سچیتا مہاجن
شیاما پرساد مکھرجی کو’’کلکتہ کا نجات دہندہ‘‘ کے طور پر پیش کرنا تاریخ کی ازسرِنو تعبیر نہیں بلکہ تاریخی ریکارڈ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ دستیاب تاریخی شواہد واضح کرتے ہیں کہ بنگال کی تقسیم اور کلکتہ کے مستقبل سے متعلق حتمی فیصلے برطانوی حکام نے کیے تھے، جنہوں نے بنیادی طور پر کانگریسی قیادت کے اختیار کردہ سیاسی مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی مرتب کی تھی۔
اسی تاریخی بیانیے کو ازسرِنو تشکیل دینے کی کوشش کے تحت مغربی بنگال کی نئی بی جے پی حکومت ریاست کی سرکاری یادگاری تقویم میں ایک نیا دن شامل کر رہی ہے: پسچھم بنگا دیوس‘‘ (مغربی بنگال یومِ تاسیس)۔ اس کے لیے 20 جون 1947کی تاریخ منتخب کی گئی ہے، جب غیر مسلم اکثریتی اضلاع کے قانون سازوں نے 21 کے مقابلے میں 58 ووٹوں سے بنگال کی تقسیم کی حمایت کی تھی، تاکہ یہ علاقے ہندوستان کا حصہ رہ سکیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’پشچم بنگا دیوس‘‘ کا تصور موجودہ بی جے پی حکومت کی تخلیق نہیں۔ یہ تجویز پہلی مرتبہ 2023 میں سامنے آئی تھی، مگر اس وقت کی ریاستی حکومت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ اس کا مؤقف تھا کہ یہ تاریخ بنگال کی تقسیم، فرقہ وارانہ خونریزی، لاکھوں افراد کی بے دخلی اور اجتماعی المیوں کی یاد تازہ کرتی ہے، اس لیے اسے جشن کے طور پر منانا مناسب نہیں۔
اس کے باوجود مرکزی حکومت نے تمام روایتی سرکاری آداب اور وفاقی حساسیت کو نظرانداز کرتے ہوئے بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں کے راج بھونوں میں 20 جون کو پشچم بنگا دیوس کے طور پر منانا جاری رکھا۔ نئی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی اسے ریاستی سطح پر باضابطہ سرکاری تقریب کا درجہ دے دیا گیا۔
چند روز قبل وزیرِ اعظم نے بھی مغربی بنگال یومِ تاسیس کی تقریبات میں شرکت کے لیے ریاست کا دورہ کیا۔ تارکیشور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شیاما پرساد مکھرجی کو اس رہنما کے طور پر پیش کیا جس نے مغربی بنگال کے لیے کلکتہ کو بچا لیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کانگریسی قیادت پر الزام عائد کیا کہ اس نےڪ متحدہ اور آزاد بنگال کی تجویز قبول کر کے ہندوؤں کے مفادات سے غداری کی، کیونکہ ان کے مطابق ایسا بنگال بالآخر پاکستان میں ضم ہو جاتا۔
اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے طور پر شیاما پرساد مکھرجی کی سالگرہ کے موقع پر پورے مغربی بنگال میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں ریاست کی نئی سیاسی علامت کے طور پر پیش کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
دی ٹیلی گراف (The Telegraph) میں سوپن داس گپتا کا کالم Myth Puncturedدرحقیقت اس نئے سیاسی بیانیے کا فکری منشور معلوم ہوتا ہے۔ داس گپتا جو نئی منتخب بی جے پی حکومت میں وزیرِ خزانہ ہیں، ایک ایسے ’’ہندو بنگال‘‘کے تصور کو نظریاتی جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی بنیاد تاریخ کی ایک مخصوص تعبیر پر رکھی گئی ہے۔
وہ استدلال کرتے ہیں کہ بنگال کی سیاست میں موجود بنیادی ’’فالٹ لائنز‘‘ (Fault Lines)کی جڑیں انیسویں صدی میں بنکم چندر چٹوپادھیائے اور مسلم دانشوروں کے درمیان پیدا ہونے والے فکری اختلافات میں پیوست ہیں۔ اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ بنکم چندر، شیاما پرساد مکھرجی، 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام اور آخرکار شہریت ترمیمی قانون (CAA) کو ایک ہی تاریخی اور نظریاتی سلسلے کی مختلف کڑیاں قرار دیتے ہیں۔
اس طرح ایک ایسا سیاسی شجرۂ نسب تشکیل دیا جاتا ہے جس کا مقصد صرف ماضی کی نئی تعبیر پیش کرنا نہیں بلکہ موجودہ سیاسی منصوبوں، خصوصاً شہریت ترمیمی قانون (CAA)، کو تاریخی جواز فراہم کرنا بھی ہے۔
مضمون کے اختتام پر داس گپتا یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بی جے پی نے بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی حقیقت کو قبول کر لیا ہے، جبکہ اس کے برعکس ’’بنگال‘‘ — یعنی بائیں بازو اور سیکولر حلقے — آج بھی مشترکہ بنگالی تہذیب و ثقافت کے تصور سے وابستہ ہیں اور تقسیم سے پہلے کے اپنے کھوئے ہوئے دیہات اور مشترکہ سماجی دنیا کی یادوں سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔
یہ بیانیہ دراصل صرف ایک شخصیت کی یادگار تعمیر کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ تاریخ کو موجودہ سیاسی تقاضوں کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینے کا منصوبہ بھی ہے، جہاں تاریخی واقعات کی پیچیدگیوں کو ایک سادہ سیاسی داستان میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور ماضی کو حال کی سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ہیرو کی تخلیق
منتخب کردہ تاریخ کے ساتھ ایک ہیرو اور ایک مقدس مقام بھی تراشا جا رہا ہے۔’’شیاما پرساد مکھرجی‘‘اور ’’تارکیشور‘‘ تارکیشور جو ہندوؤں کی شیو یاترا کا ایک معروف مذہبی مرکز ہے، 4 اپریل 1947 کو بنگال ہندو مہاسبھا کے اس تاریخی اجلاس کا مقام تھا، جہاں بنگال کی تقسیم کے حق میں قرارداد منظور کی گئی تھی۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ شیاما پرساد مکھرجی ہی کیوں؟
جون اور جولائی کے مختصر سے عرصے میں ان سے منسوب تین الگ الگ دن سرکاری سطح پر منائے جا رہے ہیں: 20 جون جسے کلکتہ کے مغربی بنگال کا حصہ بننے کے دن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے23 جون جسے ’’بلیدان دیوس‘‘(یومِ شہادت)قرار دیا گیا ہے؛ اور 6 جولائی ان کا یومِ پیدائش۔ سوال یہ ہے کہ کیا تحریکِ آزادی میں ان کی خدمات واقعی اس غیر معمولی سرکاری اعزاز کی مستحق ہیں جو آج انہیں دیا جا رہا ہے؟
دوسری جنگِ عظیم کے دوران شیاما پرساد مکھرجی کا سیاسی کردار اس وقت نمایاں ہوا جب 1939 میں کانگریس نے وزارتوں سے استعفیٰ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہندو مہاسبھا کے ساتھ سرگرم سیاسی کردار ادا کیا۔ اس زمانے میں ونایک دامودر ساورکر کی قیادت میں ہندو مہاسبھا نے جنگ کے دوران برطانوی حکومت سے تعاون کی پالیسی اختیار کی اور قوم پرست تحریکوں، خصوصاً ’’ہندوستان چھوڑو تحریک کی مخالفت کی۔
1937 کے صوبائی اسمبلی انتخابات میں ہندو مہاسبھا کی انتہائی کمزور کارکردگی کے باوجود، جنگی حالات نے مکھرجی کو اے کے فضل الحق کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بعد میں وہ بنگال حکومت میں سول سپلائیز کے وزیر بنے اور 1943 کے ہولناک قحط کے دوران اسی وزارت کے ذمہ دار رہے۔
ان کے حامی عموماً وزارت سے ان کے بعد کے استعفے اور حکومت کی پالیسیوں پر ان کی تنقید کا ذکر کرتے ہیں، مگر اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ اس پورے عرصے میں ان کی سیاست بنیادی طور پر برطانوی حکومت سے تعاون پر مبنی رہی۔ یہ رویہ ایسے وقت میں اختیار کیا گیا جب ملک بھر میں آزادی کی جدوجہد اپنے عروج پر تھی، کانگریس کی قیادت، بشمول مہاتما گاندھی، طویل مدت تک جیلوں میں قید تھی اور عوام مزاحمت کی راہ اختیار کیے ہوئے تھے۔
1945 میں جب مرکزی اور صوبائی انتخابات کا اعلان ہوا تو مکھرجی نے ہندو مہاسبھا کی جانب سے کانگریس کے ساتھ انتخابی اتحاد کی تجویز پیش کی، مگر سردار ولبھ بھائی پٹیلنے اسے دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ 8 اور 12 اکتوبر 1945 کو جواہر لال نہرو کے نام اپنے خطوط میں پٹیل نے لکھا کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ ’’ہندو مہاسبھا کی سیاست قابلِ اعتماد نہیں اور دوسری یہ کہ اس جماعت کے انتخابی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اس وقت کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی پٹیل کے مؤقف کی تائید کی۔ نہرو نے بھی واضح الفاظ میں لکھاکہ
> ہندو مہاسبھا کے ساتھ کسی قسم کا انتخابی معاہدہ یا سیاسی سمجھوتہ ہمارے لیے نہ صرف غلط حکمتِ عملی ہوگا بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہوگا۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ کانگریس محض ہندو مہاسبھا کی ایک نرم شکل ہے، جبکہ کانگریس کی اصل قوت اس کی آزاد، ہمہ گیر اور قومی اپیل میں ہے۔
جب شیاما پرساد مکھرجی نے 20 دسمبر 1945 کو دوبارہ اتحاد کی تجویز پیش کی تو پٹیل نے اس سے بھی زیادہ واضح جواب دیا:
>ہندو مہاسبھا کو تحلیل ہو جانا چاہیے اور اس کے ارکان کو کانگریس میں شامل ہو جانا چاہیے۔
سیاسی حقیقت بھی یہی تھی۔ ہندو مہاسبھا 1945 کے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور 1946 کے بنگال اسمبلی انتخابات، دونوں میں صرف ایک ایک نشست جیت سکی۔ اس حقیقت کی روشنی میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس دور کے بنگال میں ہندو مہاسبھا کوئی فیصلہ کن سیاسی قوت تھی۔ اس لیے بنگال کی تقسیم کی وجوہات کا جائزہ لیتے وقت ہندو مہاسبھا کے سیاسی اثر و رسوخ کو غیر معمولی اہمیت دینا تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس زمانے کے بنگال کے گورنر نے بھی اپنی رائے میں لکھا تھاکہ
> ’’ڈاکٹر مکھرجی ایک ذہین مگر موقع پرست سیاست دان تھے۔ ہندو مہاسبھا قانون ساز اسمبلی میں ڈاکٹر مکھرجی کی اپنی نشست کے علاوہ کوئی اور نشست حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ البتہ وہ ایک مؤثر پروپیگنڈا کرنے والے ضرور تھے۔‘‘
لابیاں (مفاداتی گروہ)
بنگال کے اس وقت کے گورنر، جن کی ہمدردیاں مسلم لیگ اور متحدہ و آزاد بنگال کے منصوبے کے ساتھ تھیں، نے واضح طور پر لکھا کہ ہندو آبادی کی نمائندگی درحقیقت کون کر رہا تھا اور بنگال کی تقسیم کا مطالبہ کن جذبات کی عکاسی کرتا تھا۔ ان کے مطابق
> عام انتخابات میں ہندو ووٹروں نے کانگریس کے نظریات اور پاکستان کی مخالفت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ موجودہ تقسیم کی تحریک دراصل پاکستان مخالف تحریک ہے۔ اس کے حامی ایک ہندو اکثریتی مرکزی حکومت کے ساتھ رہنے کے لیے بنگال کی تقسیم قبول کرنے پر آمادہ ہیں، بجائے اس کے کہ وہ کسی آزاد بنگال—خواہ وہ مسلم اکثریتی ہو یا مشترکہ ہندو مسلم اقتدار کے تحت—یا پاکستان سے منسلک بنگال کا حصہ بنیں۔
اس کے مقابلے میں متحدہ بنگال کے حق میں ایک طاقتور لابی بھی سرگرم تھی، جس میں مسلم لیگ اور خود بنگال کے گورنر شامل تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی صورت ایک متحدہ بنگال برقرار رہے، خواہ وہ ایک آزاد ریاست ہو یا کلکتہ کو مشترکہ انتظام یا ایک آزاد شہر (Free City) کی حیثیت دے دی جائے۔ ان کا استدلال تھا کہ کلکتہ کے بغیر مشرقی بنگال معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں رہے گا۔
اسی تناظر میں گورنر نے وائسرائے کو متنبہ کیا کہ اگر کلکتہ مغربی بنگال کے پاس چلا گیا تو صوبے کی تقسیم خونریزی اور شدید انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔ بنگال کی انتظامیہ نے یورپی تجارتی مفادات کے تعاون سے یہ تجویز بھی پیش کی کہ دولتِ مشترکہ (Commonwealth) کے اندر بنگال کو ایک الگ ڈومینین کا درجہ دیا جائے، جبکہ کلکتہ کو مشترکہ انتظام کے تحت ایک آزاد شہر یا **کنڈومینیم (Condominium)** بنایا جائے۔
گورنر نے خبردار کیا تھا کہ کلکتہ کے بغیر مشرقی بنگال محض ایک زرعی اور پسماندہ خطہ بن کر رہ جائے گا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ متحدہ بنگال کا منصوبہ بنیادی طور پر مسلم لیگ اور بعض برطانوی حکام کی کاوش تھا؛ کانگریس اس منصوبے کا حصہ نہیں تھی، جیسا کہ آج بعض سیاسی بیانیوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے۔
اس ضمن میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مؤقف خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وزیرِ اعظم اپنے خود ساختہ سیاسی رہنما کی اس رائے کو بھی اہمیت دیں گے۔ پٹیل نے لکھا تھا:
آزاد اور خودمختار بنگال کی جمہوریہ کا تصور دراصل سادہ لوح لوگوں کو مسلم لیگ کے جال میں پھانسنے کی ایک چال ہے۔ اگر غیر مسلم آبادی کو محفوظ رہنا ہے تو بنگال کی تقسیم ناگزیر ہے۔
بنگال میں صرف ہندو مہاسبھا ہی نہیں بلکہ مختلف طبقات، تنظیموں اور اداروں نے بھی تقسیم کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔ کانگریس کی قیادت کو سیکڑوں یادداشتیں موصول ہوئیں، جن پر دیہات کے لوگوں کے دستخط یا انگوٹھوں کے نشانات ثبت تھے۔ ان میں مسلم لیگ کی حکومت کے تحت رہنے سے انکار اور بنگال کی تقسیم کی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔
ہندو مہاسبھا کی جانب سے بھیجے گئے بڑی تعداد میں ٹیلی گراموں کا ذکر تو اکثر کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کے مطالبے کی حمایت صرف اسی جماعت تک محدود نہیں تھی۔ اس کی تائید کرنے والوں میں بنگلیہ کایستھ سبھا، آسام-بنگال انڈین ٹی پلانٹرز ایسوسی ایشن، کلکتہ موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن، باریسال، کھلنا اور کشتیا کی بار ایسوسی ایشنز، متعدد میونسپل کمشنرز، حتیٰ کہ کالی گھاٹ مندر کے پجاری بھی شامل تھے۔
بنگال سے باہر کانپور، ناگپور اور بنارس میں مقیم بنگالیوں نے بھی تقسیم کے حق میں آواز بلند کی۔ اسی طرح جادوناتھ سرکار، میگھناد ساہا، سنیتی کمار چٹرجی، کالیداس ناگ اور آر۔ سی۔ مجمدار جیسے ممتاز دانشوروں نے بھی کھلے عام بنگال کی تقسیم کی حمایت کی۔
انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے سات ارکان اور بنگال سے کونسل آف اسٹیٹ کے چار ارکان نے اس فیصلے کو ’’آزادی اور غلامی کے درمیان انتخاب‘‘قرار دیتے ہوئے مغربی اور شمالی بنگال پر مشتمل ایک الگ خودمختار صوبے کے قیام کی حمایت کی۔
افسانہ سازی (Myth-making)
’’ٹرانسفر آف پاور (Transfer of Power)کی دستاویزات کے 23 مارچ سے جولائی 1947 تک کے دو ہزار سے زائد صفحات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں شیاما پرساد مکھرجی کا صرف ایک انٹرویو (23 اپریل) اور وائسرائے کے نام ان کا ایک خط (2 مئی) ملتا ہے، جس میں انہوں نے بنگال کی تقسیم کے حق میں دلائل دیے تھے۔
یہ ریکارڈ اس تصور کی تائید نہیں کرتا کہ بنگال کی تقسیم کی تحریک کے اصل معمار شیاما پرساد مکھرجی یا ہندو مہاسبھا تھے۔ تاریخی شواہد کے مطابق اس عمل میں فیصلہ کن کردار کانگریس، سردار پٹیل اور جواہر لال نہرو نے ادا کیا۔
راولپنڈی میں 8 مارچ 1947 کے فسادات کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ اگر ملک تقسیم ہوتا ہے تو پنجاب کی بھی تقسیم ہونی چاہیے۔ یہ قرارداد16 مارچ 1947 کو بنگال ہندو مہاسبھا کی اس قرارداد سے پہلے منظور ہو چکی تھی، جس میں بنگال کی تقسیم کا مطالبہ کیا گیا ت
اسی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے 9اپریل 1947 کو بنگال کانگریس نے بھی کھل کر بنگال کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ بنگال پردیش کانگریس کمیٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے دو علاقائی وزارتوں کے قیام کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم لیگ کو اقتدار منتقل کیا جاتا ہے تو وہ علاقے جو ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، انہیں ملا کر ایک الگ صوبہ تشکیل دیا جائے۔
لیکن ہندو بنگال کے موجودہ سیاسی بیانیے میں بنگال کانگریس کے اس کردار کو تقریباً مکمل طور پر فراموش کر دیا گیا ہے۔
17 اپریل 1947 کو کانگریس کے صدر نے نئے وائسرائے سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے سرکاری ریکارڈ میں درج ہے:
> کانگریس کو یہ تلخ حقیقت قبول کرنی ہوگی کہ مسلم لیگ کبھی رضاکارانہ طور پر یونین آف انڈیا کا حصہ نہیں بنے گی۔ اگر ایسا ہے تو تصادم کے بجائے بہتر ہوگا کہ اسے پاکستان دے دیا جائے، بشرطیکہ پنجاب اور بنگال کی منصفانہ تقسیم عمل میں لائی جائے۔
اسی مؤقف کی مزید وضاحت یکم مئی 1947 کو ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سردار پٹیل نے کی۔ انہوں نے کہاکہ
> اگر مسلم لیگ علیحدگی پر مصر ہے تو کانگریس اسے طاقت کے ذریعے ہندوستان میں رہنے پر مجبور نہیں کرے گی، لیکن اس کا لازمی نتیجہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم ہوگا۔
اس معاملے میں جواہر لال نہرو کی سیاسی بصیرت قابلِ توجہ تھی۔ 26 اگست 1945 کو لاہور میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر پاکستان قائم کیا جاتا ہے تو پنجاب اور بنگال کے وہ علاقے، جہاں ہندو اکثریت میں ہیں، ہندوستان میں شامل ہوں گے، اور اس کے نتیجے میں دونوں صوبوں کی تقسیم ناگزیر ہو جائے گی۔
20 اپریل 1947 کو نہرو نے ایک بار پھر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس کے بعد 10 مئی کو شملہ میں ایک اہم مرحلہ آیا، جب انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے پیش کیے گئے اس ابتدائی منصوبے کو مسترد کر دیا جس میں بعض صوبوں، خصوصاً بنگال، کو آزادی یا خودمختار حیثیت اختیار کرنے کا امکان موجود تھا۔ نہرو کا مؤقف تھا کہ اس سے ہندوستان بلقانائزیشن(Balkanisation)، یعنی متعدد چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہونے، کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔
11 مئی 1947 کو شملہ میں ہونے والی سرکاری میٹنگ کے منٹس کے مطابق نہرو نے کہاکہ
>یہ درست ہے کہ بنگال کی تقسیم کئی اعتبار سے نقصان دہ ہوگی، لیکن یہی دلیل بنگال کو ہندوستان سے الگ کرنے پر بھی صادق آتی ہے۔ پنجاب اور بنگال کے لیے خصوصی انتظامات پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم مغربی بنگال کے عوام کے جذبات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے غیر مسلموں کے لیے موجودہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، اور اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہ آزاد بنگال کی تجویز کو قبول کریں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کلکتہ شدید تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔
نہرو کے اس مؤقف کے اثرات اگلے ہی روز واضح ہو گئے۔ 12 مئی کی عملے کی میٹنگ کے منٹس میں درج ہے
بحث کے بعد وائسرائے نے فیصلہ کیا کہ منصوبے پر ازسرِنو کام کیا جائے اور اس میں یہ گنجائش ختم کر دی جائے کہ بنگال یا کوئی اور صوبہ آزاد ریاست بن سکے۔
ایک ہفتے بعد، 18 مئی کو، وائسرائے نے بنگال کے گورنر کو لکھاکہ
> شملہ میں پنڈت نہرو سے ہونے والی گفتگو کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت کسی بھی صورت میں آزاد بنگال کی حمایت نہیں کرے گی اور نہ ہی اپنے کارکنوں کو ایسی کسی تجویز کی تائید کی اجازت دے گی، کیونکہ ان کا واضح مؤقف ہے کہ بنگال کا مستقبل صرف ہندوستان کے ساتھ وابستہ ہے۔
25 مئی کو نہرو نے نیوز کرانیکل کے صحافی نارمن کلف کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی یہی مؤقف دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس متحدہ بنگال کو صرف اسی صورت میں قبول کرے گی جب وہ ہندوستان کا حصہ رہے۔
یہی مؤقف بالآخر لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی پالیسی پر بھی غالب آیا۔ 3 جون پلان کے اعلان سے تین روز قبل وائسرائے نے اپنے عملے کو یاد دلایا۔
> پنڈت نہرو نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت آزاد بنگال سے اتفاق نہیں کریں گے۔
اس سے قبل، 17 مئی کو، وائسرائے بنگال کے گورنر کو یہ اطلاع دے چکے تھے کہ برطانوی حکومت نے کلکتہ کو آزاد شہر (Free City) قرار دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ اسی طرح مشرقی بنگال کو الگ ڈومینین کا درجہ دینے کی تجویز بھی ناقابلِ عمل قرار دی گئی۔ ان کے مطابق کانگریس کسی بھی شکل میں آزاد مگر متحدہ بنگال کے تصور کی مخالف تھی۔
5 جون 1947 کو اپنی تفصیلی ذاتی رپورٹ میں وائسرائے نے مزید لکھاکہ
> پنڈت نہرو کی درخواست پر ہی میں نے بنگال اور دیگر صوبوں کے لیے آزادی کا اختیار ختم کیا، تاکہ ہندوستان کو ٹکڑوں میں بٹنے سے بچایا جا سکے۔
بعد ازاں نواب بھوپال سے گفتگو میں بھی وائسرائے نے یہی مؤقف دہرایا
> میں نے انہیں بتایا کہ اگر دو سے زیادہ ڈومینین قائم کیے جاتے تو کانگریس اس منصوبے کو کبھی قبول نہ کرتی۔ اسی لیے اس نے تقسیم سے بچنے کے لیے بھی بنگال کو آزاد ریاست یا الگ ڈومینین بننے کے حق میں ووٹ دینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
اگر سرکاری ریکارڈ کو بنیاد بنایا جائے تو یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کلکتہ کو ہندوستان کے ساتھ برقرار رکھنے میں فیصلہ کن کردار شیاما پرساد مکھرجی کے بجائے سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ادا کیا۔
17 مئی کو پٹیل اور نہرو سے ملاقات کے بعد وائسرائے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سردار پٹیل کلکتہ کو ’’فری پورٹ‘‘(آزاد بندرگاہ) بنانے کی تجویز کے سخت مخالف تھے، چنانچہ اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھایا گیا۔اسی سلسلے میں 5 جون کی ایک اور رپورٹ میں وائسرائے نے لکھاکہ
> ’’میں نے وی۔ پی۔ مینن کو سردار پٹیل کے پاس بھیجا تاکہ کلکتہ پر چھ ماہ کے مشترکہ انتظام کی تجویز پر ان کی رضامندی حاصل کی جا سکے، لیکن پٹیل کا جواب انتہائی دوٹوک تھا: ‘چھ ماہ تو درکنار، چھ گھنٹے کے لیے بھی نہیں‘‘۔
مضمون نگار:سچیتا مہاجن
سچیتا مہاجن جواہر لعل یونیورسٹی کے ’’سینٹر فار ہسٹوریکل اسٹڈیز‘‘ میں پروفیسر رہ چکی ہیں۔ یہ مضمون بنیادی طور پر برطانوی حکومت کے سرکاری ریکارڈ Transfer of Power (جلد 10 اور 11) پر مبنی ہے، جو مارچ سے جولائی 1947 کے دوران لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی وائسرائلٹی سے متعلق ہیں۔ مصنفہ نے اس تحقیق میں Rajendra Prasad کے نجی کاغذات، Vallabhbhai Patel کی خط و کتابت اور Jawaharlal Nehru کی منتخب تصانیف سے بھی استفادہ کیا ہے۔
