسٹریم میڈیا چھوڑ رہے ہیں کہ وہ حقائق چھپانے والے اداروں کا محض ’’ترجمان‘‘ بن کر نہیں رہنا چاہتے۔میڈیا پرکارپوریٹ گھرانے کی مضبوط پکڑ نیوز روم کے بدلتے حالات کی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ نیوز روم سے تنوع کا غائب ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔کئی سارے سماجی مطالعات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ نیوز رومس میں زیادہ صحافیوں کا تعلق مراعات یافتہ طبقے سے ہے۔نیوز روم سماج کے پسماندپ طبقات اور اقلیتوں کی نمائندگی سے محروم ہیں یا پھر انتہائی قلیل ہے۔جب نیوز روم میں سماج کی مکمل نمائندگی موجود نہ ہو تو خبر بھی اکثر اسی سماج کی مکمل تصویر پیش نہیں کر پاتی۔ یہی خلا آہستہ آہستہ عوام اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو بڑھاتا ہے۔
کیا صرف میڈیا ہی قصوروار ہے؟
میڈیا کے اخلاقی اور صحافتی بحران کا سارا بوجھ صرف میڈیا کے کندھوں پر ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ میڈیا جس اخلاقی اور پیشہ ورانہ بحران سے گزر رہا ہے، اس کا ذمہ دار صرف نیوز روم، اس کے مالکان اور صحافی ہیں، یا پھر میڈیا بھی اسی سماج کا ایک آئینہ ہے جس میں بدلتی ہوئی سیاست، سماجی تقسیم اور عوامی رویے اپنی جھلک دکھاتے ہیں؟گزشتہ ایک دہائی میں بھارتی سیاست میں پولرائزیشن، شناخت کی سیاست اور شدید نظریاتی تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا اثر صرف سیاسی جماعتوں یا انتخابی مہمات تک محدود نہیں رہے ہیں، بلکہ عدلیہ، جامعات، سوشل میڈیا اور میڈیا سمیت تقریباً ہر عوامی ادارے پر کسی نہ کسی شکل میں پڑا ہے۔ ایسے ماحول میں میڈیا بھی اس دباؤ سے مکمل طور پر آزاد نہیں رہ سکا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میڈیا اب صرف خبر دینے والا ادارہ نہیں بلکہ ایک کاروباری صنعت بھی ہے، جس کی بقا ناظرین، اشتہارات اور ڈیجیٹل ٹریفک پر منحصر ہے۔ ایسے میں بہت سے اداروں کے لیے یہ کشش پیدا ہوتی ہے کہ وہ وہی مواد پیش کریں جو ان کے ناظرین کی سیاسی یا نظریاتی ترجیحات سے مطابقت رکھتا ہو۔ بعض مبصرین اسی رجحان کو میڈیا کی بڑھتی ہوئی پولرائزیشن کی ایک اہم وجہ قرار دیتے ہیں۔تاہم اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ میڈیا اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے۔ صحافت کا مقصد صرف عوامی رجحانات کی پیروی کرنا نہیں، بلکہ طاقت سے سوال کرنا، حقائق کی جانچ کرنا اور مختلف آوازوں کو جگہ دینا بھی ہے۔ اگر میڈیا صرف اکثریت کی پسند یا بازار کی منطق کے مطابق چلنے لگے، تو وہ صحافت سے زیادہ محض ایک کاروباری یا سیاسی پلیٹ فارم بن کر رہ جاتا ہے۔اسی طرح عوام کی تنقید اور میڈیا کی جوابدہی جمہوریت کے لیے ضروری ہیں، لیکن صحافیوں کو ہراساں کرنا، ان پر حملے کرنا یا انہیں رپورٹنگ سے روکنا کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ تنقید اور تشدد کے درمیان یہی فرق جمہوری اقدار کی بنیاد ہے۔لہٰذا، میڈیا اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران کسی ایک فریق کی ناکامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سماجی، سیاسی اور ادارتی تبدیلی کا عکاس ہے۔ اس بحران کا حل بھی اسی وقت ممکن ہے جب میڈیا اپنی پیشہ ورانہ اقدار کو مضبوط کرے، سیاست اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کرے، اور معاشرہ اختلافِ رائے کو جمہوری زندگی کا لازمی حصہ تسلیم کرے۔
اعتماد کی واپسی: صحافت کا مستقبل کس راستے پر؟
اب بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا میڈیا اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والا اعتماد کا بحران ختم کیا جا سکتا ہے؟ لال بہادر شاستری نے ایک بار کہا تھا کہ، “ہر قوم کی زندگی میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب وہ تاریخ کے دوراہے پر کھڑی ہوتی ہے اور اسے یہ چننا ہوتا ہے کہ کس راستے پر جانا ہے۔” 2014 میں ایک ایسا ہی لمحہ آیا تھا جب بھارت کے زیادہ تر ٹیلی ویژن میڈیا نے طاقت کے قریب رہنے کی خاطر اپنا نگران (watchdog) کا کردار ترک کر دیا تھا۔ اب نئی نسل (Gen Z) کے حالیہ احتجاج نے ایک بار پھر میڈیا کو اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا اس اعتماد کو بحال کرنے کے لیے سنجیدہ ہے؟ باب ڈیلن (Bob Dylan) کے الفاظ میں: “میرے دوست، اس کا جواب ہواؤں میں اڑ رہا ہے۔اعتماد کسی ایک خبر، ایک چینل یا ایک واقعے سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ یہ مسلسل دیانت داری، شفافیت اور جوابدہی سے بنتا ہے۔ اگر صحافت اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے خبر اور رائے کے درمیان واضح حد قائم کرنی ہوگی، زمینی رپورٹنگ کو دوبارہ مرکز میں لانا ہوگا، نیوز رومز میں سماجی اور فکری تنوع کو فروغ دینا ہوگا، اور ادارتی فیصلوں کو کاروباری اور سیاسی دباؤ سے حتیٰ الامکان آزاد رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ صحافت کی اصل طاقت حکومت یا اپوزیشن کے قریب ہونے میں نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد میں ہے۔
دوسری جانب، ریاست کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آزادیِ صحافت کو جمہوری نظام کی بنیاد سمجھے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی اور تنقیدی صحافت کو مخالفت کے مترادف سمجھنے کا رجحان کسی بھی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک آزاد اور محفوظ صحافتی ماحول ہی عوام کے حقِ معلومات کی ضمانت بن سکتا ہے۔لیکن اس بحران کا حل صرف میڈیا یا حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ عوام کو بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ صحافیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان سے سخت سوالات بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر انہیں دھمکانا، ہراساں کرنا یا رپورٹنگ سے روکنا جمہوری رویہ نہیں۔ اسی طرح ہر خبر کو صرف اپنی سیاسی پسند یا ناپسند کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجائے حقائق، شواہد اور مختلف نقطۂ نظر کو اہمیت دینا بھی ایک ذمہ دار شہری کی علامت ہے۔بھارتی صحافت اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ محض شور پیدا کرنے والا ذریعہ بنے گی یا عوام کا قابلِ اعتماد ریکارڈ۔ اسی طرح عوام کو بھی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ صرف اپنی پسند کی خبریں سننا چاہتے ہیں یا سچ، خواہ وہ ان کے خیالات سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ میڈیا اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ایک دن میں نہیں ٹوٹا، اس لیے یہ ایک دن میں بحال بھی نہیں ہوگا۔ لیکن اگر صحافت اپنی بنیادی اقدار — سچائی، آزادی، تنوع، دیانت داری اور جوابدہی — کی طرف واپس لوٹ آئے، تو یہ رشتہ دوبارہ استوار ہو سکتا ہے۔آخر کار، جمہوریت کی طاقت صرف آزاد انتخابات سے نہیں، بلکہ آزاد صحافت اور باخبر شہریوں سے بھی قائم رہتی ہے۔
