جوائے دیپ سرکار
عینی شاہدین کے بیانات، سوشل میڈیا پوسٹس، پولیس کے دعووں اور واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی گفتگو سے ایک ایسی رات کی تصویر سامنے آتی ہے، جو محض اچانک مشتعل ہونے والے ہجوم کا واقعہ نہیں، بلکہ بظاہر کہیں زیادہ منظم کارروائی معلوم ہوتی ہے۔
انصاف نیوز نیٹ ورک
2 اکتوبر کی رات دارجلنگ ضلع میں نکسل باڑی کے قریب دو افراد کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا، جب کہ چار دیگر افراد کو بے ہوش ہونے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند سو افراد پر مشتمل ہجوم کو بتایا گیا کہ علاقے میں مویشیوں کے اسمگلر داخل ہو گئے ہیں۔
مہلوکین کی شناخت 37 سالہ شاہد اختر، ساکن سونا پور، چوپڑا، اتر دیناج پور، اور 42 سالہ سعد محمد، ساکن ہریانہ، کے طور پر ہوئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان دونوں کے پاس کوئی مویشی نہیں ملا۔
قتل کے دس دن بعد پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق، ان میں سے ایک شخص منشیات کا عادی ہے۔ تاہم، ہجوم کو منظم کرنے کے الزام میں اب تک کسی کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ اسی طرح ایک گاڑی کو آگ لگانے اور دوسری گاڑی میں توڑ پھوڑ کرنے کے معاملے میں بھی کسی کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔
عینی شاہدین کے بیانات، سوشل میڈیا پوسٹس، پولیس کے بیانات اور واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی گفتگو سے اس رات کے واقعات پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ بیانات محض اچانک بھڑک اٹھنے والے ہجوم کے بجائے ایک نسبتاً منظم کارروائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن ان سوالات کے جوابات اب تک سامنے نہیں آئے ہیں۔
بالاسن ندی کے کنارے اس پک اَپ وین کو جلانے کے نشانات اب بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
پہلے سے کس کو علم تھا؟
3 اکتوبر کی صبح ہونے سے پہلے باگڈوگرا سے تعلق رکھنے والے بجرنگ دل کے ایک کارکن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ’’بجرنگ دل کے کارکنوں کی نگرانی میں مویشیوں کی اسمگلنگ کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ عوام اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔‘‘
بجرنگ دل کی جانب سے اس معاملے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بعد میں مذکورہ پوسٹ بھی ہٹا دی گئی۔
مقامی تاجر نکھل رائے نے بتایا کہ صبح فون کھولتے ہی انہوں نے یہ پوسٹ دیکھی تھی۔
ان کے مطابق، ’’یہ پوسٹ بجرنگ دل کی جانب سے شیئر کی گئی تھی۔ اس میں لوگوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیے جانے کی لائیو فوٹیج موجود تھی۔ لیکن تقریباً آدھے گھنٹے بعد نہ وہ پوسٹ موجود تھی اور نہ ہی ویڈیو۔ مجھ جیسے بہت سے لوگوں نے وہ لائیو نشریات دیکھی تھیں، لیکن بعد میں پورا پیج ہی ہٹا دیا گیا۔‘‘
رات دو بجے سیکڑوں لوگ کیسے جمع ہو گئے؟
تارا باڑی، باگڈوگرا سے آگے ایک دیہی علاقے میں واقع ہے اور ماتی گاڑا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ سڑک کے ایک طرف فوجی کیمپ ہے، جب کہ دوسری جانب ڈومری باڑی نامی ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ اس بستی کے آگے بالاسن ندی بہتی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق، افواہ آدھی رات کے قریب پھیلی۔ فون پر ایک پیغام بھیجا گیا کہ دھیمال گاؤں کی طرف سے ایک گاڑی میں مویشی چور آئے ہیں اور انہیں راستے میں ہی روک لیا جائے۔
رات تقریباً دو بجے تارا باڑی چوراہے پر سیکڑوں افراد جمع ہو گئے۔ سڑک کو بند کرنے کے لیے ٹریکٹر کھڑے کر دیے گئے۔
واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹ۔
ہریانہ اور بہار سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو لے جانے والی ایک پک اَپ وین پر حملہ کیا گیا اور اسے واپس مڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ کچھ افراد وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جب کہ دیگر کو پکڑ لیا گیا۔ انہیں بے ہوش ہونے تک پیٹا گیا اور پھر ندی کے کنارے چھوڑ دیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ راجستھان کے رجسٹریشن نمبر والی اس وین کو صبح ہونے کے قریب آگ لگا دی گئی۔ جائے وقوعہ پر اب بھی راکھ، جلنے کے نشانات اور ٹائر کا ایک پھٹا ہوا حصہ موجود ہے۔
پہلے حملے کی تفصیلات کے بارے میں مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ زیادہ تر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چار افراد کو پکڑا گیا تھا۔ تاہم، ایک معمر رہائشی وجے کمار رائے کے مطابق، تین افراد پکڑے گئے، جب کہ چار وہاں سے فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑک بند دیکھ کر وین فوجی کیمپ کی طرف مڑ گئی تھی۔
وجے کمار رائے اور دیگر مقامی لوگوں نے اس گروپ کی موجودگی کی ایک اور وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق، آدھی رات کے قریب باہر سے آنے والے کچھ افراد دھیمال گاؤں کے نزدیک پہنچے تھے۔ وہ مبینہ طور پر نشے میں تھے اور آپس میں جھگڑنے اور شور مچانے لگے۔ اس کے بعد گاؤں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ مویشی چوروں کا ایک گروپ علاقے میں داخل ہو گیا ہے۔
نیا بستی کے رہائشی اتل رائے نے بھی اسی طرح کی بات کہی۔
ان کے مطابق، ’’ممکن ہے کہ کچھ باہر کے لوگ علاقے کی سیر کے لیے آئے ہوں، آدھی رات کو شراب پی ہو اور گاڑی چلاتے رہے ہوں۔ لیکن یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ وہ مویشی چور تھے۔‘‘
تاہم، یہ وضاحت رات کے باقی واقعات کی توجیہ نہیں کرتی۔ پولیس نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ رات ایک سے دو بجے کے درمیان سیکڑوں لوگوں کو کس نے جگایا اور جمع کیا، سڑک پر ٹریکٹر کس نے کھڑے کیے اور وین کو جلانے کے لیے ایندھن کہاں سے آیا۔
دوسرا حملہ
پہلے حملے کے تقریباً دو گھنٹے بعد شاہد اختر اور سعد محمد ایک دوسری گاڑی میں وہاں پہنچے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، وہ یہ بتانے آئے تھے کہ جن افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ مویشی چور نہیں ہیں۔
نیا بستی کے ایک عینی شاہد نے، جس نے بار بار اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی اور واقعہ بیان کرتے ہوئے اب بھی کانپ رہا تھا، اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی تفصیل بتائی۔
اس کے مطابق، ’’جب یہ دونوں وہاں پہنچے تو بجرنگ دل کے کارکن جشن منانے لگے۔ لوگ چلانے لگے کہ ’مرغے ہاتھ آ گئے ہیں۔‘
’’میں نے دیکھا کہ ایک گروپ نے ان کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کی اور اسے کہیں لے گیا۔ دوسرا گروپ ان دونوں کا تعاقب کرتے ہوئے جنگل کی طرف بھاگا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ دونوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس وقت تک رات تقریباً ختم ہونے والی تھی۔‘‘
عینی شاہد نے بتایا کہ ماتی گاڑا کے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور سشیل رائے نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ تشدد صبح تک جاری رہا۔ صبح کے وقت بھی، جب لوگوں کو جنگل سے گھسیٹ کر لایا جا رہا تھا اور پیٹا جا رہا تھا، بہت سے افراد اس واقعے کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔
’پورا واقعہ پراسرار ہے‘
شاہد اختر کے والدین سکم کے محکمۂ بجلی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں اور شاہد نے انگریزی میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کی بیوہ رضیہ سلطانہ نے بتایا کہ اچھی ملازمت نہ ملنے کے بعد شاہد نے ڈرائیونگ شروع کر دی تھی۔
ان کے پاس ایک پک اَپ وین تھی، جس کے ذریعے وہ پہاڑی علاقوں اور بھوٹان میں اناج اور سبزیاں پہنچاتے تھے۔ وہ اکثر رات کے وقت سفر پر نکلتے اور صبح تک واپس آ جاتے تھے۔ رضیہ سلطانہ کے مطابق، اس سے پہلے جب مویشی منڈیاں فعال تھیں، تو شاہد نے مویشیوں کی نقل و حمل کا کام بھی کیا تھا۔
رضیہ سلطانہ نے سوال کیا، ’’اگر میرے شوہر نے کوئی غلط کام کیا بھی تھا، تو لوگ انہیں پولیس کے حوالے کر سکتے تھے۔ وہ نہ چور تھے اور نہ ہی انہوں نے قتل جیسا کوئی جرم کیا تھا۔ پھر انہیں پیٹ پیٹ کر کیوں مار دیا گیا؟‘‘
انہوں نے بتایا کہ ان کا خاندان ہریانہ اور بہار کے ان افراد کو نہیں جانتا، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شاہد کے ساتھ تھے۔ ان کے مطابق، جلائی گئی پک اَپ وین اور تباہ کی گئی دوسری گاڑی بھی ان کی نہیں تھیں۔
انہوں نے کہا، ’’پورا واقعہ پراسرار ہے۔ کیا صرف دو یا تین افراد کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر کارروائی کرنا ممکن ہے؟‘‘
لائیو اسٹریم اور استاد کا بیان
تشدد کے کچھ مناظر رات تقریباً تین بجے فیس بک پر لائیو نشر کیے گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اس لائیو اسٹریم کو دیکھ کر آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگ متوجہ ہوئے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو فون کیا اور تارا باڑی کی طرف روانہ ہو گئے۔ بعد میں لائیو اسٹریم بند کر دی گئی اور متعلقہ پیج بھی ہٹا دیا گیا۔
لائیو اسٹریم کرنے والوں میں سب سے زیادہ توجہ پانی گھاٹا کے ایک استاد وشال رائے نے حاصل کی، جن کے بارے میں مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ان کے آر ایس ایس سے قریبی روابط ہیں۔
وشال رائے نے تصدیق کی کہ انہوں نے ویڈیو بنائی اور اپ لوڈ کی تھی۔ ان کے مطابق، چند گھنٹے بعد انہوں نے اسے حذف کر دیا، کیونکہ اس سے ’’کئی مسائل پیدا ہو رہے تھے‘‘۔ تاہم، انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ وہ مسائل کیا تھے۔
ان کے وہاں پہنچنے سے متعلق بیان نے بھی کئی سوالات کھڑے کیے ہیں۔
وشال رائے کے مطابق، آدھی رات کے قریب ایک زخمی شخص ان کے گاؤں میں بھاگتا ہوا آیا۔ وہ ہانپ رہا تھا اور یہ بتانے سے قاصر تھا کہ اس پر حملہ کہاں ہوا تھا۔
وشال رائے نے بتایا، ’’ہم نے زخمی شخص کو پانی اور کھانا دیا اور پولیس کو بلایا۔ ایک استاد ہونے کی وجہ سے لوگ مجھے علاقے میں جانتے ہیں۔ پولیس آئی اور زخمی شخص کو اپنے ساتھ لے گئی۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ رات تقریباً ساڑھے تین بجے وہ اور کچھ دوسرے لوگ تارا باڑی پہنچے۔
ان کے بقول، ’’جب ہم وہاں پہنچے تو گاڑی کو ابھی آگ نہیں لگائی گئی تھی۔ کچھ لوگوں کو بری طرح پیٹا جا رہا تھا، کیونکہ ان پر مویشی چور ہونے کا شبہ تھا۔‘‘
پانی گھاٹا، تارا باڑی سے تقریباً 16 کلومیٹر دور واقع ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے اور درمیان میں کئی بستیاں آتی ہیں۔
وشال رائے کے بیان کردہ وقت اور مقامی لوگوں کے بیانات میں فرق ہے۔ مقامی افراد کے مطابق، ہجوم رات تقریباً دو بجے ہی تارا باڑی میں جمع ہونا شروع ہو گیا تھا۔
وشال رائے نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ دوسرے صوبے سے تعلق رکھنے والا ایک زخمی اجنبی اتنی دور بھاگ کر ان کے گاؤں کیوں پہنچا، یا انہیں خود یہ کیسے معلوم ہوا کہ تشدد کہاں ہو رہا ہے۔
ایک مقامی رہائشی، جس نے لائیو اسٹریم دیکھی تھی، بتایا کہ ویڈیو میں ہجوم میں شامل افراد کے چہرے واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔ اس کے مطابق، وشال رائے پر ویڈیو ہٹانے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا تھا۔
مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنوں کی جانب سے مبینہ ’’جہادی چوروں‘‘ کو سزا دینے کے ج
