انصاف نیوز نیٹ ورک | پونے
پونے کی خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت میں اپنے تازہ بیان میں ونائک دامودر ساورکر کے پڑپوتے ستیاکی ساورکر نے کہا ہے کہ وہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ بعض حلقے ساورکر کو “معافی ویر” یا “برطانوی ایجنٹ” کیوں کہتے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ یہ ایک متنازع اور بحث طلب موضوع ہے، اس لیے انہوں نے ان الفاظ کا استعمال کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر نہیں کیا۔
ستیاکی ساورکر سے اس مجرمانہ ہتکِ عزت کے مقدمے میں جرح کی جا رہی ہے جو انہوں نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف دائر کیا ہے۔ مقدمے میں الزام ہے کہ راہل گاندھی نے لندن میں ایک تقریر کے دوران ساورکر کے بارے میں توہین آمیز بیانات دیے تھے۔
راہل گاندھی کے وکیل ایڈوکیٹ ملند پوار خصوصی جج امول شندے کی عدالت میں ستیاکی ساورکر سے جرح کر رہے ہیں۔
منگل (7 جولائی) کو جرح کے دوران ستیاکی ساورکر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ مورخین تاریخی شواہد کی بنیاد پر ساورکر کو “معافی ویر” یا “برطانوی ایجنٹ” کہتے ہیں یا یہ محض سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا:
“یہ درست ہے کہ تحریکِ آزادی میں ساورکر کی خدمات کے باوجود ان پر ‘معافی ویر’ اور ‘برطانوی ایجنٹ’ ہونے کے الزامات لگائے گئے، لیکن یہ نکات بحث کا موضوع ہیں۔ اسی لیے میں نے کسی شخص کے خلاف اس بنیاد پر کوئی شکایت درج نہیں کرائی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ آیا مورخین “معافی ویر” کی اصطلاح کو ساورکر کی رحم کی درخواستوں سے جوڑتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرح وہ اس بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ “برطانوی ایجنٹ” کا الزام ان کے سیاسی مؤقف یا برطانوی حکومت سے تعلقات کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔
تقریباً چھ صفحات پر مشتمل اپنے بیان میں ستیاکی ساورکر نے کہا کہ وہ اس بات سے بھی لاعلم ہیں کہ مورخین نے ساورکر کو طنزیہ طور پر “معافی ویر” کہنا ان کی متعدد رحم کی درخواستوں کی بنیاد پر شروع کیا یا کسی اور وجہ سے۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ لفظ “ایجنٹ” تاریخی اور سیاسی تناظر میں اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے استعمال ہوا یا نہیں۔ اسی طرح وہ یہ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ساورکر کو “معافی ویر” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے متعدد مرتبہ رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
مزید برآں، ستیاکی نے کہا کہ وہ اس بات کی بھی تصدیق نہیں کر سکتے کہ رحم کی درخواستوں کا مطلب اپنی غلطی کا اعتراف تھا، یا صرف سزا میں نرمی اور رعایت کی درخواست تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان درخواستوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ساورکر نے پرتشدد راستہ ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی یا برطانوی حکومت سے کوئی سمجھوتہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ کہنا درست ہے کہ ساورکر کی رہائی کے لیے برطانوی حکومت سے خط و کتابت کی گئی تھی، تاہم یہ کہنا کہ وہ “برطانوی ایجنٹ” تھے، ایک غیر متنازع تاریخی حقیقت نہیں بلکہ ایک متنازع سیاسی اور تاریخی رائے ہے۔
اپنی مزید گواہی میں ستیاکی ساورکر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ مورخین کی جانب سے ساورکر پر لگائے گئے الزامات اس دور کی برطانوی حکومت کے ساتھ ان کے مبینہ تعاون پر مبنی تھے یا نہیں۔
البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ رتناگیری میں قیام کے دوران ساورکر نے برطانوی حکومت سے مالی امداد حاصل کرنے کے لیے خط و کتابت کی تھی اور گزارہ الاؤنس کے لیے درخواستیں بھی دی تھیں، جو اس وقت برطانوی حکومت کے قواعد کے مطابق قابلِ اجازت تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہاتما گاندھی، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور شرد چندر بوس کو بھی ایسے گزارہ الاؤنس ملتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ممبئی یونیورسٹی نے ساورکر کی بی اے کی ڈگری واپس لے لی تھی جبکہ برطانوی حکومت نے ان کی وکالت کی سند کی منظوری نہیں دی تھی۔
ستیاکی نے کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ آیا بعض مورخین نے انہی مالی معاملات کی بنیاد پر ساورکر کو “برطانوی ایجنٹ” قرار دیا۔
انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 1923 میں کاکیناڈا میں انڈین نیشنل کانگریس نے ساورکر کی رہائی کے حق میں قرارداد منظور کی تھی، تاہم وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ساورکر کی رہائی اسی قرارداد کا نتیجہ تھی۔
مقدمے کا پس منظر
ہتکِ عزت کی شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ راہل گاندھی گزشتہ چند برسوں سے مختلف مواقع پر ساورکر کے خلاف توہین آمیز بیانات دیتے رہے ہیں۔ شکایت میں خاص طور پر 5 مارچ 2023 کو برطانیہ میں اوورسیز کانگریس سے ان کی تقریر کا حوالہ دیا گیا ہے۔
شکایت کے مطابق راہل گاندھی نے جان بوجھ کر ساورکر کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے اور شکایت کنندہ کے خاندان کو ذہنی اذیت دی جائے۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ تقریر انگلینڈ میں کی گئی تھی، لیکن اس کی اشاعت اور نشریات کے باعث اس کے اثرات پونے سمیت پورے ہندوستان میں محسوس کیے گئے۔
ستیاکی ساورکر نے اپنی شکایت کے ساتھ متعدد اخباری رپورٹس اور راہل گاندھی کی لندن تقریر کی یوٹیوب ویڈیو کا لنک بھی بطور ثبوت پیش کیا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ راہل گاندھی نے غلط طور پر کہا تھا کہ ساورکر نے ایک ایسی کتاب لکھی جس میں ایک مسلمان شخص کو مارنے پیٹنے کا ذکر ہے، حالانکہ ان کے مطابق ساورکر نے ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔
درخواست میں تعزیراتِ ہند (IPC) کی دفعہ 500 کے تحت راہل گاندھی کو زیادہ سے زیادہ سزا اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 357 کے تحت زیادہ سے زیادہ معاوضہ عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
