کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ میں شمولیت یا اخراج کیلئے دائر38لاکھ اپیلوں کی سماعت کےلئے 19ٹربیونل کام کررہی ہے۔اپریل سے ستمبر تک ٹربیونل نے 6,444ووٹروں کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔
مغربی بنگال میں کام کرنے والے محققین، تجزیہ کاروں اور زمینی سطح پر معلومات جمع کرنے والے افراد کے ایک آزاد گروپ، سِوک ریسرچ گروپ کی تحقیقات کو انگریزی ویب سائٹ ’’دی وائر‘‘ نے شائع کیا ہے۔ویب سائٹ نے اپیلوں کے مسترد کئے جانے کا حلقے کی سطح پر تجزیہ کیا ہے۔تجزیہ کے مطابق اب تک جتنی بھی اپیلیں مسترد ہوئی میں ان میں ہر پانچ میں سے چار کا تعلق مسلم طبقے سے ہے ۔
6,444جو اپیلیں مسترد ہوئی ہیں ان سب کا ریاست کے 129انتخابی حلقے سے ہے۔ان انتخابی حلقے میں مسلمانوں کی حصہ داری 22فیصد یا اس سے کم ہے۔ضلع ہگلی میں ان حلقوں میں، جہاں اقلیتوں کی آبادی ووٹر لسٹ کا 15 فیصد ہے، مسترد شدہ اپیلوں میں 83 فیصد نام مسلم شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ہگلی ضلع کے ’’کھانا کل ‘‘اسمبلی حلقے میں کل831اپیلیں مسترد ہوئی ہیں ان میں 96.5فیصد ایسے ووٹروں کی ہیں جن کے نام کی مماثلت مسلم طبقے سے ہے۔
تاہم دی وائر کی نامہ نگار ’’اپرنابھٹاچاریہ‘‘نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مسترد شدہ اپیلوں سے پوری صورت حال واضح نہیں ہوتی ہے۔کیوں کہ ٹربیونل دوطرح کی اپیلوں کی سماعت کرتی ہے۔ تقریباً 22 لاکھ اپیلیں ان ووٹروں کی جانب سے دائر کی گئیں جنہیں عدالتی جانچ کے بعد ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا تھا اور وہ دوبارہ فہرست میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ تقریباً 16 لاکھ اپیلیں الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کی گئی ہیں ، جن کا مقصد ان ووٹروں کو فہرست سے خارج کرانا تھا جنہیں عدالتی افسران نے اہل قرار دیا تھا۔

ریاست بھر میں دائر کی گئی38.1لاکھ اپیلوں میں سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک لاکھ سےکچھ زائداپیلوں پر فیصلہ ہوچکا ہے ۔ان میں سے تقریباً 90 فیصد ووٹروں کو دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کردیا گیا۔
مالدہ میں 6.85لاکھ اپیلیں دائر ہوئیں، لیکن ان میں سے صرف0 .15فیصد پر فیصلہ ہوا ۔ اس لیے اپیل کرنے والے بیشتر افراد کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ان کی اپیل منظور ہوئی یا مسترد، بلکہ یہ ہے کہ ان کی سماعت اب تک ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ٹریبونلز کی کارکردگی میں اضلاع کے درمیان بھی نمایاں فرق ہے۔ مشرقی بردوان کی بنچ نے جن مقدمات پر فیصلہ کیا، ان میں سے 85 فیصد فیصلے مسترد ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس شمالی 24 پرگنہ، ندیا اور جنوبی دیناج پور کی بنچوں نے کوئی اپیل مسترد نہیں کی ہے۔
80.2فیصد کے اعداد و شمار کو احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تناسب ان ووٹروں کی مذہبی شناخت کے ناموں پر مبنی تخمینے کو ظاہر کرتا ہے جنہیں عدالتی افسران نے نااہل قرار دیا تھا اور جن کی ووٹر لسٹ میں دوبارہ شمولیت کی اپیلیں مسترد ہوئیں۔ اس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹروں کو خارج کرنے کے لیے دائر کی گئی 16 لاکھ اپیلیں شامل نہیں ہیں۔
تمام اپیل کنندگان کی مذہبی شناخت کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہونے کی وجہ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ٹریبونلز نے ایک مذہبی برادری کے ساتھ دوسری کے مقابلے میں مختلف سلوک کیا۔ اس سوال کا حتمی جواب دینے کے لیے کس نوعیت کے اعداد و شمار درکار ہوں گے۔

ٹریبونلز کیسے کام کرتے ہیں اور اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
ایس آئی آر کے دوران مغربی بنگال میں تقریباً 60 لاکھ ووٹروں کے ناموں کو ’’منطقی تضادات‘‘کی بنیاد پر عدالتی جانچ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ عدالتی افسران نے ان میں سے27.16لاکھ ووٹروں کے نام خارج کر دیے۔سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت قائم کیے گئے اپیلی ٹریبونلز ان ووٹروں کے لیے اپیل کا فورم ہیں جو اپنے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں دائر رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 1089/2025 سے متعلق ہے۔
ریاست میں 19 ٹریبونلز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی سربراہی ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کرتے ہیں۔ ہر ضلع کی اپیلیں ایک مخصوص بنچ کے پاس جاتی ہیں۔تمام 19 ٹریبونلز کلکتہ میں قائم ہیں، جس کی وجہ سے مالدہ یا کوچ بہار جیسے اضلاع کے ووٹروں کو سماعت کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
چیف الیکٹورل آفیسر نے یہ بھی کہا تھا کہ اپیل میں کامیاب ہونے والے ووٹروں کے نام صرف آئندہ انتخابات کے لیے دوبارہ شامل کیے جائیں گے۔
اس رپورٹ کے لیے ان 6,444افراد کی فہرست کا تجزیہ کیا گیا جن کی اپیلیں اپیلی ٹریبونلز نے مسترد کی ہیں۔ ہر ریکارڈ میں ووٹر کا شناختی کارڈ نمبر ، بنگالی رسم الخط میں نام، جنس، پولنگ پارٹ نمبر اور فیصلے کا وقت درج ہے۔اس دستاویز میں مذہب یا ذات کا ذکر نہیں ہے۔ ان کی شناخت کا تخمینہ ووٹروں کے ناموں اور بنگالی زبان میں مختلف برادریوں سے وابستہ عام ناموں کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔مذہب کے بارے میں یہ طریقہ زیادہ تر معاملات میں درست اندازہ دے سکتا ہے، لیکن ذات کی شناخت کا تخمینہ کم قابلِ اعتماد ہے، کیونکہ کئی ذاتوں کے افراد کے خاندانی نام ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اس لیے رپورٹ میں مذہب اور ذات سے متعلق تمام اعداد و شمار تخمینے ہیں، سرکاری ریکارڈ نہیں۔

کن ووٹروں کی اپیلیں مسترد ہوئیں؟
اپیلیں مسترد ہونے والے 6,444ووٹروں میں سے5 ,169کے نام مسلم شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ1 ,122کے نام ہندو شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مزید 54 افراد کی مذہبی شناخت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔ضلع در ضلع، مسترد شدہ اپیلوں میں مسلم شناخت سے مطابقت رکھنے والے ناموں کا تناسب مقامی انتخابی فہرست میں مسلمانوں کے حصے سے کہیں زیادہ نظر آتا ہے۔
یہ فرق انتخابی حلقوں کی سطح پر سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ صرف پانچ حلقوں میں ریاست بھر کی مسترد شدہ اپیلوں کا 44 فیصد حصہ سامنے آیا۔
کھانا کل: 831 اپیلیں مسترد ہوئیں۔ ان میں 96.5فیصد نام مسلم شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ اس حلقے کی ووٹر لسٹ میں اقلیتوں کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے۔
بولپور: 808 اپیلیں مسترد ہوئیں۔ ان میں 88 فیصد نام مسلم شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ اقلیتوں کا حصہ 30 فیصد ہے۔
رائے گنج: 659 اپیلیں مسترد ہوئیں۔ ان میں 92 فیصد نام مسلم شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ ووٹر لسٹ میں اقلیتوں کا حصہ 19 فیصد ہے۔
سبانگ: 234 اپیلیں مسترد ہوئیں۔ ان میں 88 فیصد نام مسلم شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ اقلیتوں کا حصہ 7 فیصد سے بھی کم ہے۔
کم از کم 20 مسترد شدہ اپیلوں والے 51 انتخابی حلقوں میں سے 32 حلقوں میں مسلم شناخت سے مطابقت رکھنے والے ناموں کا تناسب 80 فیصد یا اس سے زیادہ تھا۔
تاہم اس سے بذاتِ خود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹریبونلز نے مسلم اپیل کنندگان کے ساتھ زیادہ سختی کی۔ اگر اپیل کرنے والوں کی اکثریت مسلمان تھی تو مسترد ہونے والوں میں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہونا فطری بات ہو سکتی ہے۔
ایس آئی آر کے دوران عدالتی جانچ میں جن ووٹروں کے نام سب سے زیادہ خارج ہوئے، ان میں مسلم اکثریتی اضلاع کے ووٹروں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس لیے یہ امکان موجود ہے کہ اپیل کرنے والوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو۔
اعداد و شمار سے جو بات واضح ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ اپیل مسترد ہونے کا بوجھ بڑی حد تک مسلم ووٹروں پر پڑا ہے، حتیٰ کہ ان حلقوں میں بھی جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔

مستثنیٰ علاقے اور خواتین کی صورتِ حال
جنوبی دیناج پور میں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ وہاں مسترد ہونے والی 215 اپیلوں میں سے 98 فیصد ایسے ناموں کی تھیں جو ہندو شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان میں تقریباً 70 فیصد افراد کے خاندانی نام عموماً درج فہرست ذات سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
بالورگھاٹ میں 63 اپیلیں مسترد ہوئیں اور ان میں مسلم شناخت سے مطابقت رکھنے والا کوئی نام نہیں تھا۔ گنگارام پور میں 57، تپن میں 39 اور کشمنڈی میں 25 اپیلیں مسترد ہوئیں، اور ان تمام حلقوں میں 90 فیصد سے زیادہ نام ہندو شناخت سے مطابقت رکھتے تھے۔
چند دوسرے حلقوں میں بھی ہندو شناخت سے مطابقت رکھنے والے ناموں کی اکثریت تھی، جن میں کوچ بہار شمال(35 میں سے 74 فیصد)، اترپاڑہ (59 میں سے 76 فیصد)، کھڑگ پور صدر (31 میں سے 74 فیصد) اور چنچوڑہ (85 میں سے 62 فیصد) شامل ہیں۔
ریاست بھر میں مسترد شدہ 1,122ہندو ناموں میں سے 445 ایسے افراد کے تھے جن کے خاندانی نام درج فہرست ذات سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ مزید 192 کو عمومی زمرے کی ذاتوں، 138 کو دیگر پسماندہ طبقات (OBC) اور 37 کو درج فہرست قبائل (ST) سے منسوب کیا گیا۔ باقی افراد کی ذات کا تعین نہیں کیا جا سکا۔درج فہرست ذات سے متعلق تعداد حقیقت سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ اس طریقے میں داس، منڈل، بسواس اور سردار جیسے عام خاندانی ناموں کو درج فہرست ذات سے جوڑا گیا ہے، حالانکہ یہ نام دوسری ذاتوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
خواتین کی اپیلیں زیادہ مسترد ہوئیں
مسترد ہونے والی اپیلوں میں خواتین کا حصہ 52.7فیصد تھا۔ یہ رجحان ان مراحل میں بھی دیکھا گیا تھا جن میں غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور دہرے اندراج والے ووٹروں کی جانچ اور عدالتی نظرثانی کی گئی تھی۔ٹریبونلز نے3 ,396خواتین، 3,047مردوں اور تیسری جنس کے ایک ووٹر کی اپیل مسترد کی۔ خواتین کا یہ تناسب حتمی ووٹر لسٹ میں ان کے تقریباً 49 فیصد حصے سے کچھ زیادہ ہے۔
یہ فرق بنیادی طور پر مسلم شناخت سے مطابقت رکھنے والے ناموں میں خواتین کی زیادہ تعداد کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ مسترد شدہ مسلم ناموں میں خواتین کا حصہ 54 فیصد تھا، جبکہ ہندو ناموں میں یہ تناسب 48 فیصد تھا۔
سبانگ میں مسترد ہونے والی اپیلوں میں خواتین کا حصہ 63 فیصد اور بولپور میں 56 فیصد تھا۔ اس کے برعکس رائے گنج میں یہ تناسب 39 فیصد رہا۔
اپیلیں کب اور کتنی تیزی سے مسترد ہوئیں؟
اپیلیں مسترد کیے جانے کے پہلے فیصلے رواں سال 13 اپریل کو ریکارڈ کیے گئے۔ پہلے مہینے میں مسترد شدہ اپیلیں ہندو اور مسلم شناخت سے مطابقت رکھنے والے ناموں کے درمیان تقریباً برابر تقسیم تھیں۔
لیکن مئی سے مسلم شناخت سے مطابقت رکھنے والے نام ہر ماہ مسترد ہونے والی اپیلوں میں 70 سے 90 فیصد تک رہے۔ مئی سب سے مصروف مہینہ تھا، جب 1,519اپیلیں مسترد کی گئیں۔
اکثر فیصلے ایک دوسرے سے چند منٹ کے وقفے سے ریکارڈ کیے گئے۔ ایک ہی انتخابی حلقے میں، ایک ہی دن دو مسلسل مسترد شدہ فیصلوں کے درمیان اوسط وقفہ تقریباً ڈھائی منٹ تھا۔ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک فیصلہ پچھلے فیصلے کے ایک منٹ کے اندر ریکارڈ کیا گیا۔
3 جولائی کو کھاناکل میں دوپہر 12 بج کر 41 منٹ سے شام 6 بج کر 10 منٹ تک 85 اپیلیں مسترد کی گئیں، یعنی تقریباً ہر چار منٹ میں ایک فیصلہ۔
ایک ہی دن میں 40 یا اس سے زیادہ اپیلیں مسترد ہونے والے دس انتخابی حلقہ وار واقعات میں سے چھ کھانا کل میں پیش آئے۔
تاہم، یہ وقت صرف فیصلے درج کیے جانے کا وقت بتاتا ہے، سماعت کی اصل مدت نہیں۔ ممکن ہے کہ سماعتیں پہلے ہو چکی ہوں اور فیصلے بعد میں اجتماعی طور پر درج کیے گئے ہوں۔ اسی طرح ان دنوں اسی بنچ کے ذریعے منظور کی گئی اپیلیں اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔اس کے باوجود، فیصلوں کی رفتار یہ سوال ضرور اٹھاتی ہے کہ ہر اپیل پر کتنی دیر غور کیا گیا۔
اپیلوں کا بڑا بیک لاگ
مسترد ہونے والی اپیلیں ان لوگوں کی مجموعی تعداد کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں جنہوں نے اپیل دائر کی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر اب بھی فیصلے کے منتظر ہیں۔ریاست بھر میں مجموعی طور پر38.1لاکھ اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ ان میں سے صرف82,782پر فیصلہ ہوا، جو کل اپیلوں کا تقریباً 2.2 فیصد ہے۔
فیصلہ شدہ اپیلوں میں سے
– 75,443 اپیلیں، یعنی 91 فیصد: ووٹروں کو دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے حق میں فیصلہ ہوا۔
– 7,339 اپیلیں، یعنی 9 فیصد: مسترد کر دی گئیں۔
جن اضلاع میں سب سے زیادہ اپیلیں دائر ہوئیں، وہاں سب سے کم اپیلوں پر سماعت ہوئی ہے۔
مالدہ میں 6.85 لاکھ اپیلیں دائر کی گئیں، لیکن صرف 1,027 پر فیصلہ ہوا۔
مرشدآباد میں 4.27 لاکھ اپیلوں میں سے صرف 0.43 فیصد پر فیصلہ ہوا، جبکہ شمالی 24 پرگنہ میں 3.41 لاکھ اپیلوں میں سے صرف 0.39 فیصد پر فیصلے کیے گئے۔
ریاست کے دس اضلاع، جہاں مجموعی اپیلوں کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے، وہاں ایک فیصد سے بھی کم اپیلوں پر فیصلہ ہوا ہے۔
اس کے برعکس، پرولیا میں 22 فیصد، ہگلی میں 12.5 فیصد اور ہاوڑہ میں 10.5 فیصد اپیلوں پر فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
اسی وجہ سے مالدہ، ندیہ اور شمالی 24 پرگنہ مسترد شدہ اپیلوں کی فہرست میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں ووٹر اپنی اپیلوں میں کامیاب ہو رہے ہیں، بلکہ زیادہ تر لوگوں کی اپیلوں پر ابھی سماعت ہی نہیں ہوئی۔
الیکشن کمیشن کی اپیلیں بھی اس بات کی وضاحت کر سکتی ہیں کہ بعض اضلاع میں اپیلوں کی تعداد وہاں سے خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد سے کہیں زیادہ کیوں ہے۔ مثال کے طور پر، بانکوڑہ میں اپیلوں کی تعداد خارج کیے گئے ووٹروں سے تقریباً 24 گنا اور کالمپونگ میں تقریباً 18 گنا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس کی جانب سے دائر اپیلیں مختلف اضلاع میں کس طرح تقسیم کی گئی ہیں۔
تاہم، دی وائر سے بات کرتے ہوئے اپیلی ٹریبونل نمبر 11 کے سربراہ جسٹس اندر جیت چٹرجی نے تصدیق کی کہ مرشدآباد کی دس نشستوں سے متعلق شمولیت کے خلاف دائر کی گئی تمام2 .54لاکھ اپیلیں ایڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
ایک ہی قانون، لیکن کامیابی کے امکانات مختلف
ہر ضلع کی اپیلیں ایک مخصوص ٹریبونل کو بھیجی جاتی ہیں۔ اس لیے اضلاع کے اعداد و شمار کا موازنہ دراصل مختلف بنچوں کے فیصلوں کا موازنہ ہے۔
اپیل ہارنے کے امکانات اضلاع کے درمیان بہت زیادہ مختلف ہیں۔
لیکن ان اعداد و شمار کو بھی احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ دستیاب ڈیٹا میں ووٹروں کی اپنی اپیلیں اور الیکشن کمیشن کی اپیلیں دونوں شامل ہیں، اس لیے کسی ضلع میں مسترد ہونے والی اپیلوں کا زیادہ تناسب دو مختلف وجوہات سے ہو سکتا ہے۔
اول، بنچ نے ان ووٹروں کی بڑی تعداد کی اپیلیں مسترد کی ہوں جو دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل ہونا چاہتے تھے۔
دوم، بنچ نے الیکشن کمیشن کی ان درخواستوں کو بڑی تعداد میں منظور کیا ہو جن کا مقصد ان ووٹروں کو فہرست سے خارج کرنا تھا جنہیں عدالتی افسران نے پہلے اہل قرار دیا تھا۔
اسی طرح، مسترد ہونے والی اپیلوں کا کم تناسب بھی ان دونوں صورتوں کے برعکس نتائج کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ ہر اپیل کس نے دائر کی تھی، یہ اعداد و شمار اضلاع کے درمیان نتائج کا فرق تو دکھاتے ہیں، لیکن یہ ثابت نہیں کرتے کہ کون سی بنچ زیادہ سخت تھی۔
مشرقی بردوان اور بھاتار اسمبلی حلقے کا معاملہ
مشرقی بردوان ضلع کے بھاتار حلقے کو چارٹ میں شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ وہاں کے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
اپیلوں کے ڈیٹا کے مطابق، بھاتار میں1252فیصلہ شدہ اپیلوں میں سے 1064کے نتیجے میں ووٹر کا نام ووٹر لسٹ سے خارج رہا۔ یہ تقریباً 85 فیصد بنتا ہے، جو کسی بھی دوسرے ضلع سے کہیں زیادہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں بھی بھاتار کے حوالے سے1252میں سے1064اپیلوں کے فیصلوں میں ووٹر کو لسٹ سے باہر رکھنے کا ذکر ہے۔لیکن دوبارہ شمولیت کے لیے اپیل کرنے والے ووٹروں کی فہرست کی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ پوربا بردھمان کے پورے ضلع میں صرف 15 ایسے ووٹروں کی اپیلیں مسترد ہوئیں۔اس فرق کی زیادہ تر وجہ ایک ہی حلقہ، یعنی بھاتار، ہے۔ اپیلوں کے ڈیٹا میں بھاتار کے 852 ایسے فیصلے درج ہیں جن کے نتیجے میں ووٹر لسٹ سے باہر رہا، لیکن ایسے کسی بھی ووٹر کی اپیل مسترد نہیں ہوئی جس نے خود دوبارہ شمولیت کے لیے اپیل کی تھی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جن ووٹروں کو عدالتی افسران نے پہلے اہل قرار دیا تھا، وہ الیکشن کمیشن کی اپیلوں کے بعد دوبارہ ووٹر لسٹ سے باہر ہو گئے۔
بھاتار اپنے ضلع کے دوسرے حلقوں سے بھی غیر معمولی طور پر مختلف ہے۔ وہاں 906 اپیلوں پر فیصلہ کیا گیا، جبکہ پوربا بردھمان کے بیشتر دوسرے حلقوں میں فیصلہ شدہ اپیلوں کی تعداد 20 سے بھی کم تھی۔
مشرقی مدنی پور، بیربھوم اور جھاڑگرام میں تقریباً ایک تہائی اپیلیں مسترد ہوئیں۔
دوسری طرف، شمالی 24 پرگنہ، ندیہ، جنوبی دیناج پور اور علی پور دوار میں کوئی اپیل مسترد نہیں ہوئی۔ جنوبی 24 پرگنہ میں 20 ہزار سے زیادہ اپیلوں میں سے صرف 24 مسترد ہوئیں۔ان فرقوں کی کچھ وجوہات مقدمات کی نوعیت میں بھی ہو سکتی ہیں، نہ کہ صرف ججوں کے رویّے میں۔مثال کے طور پر، ایک ہی بنچ مغربی مدنی نی پور اور جھاڑگرام کی اپیلیں سنتی ہے، لیکن ایک ضلع میں 10 فیصد اور دوسرے میں 30 فیصد اپیلیں مسترد ہوئیں۔
مشرقی بردوان ن میں مسترد ہونے والی1064اپیلوں میں سے252کا تعلق صرف ایک حلقے، بھاتار، سے تھا۔جن اضلاع میں صرف چند سو مقدمات پر فیصلہ ہوا ہے، وہاں ممکن ہے کہ ابتدا میں مخصوص نوعیت کی اپیلوں پر سماعت ہوئی ہو۔اس کے باوجود، پوربا بردھمان اور جنوبی 24 پرگنہ کے کسی ووٹر کے لیے ووٹر لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے کے امکانات ایک ہی قانونی عمل سے گزرنے کے باوجود بالکل مختلف رہے ہیں۔
کیا ٹریبونلز نے مسلم اور ہندو اپیل کنندگان کے ساتھ مختلف سلوک کیا؟
اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہر فیصلہ شدہ اپیل کے بارے میں دو معلومات درکار ہیں: ووٹر کا مذہب کیا تھا اور اپیل کس نے دائر کی تھی۔
جن 6,444ووٹروں کی اپنی اپیلیں مسترد ہوئیں، ان میں تقریباً 80 فیصد نام مسلم شناخت سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اگر ان ووٹروں میں بھی مسلم ناموں کا تناسب تقریباً 80 فیصد ہو جن کی اپیلیں منظور ہوئیں، تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مسترد شدہ اپیلوں میں مسلمانوں کا زیادہ تناسب محض اس لیے ہے کہ اپیل کرنے والوں میں بھی مسلمان زیادہ تھے۔
لیکن اگر کامیاب اپیل کنندگان میں مسلمانوں کا تناسب نمایاں طور پر کم ہو، تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ مسلم اپیل کنندگان کی اپیلیں زیادہ شرح سے مسترد کی جا رہی تھیں۔اس سوال کا حتمی جواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فیصلہ شدہ اپیلوں کی ووٹر وار فہرست جاری کی جائے، جس میں ہر ووٹر کی مذہبی شناخت اور یہ تفصیل درج ہو کہ اپیل کس نے دائر کی تھی۔یہی ڈیٹا واضح کر سکتا ہے کہ آیا مسترد شدہ اپیلوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد اپیل کنندگان کی مجموعی تعداد کی عکاسی کرتی ہے یا مسلم ووٹروں کو اپیل کے عمل میں واقعی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
