کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال کے ضلع کوچ بہار میں اتوار کے روز خوتامارا ندی کے ایک پل کے نیچے سے 51 سالہ مسلم چرواہے، منتو میاں کی لاش برآمد ہوئی تھی ۔اس کے بعد ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ گائے کے محافظوں (گؤ رکشکوں) نے اس وقت ان کا قتل کر دیا جب وہ ایک گائے لے جا رہے تھے۔
سی پی آئی (ایم) نے بھی اہل خانہ کے الزامات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتو میاں پارٹی کے کارکن تھے اور ’’گؤ رکشکوں کے ہجوم‘‘نے ان کا بے رحمی سے قتل کیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم مقتول کے اہل خانہ کے مطابق، خبر شائع ہونے تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔
سیتل کوچی بلاک کی گولیناوہاٹی گرام پنچایت کے گاؤں نگر شنگیماری کے رہائشی منتو میاں بطور ‘دانگوال (جسے مقامی طور پر راکھال یا چرواہا بھی کہا جاتا ہے) کام کرتے تھے اور ہفتہ وار بازاروں سے خریدی گئی گائے بھینسوں کو خریداروں کے گھروں تک پہنچا کر اپنی روزی روٹی کماتے تھے۔
مقامی لوگوں کے مطابق سیتل کوچی تھانے کے علاقے میں آنے والے بازاروں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد اورحکومت کی تبدیلی کے بعدتقریباً دو ماہ سے مویشیوں کی تجارت معطل تھی۔ ہفتہ 4 جولائی کو گوسائی مارکیٹ میں مویشیوں کا ہفتہ وار بازار دوبارہ شروع ہوا تھا۔
پٹھان تولی گاؤں کے رہائشی یعقوب میاں نے مارکیٹ سے ایک گائے خریدی تھی اور منتو میاں سے درخواست کی تھی کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچا دیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منتو ہفتے کی شام گائے لے کر پیدل روانہ ہوئے تھے لیکن وہ کبھی گھر واپس نہیں آئے۔ ان کے اہل خانہ نے رات بھر ان کی تلاش کی۔
اتوار کی صبح مقامی مچھیروں نے مبینہ طور پر خوتامارا ندی کے پل کے نیچے ایک لاش دیکھی اور پولیس کو اطلاع دی۔ بعد میں متوفی کی شناخت منتو میاں کے طور پر ہوئی۔ وہ گائے بھی جائے وقوعہ کے قریب سے ملی جس کی شناخت اس کے مالک نے کر لی۔
مقامی رپورٹس کے مطابق منتو میاں کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ موت سے قبل ان پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لاش پر متعدد چوٹوں کے نشانات تھے، جن میں ٹوٹے ہوئے دانت اور جسم کے مختلف حصوں پر زخم شامل ہیں۔ اہل خانہ نے مزید الزام لگایا کہ لاش کو ندی میں پھینکنے سے پہلے ان کے چہرے اور جسم کے کچھ حصوں پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ منتو کے سسر، طارق میاں نے الزام لگایا کہ ان کے داماد کو خود ساختہ گؤ رکشکوں نے نشانہ بنایا۔
سی پی آئی (ایم) کا تحقیقات میں تاخیر کا الزام
اس معاملے کا مقدمہ سیتل کوچی تھانے میں کیس نمبر 35/26 کے تحت درج کیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ متوفی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شکایت درج کرانے کے دو دن بعد بھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ پوسٹ مارٹم کر دیا گیا ہے، حالانکہ اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ابھی تک رپورٹ کی کاپی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
اس واقعے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے کہا ہے کہ منتو میاں پارٹی کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ میناکشی مکھرجی، مقصدالاسلام، پرنجیت سرکار، نارائن چندر برمن اور راکھال چندر سرکار سمیت سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنماؤں نے سوگوار خاندان سے ملاقات کی اور انہیں قانونی مدد کا یقین دلایا۔
منگل کو سیاسی تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب میناکشی مکھرجی کی قیادت میں سی پی آئی (ایم) کے ایک وفد نے، جس میں کوچ بہار کے ضلع سکریٹری اننت رائے اور ریاستی کمیٹی کے رکن الوکیش داس شامل تھے، خاندان سے ملاقات کے لیے سیتل کوچی کا سفر کیا۔
سی پی آئی (ایم) کے مطابق، بی جے پی کے حامیوں نے وفد کے گاؤں پہنچنے سے پہلے ہی مبینہ طور پر ان کے قافلے کو روکا، گاڑیوں پر انڈے پھینکے اور وفد کا گھیراؤ کیا۔ پارٹی نے برسرِاقتدار انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ منتو میاں کے لیے انصاف مانگنے والوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سی پی آئی (ایم) کی سنٹرل کمیٹی کی رکن میناکشی مکھرجی نے کہا کہ منتو کی موت پارٹی کے لیے ذاتی اور سیاسی دونوں طرح کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہاکہ منتو میاں مقامی سطح پر پارٹی کے ایک بہت ہی مخلص کارکن تھے اور ان کی موت ہمارے لیے ایک بڑا نقصان ہے‘‘۔
مکھرجی نے بتایا کہ منتو اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے اور اپنی آمدنی کے لیے مکمل طور پر مویشیوں کو لانے لے جانے کے کام پر منحصر تھے۔ انہوں نے کہاکہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، ان جیسے لوگوں کا کام شدید متاثر ہوا ہے۔ ان کی آمدنی پہلے ہی بہت کم تھی، اور یہ ہفتہ وار مویشی بازار ان چند مواقع میں سے ایک تھا جہاں سے وہ اپنے خاندان کے لیے کچھ کما سکتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے انہوں نے اپنی جان گنوا دی”۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پولیس شروع میں مقدمہ درج کرنے میں ہچکچا رہی تھی۔ مکھرجی نے بتایاکہ پولیس کیس درج تک نہیں کر رہی تھی۔ مسلسل احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد ہی بالآخر ایف آئی آر درج کی گئی۔ اب بھی، ہمیں یقین نہیں ہے کہ ملزمان کے خلاف تمام متعلقہ قانونی دفعات لگائی گئی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ خاندان کو پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں رپورٹ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اہل خانہ کو صرف پوسٹ مارٹم کروانے کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑی۔ انہیں ابھی تک رپورٹ نہیں دی گئی ہے۔ وہ صرف ایک منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس نے لنچنگ (ہجوم کے ہاتھوں قتل) کے اہل خانہ کے الزامات، تحقیقات کے حوالے سے سی پی آئی (ایم) کے دعوئوں، یا مقتول کے خاندان سے ملنے جانے والے پارٹی وفد پر مبینہ حملے کے بارے میں اب تک کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
