کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
جنوبی 24پرگنہ ضلع میں 12سالہ مسلم لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔اس واقعہ میں مبینہ طورپر ملوث ایک شخص کو ناراض ہجوم نے مار مار کرقتل کردیا ہے ۔پولیس نے قتل سمیت تین الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں اور تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے۔
پولیس کے مطابق، لڑکی کی لاش اتوار کی صبح سورجیا پور ہاٹ علاقے میں ایک بوری میں بند حالت میں ملی۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے بروئی پور-جوئن نگر روڈ کو بند کر دیا، ٹائر نذرِ آتش کیے اور پولیس کی چند گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔پریزیڈنسی رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کنکر پرساد باروئی نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے لڑکی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری نے مقتولہ کے والد سے فون پر بات کی اور یقین دہانی کرائی کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کی موت کے سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
احتجاجی مظاہرین سے سڑک کا محاصرہ ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے آئی جی پی کنکر پرساد باروئی نے اعلان کیا کہ اس جرم میں شامل ہر شخص کو گرفتار کیا جائے گا اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں زیادہ سے زیادہ سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
مظاہرین سے میگا فون کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ
> وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری نے مجھے فون کر کے ہدایت دی ہے کہ تمام مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔”
باروئی نے یہ بھی کہا کہ وہ منگل کے روز مقتولہ کے والدین سے ملاقات کریں گے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور واضح کیا کہ **”کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔آئی جی پی کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے کی اجازت دے دی اور بعد میں سڑک کا احتجاج بھی ختم کر دیا۔
پولیس کے مطابق، لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے باروئی پور سب ڈویژنل اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ اور یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی یا نہیں۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ لڑکی ہفتہ کی دوپہر اپنی ایک دوست کی سالگرہ کے لیے تحفہ خریدنے گھر سے نکلی تھی، جس کے بعد وہ لاپتا ہو گئی۔مقتولہ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ چار افراد زبردستی اسے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
کالی گھاٹ حامی ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی باروئی پور جا کر متاثرہ خاندان سے ملنا چاہتی تھیں، لیکن انہیں روکنے کے لیے ان کی رہائش گاہ کے باہر بھاری پولیس اور مرکزی فورس تعینات کر دی گئی۔ پارٹی کے مطابق ممتا نے متاثرہ خاندان سے فون پر بھی بات کی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق، لڑکی کو ایک آٹو رکشہ میں بٹھا کر لے جایا گیا تھا۔ اسی آٹو کے ڈرائیور کو بعد میں مشتعل ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ اتوار کی صبح لڑکی کی لاش گھر کے قریب ایک تالاب سے برآمد ہوئی۔
