کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
یوسف پٹھان کو ترنمول کانگریس سے بغاوت کے دو ماہ بعد ہی گجرات میں ایک بڑا تحفہ ملنے جا رہا ہے۔ گجرات حکومت نے سابق کرکٹر اور بہرام پور سے ممبر پارلیمنٹ کو وڈودرا میونسپل کارپوریشن کی ملکیت والی 978 مربع میٹر زمین الاٹ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس زمین پر مبینہ قبضے کے معاملے میں دو سال قبل انہیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اب حکومت نے اس زمین کے 500 مربع میٹر حصے کو رہائشی استعمال کے لیے مفت دینے اور باقی 478 مربع میٹر کو مقررہ قیمت کے 55 فیصد پر الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت نے سیاسی تبدیلی اور زمین کی الاٹمنٹ کے درمیان تعلق کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
یوسف پٹھان 2024 میں ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر مغربی بنگال کے بہرام پور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے کانگریس کے قدآور رہنما ادھیر رنجن چودھری کو شکست دی تھی۔ گجرات سے تعلق رکھنے کے باوجود انہیں بہرام پور کے ووٹروں، بالخصوص مسلمانوں، کی حمایت حاصل ہوئی اور وہ پارلیمنٹ پہنچنے میں کامیاب رہے۔
تاہم، رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہونے کے چند ہی دن بعد، جون 2024 میں، وڈودرا میونسپل کارپوریشن نے انہیں ان کی رہائش گاہ سے متصل زمین پر مبینہ تجاوزات ہٹانے کا نوٹس جاری کردیا۔ پٹھان نے اس زمین کی الاٹمنٹ کے لیے برسوں پہلے درخواست دی تھی، لیکن گجرات حکومت نے 2014 میں اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ اس کے باوجود، میونسپل کارپوریشن کے مطابق، زمین پر باڑ لگا کر قبضہ برقرار رکھا گیا۔
اس تنازع کے درمیان جون 2026 میں یوسف پٹھان نے ترنمول کانگریس سے بغاوت کرلی۔ وہ ان 20 ممبران پارلیمنٹ میں شامل تھے جنہوں نے پارٹی سے الگ ہوکر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (NCPI) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس گروپ نے ترنمول کانگریس سے اپنی سیاسی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا، جب مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اقتدار میں آچکی تھی۔
یوسف پٹھان کی اس سیاسی تبدیلی کو اس لیے بھی حیرت کی نگاہ سے دیکھا گیا کہ وہ ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ ان کی علیحدگی کے بعد زمین کے پرانے تنازع اور نئی الاٹمنٹ کے فیصلے کے درمیان ممکنہ تعلق کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، گجرات حکومت نے متنازع زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔ وڈودرا میونسپل کارپوریشن کے لینڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس سلسلے میں تجویز تیار کرکے شہری ادارے کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کردی ہے۔گجرات حکومت کی قرارداد 13 اگست 2026 کو جاری ہوئی تھی اور 29 اگست کو وڈودرا میونسپل کارپوریشن کو موصول ہوئی۔ یہ وہی زمین ہے جس کی الاٹمنٹ سے متعلق حکومتی فیصلے کو یوسف پٹھان نے گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرارداد موصول ہونے کے دو دن بعد، 31 اگست کو، انہوں نے عدالت سے اپنی اپیل واپس لے لی۔
حکومتی قرارداد کے مطابق، 978 مربع میٹر زمین میں سے 500 مربع میٹر حصہ یوسف پٹھان کو رہائشی استعمال کے لیے بطور تحفہ دیا جائے گا، جب کہ باقی 478 مربع میٹر زمین وڈودرا اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ویلیوایشن کمیٹی کی جانب سے 17 مارچ 2026 کو مقرر کردہ قیمت کے 55 فیصد پر منتقل کی جائے گی۔ اس طرح باقی زمین کی قیمت میں 45 فیصد رعایت دی جائے گی۔
قرارداد میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ اس انتظام کو مستقبل میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکے گا۔ مزید برآں، ریاست کا محکمۂ ریونیو وڈودرا میونسپل کارپوریشن کو اس زمین کے عوض مساوی مالیت کی دوسری زمین الاٹ کرے گا، تاکہ شہری ادارے کو زمین کی منتقلی کے نتیجے میں مالی نقصان نہ ہو۔
یہ پلاٹ وڈودرا کے علاقے ٹانڈلجا میں ٹاؤن پلاننگ اسکیم نمبر 22 کے تحت فائنل پلاٹ نمبر 90 کے طور پر درج ہے۔ یہ پٹھان خاندان کے مشہور سفید بنگلے سے متصل ہے، جہاں یوسف پٹھان اور ان کے چھوٹے بھائی، سابق بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان، اپنے اہلِ خانہ اور والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔تاہم، گجرات حکومت کی منظوری کے باوجود زمین کی الاٹمنٹ کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ میونسپل کمشنر ارون مہیش بابو کے مطابق، الاٹمنٹ کی تفصیلی شرائط طے ہونا باقی ہیں اور اس تجویز کو میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی اور جنرل بورڈ کی منظوری کے مراحل سے بھی گزرنا ہوگا۔
لینڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجویز اس تنازع کی تازہ ترین پیش رفت ہے، جس کا آغاز 2012 میں ہوا تھا۔ اس وقت یوسف پٹھان نے وڈودرا میونسپل کارپوریشن سے درخواست کی تھی کہ ان کی رہائش گاہ سے متصل خالی میونسپل زمین انہیں عوامی نیلامی کے بغیر 99 سالہ لیز پر دے دی جائے۔اپنی درخواست میں انہوں نے بین الاقوامی کرکٹر کی حیثیت سے اپنی عوامی شناخت کے باعث سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ گھر سے متصل زمین کی الاٹمنٹ ان کی رہائش اور سیکیورٹی کے انتظامات کے لیے سہولت بخش ہوگی۔
اس وقت وڈودرا میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی اور جنرل بورڈ نے ان کی تجویز منظور کرلی تھی۔ زمین کی قیمت57,270روپے فی مربع میٹر مقرر کی گئی تھی، جس کے مطابق پورے پلاٹ کی قیمت تقریباً5 .6کروڑ روپے بنتی تھی۔ یوسف پٹھان نے اس رقم کی ادائیگی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
تاہم، عوامی نیلامی کے بجائے براہِ راست الاٹمنٹ کے لیے گجرات حکومت کی منظوری ضروری تھی۔ جون 2014 میں ریاست کے محکمۂ شہری ترقی نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ اس کے بعد وڈودرا میونسپل کارپوریشن نے الزام لگایا کہ حکومتی منظوری نہ ملنے کے باوجود یوسف پٹھان نے زمین کے گرد باڑ لگا کر اس پر قبضہ برقرار رکھا۔اس طرح زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود زمین کے استعمال اور قانونی حیثیت کا تنازع تقریباً 14 برس تک جاری رہا۔
عدالتی کارروائی اور سیاسی تبدیلی
جون 2024 میں لوک سبھا کا رکن منتخب ہونے کے بعد یوسف پٹھان کو وڈودرا میونسپل کارپوریشن نے نوٹس جاری کرکے مبینہ تجاوزات ہٹانے کی ہدایت دی۔ پٹھان نے اس نوٹس کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔اگست 2025 میں ہائی کورٹ کے ایک رکنی بنچ نے ریاستی حکومت کی جانب سے زمین الاٹ کرنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی زمین پر طویل عرصے تک بغیر ادائیگی قبضہ برقرار رکھنے سے قانونی حق پیدا نہیں ہوجاتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ مشہور شخصیات کو خصوصی رعایت دینے سے غلط پیغام جاسکتا ہے۔
جون 2026 میں ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے اور اس بات پر توجہ دلائی کہ سرکاری زمین پر قانونی الاٹمنٹ اور ادائیگی کے بغیر قبضہ کیسے برقرار رہا۔ عدالت نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ غیر قانونی قبضے کے عرصے کے لیے مالی ذمہ داری کا تعین کیا جاسکتا ہے۔بالآخر 31 اگست 2026 کو یوسف پٹھان نے اپنی اپیل واپس لے لی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ معاملے کو عدالتی کارروائی سے باہر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے بعد گجرات حکومت کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری سامنے آئی۔
اس سیاسی اور قانونی پیش رفت کے پس منظر میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال میں مئی 2026 کے اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی۔ جون میں یوسف پٹھان سمیت ترنمول کانگریس کے 20 ارکانِ پارلیمنٹ نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے این سی پی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔اگرچہ زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری اور یوسف پٹھان کی سیاسی علیحدگی کا زمانی تعلق واضح ہے۔
20.5 کروڑ روپے کی زمین اور7.5کروڑ روپے کے ممکنہ استعمال کے چارجز
جولائی 2026 میں وڈودرا میونسپل کارپوریشن نے اس پلاٹ کی عوامی نیلامی کے لیے2 .10لاکھ روپے فی مربع میٹر کی قیمت مقرر کی تھی۔ اس حساب سے 978 مربع میٹر زمین کی مجموعی مالیت تقریباً20.5کروڑ روپے بنتی تھی۔
تاہم، زمین کی نیلامی کی تجویز پر اس وقت سوالات اٹھے جب میونسپل کارپوریشن کے جنرل بورڈ میں یہ معاملہ سامنے آیا کہ زمین پر مبینہ قبضہ برقرار ہے۔ اس کے بعد نیلامی سے متعلق کارروائی روک دی گئی، تاکہ زمین کی قانونی حیثیت اور قبضے کے معاملے کو حل کیا جاسکے۔وڈودرا کی مقامی شہری تنظیم ’’وشوامتری بچاؤ کمیٹی‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ زمین پر تقریباً 14 برس تک مبینہ قبضے کے لیے یوسف پٹھان پر لگ بھگ 7.5 کروڑ روپے کے استعمال کے چارجز عائد ہوسکتے ہیں۔ تنظیم نے یہ تخمینہ کھلے میونسپل پلاٹ کے عارضی استعمال کے لیے مقررہ یومیہ شرح کی بنیاد پر لگایا ہے۔تاہم، یہ رقم فی الحال ایک شہری تنظیم کا تخمینہ ہے، کوئی حتمی سرکاری مطالبہ یا عدالتی فیصلہ نہیں۔ میونسپل حکام کے مطابق، استعمال کے چارجز اور الاٹمنٹ کی دیگر تفصیلی شرائط کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اہم سوالات جن کے جواب ضروری ہیں
گجرات حکومت کے اس فیصلے نے سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کے طریقۂ کار اور عوامی املاک کے استعمال سے متعلق کئی اہم سوالات پیدا کردیے ہیں۔
جس زمین کی براہِ راست الاٹمنٹ کی تجویز 2014 میں مسترد کردی گئی تھی، اب اسی زمین کا 500 مربع میٹر حصہ مفت دینے کی بنیاد کیا ہے؟ باقی زمین کو مقررہ قیمت کے 55 فیصد پر منتقل کرنے کے لیے کون سے قواعد استعمال کیے گئے ہیں؟ کیا زمین پر مبینہ قبضے کے عرصے کے استعمال کے چارجز بھی وصول کیے جائیں گے؟ اور کیا میونسپل کارپوریشن کی منظوری سے پہلے ان تمام مالی اور قانونی پہلوؤں کو واضح کیا جائے گا؟
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ترنمول کانگریس سے علیحدگی کے تقریباً دو ماہ بعد یوسف پٹھان کو اس زمین کی الاٹمنٹ کی منظوری کیوں ملی، جس کے لیے ان کی درخواست برسوں سے زیرِ تنازع تھی۔ اس فیصلے کو سیاسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھتے ہوئے سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔کیا یہ سیاسی سودا بازی تو نہیں ہے؟۔سرکاری زمین عوامی ملکیت ہوتی ہے۔ اس کی الاٹمنٹ میں شفافیت، یکساں اصولوں کی پابندی اور مالی ذمہ داری کا تعین محض انتظامی تقاضے نہیں، بلکہ عوامی جواب دہی کے بنیادی اصول ہیں۔ یوسف پٹھان کے معاملے میں بھی ان سوالات کے واضح جواب ضروری ہیں۔
