لکھنؤ/الہ آباد
الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ مسلم پرسنل لا،شریعت کا وہ قانون، جو لڑکی کی شادی کے لیے بلوغت کو قانونی عمر تسلیم کرتا ہے، واضح طور پر ‘پروہبیشن آف چائلڈ میرج ایکٹ 2006’ اور ‘پوکسو ایکٹ سے متصادم ہے۔ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اچل سچدیو پر مشتمل بنچ نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے مطابق ملک کے ہر شہری کے لیے، مذہب سے بالاتر ہو کر، شادی کی قانونی عمر یکساں ہے۔
عدالت نے 19 افراد کی جانب سے دائر کردہ اس رٹ پٹیشن کو خارج کردیا جس میں انہوں نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ضلع بلند شہر میں ایک 16 سالہ مسلم لڑکی کی ہونے والی نابالغ شادی کو روکنے کے لیے آنے والی پولیس اور چائلڈ لائن ریسکیو ٹیم پر حملہ کیا اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔
کیس میں ریلیف مانگتے ہوئے درخواست گزاروں نے دلیل دی تھی کہ مسلمانوں پر نافذہونے والے شریعت قانون کے تحت، لڑکی بلوغت کی عمر (جسے عام طور پر 15 سال مانا جاتا ہے) کو پہنچنے کے بعد شادی کے لیے اہل ہو جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 2006 درخواست گزاروں کے شادی سے متعلق پرسنل لا پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
تاہم، ہائی کورٹ کے بنچ نے اس دلیل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ کوئی بھی پرسنل لا، چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت بچوں کی شادی پر عائد پابندی یا پوکسو ایکٹ کے قانونی اثرات کو ختم نہیں کر سکتا۔ بنچ نے واضح کیا کہ اگر 18 سال سے کم عمر کسی فرد کی شادی کی اجازت دی جاتی ہے، تو چونکہ جنسی تعلقات شادی کے ادارے کا لازمی حصہ ہیں، اس کے نتیجے میں واضح طور پر پوکسو ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ چائلڈ میرج ایکٹ اور پوکسو ایکٹ ایسے قوانین ہیں جن کی بنیاد پبلک ہیلتھ (عوامی صحت) اور قومی پالیسی پر ہے۔ ان کے پیچھے ایک سائنسی سمجھ بوجھ کارفرما ہے، جسے قانون سازی کے ذریعے امتناعی قوانین کی شکل دی گئی ہے، اور اس سے بچنے کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
اس معاملے پر مختلف ہائی کورٹس کی آراء میں اختلاف کا اعتراف کرتے ہوئے، الٰہ آباد ہائی کورٹ کے بنچ نے کہا کہ وہ کیرالہ ہائی کورٹ کے اس استدلال سے مکمل اتفاق کرتا ہے کہ کوئی بھی پرسنل لا بچوں کی شادی پر لگی پابندی پر حاوی نہیں ہو سکتا۔
بنچ نے سپریم کورٹ کے 2025 کے ایک حکم کا بھی حوالہ دیا، جس میں عدالتِ عظمیٰ نے پرسنل لا اور چائلڈ میرج ایکٹ کے باہمی ٹکراؤ کے معاملے پر اس وقت تک کے لیے شبہ کا اظہار کیا تھا جب تک کہ پارلیمنٹ میں 21 دسمبر 2021 کو پیش کیا گیا ‘پروہبیشن آف چائلڈ میرج (ترمیمی) بل 2021’ پاس نہیں ہو جاتا۔ تاہم، ڈویژن بنچ نے نوٹ کیا کہ مذکورہ بل 17ویں لوک سبھا کی تحلیل کے ساتھ ہی ختم (Lapse) ہو گیا تھا اور اس معاملے پر اب تک سپریم کورٹ کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔
کیس کے مخصوص حقائق پر بات کرتے ہوئے، عدالت نے پایا کہ نابالغ لڑکی کے والدین اور کمیونٹی کی جانب سے چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی شادی کرانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی۔ بنچ نے مظلوم لڑکی کو بچانے کے لیے فوری کارروائی کرنے پر پولیس اور چائلڈ لائن ٹیم کی ستائش کی اور کہا کہ وہ پوکسو ایکٹ کی ممکنہ خلاف ورزی کو روکنے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ اپنی فرائض انجام دے رہے تھے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے ریسکیو ٹیم کو گالیاں دینے، دھمکیاں دینے اور ٹیم کو اپنی جان بچانے پر مجبور کرنے کی تفصیلات پر مبنی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیےکہ ’’مظلوم لڑکی کو زبردستی ان کی تحویل سے چھین لیا گیا تھا، یہاں تک کہ اسے دوبارہ بچایا گیا۔ یہ یقینی طور پر ایک ایسا معاملہ ہے جہاں بادی النظر میں سرکاری ملازم کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ ایف آئی آر میں درج دیگر جرائم کی بھی مکمل تفتیش کی ضرورت ہے۔
چنانچہ، ایف آئی آر میں مداخلت کی کوئی ٹھوس وجہ نہ پاتے ہوئے، عدالت نے رٹ پٹیشن کو خارج کر دیا۔
