علی ندیم رضوی
آج بنگال سے مایوسی اس لیے نہیں ہوتی کہ اس کے مؤرخین یا دانشور ماضی پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔ ہر نسل کو ایسا کرنا چاہیے۔ تاریخ کوئی صحیفہ نہیں، بلکہ ایسا علم ہے جو شواہد کی مسلسل جانچ، مفروضوں پر سوال اٹھانے، اور نئے مواد یا مضبوط دلائل سامنے آنے پر اپنے نتائج پر نظرِ ثانی کا تقاضا کرتا ہے۔
مایوسی کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔
کئی نسلوں تک بنگال نے ہندوستان کے فکری ضمیر کا کردار ادا کیا۔ یہ رابندر ناتھ ٹیگور، ایشور چندر ودیا ساگر، بنکم چندر چٹوپادھیائے، جگدیش چندر بوس اور ان متعدد اہلِ علم کا بنگال تھا جنہوں نے بنگال کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ عقل کو عقیدے پر غالب ہونا چاہیے اور علمی دنیا کو سیاسی اقتدار سے آزاد رہنا چاہیے۔ خواہ وہ لبرل ہوں، قوم پرست، مارکسی یا قدامت پسند، انہوں نے بھرپور علمی مباحث کیے، مگر فکری زندگی کی خود مختاری کا ہمیشہ دفاع کیا۔
یہی وراثت آج تیزی سے کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران بنگال کے بعض دانشوروں، جن میں کچھ ممتاز مؤرخین بھی شامل ہیں، کے طرزِ فکر میں ایک غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ وہ بیانیے جنہیں کبھی نظریاتی محرکات کا نتیجہ قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا تھا، آج حیران کن جوش و خروش کے ساتھ قبول کیے جا رہے ہیں۔ تاریخی شخصیات، جنہیں طویل عرصے تک ایک مخصوص تشریحی فریم ورک کے تحت سمجھا جاتا رہا، اب اچانک ایک دوسرے فریم ورک کے ذریعے ازسرِنو دریافت کی جا رہی ہیں۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اکثر اس ڈرامائی تبدیلی کے پیچھے کوئی ایسی نئی آرکائیول دریافت یا مستند ثبوت بھی موجود نہیں ہوتا جو اس تبدیلی کا جواز پیش کر سکے۔
بلاشبہ، تاریخ کی ازسرِنو تشریح نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ تاریخی تحقیق وقت کے کسی ایک فکری سانچے میں منجمد نہیں رہ سکتی۔ تاہم حقیقی نظرِ ثانی ہمیشہ مضبوط شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی طاقت کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے زیرِ اثر۔ مؤرخین اپنے قارئین کے سامنے اس بات کے جواب دہ ہیں کہ انہوں نے اپنے نتائج کیوں تبدیل کیے۔ اگر دہائیوں پر محیط علمی تحقیق اب ناکافی سمجھی جا رہی ہے تو وہ کون سے نئے شواہد ہیں جن کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے؟ اگر سابقہ تشریحات میں خامیاں تھیں تو وہ خامیاں کیا تھیں؟ یہ سوالات طریقۂ کار سے متعلق ہیں، نظریے سے نہیں۔
اس تاثر سے بچنا مشکل ہے کہ بعض معاملات میں یہ نئی تشریحات بدلتے ہوئے سیاسی ماحول سے پوری طرح ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔ یہی صورتِ حال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا یہ فکری تبدیلیاں واقعی نئی دستاویزی دریافتوں کا نتیجہ ہیں، یا یہ ایک ایسے نئے نظریاتی ماحول کا ردِعمل ہیں جہاں مخصوص تاریخی مؤقف اختیار کرنے پر عوامی پذیرائی، ادارہ جاتی حوصلہ افزائی یا پیشہ ورانہ فوائد حاصل ہوتے ہیں؟
یہ صورتِ حال اس لیے بھی زیادہ مایوس کن ہے کہ بنگال ہمیشہ ایسے دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے پر فخر کرتا رہا ہے۔ اس نے نوآبادیاتی آرتھوڈوکسی کو اس وقت چیلنج کیا جب وہ علمی دنیا پر غالب تھی۔ اس نے تاریخ کے فرقہ وارانہ مطالعے پر اس وقت سوال اٹھایا جب وہ مقبولیت حاصل کر رہا تھا۔ اس نے بے خوف علمی تحقیق کی ایسی روایت قائم کی جس کے لیے اہلِ علم نے ذاتی اور پیشہ ورانہ نقصانات بھی برداشت کیے۔ اسی روایت کا پورے ہندوستان میں احترام کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ ان لوگوں کے درمیان بھی جو اس کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔
اس کے باوجود آج بعض محققین میں نہ صرف تاریخ پر نظرِ ثانی کرنے بلکہ اسے عصری سیاسی حالات کے مطابق ڈھالنے کا رجحان بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف تاریخ بلکہ خود مؤرخ کے وقار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ مؤرخ کا کام نہ ماضی کو جائز ثابت کرنا ہے اور نہ حال کو تسلی دینا، بلکہ ماضی کو اس کی اپنی شرائط پر سمجھنا اور سمجھانا ہے، خواہ اس کے نتائج مروجہ سیاسی نظریات کے لیے کتنے ہی غیر آرام دہ کیوں نہ ہوں۔
یہ مجموعی طور پر بنگال یا تمام بنگالی مؤرخین پر کوئی الزام نہیں۔ آج بھی بہت سے اسکالرز نظریات کے بجائے شواہد کی بنیاد پر اعلیٰ معیار کی تحقیق پیش کر رہے ہیں۔ اسی طرح فکری موقع پرستی صرف بنگال تک محدود نہیں، بلکہ پورے ہندوستان میں مختلف نظریات سے وابستہ دانشور مختلف ادوار میں سیاسی اقتدار کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرتے رہے ہیں۔
اس کے باوجود بنگال سے مایوسی کا احساس اس لیے زیادہ گہرا ہے کہ اس سے توقعات ہمیشہ بلند رہی ہیں۔ ایک ایسا خطہ جو کبھی فکری جرأت اور علمی آزادی کی علامت سمجھا جاتا تھا، اسے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سخت معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ جب اس کے دانشور اور مؤرخ اپنی فکری آزادی کا سودا ذاتی یا ادارہ جاتی مفادات کے ساتھ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو نقصان کا احساس بھی اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔
بنگال کی حقیقی وراثت کبھی کسی مخصوص سیاسی نظریے میں نہیں رہی، بلکہ اس کی اصل طاقت اس جرأت میں تھی کہ جب شواہد کا تقاضا ہو تو ہر نظریے سے اختلاف کیا جائے۔ اسی روایت نے ہندوستان کے بہترین ذہنوں کو جنم دیا۔ یہ روایت مصلحت پسندی کے بجائے فکری تجدید، اور سمجھوتے کے بجائے علمی آزادی کی مستحق ہے۔ دیگر خطوں کی طرح بنگال میں بھی تاریخی تحقیق کا معیار اس بات سے متعین نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بدلتی ہوئی حکومتوں کے ساتھ اپنا رنگ بدلتی ہے، بلکہ اس سے کہ وہ ایسے وقت میں بھی فکری دیانت اور علمی استقلال برقرار رکھتی ہے جب ایسا کرنا سب سے زیادہ مشکل ہو۔
