گجرات کے گاندھی نگر کی ایک سیشن عدالت نے گائے کے ذبیحہ کے مقدمے میں تین مسلمان مردوں کو عمر قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں گائے کی مذہبی اور ثقافتی اہمیت بیان کرتے ہوئے ہندو مذہبی متون، ویدوں اور منو سمرتی کا حوالہ دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر گائے کے ذبیحہ کے ملزمان کو قانون کے مطابق سزا نہیں دی گئی تو وقت کے ساتھ گائیں ناپید ہو سکتی ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مدھیہ پردیش کے ضلع داموہ میں دو مسلمان بھینس تاجروں کو مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد نے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر تاجروں کو کھیت میں گھسیٹتے اور ڈنڈوں سے مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
گجرات کی عدالت نے فیصلے میں کیا کہا؟
گاندھی نگر کی سیشن عدالت نے پیر کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں وسیم قریشی، محمد رفیق قریشی اور اشفاق بہلیم کو گائے کے ذبیحہ سمیت مختلف الزامات کے تحت مجرم قرار دیا۔ ہر ملزم کو عمر قید بامشقت اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، فیصلے کے ابتدائی چار صفحات میں ہندو مذہب میں گائے کی مذہبی اور ثقافتی اہمیت پر بحث کی گئی۔ عدالت نے قدیم مذہبی متون کا حوالہ دیتے ہوئے گائے کو ’’کائنات کی ماں‘‘ قرار دینے والے عقیدے اور اس تصور کا ذکر کیا کہ گائے میں 33 کروڑ دیوتا بستے ہیں۔
فیصلے میں منو سمرتی کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے ذریعے گائے کو محض ایک جانور کے بجائے مذہبی اور ثقافتی اہمیت کی حامل ہستی کے طور پر پیش کیا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تینوں ملزمان اس بات سے واقف تھے کہ ہندو مذہب میں گائے کو ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، اس کے باوجود انہوں نے گائے کو ذبح کیا۔
عدالت کے مطابق، اگر ایسے ملزمان کو قانون کے مطابق سزا نہیں دی گئی تو وقت گزرنے کے ساتھ گائیں ناپید ہو سکتی ہیں۔
تقریباً 277 کلو گوشت برآمد ہونے کا دعویٰ
عدالت کے مطابق، ملزمان مبینہ طور پر کم قیمت پر بوڑھے یا دودھ نہ دینے والے مویشی خریدتے اور انہیں تجارتی مقاصد کے لیے ذبح کرتے تھے۔ پولیس نے انہیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ گوشت فروخت کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے تقریباً 277 کلو گائے کا گوشت برآمد ہوا تھا۔
تینوں افراد کو گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ میں ترمیم شدہ دفعات اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون سمیت مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی۔
مدھیہ پردیش میں دو مسلم بھینس تاجروں پر حملہ
دوسری جانب، مدھیہ پردیش کے ضلع داموہ میں دو مسلمان بھینس تاجروں پر مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد کے ایک گروہ نے حملہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق، تاجروں کو بھینسیں لے جاتے ہوئے روکا گیا اور ان پر مویشی چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر دونوں تاجروں کو رسیوں سے باندھتے، کھیت میں گھسیٹتے اور ڈنڈوں سے مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک وین ڈرائیور بھی اس واقعے میں متاثر ہوا۔
پولیس نے حملے کے سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
تاہم، اس معاملے میں تاجروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ بھینسوں کو ایک چھوٹی وین میں نامناسب اور غیر محفوظ حالات میں منتقل کیا جا رہا تھا۔
قانون اور ہجومی تشدد پر سوالات
گجرات میں گائے کے ذبیحہ کے مقدمے میں سخت سزا اور مدھیہ پردیش میں مسلم مویشی تاجروں پر مبینہ حملہ، دونوں واقعات نے مویشیوں کی خرید و فروخت، قانونی کارروائی اور ہجومی تشدد کے معاملے کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
مویشیوں کی نقل و حمل یا ذبیحہ سے متعلق کسی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن کسی شخص پر الزام لگانا یا اسے سزا دینا قانون کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسی طرح، کسی بھی الزام کی بنیاد پر ہجوم کو تشدد کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
