نور اللہ جاوید
سماجی انصاف، ذات پات کی شناخت اور محروم طبقات کے سیاسی و اقتصادی حالات پر گہری نظر رکھنے والے مہاراشٹر کے نامور صحافی اور پالیسی امور کے محقق ’رشی کیش ارون پاٹل کا ایک انتہائی اہم مضمون انگریزی کے معتبر میگزین’’فرنٹ لائن‘‘ کے تازہ شمارے میں(مراٹھا اثرات: سیاسی دباؤ کے تحت سماجی انصاف) کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔اس مضمون میں انہوں نے مہاراشٹر کے سیاسی و آئینی تضادات پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ رشی کیش نے واضح کیا ہے کہ کس طرح کسی سماجی یا تعلیمی پسماندگی کے آئینی معیار کے بغیر، محض سیاسی دباؤ کے تحت بااثر مراٹھا برادری کو او بی سی طرز کے فلاحی فوائد فراہم کیے جا رہے ہیں اور کس طرح منظم ذات پات کا دباؤ سماجی انصاف کی پالیسیوں اور عوامی بجٹ کا رخ موڑ رہا ہے۔اپنے اس طویل تحقیقی مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ مراٹھا برادری مہاراشٹر کی سب سے بااثر برادری ہے، جو نہ صرف سماجی اور معاشی طور پر مستحکم ہے بلکہ سیاست اور اقتدار کے ایوانوں میں بھی سب سے مضبوط نمائندگی رکھتی ہے۔ چونکہ یہ طبقہ مہاراشٹر کی سیاست کا رخ طے کرتا ہے، اس لیے حکومت نے آئینی تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے مراٹھا تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور انہیں او بی سی کے طرز پر فلاحی اسکیموں سے فیضاب کر دیا۔آئین ہند کے تحت تحفظات اور فلاحی اسکیمیں ‘سماجی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں، لیکن حکومت نے مراٹھا برادری کے معاملے میں اس بنیادی معیار کو نظر انداز کر کے صرف ‘معاشی پسماندگی کو جواز بنایا۔ اعداد و شمار کا چونکا دینے والا تضاد پیش کرتے ہوئے رشی کیش لکھتے ہیں کہ آبادی کے لحاظ سے مراٹھا برادری محض 11 سے 13 فیصد ہے، لیکن ان کی کارپوریشن کو گزشتہ دہائی میں12,500کروڑ روپےکے فنڈز دیے گئے، جبکہ اس کے برعکس 58 سے 60 فیصد آبادی والے اصل او بی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کی کارپوریشن کو 2015ء سے 2025ء کے درمیان محض 398 کروڑ روپےملے۔ یہی نہیں، حکومت پسماندہ طبقات (دلت، آدیواسی اور خانہ بدوش قبائل) کے لیے مخصوص فنڈز کو انتخابی فائدے کے لیے دیگر مقبول عام اسکیموں (جیسے لاڈکی بہن اسکیم) میں منتقل کر رہی ہے، جو آئین کی روح کے خلاف اور غریبوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔
رشی کیش ارون پاٹل نے کئی تلخ سوالات کھڑے کیے ہیں؛ مثلاً جب او بی سی، دلت اور قبائلی برادریوں کو ملنے والا تحفظ آئین کے ‘سماجی اور تعلیمی پسماندگی کے معیار پر مبنی ہے، تو مراٹھا برادری—جو سماجی طور پر طاقتور ہے—کو بالکل وہی مراعات دینے کا قانونی اور آئینی جواز کیا ہے؟ کیا ملک میں سماجی ترقی اور فلاح و بہبود کی پالیسیاں اب کسی آئینی یا سائنسی معیار کے بجائے صرف منظم سیاسی دباؤ اور عددی اکثریت کی بنیاد پر طے کی جائیں گی؟ سب سے اہم سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ حکومتوں کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ “سماجی انصاف کی پالیسی کا مقصد معاشرے کے سب سے کچلے ہوئے اور کمزور طبقے کو مرکزی دھارے میں لانا ہے یا پہلے سے بااثر اور مضبوط گروہوں کو مزید طاقتور بنانا؟” کیا بااثر گروہوں کے مطالبات کے آگے جھکنا محض الیکشن کی گھٹیا سیاست نہیں ہے؟
اگر رشی کیش کے اٹھائے گئے ان سوالات اور حقائق کو بڑے قومی تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں ہے۔ گجرات میں پٹیل برادری، جبکہ راجستھان، ہریانہ اور اتر پردیش میں جاٹ برادری؛ یہ سب اپنے اپنے علاقوں میں ’غالب اور حاکم برادریاں‘ ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ او بی سی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے پرتشدد تحریکیں چلاتی ہیں اور حکومتیں ان کے سامنے جھکتی ہوئی نظر آتی ہیں۔غالب برادریوں کی او بی سی زمرے میں شامل ہونے کی اس ہوڑ نے منڈل کمیشن کی اصل روح اور اس کے بنیادی مقاصد پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
جب یہ تمام بااثر اور اقتدار پر قابض برادریاں او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں شامل ہو جائیں گی، تو منڈل کمیشن نے سماجی انصاف کے تحت جن حقیقی پسماندہ برادریوں کے لیے تحفظات کی سفارش کی تھی، وہ تمام سفارشات غیر متعلق ہو جائیں گی اور جو طبقات واقعتاً حق دار تھے، وہ ایک بار پھر حاشیہ پر دھکیل دیے جائیں گے۔اس پورے منظرنامے کا سب سے افسوسناک اور تاریک پہلو پسماندہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک ہے۔ سیاسی نفع نقصان اور فرقہ وارانہ صف بندی کے تحت بی جے پی اور اقتدار پر قابض قوتیں ملک بھر میں مسلمانوں کی پسماندہ برادریوں کو ملنے والے ریزرویشن کی شدید مخالفت کرتی ہیں اور اسے ‘مذہبی ریزرویشن کا نام دے کر یہ پروپیگنڈا کرتی ہیں کہ آئین مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی اجازت نہیں دیتا۔مگر تضاد دیکھیے کہ یہی حکومت 1950ء کے صدارتی حکم نامے کو بالکل درست اور مقدس مانتی ہے، جس میں محض ‘مذہب کی بنیاد پر ہی دلت مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کو ایس سی (SC) کے زمرے سے خارج کر دیا گیا تھا۔ یہ صریح تضاد اور دوہرا معیار ہے۔ حکومت کے اپنے ہی کئی کمیشنوں (جیسے سچر کمیٹی اور رنگ ناتھ مشرا کمیشن) نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ اسلام میں ذات پات کا کوئی مذہبی تصور نہیں ہے، لیکن ہندوستانی معاشرے کے اثرات کے تحت مسلمانوں میں پیشہ ورانہ اور سماجی بنیادوں پر کئی ایسی برادریاں موجود ہیں جو شدید ترین پسماندگی، غریبی اور سماجی تفریق کا شکار ہیں۔
بھارت میں ریزرویشن کی بحث کو اکثر محض غربت اور بے روزگاری کے تناظر میں پیش کیا جاتاہے، جب کہ آئینی اور تاریخی اعتبار سے ریزرویشن کا تصور کبھی بھی محض معاشی امداد یا غربت کے خاتمے کا کوئی عارضی پروگرام نہیں تھا۔ریزرویشن کا بنیادی اور اصل مقصد ان طبقات کو ریاستی اداروں اور اقتدار میں نمائندگی فراہم کرنا تھا جو صدیوں سے سماجی امتیاز، تعلیمی محرومی اور سیاسی بے اختیاری کا شکار تھے۔دستور ساز اسمبلی کا تاریخی معرکہ آئین ہند کی تشکیل کے دوران دستور ساز اسمبلی میں ریزرویشن کے مسئلے پر طویل اور تاریخی بحثیں ہوئی تھیں۔ ایک طرف تجریدی مساوات کا اصول تھا، جس کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، اور دوسری طرف ہندوستانی سماج کی وہ تلخ زمینی حقیقت تھی جس میں بعض طبقات کو تاریخی اور موروثی طور پر تعلیم، روزگار، زمین کی ملکیت اور اقتدار کے مراکز سے دور رکھا گیا تھا۔ دستور سازوں کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ کیا محض کاغذی اور قانونی مساوات، ایک غیر مساوی معاشرے میں سماجی انصاف کی ضمانت دے سکتی ہے؟
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور ان کے ہم خیال ارکان کا استدلال تھا کہ صدیوں سے محروم رکھے گئے طبقات کو صرف ’’برابر مواقع‘‘دینا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ دوڑ کے آغاز میں سب ایک ہی مقام پر کھڑے نہیں ہیں۔ بعض طبقات کو تاریخی طور پر اس قدر پیچھے دھکیل دیا گیا ہے کہ اگر ریاست ان کے لیے خصوصی اور ترجیحی اقدامات نہ کرے، تو مساوات کا دعویٰ محض ایک نظریاتی فریب بن کر رہ جائے گا۔ اسی انقلابی تصور نے ‘مثبت امتیاز اور تحفظات کی آئینی بنیاد فراہم کی۔آئینی دفعات اور پسماندگی کا معیاراسی فلسفے کے تحت آئین کے آرٹیکل 15(4)، 15(5) اور 16(4) کے ذریعے ریاست کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات (OBCs)، درج فہرست ذاتوں (SCs) اور درج فہرست قبائل (STs) کے لیے خصوصی انتظامات کرے۔
یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ آئین سازوں نے ’’غربت‘‘ کو ریزرویشن کی بنیاد نہیں بنایا، بلکہ صرف اور صرف ’’سماجی اور تعلیمی پسماندگی‘‘کو معیار قرار دیا۔یہ فرق محض لفظی نہیں بلکہ گہرا فلسفیانہ ہے۔ غربت ایک معاشی حالت ہے جو وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن سماجی محرومی ایک ساختی اور موروثی مسئلہ ہے جو ذات پات کی شکل میں نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ ایک غریب شخص محنت کر کے اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکتا ہے، لیکن ایک ایسا فرد جو ذات پات یا سماجی تفریق کے باعث صدیوں سے تعلیم، باوقار ملازمت اور سماجی عزت سے محروم رہا ہو، اس کی مشکلات کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہوتی ہیں۔ اسی لیے ریزرویشن کو غربت مٹانے کے بجائے، نظام میں حصہ داری اور سماجی انصاف کے ایک مؤثر آلے کے طور پر دیکھا گیا۔یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد مختلف ریاستوں اور بعد ازاں مرکزی حکومت نے پسماندہ طبقات کی سائنسی شناخت کے لیے وقتاً فوقتاً کمیشن قائم کیے۔ ان کمیشنوں کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ ملک کے کون سے طبقات سماجی اور تعلیمی اعتبار سے اس قدر محروم ہیں کہ انہیں ریاستی تحفظ کی ضرورت ہے۔بعد کے دور میں منڈل کمیشن نے اسی تصور کو مزید وسعت دی اور بین السطور یہ واضح کیا کہ ہندوستانی سماج میں پسماندگی کا تعلق صرف معاشی وسائل کی کمی سے نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست تعلق سماجی حیثیت، تعلیمی مواقع اور اقتدار کے ایوانوں میں نمائندگی کی عدم موجودگی سے ہے۔
منڈل کمیشن: سماجی انصاف کا فیصلہ کن موڑ
آزادی کے بعد ایس سی اور ایس ٹی کے علاوہ ایک بڑی آبادی ایسی تھی جو سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ہونے کے باوجود کسی کوٹے میں شامل نہیں تھی۔ اسی محرومی کو دور کرنے کے لیے 1979ء میں بیندیشوری پرساد منڈل (بی پی منڈل) کی سربراہی میں ’’دیگر پسماندہ طبقات کمیشن‘‘قائم کیا گیا۔منڈل کمیشن نے واضح کیا کہ پسماندگی صرف معاشی غریبی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک موروثی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کمیشن نے پسماندہ طبقات کی سائنسی شناخت کے لیے 11 سماجی، تعلیمی اور معاشی اشاریے مقرر کیے۔ ان میں ان طبقات پر توجہ دی گئی جو روایتی سماجی ڈھانچے میں کمتر سمجھے جاتے تھے۔جن کی تعلیمی شرح قومی اوسط سے کم تھی۔جن کی سرکاری ملازمتوں اور اقتدار میں نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔جو روایتی طور پر کم آمدنی والے یا محنت کش پیشوں سے وابستہ تھے۔کمیشن نے تخمینہ لگایا کہ ملک میں یہ پسماندہ آبادی 52 فیصد ہے، اور اسی بنیاد پر مرکزی ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 27 فیصد او بی سی ریزرویشن کی سفارش کی۔ 1980ء میں پیش کی گئی یہ رپورٹ بالآخر 1990ء میں وزیر اعظم وی پی سنگھ کے دور میں نافذ ہوئی، جس نے ملک کے محروم طبقات کو اقتدار اور انتظامیہ میں حصہ داری کا پہلا بڑا آئینی متبادل فراہم کیا۔
مسلمانوں کے بارے میں منڈل کمیشن کا تاریخی مؤقف منڈل کمیشن کا ایک اہم لیکن دانستہ طور پر دبا دیا جانے والا پہلو مسلمانوں کے بارے میں اس کا دوٹوک مؤقف تھا۔ کمیشن نے اس سطحی تصور کو یکسر مسترد کر دیا کہ ہندوستانی مسلمان ایک ‘یکساں سماجی اکائی ہیں اور ان کے اندر کوئی طبقاتی تفریق نہیں ہے۔کمیشن نے تاریخی ریکارڈ اور زمینی سروے کی بنیاد پریہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگرچہ اسلام میں نظریاتی طور پر مساوات ہے، لیکن برصغیر کی تاریخ نے مسلمانوں کو بھی ذات، برادری اور موروثی پیشوں کی بنیاد پر تقسیم کر رکھا ہے۔اسی پسماندگی کی بنیاد پر کمیشن نے جولاہا/انصاری، رنگریز، منصوری (دھنیا)، قریشی (قصاب)، دھوبی، نائی اور فقیر جیسی متعدد مسلم برادریوں کو او بی سی کی فہرست میں شامل کرنے کی مضبوط سفارش کی۔ یہ سفارش کسی مذہبی بنیاد پر نہیں، بلکہ خالصتاً آئین کے بتائے ہوئے ‘سماجی اور تعلیمی پسماندگی کے ترازو پر کی گئی تھی۔پسماندہ تحریک کی فکری بنیادمنڈل کمیشن کا سب سے بڑا انقلابی نکتہ یہی تھا کہ مسلمانوں کو ایک واحد سماجی برادری سمجھنا زمینی حقائق کے منافی ہے۔پسماندہ مسلم برادریوں کو سماجی انصاف فراہم کرنے سے گریز کیوں؟
حالیہ برسوں میں پسماندہ مسلم برادریوں کو او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں شامل کرنے کا مسئلہ ایک بار پھر قومی سیاسی مباحث کا حصہ بن گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی مرکزی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن آئین کے منافی ہے اور او بی سی کوٹے میں مسلمانوں کی شمولیت دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی سوچ کے تحت کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کے لیے مختص 4 فیصد او بی سی ریزرویشن کو ختم کرتے ہوئے اسے دیگر برادریوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مغربی بنگال میں بھی بی جے پی نے مسلسل یہ موقف اختیار کیا ہے کہ او بی سی فہرست میں مسلم برادریوں کی شمولیت آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ متعدد مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ مذہب کی بنیاد پر دیا جانے والا ریزرویشن آئین کی روح کے خلاف ہے اور اس سے دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔تاہم اس پورے معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پسماندہ مسلم برادریوں کو دی جانے والی سہولتیں واقعی مذہب کی بنیاد پر ہیں یا ان کی بنیاد سماجی اور تعلیمی پسماندگی ہے؟منڈل کمیشن، سچر کمیٹی اور جسٹس رنگاناتھ مشرا کمیشن سمیت متعدد سرکاری کمیشنوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ایک یکساں سماجی اکائی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ اسلام نظریاتی طور پر مساوات کا علمبردار ہے، لیکن ہندوستانی سماجی ساخت کے اثرات مسلمانوں کے اندر بھی مختلف شکلوں میں موجود رہے ہیں۔
متعدد مسلم برادریاں ایسی ہیں جو تعلیم، سرکاری ملازمتوں، زمین کی ملکیت، سیاسی نمائندگی اور سماجی وقار کے اعتبار سے شدید پسماندگی کا شکار ہیں۔منڈل کمیشن نے اسی بنیاد پر متعدد مسلم برادریوں کو او بی سی زمرے میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے مذہب کو نہیں بلکہ سماجی اور تعلیمی پسماندگی کو معیار قرار دیا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ سیاسی مباحث میں اکثر پورے مسئلے کو ’’مسلم ریزرویشن‘‘ بمقابلہ ’’ہندو او بی سی حقوق‘‘ کے زاویے سے پیش کیا جاتا ہے، جس سے اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ آیا متعلقہ برادری واقعی سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہے یا نہیں۔جسٹس رنگاناتھ مشرا کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کی بڑی آبادی سماجی اور معاشی محرومی کا شکار ہے اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے مسلمانوں کے لیے 10 فیصد اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ریزرویشن کی سفارش کی تھی۔ اگرچہ ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، لیکن اس نے اقلیتی محرومی کے سوال کو قومی سطح پر ایک نئی بحث کا موضوع بنا دیا۔مغربی بنگال میں او بی سی ریزرویشن کے تنازع کو بھی اکثر غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ مئی 2024 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے مسلم برادریوں کی او بی سی فہرست میں شمولیت کو محض اس بنیاد پر غیر آئینی قرار نہیں دیا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ عدالت کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ متعدد برادریوں کو او بی سی فہرست میں شامل کرتے وقت مقررہ قانونی طریقۂ کار اور معروضی جائزے کو پوری طرح اختیار نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اس اصول پر زور دیا کہ کسی بھی برادری کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کے لیے اس کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا سائنسی اور
ادارہ جاتی جائزہ ضروری ہے۔
اس پوری بحث کا ایک اور اہم پہلو دلت مسلمانوں اور دلت عیسائیوں کا مسئلہ ہے۔ 1950 کے صدارتی حکم نامے کے تحت درج فہرست ذات کا درجہ صرف مخصوص مذاہب سے وابستہ دلت برادریوں تک محدود رکھا گیا۔ نتیجتاً وہ دلت افراد جو اسلام یا عیسائیت قبول کر لیتے ہیں، قانونی طور پر ایس سی تحفظات سے محروم ہو جاتے ہیں، حالانکہ متعدد سماجی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبدیلیِ مذہب کے بعد بھی ان کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور سماجی محرومی ختم نہیں ہوتی۔یہی وہ نکتہ ہے جس پر مختلف کمیشنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور آئینی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی فرد یا برادری کی سماجی محرومی کی بنیاد ذات پات کا تاریخی نظام ہے تو محض مذہب کی تبدیلی سے وہ محرومی ختم نہیں ہو جاتی۔ اس تناظر میں موجودہ قانونی بندوبست پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا یہ سماجی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔درحقیقت اصل بحث ’’مسلم ریزرویشن‘‘ یا ’’ہندو ریزرویشن‘‘ کی نہیں بلکہ سماجی انصاف کے اس بنیادی اصول کی ہے جسے منڈل کمیشن نے واضح کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست آج بھی پسماندگی کی شناخت سماجی اور تعلیمی محرومی کی بنیاد پر کر رہی ہے، یا پھر ریزرویشن اور فلاحی پالیسیوں کا تعین سیاسی مصلحتوں اور انتخابی ترجیحات کے تحت ہو رہا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو نہ صرف پسماندہ مسلم برادریوں بلکہ پورے ہندوستانی ریزرویشن نظام کے مستقبل کا تعین کرے گا۔منڈل کمیشن بمقابلہ موجودہ سیاست: بنیادی فلسفے سے انحراف؟
بھارت میں ریزرویشن کی موجودہ بحث کو سمجھنے کے لیے منڈل کمیشن کے بنیادی فلسفے اور موجودہ سیاسی رجحانات کا تقابلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ منڈل کمیشن کی سفارشات کا بنیادی مقصد ان طبقات کو اقتدار اور انتظامیہ میں نمائندگی فراہم کرنا تھا جنہیں تاریخی طور پر نظام سے دور رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کمیشن نے پسماندگی کی شناخت کے لیے معاشی غریبی کے بجائے ’’سماجی اور تعلیمی محرومی‘‘ کو بنیادی معیار بنایا، کیونکہ معاشی حالت بدل سکتی ہے لیکن سماجی محرومی نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔گزشتہ چند دہائیوں میں ریزرویشن کی سیاست کا رخ بالکل تبدیل ہو چکا ہے۔ اب مختلف ریاستوں میں وہ غالب برادریاں بھی او بی سی طرز کے فوائد کا مطالبہ کر رہی ہیں جو سیاسی نمائندگی، زمین کی ملکیت اور معاشی وسائل کے اعتبار سے انتہائی مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔ مہاراشٹر میں مراٹھا، گجرات میں پٹیل، اور راجستھان و ہریانہ میں جاٹ برادری کی تحریکوں نے اس بحث کو ایک الگ رخ دے دیا ہے۔ان تحریکوں کا استدلال ہے کہ زرعی بحران اور بے روزگاری کی وجہ سے وہ معاشی مشکلات کا شکار ہیں، لیکن ناقدین اسے منڈل کمیشن کی اصل روح سے انحراف قرار دیتے ہیں۔ اگر ریزرویشن کا معیار سماجی پسماندگی کے بجائے سیاسی دباؤ، انتخابی طاقت یا معاشی بحران بن جائے، تو محدود سرکاری وسائل پر دوبارہ انہی طاقتور گروہوں کا قبضہ ہو جائے گا اور حقیقی محروم طبقات مزید حاشیے پر چلے جائیں گے۔یہی المیہ پسماندہ مسلم برادریوں کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔
منڈل کمیشن نے مسلمانوں کو ایک ‘یکساں سماجی اکائی کے طور پر نہیں دیکھا تھا بلکہ ان کے اندر موجود پسماندہ اور دستکار ذاتوں کی نشاندہی کی تھی۔ اس کے باوجود، موجودہ سیاسی مباحث میں مسلم او بی سی کے سوال کو دانستہ طور پر مذہبی اور شناختی سیاست کا رنگ دے دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا اصل سائنسی سوال پسِ منظر میں چلا جاتا ہے۔منڈل کمیشن نے واضح کیا تھا کہ ریزرویشن کسی فلاحی اسکیم کا نام نہیں بلکہ اقتدار، تعلیم اور سرکاری اداروں میں نمائندگی کی غیر مساوی تقسیم کو درست کرنے کا ایک آئینی ذریعہ ہے۔ اسی اصول کے تحت اس نے مسلمانوں سمیت مختلف برادریوں کے اندر موجود پسماندہ طبقات کی نشاندہی کی اور مذہب کے بجائے سماجی حقیقتوں کو معیار بنایا۔تاہم آج صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف سیاسی طور پر بااثر اور منظم برادریاں ریزرویشن یا ریزرویشن طرز کی مراعات حاصل کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف پسماندہ مسلم برادریوں، دلت مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات کے مطالبات کو اکثر مذہبی یا سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ اس سے سماجی انصاف کی اصل بحث پس منظر میں چلی جاتی ہے اور توجہ شناختی سیاست پر مرکوز ہو جاتی ہے۔سچر کمیٹی، رنگاناتھ مشرا کمیشن اور متعدد سماجی مطالعات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر محرومی کی کئی پرتیں موجود ہیں جنہیں محض مذہبی شناخت یا معاشی معیار سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کوئی برادری سماجی، تعلیمی اور ادارہ جاتی سطح پر مسلسل محرومی کا شکار ہے تو اس کے مسئلے کا حل بھی اسی سائنسی بنیاد پر تلاش کرنا ہوگا۔
ریزرویشن کے اس پورے فلسفے میں اب ایک نیا تضاد معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے 10 فیصد ای ڈبلیو ایس کوٹے کی شکل میں شامل ہو چکا ہے۔ اب جب معاشی کمزوری کے ازالے کے لیے الگ سے ایک مستقل آئینی بندوبست کر دیا گیا ہے، تو پھر او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں معاشی بنیادوں پر بااثر برادریوں کو شامل کرنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ کیا او بی سی کوٹہ اب بھی اپنے اصل مقصد پر قائم ہے یا اسے محض ایک عمومی فلاحی اسکیم میں تبدیل کیا جا رہا ہے؟یہ سوال صرف قانونی یا آئینی نہیں، بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کون سی برادری ریزرویشن مانگ رہی ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی ریاست اب بھی منڈل کمیشن کے اس اصول پر قائم ہے کہ ریزرویشن سماجی پسماندگی کے ازالے کا نام ہے؟ یا پھر یہ نظام ایک ایسے سیاسی میدان میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں زیادہ منظم، عددی اکثریت اور بااثر گروہ اپنے سیاسی دباؤ کے بل بوتے پر غریبوں کے حصے پر قابض ہو رہے ہیں؟ اسی سوال کا مخلصانہ جواب یہ طے کرے گا کہ بھارت میں ریزرویشن مستقبل میں سماجی انصاف کا کوئی مؤثر ذریعہ رہے گا یا محض انتخابی سودے بازی کا ایک آسان ہتھیار بن کر رہ جائے گا۔چنانچہ آج ضرورت اس بات کی نہیں ہے کہ ریزرویشن کی بحث کو ‘ہندو بمقابلہ مسلمان یا ‘اکثریت بمقابلہ اقلیت کے دائرے میں محدود کر دیا جائے، بلکہ اس بات کی ہے کہ ریاست ایک بار پھر منڈل کمیشن کے بنیادی سوال کی طرف لوٹے آخر وہ کون لوگ ہیں جو آج بھی اقتدار، تعلیم، روزگار اور نمائندگی کے دروازوں سے باہر کھڑے ہیں؟ جب تک اس سوال کا دیانت دارانہ اور غیر جانبدارانہ جواب تلاش نہیں کیا جاتا، سماجی انصاف کا خواب ادھورا رہے گا اور ریزرویشن کا نظام اپنے اصل مقصد سے دور ہوتا چلا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی، اب اس تلخ حقیقت کا بھی کھلے دل سے جائزہ لیا جانا چاہیے کہ کیا اس ملک کی اقلیتی برادریاں ایک منظم ‘ادارہ جاتی ناانصافی (Institutional Injustice) کا شکار نہیں ہو رہی ہیں؟ کیا ان کے ساتھ دانستہ طور پر سوتیلا سلوک نہیں کیا جا رہا؟آخر کیا وجہ ہے کہ آزادی کے 78 سالوں بعد اور سچر کمیٹی جیسی درجنوں سرکاری رپورٹس کے باوجود، تعلیمی شعبے اور اعلیٰ ملازمتوں میں اقلیتوں کی نمائندگی مسلسل گر رہی ہے اور وہ قومی اوسط سے انتہائی نیچے ہیں؟ سماجی اور معاشی حصہ داری کے اعتبار سے اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت آج ترقی کے ہر پائیدان پر آخری صف میں یعنی حاشیے پر کیوں کھڑی ہے؟اس دردناک صورتحال کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ اس کے پیچھے ملک کا موجودہ معاندانہ انتظامی ڈھانچہ، بدلی ہوئی سیاسی سوچ اور نظام کے اندر گہرائی تک سرائیت کر جانے والے تعصبات کارفرما ہیں۔ جب تک اقتدار کی ہوس اور اقلیت دشمنی کی اس سیاسی عینک کو اتار کر سب کو برابر کا شہری نہیں مانا جاتا، تب تک ترقی اور سماجی مساوات کا ہر دعویٰ محض ایک کاغذی سراب ہی رہے گا۔
منڈل کمیشن نے ریزرویشن کو سماجی انصاف کا ذریعہ بنایا تھا، لیکن آج سوال یہ ہے کہ کیا ریزرویشن کا معیار سماجی و تعلیمی پسماندگی ہے یا سیاسی طاقت اور انتخابی دباؤ؟ اگر اس سوال کا واضح جواب نہ ملا تو سب سے زیادہ نقصان انہی طبقات کو ہوگا جن کے لیے یہ نظام اصل میں تشکیل دیا گیا تھا۔آئین سازوں نے ‘غربت کو ریزرویشن کی بنیاد نہیں بنایا، بلکہ ‘سماجی اور تعلیمی پسماندگی کو معیار قرار دیا؛ کیونکہ معاشی حالت بدل سکتی ہے، لیکن سماجی محرومی نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔”
تضاد دیکھیے کہ جو حکومت مسلمانوں کے او بی سی کوٹے کو ‘مذہبی کہہ کر مخالفت کرتی ہے، وہی حکومت 1950ء کے صدارتی حکم نامے کے تحت ‘مذہب ہی کی بنیاد پر دلت مسلمانوں کو ایس سی (SC) کے درجے سے باہر رکھتی ہے۔”

