نور اللہ جاوید
رواں ہفتے 23 جون کو سپریم کورٹ میں ‘پچھم بنگا کھیت مزدور سمیتی کی اس عرضی پر سماعت ہوئی جس میں بنگال حکومت کے ذریعہ ایس آئی آر کو غذائی تحفظ کی اسکیموں سے جوڑنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس جے مالیا باگچی کے بنچ نے اس پر فوری سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزاروں کو کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی اور فی الوقت معاملے کو نمٹا دیا۔واضح رہے کہ ایس آئی آر کے سائے میں ہونے والے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بڑی جیت حاصل کرنے والی نئی بی جے پی حکومت نے ‘انپورنا یوجنا اسکیم کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس سے قبل، سابقہ ترنمول کانگریس کی حکومت ‘لکشمی بھنڈار اسکیم کے تحت خواتین کو ہر ماہ1 ,500روپے دیتی تھی، جسے نئی حکومت نے تبدیل کرتے ہوئے ‘ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (DBT) کے ذریعے 3,000روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، اس نئے نوٹیفکیشن میں شرط رکھی گئی ہے کہ جن لوگوں کے نام ایس آئی آر کے تحت انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیے گئے ہیں، وہ اس اسکیم سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔اس کے بعد، 4 جون کو حکومت کے ایک اور حکم نامے نے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم یعنی راشن کے فوائد تک رسائی کے لیے بھی ووٹر لسٹ میں نام کی موجودگی کو لازمی شرط بنا دیا۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، ریاست مغربی بنگال میں پی ڈی ایس سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد 8.89کروڑ سے زیادہ ہے۔ حالانکہ دونوں نوٹیفیکیشنز میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے ایس آئی آر ٹریبیونلز کے سامنے اپیلیں دائر کر رکھی ہیں یا شہریت ترمیمی ایکٹ کے تحت درخواستیں جمع کرائی ہیں، انہیں معاملات کا حتمی فیصلہ ہونے تک مالی امداد ملتی رہے گی۔
ایس آئی آر کے تحت بنگال میں تقریباً 34 لاکھ ایسے ووٹرز ہیں جنہیں “منطقی تضادات” کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے خارج کیا گیا ہے۔ یہ لاکھوں افراد نہ صرف اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوئے اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکے، بلکہ اب اس کے اثرات ان کی روزمرہ زندگی کے دیگر معاملات پر بھی پڑ رہے ہیں۔
حال ہی میں ملک کے مشہور انگریزی اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے سابق ایڈیٹر راج گوپال (جن کے والد ایک معروف گاندھیائی شخصیت اور حکومتِ ہند کے سابق اعلیٰ افسر رہ چکے ہیں) کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا۔ ووٹر فہرست میں نام نہ ہونے کی بنیاد پر ان کا نام بھی خارج کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اس سال ووٹ نہیں ڈال سکے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مارچ میں ان کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو گئی تھی اور انہوں نے تجدید کے لیے پاسپورٹ محکمے سے رابطہ کیا، مگر 100 دن سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود اب تک ان کا پاسپورٹ رینیو نہیں ہو سکا۔ کیونکہ ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے پولیس ویریفکیشن میں ان سے متعلق منفی رپورٹ بھیج دی گئی۔ اس کا خمیازہ انہیں یہ بھگتنا پڑا کہ وہ اپریل میں امریکہ میں ہونے والی اپنی بیٹی کی شادی میں بھی شریک نہ ہو سکے، جبکہ ان کے پاسپورٹ پر پہلے ہی 10 برس کا امریکی ویزا موجود تھا۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب راج گوپال جیسی معروف شخصیت، جن کی رسائی اعلیٰ ایوانوں تک ہے، اس طرح کے بحران کا سامنا کر رہی ہے، تو ان عام شہریوں کو کن مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہوگا جن کے نام فہرستوں سے نکالے گئے ہیں۔ اب عام لوگوں کو بینکوں سے لون دینے سے انکارکیا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال جیسی ریاست میں، جہاں دیہی علاقوں میں غربت کی شرح زیادہ ہے اور جن کی زندگی کا دارومدار راشن اور دیگر فلاحی اسکیموں پر ہے، وہاں یہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔
ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ناموں کے معاملات کو حل کرنے کے لیے ریاست میں 19 ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں، جن میں کئی سابق ججز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق، 14 مئی تک ان 19 میں سے 12 ٹربیونلز نے جن مقدمات کا فیصلہ کیا، ان میں دائر کی گئی کل اپیلوں میں سے مجموعی طور پر صرف4 ,430اپیلیں ہی منظور کی جا سکیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ حل شدہ کیسز میں سے محض5 .16فیصد لوگوں کے نام ہی دوبارہ انتخابی فہرستوں میں شامل ہو پائے۔ دوسری طرف 1267اپیلیں خارج کر دی گئیں، جبکہ بقیہ 1200 سے زائد نمٹائے گئے کیسز کی اصل قانونی
صورتحال سرکاری اعداد و شمار سے واضح نہیں ہو سکی۔
شکایات کے ازالے کا یہ نظام ریاست بھر میں شدید انتظامی و ساختی چیلنجز اور علاقائی عدم توازن کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ مثال کے طور پر، کلکتہ شمال اور کلکتہ جنوب کے علاقوں کو سنبھالنے والے مشترکہ ٹربیونل کا کام اس وقت مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا جب اس کے سربراہ اور کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جج، جسٹس ٹی ایس سیواگننم نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اچانک استعفیٰ دے دیا۔ اس ٹربیونل کے پاس اس وقت 15,000سے زائد زیر التوا (Pending) اپیلوں کا ایک بہت بڑا بیک لاگ موجود ہے۔ اب تک کولکتہ نارتھ اور ساؤتھ میں مشترکہ طور پر صرف
1,777 کیسز کا تصفیہ ہو سکا ہے، جو کہ کل زیر التوا مقدمات کا محض 2.7فیصد ہے۔
ریاست کے سرحدی اضلاع میں یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ مرشد آباد ضلع میں دائر کی جانے والی2 .96لاکھ سے زائد اپیلوں میں سے اب تک محض 112 اپیلوں کا باضابطہ تصفیہ کیا گیا ہے، جبکہ پڑوسی ضلع مالدہ میں2 .95لاکھ سے زائد اپیلوں میں سے صرف 185 کیسز ہی نمٹائے جا سکے ہیں۔ حکام کے مطابق، ان اپیلوں کی سماعتیں آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے کی جا رہی ہیں، تاہم درخواست گزاروں کی ذاتی یا جسمانی پیشی (Physical Appearance) کے مواقع اب بھی انتہائی محدود ہیں۔ اگرچہ گزشتہ ایک مہینے میں ان اعداد و شمار میں معمولی تبدیلی آئی
ہے، لیکن شکایات کو نمٹانے کی موجودہ رفتار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس پورے عمل کو مکمل ہونے میں کئی دہائیاں صرف ہو جائیں گی۔
ایس آئی آر کو فلاحی اسکیموں سے جوڑے جانے کی وجہ سے ملک میں ایک نئی قانونی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے بہار میں ایس آئی آر کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کہا تھا کہ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونا شہریت کا حتمی تعین نہیں ہے۔ 27 مئی کو عدالت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کو ہدایت کی تھی کہ وہ حذف شدہ افراد کے معاملات کو شہریت ایکٹ، 1955 کے تحت مجاز اتھارٹی کو فیصلے کے لیے بھیجے۔ چونکہ حذف کیے گئے افراد کی شہریت پر کسی مجاز اتھارٹی کی طرف سے اب تک نہ تو کوئی سوال اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی رسمی فیصلہ ہوا ہے، اس لیے انہیں فلاحی اسکیموں کے لیے نااہل قرار دینے کے اقدام نے سنگین آئینی خدشات کو جنم دیا ہے۔ یہ بھی نامعلوم ہے کہ حذف کیے گئے افراد میں سے کتنے لوگوں نے اصل میں اپیلیں دائر کی ہیں، اور کتنے لوگ لاعلمی، بے بسی، یا نام خارج کیے جانے کی وجہ بتانے والے کسی سرکاری نوٹس کی عدم موجودگی کے باعث اپیل ہی نہیں کر سکے۔ بنگال میں سرگرم کئی سماجی تنظیموں نے بتایا کہ
بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اب تک ووٹر لسٹ میں دوبارہ شمولیت کی درخواست بھی نہیں دے سکے ہیں۔
مدراس ہائی کورٹ کے سابق جج، جسٹس کے۔ چندروجن کا انٹرویو انگریزی ویب سائٹ ’’دی لیفلیٹ ‘‘ میں شائع ہوا ہے میں کہتے ہیں کہ ’’سپریم کورٹ نے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز بنام الیکشن کمیشن آف انڈیا (2026) کے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ کسی شخص کی شہریت محض اس وجہ سے ختم نہیں ہوگی کہ وہ ایس آئی آر مشق کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں میں شامل ہونے کے لیے نااہل پایا گیا ہے۔ اس سے قبل لال بابو حسین بنام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (1995) میں بھی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر نام خارج کرنے سے پہلے متعلقہ شخص کو لازمی طور پر بتایا جانا چاہیے کہ اس کی ہندوستانی شہری کی حیثیت کے بارے میں شک کیوں پیدا ہوا ہے، تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ شک کی بنیاد غلط ہے۔جسٹس چندرو کے مطابق، چونکہ مغربی بنگال میں حذف کیے گئے افراد کو اخراج کی وجوہات ہی نہیں بتائی گئیں، اس لیے قانون یا حقیقت کے آئینے میں یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تمام لوگ جنہیں فہرستوں سے ہٹایا گیا ہے یا جنہوں نے اپیلیں دائر نہیں کی ہیں، وہ غیر ملکی شہری ہیں۔ بہت سے لوگوں کو تو اپنی شہریت ثابت کرنے کا کوئی مناسب موقع ہی نہیں ملا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ فہرستوں سے نام کا اخراج شہریت کی کمی کے علاوہ کئی دیگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتا ہے، اور فلاحی اسکیموں سے ایسے کسی بھی انکار کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ ترقیاتی اسکیمیں آئین کے حصہ IV (ریاست کے رہنما اصولوں) کے تحت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہیں اور غذائی سبسڈی، ٹرانسپورٹ و ہاؤسنگ جیسی اسکیمیں دفعہ 21 (حقِ زندگی) کے دائرے میں آتی ہیں۔نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ، 2013، جو پی ڈی ایس (راشن سسٹم) فراہم کرتا ہے، ملک میں غذا کے حق کو یقینی بنانے والے جامع ترین قوانین میں سے ایک ہے۔ سپریم کورٹ نے متعدد مقدمات میں جینے کے بنیادی حق (دفعہ 21) کے ایک لازمی جزو کے طور پر باوقار غذا کے حق کو تسلیم کیا ہے، جو صرف شہریوں تک محدود نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے ہے۔ حال ہی میں انون دھون بنام یونین آف انڈیا (2024) میں جسٹس پنکج مٹھل اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کے بنچ نے واضح طور پر کہا تھا کہ بھلے ہی بھارت کا آئین صریح الفاظ میں غذا کا حق فراہم نہیں کرتا، لیکن آئین کی دفعہ 21 میں درج زندگی کا بنیادی حق انسانی وقار کے ساتھ جینے، غذا حاصل کرنے اور دیگر بنیادی ضروریات کو اپنے اندر شامل کرتا ہے۔ آئین کی دفعہ 47 بھی یہ فراہم کرتی ہے کہ ریاست اپنے لوگوں کی غذائیت کی سطح اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے اور عوامی صحت کی بہتری کو اپنے اولین فرائض میں شمار کرے گی۔ جسٹس چندرو نے مختلف قانونی مثالوں سے واضح کیا کہ مروجہ قانونی فریم ورک میں بنگال حکومت کے اس سرکولر کی
کوئی بنیاد نہیں ہے جو راشن کو ووٹر لسٹ سے مشروط کرتا ہے۔
جسٹس کے ایس پٹاسوامی (2018) میں اپنے اختلافی نوٹ میں سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ریاست کا کوئی بھی جائز مقصد بنیادی حق کی قیمت پر آئینی طور پر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی میں “کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہوسکتی،” کیونکہ کسی خاندان کو خوراک سے محروم کرنا انتہائی غربت، غذائی قلت اور یہاں تک کہ
موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
> انگریزی میگزین ’دی فرنٹ لائن‘‘کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں آر جے ڈی کے رکنِ پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ >’’اگر آپ دستور ساز اسمبلی کے مباحثوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اس وقت عالمگیر حقِ رائے دہی پر بحث جاری تھی۔ ہمارے بانیانِ دستور نے ووٹ کے حق کو جس تقدس اور اہمیت کے ساتھ دیکھا تھا، آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ بنگال، بہار اور دیگر ریاستوں میں جیسے جیسے ایس آئی آر کا عمل آگے بڑھے گا، اس ملک میں ایسے لوگ پیدا ہو سکتے ہیں جو نہ صرف ووٹ کے حق سے محروم ہوں گے بلکہ عملاً بے وط بھی بن جائیں گے۔‘‘
> انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے افراد کو فلاحی اسکیموں کے فوائد سے بھی محروم کیے جانے کے بعد یہ خدشہ اب ایک ٹھوس ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ پی ڈی ایس سے مستفید ہونے والوں کے ناموں کی انتخابی فہرستوں سے تصدیق کی آخری تاریخ 15 جون مقرر کی گئی تھی۔ مغربی بنگال کے ان لاکھوں باشندوں کے لیے، جن کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیے گئے تھے، اس عمل نے ان کے راشن کے حق تک رسائی کے دروازے تقریباً بند کر دیے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک کسی بھی مجاز قانونی اتھارٹی نے انہیں باضابطہ طور پر غیر ملکی شہری
قرار نہیں دیا ہے۔
آسام حکومت کا 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے آدھار کارڈ کے اجرا پر پابندی
آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے حالیہ اعلان نے ایک نئی قانونی اور سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اب **18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد** کے لیے آدھار کارڈ جاری کرنے کے موجودہ طریقۂ کار کو ختم کر دے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو بھارتی شناختی دستاویزات حاصل
کرنے سے روکنا اور ان کی مؤثر جانچ پڑتال کو یقینی بنانا ہے۔
تاہم، قانونی ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا کوئی ریاستی حکومت، جس کا کردار آدھار ایکٹ 2016 کے تحت محض ایک رجسٹرار یا اندراجی سہولت فراہم کرنے والے ادارے کا ہے، آدھار کے اندراج پر اس نوعیت کی اضافی شرط یا پابندی عائد کر سکتی ہے، جبکہ آدھار ایکٹ 2016 اور یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا ) کے ضوابط میں ایسی کسی شرط کا ذکر موجود نہیں ہے۔وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے مطابق اب آسام میں ضلعی سطح پر بالغ افراد کے آدھار کارڈ براہِ راست منظور نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ ’’اگر کوئی واقعی مستحق اور حقیقی شہری ہوگا تو ڈپٹی کمشنر (DC) اس کی درخواست حکومت کو بھیجیں گے، اور حکومتی منظوری کے بعد ہی آدھار کارڈ جاری کیا جائے گا۔ تاہم، ضلعی سطح پر اب 18 سال سے زائد عمر کے کسی بھی شخص کو معمول کے طریقۂ کار کے تحت آدھار کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ اگست 2025 میں کابینہ کے ایک فیصلے کے بعد بالغ افراد کے آدھار اندراج کے لیے ضلعی سطح پر تصدیق کا عمل پہلے ہی سخت کر دیا گیا تھا، اور موجودہ اعلان اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی حکومت کے پاس ایسا کرنے کا قانونی اختیار موجود ہے؟زیادہ تر آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کے پاس آدھار کے اندراج کو روکنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ ان کے مطابق، زیادہ سے زیادہ کوئی ریاستی حکومت مرکزی حکومت سے درخواست کر سکتی ہے کہ وکو اس حوالے سے مناسب ہدایات جاری کرے۔’’آدھار کارڈ کے اجرا میں ریاستی حکومت کا براہِ راست کوئی کردار نہیں ہوتا۔ شہری براہِ راست کے پاس درخواست دیتا ہے، اس کی بایومیٹرک معلومات کی جانچ مرکزی سطح پر ہوتی ہے اور آدھار نمبر بھیہی جاری کرتی ہے۔یہ معاملہ اس سے قبل بھی عدالتوں میں زیرِ بحث آ چکا ہے۔ 2022 میں سپریم کورٹ نے این آر سی کی بنیاد پر آسام میں بعض افراد کو آدھار جاری نہ کرنے کے خلاف دائر ایک عرضی پر مرکز، اور آسام حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ مقدمہ اب بھی زیرِ التوا ہے۔حال ہی میں چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے ایک عوامی مفاد کی عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا، جس میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خدشے کے پیشِ نظر چھ سال سے زیادہ عمر کے نئے درخواست گزاروں کے آدھار اندراج پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ انتظامی اور پالیسی نوعیت کا معاملہ ہے، جس میں مداخلت مناسب نہیں۔ یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا کے 31 مئی 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، آسام میں آدھار اندراج کی شرح91.46فیصدہے۔ ریاست کی متوقع آبادی3. 67کروڑ ہے۔جن میں سے تقریباً 3.3کروڑ افراد کے پاس آدھار کارڈ موجود ہے۔ یہ شرح قومی اوسط94.43فیصد سے کم ہے۔
آدھار ایکٹ کی ہدایات کیا کہتی ہیں؟
آدھار ایکٹ کے سیکشن 3(1) کے مطابق، بھارت کا ہر وہ ‘رہائشی آدھار حاصل کرنے کا حقدار ہے جو درخواست دینے سے قبل 12 مہینوں کے دوران کم از کم 182 دن بھارت میں رہا ہو۔
قانون میں آدھار کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے، یہاں تک کہ ایک نوائیدہ بچہ بھی اس کا اہل ہے۔ اضافی زمرے شامل کرنے کا اختیار صرف مرکزی حکومت کے پاس ہے۔
ایکٹ کا سیکشن 9 واضح طور پر کہتا ہے کہ آدھار نمبر اپنے آپ میں “شہریت یا سکونت کا ثبوت نہیں ہے”۔ اس لیے آدھار کو امیگریشن کی جانچ کے لیے استعمال کرنا خود اس ایکٹ کے بنیادی مقصد کے خلاف جاتا ہے۔
