نوراللہ جاوید
جولائی 2026 کے آخری ایام سے ہی پڑوسی ملک نیپال سے فرقہ وارانہ تشدد، مسلم مخالف نعرے بازی، مساجد پر بھگوا جھنڈے لہرائے جانے، مسلم نوجوانوں کی ہجوم کے تشدد (موب لنچنگ) اور نفرت انگیز گانوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب گردش کر رہی ہیں۔ ان ویڈیوز کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات نیپال میں نہیں بلکہ بھارت میں رونما ہو رہے ہیں۔ بھارت میں رونما ہونے والے مسلم مخالف واقعات اور نیپال کے موجودہ حالات میں ہو بہو یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ آخر نیپال کو فرقہ واریت کی آگ میں کون جھونک رہا ہے؟ اس کے پیچھے کون سی طاقتیں کام کر رہی ہیں؟ اور کیا نیپال بھی اب نسلی اور مذہبی تصادم کی راہ پر گامزن ہے؟
26 جولائی کو نیپال کے میدانی علاقے سنساری ضلع کے دیوان گنج رورل میونسپلٹی کے کپتان گنج چوک کی طرف ایک ہندو جلوس کوشی بیراج سے ‘بول بم تہوار کے لیے پانی لے کر جا رہا تھا۔ نیپالی مہینے ساون میں ہندو زعفرانی لباس پہنتے ہیں اور شیوا کے مندروں میں چڑھانے کے لیے برتنوں میں مقدس پانی لے کر جاتے ہیں، اس دوران وہ ‘بول بم کا ورد کرتے اور موسیقی بجاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ جلوس جیسے ہی مسلم اکثریتی علاقے میں پہنچا، نعرے بازی میں شدت آگئی اور بھارتی ہندوتوا کی طرز پر نفرت انگیز گانے تیز آواز میں بجائے جانے لگے۔ اس سے ناراض مسلم کمیونٹی کے ارکان نے جلوس کو روکا اور اونچی آواز میں بجائی جانے والی مذہبی موسیقی پر اعتراض کیا۔
دراصل اسی دن ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جس میں مبینہ طور پر ہندوؤں ایک گروپ نے علاقے سے ایک مسلم جھنڈا ہٹا کر اس کی جگہ بھگوا جھنڈا لگا دیا تھا، جس کی وجہ سے علاقے میں پہلے ہی کشیدگی اور تناؤ کا ماحول تھا۔ بول بم کے جلوس اور اونچی آواز میں موسیقی پر ہونے والا یہ جھگڑا شدت اختیار کر گیا، اس کے نتیجے میں دونوں برادریوں کے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔ جیسے ہی تصادم کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلیں، دونوں برادریوں کے مزید افراد وہاں پہنچنا شروع ہو گئے، جن میں سے کچھ کے پاس دیسی ہتھیار بھی تھے۔ جب دونوں گروہ آمنے سامنے آئے تو نیپال پولیس نے مداخلت کی کوشش کی، لیکن حالات تیزی سے قابو سے باہر ہو گئے۔دونوں جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ شروع ہو گیا اور سیکیورٹی فورسز بیچ میں پھنس گئیں۔ یہ تصادم مزید پرتشدد ہو گیا اور رات گئے تک جاری رہا۔ ہجوم کو قابو کرنے کے لیے آرمڈ پولیس فورس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران پولیس فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کی فائرنگ سے ہونے والی اس ہلاکوت نے علاقے کی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا۔ مقامی ہندوؤں کا الزام ہے کہ نیپالی پولیس کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ ہمدردانہ ہے۔ کرفیو کے احکامات کے باوجود، ہندوؤں اور مسلمانوں کے بڑے ہجوم کپتان گنج اور دیگر قریبی علاقوں میں جمع ہو گئے، اور یہ مظاہرے سرلاہی، دھنوشا، سپتری اور سراہا جیسے اضلاع تک پھیل گئے، جن میں مدھیش صوبے کا دارالحکومت جنک پور بھی شامل ہے۔ اس کے بعد سے ہی بھارت کی سرحد سے متصل نیپال کے میدانی علاقوں میں مسلسل فرقہ وارانہ تناؤ، جھڑپیں اور تشدد کی خبریں آرہی ہیں۔
نیپال کے انگریزی اخبارات کی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیپالی پولیس کی جانب سے فوری طور پر طاقت کا بے دریغ استعمال کرنے کے رجحان نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا ۔ اگر پولیس فائرنگ کرنے کے بجائے افہام و تفہیم اور بات چیت کی راہ اپنائی جاتی تو شاید تین افراد کی جان نہیں جاتی۔ نیپال کے حالیہ تشدد کے واقعات کا جب بھارت میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد سے موازنہ کیا جاتا ہے تو دونوں میں گہری یکسانیت نظر آتی ہے۔ بھارت میں عام طور پر فرقہ وارانہ تشدد کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہندوؤں کا جلوس جان بوجھ کر کسی مسجد کے پاس سے نکالا جاتا ہے، تیز آواز میں نفرت انگیز موسیقی بجائی جاتی ہے اور اشتعال انگیزی کی جاتی ہے۔ نیپال میں بھی بالکل یہی حربے آزمائے گئے ہیں۔
نیپال سے شائع ہونے والے ‘’’قلم ‘‘(Kalam) کے ایڈیٹر پرنیہ رانا نے لکھا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے ان حالیہ واقعات میں ایک ہی پٹرن بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اس کا محرک اکثر اونچی آواز میں بجائی جانے والی مذہبی موسیقی ہوتی ہے جو رات گئے تک چلتی ہے۔ مذہبی جلوس (خصوصاً درگا، گنیش، سرسوتی اور لکشمی دیوتاؤں کی مورتیوں کے غرقاب کرنے کی رسومات) کے ساتھ ڈی جے ہوتے ہیں، جو مساجد اور مسلم اکثریتی محلوں کے قریب سے گزرتے وقت آواز کو اور بلند کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہندو یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان صبح سویرے اور رات کے وقت لاؤڈ اسپیکر پر اونچی آواز میں اذان دیتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں نیپال میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کھٹمنڈو میں قائم سینٹر فار سوشل چینج کی ایک تحقیق نے فرقہ وارانہ واقعات میں تیزی سے اضافے کی دستاویز کی ہے، جس میں 2022 میں اس طرح کی ایک جھڑپ، 2024 میں آٹھ، 2025 میں تین اور صرف 2026 کے پہلے پانچ مہینوں میں 13 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ اگرچہ اعداد و شمار لازمی طور پر ہر سال مسلسل اضافے کے رجحان کی نشاندہی نہیں کرتے، لیکن وہ فرقہ وارانہ تصادم کی تعدد اور مرئیت دونوں میں واضح اضافہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ترائی کی سرحد پر واقع انہی اضلاع میں رونما ہوئے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔مثلاً کپل وستو، روتہٹ، سرلاہی، بنکے، دھنوشا، پرسا، مہوتری، بارا اور سنساری۔ ان اضلاع کے مکینوں کے بھارتی ریاستوں بہار اور اتر پردیش کے ساتھ قریبی سرحدی تعلقات ہیں، اور اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ ان سرحدی اضلاع میں انتہا پسند عناصر کی موجودگی بڑھ گئی ہے۔ سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے 2024 میں رپورٹ کیا تھا کہ کس طرح وشوا ہندو پریشد(VHP) اور بجرنگ دل جیسی عسکریت پسند ہندو تنظیمیں نیپال کے ترائی اضلاع میںاپنا دائرہ وسیع کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی 2023 کی ایک رپورٹ میں بھی واضح طور پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ بی جے پی سے وابستہ دائیں بازو کے مذہبی گروپس نیپال میں سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ فراہم کر رہے ہیں تاکہ ملک کو دوبارہ ہندو مملکت بنانے کی مہم کی حمایت حاصل کی جا سکے۔
ترائی میں نیپال کے مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی بستی ہے۔ تقریباً 96 فیصد مسلمان ترائی کے میدانی علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ صرف 4 سے 5 فیصد پہاڑی علاقوں اور کھٹمنڈو جیسے شہری مراکز میں پائے جاتے ہیں۔ اس طرح مدھیش کے مسلمان محض برائے نام اقلیت نہیں بلکہ سماجی و سیاسی طاقت کا حامل ایک مضبوط آبادیاتی بلاک ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، مسلمان دو ایسی پسماندہ تاریخوں کے سنگم پر کھڑے ہیں جو شاذ و نادر ہی آپس میں ملتی ہیں۔ سیاسی طور پر وہ مدھیسی ہیں، لیکن مذہبی اعتبار سے وہ مسلمان ہیں۔ وہ سیاسی پسماندگی سے متعلق مجموعی مدھیسی خدشات میں تو شریک ہیں، مگر ان کے مفادات الگ ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں ان کی نمائندگی اکثر برائے نام ہے۔ جب کوئی مسئلہ اٹھتا ہے تو مسلمانوں کو اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی برادری کے دائرے سے باہر ان کی شکایات سننے کا کوئی مؤثر ذریعہ موجود نہیں ہے۔
2021 کی مردم شماری کے مطابق، روتہٹ ضلع میں کل آبادی کا 22.5 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جو ملک میں سب سے زیادہ ہے، اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں اقلیتی مسلمانوں اور اکثریتی ہندوؤں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ فروری میں، روتہٹ ضلع کے شہر گوڑ میں اس وقت کرفیو نافذ کرنا پڑا جب مسلمانوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ ایک مقامی مسجد کے قریب ہندو شادی کے جلوس میں اونچی آواز میں ڈی جے بجایا گیا ہے۔ دوسری طرف ہندوؤں نے مسلمانوں پر شادی کے جلوس پر پتھراؤ کا الزام لگایا، جس پر ہندو برادری نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک مسجد کو آگ لگا دی۔ ان فسادات پر قابو پانے سے پہلے نیپال پولیس اور آرمڈ پولیس فورس کو کئی دنوں تک کرفیو نافذ رکھنا پڑا۔اس طرح کے فرقہ وارانہ تصادم اب تیزی سے عام ہو رہے ہیں۔ آرمڈ پولیس فورس کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020-21 اور 2023-24 کے درمیان مذہبی یا نسلی تنازعات کے 25 واقعات درج کیے گئے۔ ایسے واقعات میں اضافہ محض اتفاق نہیں ہے؛ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت اور سرحد پار موجود ناپسندیدہ عناصر کی جانب سے کشیدگی کو ہوا دینے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کی ایک منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ 2023 میں ایک ہندو-مسلم جھڑپ کے دوران مسلمانوں کو ’’پاکستان واپس جائو‘‘ کہنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، اور آج بھی ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں ہندو ہجوم مسلمانوں کو روک کر انہیں زبردستی ‘جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ تمام ہتھکنڈے سرحد پار سے درآمد کیے گئے ہیں۔
نیپال سے شائع ہونے والے ‘نیپال نیوز ڈاٹ کام نے ترائی کے ان اضلاع میں ہندو-مسلم تشدد کے واقعات میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مبصرین اور مقامی حکام نے بھارت کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور اس سے وابستہ تنظیموں سے نظریاتی طور پر ہم آہنگ گروپوں کی سرگرمیوں میں واضح اضافہ نوٹ کیا ہے۔ ہندو سویم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشد جیسی تنظیمیں اور عسکری زبان استعمال کرنے والی مقامی تنظیمیں مدھیش اور لمبینی صوبوں کے سرحدی قصبوں میں زیادہ نمایاں ہو گئی ہیں۔ وہ جلوس جو کبھی پرامن اور مقامی نوعیت کے ہوا کرتے تھے، اب بڑی تعداد، جارحانہ نعروں اور بھارتی ہندوتوا مہمات سے وابستہ علامتوں کی شکل اختیار کرہیں۔ کچھ میونسپل رہنماؤں نے سینئر آر ایس ایس شخصیات سے ملاقات کے لیے کھلے عام بھارت کا سفر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاستوں سے شروع ہونے والا سوشل میڈیا مواد نیپالی صارفین کے درمیان تیزی سے گردش کرتا ہے، جو مقامی تنازعات کو اکثریت پسندانہ رنگ میں پیش کرتا ہے۔ اگرچہ میدانی علاقوں میں عام ہندوؤں اور مسلمانوں کی اکثریت اب بھی بازاروں، تہواروں اور روزمرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لیکن ایک بیرونی نظریاتی فریم ورک کے منظم انجیکشن نے روزمرہ کے ان باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ اقلیتی برادریوں کی جانب سے یہ احساس ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ مقامی شکایات اور ایک ایسے بڑھتے ہوئے بیانیے کے درمیان پھنس چکی ہیں جو انہیں خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ نیپالی ریاست اب تک جائز مذہبی اظہار اور درآمد شدہ پولرائزنگ (تقسیم کرنے والی) سیاست کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے میں ناکام رہی ہے۔
نیپال سے شائع ہونے والے نیپالی اخبار ‘’’ہمال خبر‘‘ نے اپنے اداریے میں نیپال میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ مدھیش ترائی میں مذہب کے نام پر تشدد اور جوابی تشدد کا یہ سلسلہ تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ ‘ہمال خبرکی تحقیقات سے انکشاف ہوتا ہے کہ اس طرح کے تشدد میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر بھارتی کٹر پنتھی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) ملوث ہے۔ غیر ملکی سرزمین پر کام کرنے والی ہندو سویم سیوک سنگھ اور نیپال میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی درجنوں تنظیمیں — جن میں ہندو سمراٹ سینا، ہندو راشٹر سوابھیمان جاگرن ابھیان، ہندو سمراٹ نیپال، وشوا ہندو پریشد، اور بجرنگ دل شامل ہیں — ان پرتشدد کارروائیوں کو فروغ دینے میں براہ راست ملوث نظر آتی ہیں۔ہندو سویم سیوک سنگھ کے پرچارک اور کوشی صوبے کے سربراہ مکیش کمار ساہ، پرچارک اور جنک پور ڈویژن کے انچارج لکشمن یادو، پرچارک اور وشوا ہندو پریشد کے آرگنائزنگ سیکرٹری پرہلاد ریگمی، ہندو سویم سیوک سنگھ نیپال کے کوشی صوبے کے رکن نتیش کمار، اور ہندو سمراٹ سینا کے نائب صدر کرشنا یادو جیسے لوگ مدھیش میں “مذہب کے دفاع” کے نام پر اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد کی ترغیب دے رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال پھیلا رہے ہیں۔ ان تنظیموں کے کارکن بھیڑ کو اکسانے کے لیے میدان میں بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ وزارت داخلہ ان حقائق سے بخوبی واقف ہے، لیکن وہ خاموش ہے کیونکہ ان انتہا پسند تنظیموں میں بااثر شخصیات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سپریم کورٹ کے سابق جج پروشوتم بھنڈاری وشوا ہندو پریشد کے صدر ہیں، جبکہ نیپال پولیس کے سابق اے آئی جی کلیان تمسینا ہندو سویم سیوک سنگھ نیپال کے قومی سربراہ (سنگھ چالک) ہیں۔
مذہب کے نام پر کثیر الثقافتی معاشرے کو نقصان پہنچانے کے لیے کٹر تنظیم آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم ‘ہندو سویم سیوک سنگھ نیپال وہی کام کر رہی ہے جو بھارت میں کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہندو سویم سیوک سنگھ نے نیپال میں قومی پرچارک وید پرکاش شرما اور قومی شریک پرچارک ریویت کمار راجپوت کو تعینات کیا ہے، جو دونوں بھارتی شہری ہیں۔ کھٹمنڈو کے گہیشوری اور براٹ نگر میں بنائے گئے عالی شان ‘کیشو دھام’ کے مراکز سے مذہب کے نام پر نیپال کی قومی خودمختاری کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کثیر الثقافتی معاشرے میں نفرت کے بیج بونے والے اس سخت گیر نیٹ ورک اور اس کے اثرات کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ ریاست چلانے میں ناکام نظر آنے والی راشٹریہ سوتنتر پارٹی (RSP) کی حکومت تشدد کو روکنے میں بھی بے بس دکھائی دی ہے۔
سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے لیے رپورٹ مرتب کرتے ہوئے تاروشی اسوانی نے نیپال میں سنگھ پریوار کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت میں مقیم ہندو قوم پرست رہنماؤں اور گروپوں کا اثر و رسوخ نیپال میں بہت گہرا ہو چکا ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں قائم ہونے والی ‘ہندو سویم سیوک سنگھ (HSS)، جو آر ایس ایس سے ملحقہ نیپالی تنظیم ہے، نے نیپال بھر میں مستقل طور پر اپنے قدم جمائے ہیں۔ نچلی سطح پر تنظیم سازی، شاکھاؤں (صبح کی مشقوں) اور مذہبی تقریبات کے ذریعے، ایچ ایس ایس نے ہندو قوم پرست نظریے کو فروغ دیا ہے اور اپنے کارکنوں کو ایسی تربیت فراہم کی ہے جو بھارت میں آر ایس ایس کے طریقوں کی عکاسی کرتی ہے۔
آر ایس ایس سے ملحقہ عسکریت پسند تنظیموں، جیسے وشوا ہندو پریشد (VHP) اور بجرنگ دل نے بھی نیپال میں اپنی اکائیاں قائم کر لی ہیں اور اپنے بھارتی ہم منصبوں کی طرح جارحانہ ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔ 2024 میں ان گروہوں نے نیپال بھر میں متعدد مظاہروں اور ریلیوں کی قیادت کی تاکہ حکومت پر ہندو قوم پرست پالیسیاں نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے، جن میں گائے ذبح کرنے پر سزائے موت، تبدیلی مذہب پر پابندی، اور نیپال کو دوبارہ ‘ہندو مملکت کے طور پر قائم کرنا شامل ہے۔ یہ ایک وسیع تر بین الاقوامی ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے جو بھارت کی سرحدوں سے باہر ہندو قوم پرست اثر و رسوخ کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
نیپال میں، جو دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی عیسائی آبادی کا مسکن ہے، عیسائی مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس رجحان نے ہندو پجاریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے جو نیپال کی شناخت کو ہندومت سے جڑا ہوا دیکھتے ہیں۔ گرجا گھروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے انتہا پسند ہندو تنظیموں میں عدم تحفظ کے احساس کو ہوا دی ہے۔ اگرچہ مسلم مخالف جذبات ابھی تک نیپال کی عام روزمرہ زندگی کا گہرا حصہ نہیں بنے ہیں، تاہم نیپالی نوجوانوں کی جانب سے بھارتی ریاست اتر پردیش کے سرحدی علاقوں میں آر ایس ایس اور اس سے ملحقہ تنظیموں کے زیر اہتمام سرحد پار مذہبی اجتماعات میں شرکت کے بڑھتے ہوئے شواہد موجود ہیں۔ ان تقریبات میں ٹرکوں میں بھر کر نیپالی مرد و خواتین آتے ہیں جو انتہا پسند ہندو گروپوں کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ شرکاء عیسائیوں کو ‘دشمن’ سمجھنے کا نظریہ رکھتے ہیں، جو اس عقیدے سے متاثر ہے کہ مغربی طاقتیں نیپال کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ اگست 2024 میں وی ایچ پی کے رہنماؤں نے نیپال کے سنساری ضلع میں ایک تقریب کا اہتمام کیا، جس میں کم از کم 200 افراد کو ہندو مذہب میں شامل کیا گیا۔ دسمبر 2023 میں اسی طرح کی ایک تقریب میں 430 افراد نے مذہب تبدیل کیا تھا۔
نیپال میں مسلمانوں کے تئیں نفرت پھیلانے کے لیے بنیادی طور پر دو پروپیگنڈے کیے جا رہے ہیں: پہلا یہ کہ پاکستانی جہادی تنظیمیں ان کی مالی مدد کر رہی ہیں، اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیپال کی گزشتہ مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں محض ایک فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ نیپال کے کسی بھی انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے مقامی مسلمانوں کو دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے مالی امداد ملنے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اس کے برعکس آر ایس ایس اور ہندوتوا انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کو لے کر نیپال کے اخبارات اور عوام میں بڑے پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے۔آج نیپال ایک نازک توازن کی کشمکش میں پھنسا ہوا ہے — ایک طرف وہ اپنے سیکولر کردار سے وابستہ ہے اور دوسری طرف اپنے ہندو ماضی کی بازگشت سے نبرد آزما ہے۔ نیپال بالآخر بھارت کی طرف سے برآمد کی جانے والی ہندو قوم پرستی کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتا ہے یا اپنے سیکولر عزم کی تجدید کرتا ہے، اس کا فیصلہ ملک کے اندر مذہبی آزادی اور سماجی استحکام کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
