کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرستوں سے نام خارج کرنے کے عمل پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ ’دی وائر‘ کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ریاست کی حتمی ووٹر فہرست سے 5,38,320 افراد کے نام ایسے فارم 7 کے ذریعے خارج کیے گئے جو کسی شہری کی جانب سے باقاعدہ اعتراض دائر کیے جانے کے بجائے الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر نے خودکار طور پر تیار کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ان ناموں کے اخراج میں ایسے معاملات شامل تھے جن کے لیے فارم 7 الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر نے خود تیار کیے تھے۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ان فارموں میں نام خارج کرنے کی مخصوص وجہ درج نہیں تھی۔
اس انکشاف سے کئی بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں: اگر کسی شہری نے کسی ووٹر کے نام پر اعتراض ہی نہیں کیا تو فارم 7 کس بنیاد پر تیار کیا گیا؟ اگر کسی ووٹر کو سماعت کے دوران نااہل قرار دیا گیا تو اس فیصلے کی وجہ سرکاری ریکارڈ میں کیوں درج نہیں کی گئی؟ اور اگر اخراج کے خلاف اپیل دائر کرنا ہو تو متاثرہ ووٹر کو یہ معلوم کیسے ہوگا کہ اس کا نام کس بنیاد پر ہٹایا گیا؟
یہ معاملہ محض اعداد و شمار میں فرق کا نہیں، بلکہ ووٹر فہرستوں کی شفافیت، انتظامی جواب دہی اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کا ہے۔
فارم 7 کے 5.38 لاکھ معاملات روزانہ کے سرکاری اعداد و شمار میں کیوں شامل نہیں تھے؟
’دی وائر‘ کی رپورٹ کے مطابق، 14 دسمبر 2025 کو ابتدائی ووٹر فہرست کی اشاعت اور 28 فروری 2026 کو حتمی فہرست جاری ہونے کے درمیان 5,38,320 نام خودکار طریقے سے تیار کیے گئے فارم 7 کے ذریعے خارج کیے گئے۔
الیکشن کمیشن نے 28 فروری 2026 کو، یعنی حتمی فہرست کی اشاعت کے روز، ای میل کے ذریعے ان اعداد و شمار سے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کو آگاہ کیا تھا۔
یہ انکشاف ترنمول کانگریس کے اس وقت کے جنرل سکریٹری ابھشیک بنرجی کے اس الزام کے دو دن بعد سامنے آیا کہ روزانہ جاری ہونے والے سرکاری بلیٹن اور حتمی ووٹر فہرست میں فارم 6 اور

فارم 7 کے اعداد و شمار آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔
مثال کے طور پر، 20 جنوری کے چیف الیکٹورل آفیسر کے روزانہ بلیٹن میں فارم 7 کے تحت موصول ہونے والے اعتراضات کی مجموعی تعداد صرف 42,251 بتائی گئی
تھی۔ اس کے برعکس، حتمی فہرست کی اشاعت کے وقت سامنے آنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ سافٹ ویئر نے 5,38,320 فارم 7 خودکار طور پر تیار کیے تھے۔
اس فرق کی بنیادی وجہ، رپورٹ کے مطابق، یہ تھی کہ روزانہ کے بلیٹن میں شہریوں کی جانب سے جمع کرائے گئے فارم 7 شمار کیے جاتے تھے، جبکہ سافٹ ویئر کے ذریعے خودکار طور پر تیار کیے گئے فارم ان اعداد و شمار میں شامل نہیں تھے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، یہ خودکار فارم ان ووٹروں کے انومریشن فارمز مسترد کیے جانے کے بعد تیار ہوئے جنہیں حتمی ووٹر فہرست میں شامل کیے جانے کے لیے اہل نہیں سمجھا گیا تھا۔
سادہ الفاظ میں، جب ایس آئی آر کے دوران کسی ووٹر کی اہلیت تسلیم نہیں کی گئی تو سافٹ ویئر نے اس کا نام خارج کرنے کے لیے فارم 7 تیار کر دیا۔ اس طرح کسی دوسرے شہری کی جانب سے باقاعدہ اعتراض دائر کیے بغیر بھی نام خارج کرنے کا عمل شروع ہو سکتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، فارم 7 کے تحت نام خارج کیے جانے کے ان معاملات میں صرف 7,733 ایسے ووٹر شامل تھے جن کے خلاف کسی شخص نے باقاعدہ فارم جمع کرایا تھا۔
فارم 6 اور فارم 7 کیا ہیں؟
ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے اور خارج کرنے کے لیے فارم 6 اور فارم 7 اہم قانونی ذرائع ہیں۔
فارم 6: ووٹر فہرست میں نام درج کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے اہل شہری اپنا نام شامل کرانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔
فارم 7: کسی ووٹر کے نام پر اعتراض درج کرانے یا اسے ووٹر فہرست سے خارج کرنے کی درخواست دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ متعلقہ قواعد کے تحت، اس کی بنیاد کسی ووٹر کی موت، کم عمری، غیر حاضری، مستقل طور پر دوسرے مقام پر منتقل ہو جانے، کسی دوسری جگہ پہلے سے اندراج یا بھارتی شہریت نہ رکھنے جیسے معاملات ہو سکتے ہیں۔
فارم 7 کی بنیاد پر نام خارج کرنے سے پہلے متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو اعتراض اور دستیاب شواہد کی جانچ کرنی ہوتی ہے۔ اس لیے فارم کی تیاری، اعتراض کی بنیاد اور حتمی فیصلے کا ریکارڈ محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
لیکن ’دی وائر‘ کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال میں خودکار طریقے سے تیار کیے گئے فارم 7 کے ساتھ نام خارج کرنے کی مخصوص وجوہات درج نہیں تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ ووٹر
کے لیے سرکاری ریکارڈ سے یہ معلوم کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ اس کا نام کس بنیاد پر خارج کیا گیا۔
فارم 10 کے ریکارڈ میں وجہ کا خانہ خالی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فارم 10 کے رجسٹروں میں ووٹر فہرست سے نام خارج کرنے کے معاملات کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ ان رجسٹروں میں یہ درج ہونا چاہیے کہ کس ووٹر کا نام خارج کیا گیا، اعتراض کس نے اٹھایا اور اس کی بنیاد کیا تھی۔
’دی وائر‘ نے ریاست کے 294 اسمبلی حلقوں میں سے 284 کے فارم 10 رجسٹروں کا جائزہ لیا۔ تاہم، 10 حلقوں کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہو سکا، جن میں کوچ بہار کے آٹھ اور علی پور دوار کے دو حلقے شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ان 10 حلقوں میں بھی فارم 7 کے ذریعے مزید 14,160 نام خارج کیے گئے تھے۔
دستیاب رجسٹروں میں سے 5,24,420 معاملات کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں 5,23,998 معاملات، یعنی تقریباً 99.9 فیصد میں، اعتراض کنندہ کے طور پر خود الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کا نام درج تھا۔ ان تمام معاملات میں وجہ کا خانہ خالی تھا۔
اس کے برعکس، صرف 422 معاملات میں کسی عام شہری کا نام اعتراض کنندہ کے طور پر درج تھا۔
یہ اعداد و شمار ایک بنیادی انتظامی سوال کھڑا کرتے ہیں: جب کسی شہری نے اعتراض نہیں کیا تو افسر کے نام سے فارم 7 کس بنیاد پر تیار کیا گیا؟ اور جب نام خارج کرنے کی وجہ بھی درج نہیں کی گئی تو اس فیصلے کی جانچ اور اس کے خلاف اپیل کا راستہ کس طرح اختیار کیا جا سکتا ہے؟
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ رپورٹ کے مطابق، کسی نام کا خودکار طریقے سے خارج ہونا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر متعلقہ ووٹر اہل تھا یا اس کا اخراج لازماً غلط تھا۔ ممکن ہے بعض افراد واقعی ووٹر فہرست میں شامل رہنے کے اہل نہ ہوں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب فیصلے کی بنیاد ریکارڈ پر موجود نہ ہو تو کسی بھی معاملے کی آزادانہ جانچ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
کیا افسر ہی اعتراض کنندہ اور فیصلہ کرنے والا بن گیا؟
رپورٹ کے مطابق، ایس آئی آر کے دوران جن ووٹرو

ں کے ریکارڈ 2002 کی ووٹر فہرست سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے سماعت میں حاضر ہونے کو کہا گیا۔
جب کسی افسر نے سماعت کے دوران کسی ووٹر کی اہلیت تسلیم نہیں کی تو سافٹ ویئر نے اس کے نام کے اخراج کے لیے خودکار طور پر فارم 7 تیار کر دیا۔ ان فارموں میں اعتراض کنندہ کے طور پر اسی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کا نام درج تھا جو ووٹر کی اہلیت کے معاملے پر فیصلہ کر رہا تھا۔
اس صورتِ حال سے انتظامی غیر جانب داری اور طریقۂ کار کی شفافیت کے حوالے سے سوال پیدا ہوتے ہیں۔ عام طور پر کسی اعتراض کی جانچ میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ اعتراض کس نے دائر کیا، اس کی بنیاد کیا تھی اور متعلقہ افسر نے دستیاب شواہد کی روشنی میں کیا فیصلہ کیا۔
اگر ایک ہی افسر کے نام سے اعتراض درج ہو اور اسی کے ذریعے ووٹر کی اہلیت پر فیصلہ بھی کیا جائے تو اس عمل کی قانونی بنیاد اور طریقۂ کار کی وضاحت ضروری ہو جاتی ہے۔
رپورٹ میں رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اعتراض مقررہ طریقے اور مناسب بنیاد کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ اس لیے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کسی فارم میں اعتراض کی بنیاد ہی درج نہ ہو تو اس کی قانونی حیثیت کا تعین کیسے کیا جائے گا؟
اتر پردیش میں بھی اسی طرح کا طریقۂ کار سامنے آیا تھا
’دی وائر‘ کی رپورٹ میں اس معاملے کا موازنہ اتر پردیش سے متعلق ’دی رپورٹرز کلیکٹو‘ کی 9 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ سے بھی کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش
میں الیکشن کمیشن کے ایرونیٹ سافٹ ویئر نے ان معاملات میں خودکار طریقے سے فارم 7 تیار کیے تھے جن میں متعلقہ افسر ووٹر کی اہلیت تسلیم نہیں کرتا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان فارموں پر الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کے ڈیجیٹل دستخط پہلے سے موجود ہوتے
تھے۔
مغربی بنگال میں بھی اسی نوعیت کے طریقۂ کار کے استعمال کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال میں بغیر کسی شہری کے باقاعدہ اعتراض کے نام خارج کیے جانے کی شرح اتر پردیش کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی بنگال کی ابتدائی ووٹر فہرست اتر پردیش کے مقابلے میں تقریباً نصف تھی، لیکن وہاں وجہ درج کیے بغیر نام خارج کیے جانے کی شرح تقریباً چھ گنا زیادہ تھی۔
یہ موازنہ اس لیے اہم ہے کہ فارم 7 کے ذریعے نام خارج کرنے کے لیے مقررہ بنیادوں اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔ سماعت کے دوران کسی ووٹر کی اہلیت تسلیم نہ کیے جانے کو بذاتِ خود فارم 7 میں نام خارج کرنے کی قانونی بنیاد تصور کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اس کی وضاحت الیکشن کمیشن کو کرنی چاہیے۔

الیکشن کمیشن کا موقف اور جواب طلب سوالات
رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال کے ایڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر ارندم نیوگی نے کہا تھا کہ فارم 10 میں تفصیلات درج کرنے کی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔
تاہم، اگر متعلقہ رجسٹر میں نام خارج کرنے کی وجہ درج کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں تو اس سے خود ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: متاثرہ ووٹر کو فیصلے کی بنیاد کیسے معلوم ہوگی، اور وہ اس کے خلاف مؤثر اپیل کیسے کر سکے گا؟
6 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے چیف الیکٹورل آفیسر کے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا تھا کہ اے ایس ڈی ڈی فہرست آن لائن دستیاب ہے اور اس میں شامل افراد فارم 6 جمع کرا کے اپنا نام دوبارہ درج کرانے کی درخواست دے سکتے ہیں۔
اگرچہ پریس نوٹ میں فارم 7 کے ذریعے خارج کیے گئے 5.46 لاکھ ووٹروں کا واضح ذکر نہیں تھا، لیکن ارندم نیوگی نے کہا تھا کہ یہ افراد بھی فارم 6 کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب، سابق چیف الیکشن کمشنروں ایس وائی قریشی اور اشوک لواسا کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فارم 6 بنیادی طور پر نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے ہے، نہ کہ پہلے سے ووٹر فہرست میں شامل افراد کے نام دوبارہ درج کرنے کے لیے۔
اس اختلاف کی وجہ سے متاثرہ ووٹروں کے لیے دستیاب قانونی راستے کے بارے میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو واضح کرنا چاہیے کہ جن افراد کے نام خودکار طریقے سے خارج ہوئے، وہ کس طریقۂ کار کے تحت اپنا نام بحال کرا سکتے ہیں، اور کیا انہیں اخراج کی وجہ اور متعلقہ ریکارڈ فراہم کیا جائے گا۔
شمالی 24 پرگنہ اور ندیا میں اخراج کے زیادہ معاملات
’دی وائر‘ کی رپورٹ کے مطابق، فارم 7 کے ذریعے نام خارج کیے جانے کے مجموعی معاملات میں سے تقریباً 39 فیصد کا تعلق شمالی 24 پرگنہ اور ندیا اضلاع سے تھا۔
ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق، مرشد آباد میں ووٹر فہرست کا تقریباً 0.27 فیصد حصہ کم ہوا، جبکہ شمالی 24 پرگنہ میں یہ شرح تقریباً 1.88 فیصد تھی۔
رپورٹ میں ان اسمبلی حلقوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بغیر کسی وجہ کے نام خارج کیے جانے کے معاملات زیادہ تھے۔ ان میں متوا برادری اور مہاجر آبادی والے علاقے شامل ہیں، مثلاً باگڈا، بنگاؤں اتر، بنگاؤں دکشن، گائی گھاٹا، کلیانی، شانتی پور اور رانا گھاٹ۔

جلپائی گوڑی کا ڈابگرام-پھولباری اسمبلی حلقہ اس فہرست میں سرفہرست تھا، جہاں 16,491 نام خارج کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق، ان حلقوں میں انومریشن کے مرحلے پر ایسے ووٹروں کی تعداد بھی زیادہ تھی جن کے ریکارڈ کو سابقہ فہرست سے مربوط نہیں کیا جا سکا تھا۔ مسودہ ووٹر فہرستوں میں ایسے ووٹروں کی شرح ان حلقوں میں 8.5 فیصد سے 14.5 فیصد تک تھی، جبکہ پوری ریاست میں یہ شرح 4.3 فیصد بتائی گئی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سابقہ ووٹر فہرست سے ریکارڈ کی مطابقت نہ ہونے کا مسئلہ بعض علاقوں میں زیادہ نمایاں تھا۔ ایسے حالات میں اخراج کے فیصلوں کی شفافیت اور ہر معاملے کی الگ جانچ مزید اہم ہو جاتی ہے۔
سیاسی نتائج پر ممکنہ اثرات کے سوالات
رپورٹ میں ووٹر فہرست سے نام خارج کیے جانے کے اعداد و شمار کا انتخابی حلقوں کے نتائج سے بھی موازنہ کیا گیا ہے۔
اس کے مطابق، بی جے پی کی جیتی ہوئی نشستوں پر مسودہ ووٹر فہرست سے نام خارج ہونے کی شرح تقریباً 0.91 فیصد تھی، جبکہ ترنمول کانگریس کی جیتی ہوئی نشستوں پر یہ شرح 0.49 فیصد رہی۔ سرحدی حلقوں میں ووٹروں کے اخراج کی شرح تقریباً 1.19 فیصد اور دیگر علاقوں میں 0.71 فیصد بتائی گئی۔ شہری حلقوں میں بھی یہ شرح دیہی حلقوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ تھی۔
رپورٹ کے مطابق، جن 283 حلقوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، ان میں چھ ایسے حلقے تھے جہاں بغیر وجہ درج کیے خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد جیتنے والے امیدوار کے ووٹوں کے فرق سے زیادہ تھی۔
ان میں بی جے پی کی جیتی ہوئی تین نشستیں—راجار ہاٹ-نیو ٹاؤن، ستگچیا اور کاکدیپ—جبکہ ترنمول کانگریس کی جیتی ہوئی تین نشستیں—مدھیہ گرام، ہریرام پور اور امنگاپور—شامل بتائی گئی ہیں۔
مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست میں مجموعی کمی کے لحاظ سے 150 اسمبلی نشستوں پر خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔
تاہم، ان اعداد و شمار سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ان تمام ووٹروں کے نام فہرست میں برقرار رہتے تو انتخابی نتائج لازماً مختلف ہوتے۔ اس کے لیے ہر حلقے کے ووٹروں کی اہلیت، اخراج کی وجوہات، ممکنہ ووٹ ڈالنے کے رجحان اور دیگر متعلقہ عوامل کا الگ سے جائزہ لینا ہوگا۔
اس کے باوجود، یہ اعداد و شمار اس سوال کو اہم بناتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فہرست میں تبدیلیوں کے انتخابی عمل پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، اور ایسے فیصلوں کی جانچ کے لیے کیا مؤثر انتظامات موجود ہیں۔
اصل مسئلہ مذہب یا سیاست نہیں، شفافیت اور جواب دہی ہے
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے معاملے پر سیاسی الزامات اور جوابی الزامات اپنی جگہ، لیکن خودکار طریقے سے تیار کیے گئے فارم 7 اور ان میں وجوہات درج نہ ہونے کا معاملہ ایک الگ انتظامی اور قانونی سوال ہے۔
اس معاملے کو کسی ایک سیاسی جماعت کے فائدے یا نقصان تک محدود کر دینا بنیادی مسئلے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ ووٹر فہرست سے نام خارج کرنے کا عمل ایسا ہونا چاہیے جس میں ہر فیصلے کی بنیاد واضح ہو، متعلقہ ووٹر کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع ملے اور کسی غلط فیصلے کی صورت میں اسے مؤثر اپیل کا حق حاصل ہو۔
اگر کسی شخص کا نام غلطی سے خارج ہوا ہے تو اس کی اصلاح کا راستہ واضح ہونا چاہیے۔ اگر کسی ووٹر کو نااہل قرار دیا گیا ہے تو اس فیصلے کی وجہ ریکارڈ پر موجود ہونی چاہیے۔ اور اگر کسی نام کو خارج کرنے کے لیے سافٹ ویئر خودکار طور پر فارم تیار کرتا ہے تو الیکشن کمیشن کو اس طریقۂ کار کی قانونی بنیاد، اس میں انسانی نگرانی کے کردار اور جواب دہی کے نظام کی وضاحت کرنی چاہیے۔
پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے معاملات میں اگر سرکاری ریکارڈ وجہ فراہم نہیں کرتا تو شفافیت کا تقاضا ہے کہ الیکشن کمیشن ان فیصلوں کی بنیاد واضح کرے۔ حقِ رائے دہی صرف ووٹر فہرست میں نام درج ہونے تک محدود نہیں؛ اس حق کے تحفظ کے لیے نام خارج کرنے کا عمل بھی قابلِ جانچ، شفاف اور قانونی ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
یہ معاملہ محض سیاسی نتیجے کا نہیں، بلکہ انتخابی عمل کی ساکھ، شہریوں کے حقوق اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی کا ہے۔
ماخذ: دی وائر کی تحقیقی رپورٹ
