نئی دہلی: انصاف نیوز نیٹ ورک
قومی راجدھانی دہلی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ایک تاریخی مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ پیر، 19 اکتوبر کو لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے مسجد کے احاطے کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے چھ دن کے اندر اسے خالی کرنے کی ہدایت دی۔
دی ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ریس کورس مسجد نئی دہلی میونسپل کونسل کی ویب سائٹ پر تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ تاہم، مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی 7 اکتوبر کو منقطع کر دی گئی تھی، جس سے عبادت گاہ تک رسائی اور وہاں عبادت کرنے والوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کا دعویٰ ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر قائم ہے۔ اس تنازع کے دوران مسجد کی تاریخی ورثے کی حیثیت بھی زیرِ بحث آ گئی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی مداخلت کی درخواست
جمعیۃ علماء ہند نے ریس کورس مسجد اور اس سے ملحقہ قبرستان کے تحفظ کے لیے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن ریجیو سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
تنظیم کے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد حکیم الدین قاسمی نے ایک یادداشت پیش کی، جس میں کہا گیا کہ یہ مقام 1977 کے دہلی گزٹ میں درج نئی دہلی میونسپل کونسل کی تاریخی ورثے کی فہرست اور وزارتِ اقلیتی امور کی مرتب کردہ تازہ فہرست میں شامل ہے۔
جمعیۃ نے دہلی وقف بورڈ اور نئی دہلی میونسپل کونسل سے بھی اس سلسلے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ تنظیم نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ جب تک قانونی تنازع طے نہیں ہو جاتا، مسجد کو منہدم کرنے یا اس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
دی ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، کرن ریجیو نے جمعیۃ کے وفد کا مؤقف سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے میں ’’ہر ممکن کوشش‘‘ کریں گے۔
امام کا وقف بورڈ پر عدم تعاون کا الزام
ہندوستان گزٹ کے مطابق، مسجد کے امام محمد ہارون نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے دہلی وقف بورڈ کے سامنے یہ مسئلہ مسلسل اٹھا رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وقف بورڈ نے نئی دہلی میونسپل کونسل کو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کیے جانے کے حوالے سے خط لکھنے کے علاوہ مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔
محمد ہارون نے کہا کہ انہوں نے وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر سے بار بار درخواست کی، لیکن ان کی شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق، مسجد میں پینے کا پانی بھی ختم ہو چکا ہے اور راستہ بند ہونے کے باعث باہر سے پانی لانا بھی ممکن نہیں رہا۔ اس صورتِ حال میں مسجد آنے جانے والوں کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔
امام کے مطابق، انہوں نے وقف بورڈ سے اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرنے کی درخواست کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے خود عدالت جانے کی اجازت بھی مانگی، لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ وقف بورڈ نے نہ تو خود عدالت سے رجوع کیا اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ریس کورس مسجد ایک تاریخی ورثہ ہے اور 2021 میں کیے گئے ایک سروے میں اسے نہ تو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا گیا تھا اور نہ ہی تجاوزات کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔
تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
محمد ہارون نے اپنے خیر خواہوں اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد کے تحفظ کے لیے کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے، لیکن وقف بورڈ، جس کے پاس ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے قانونی اختیارات ہیں، ان کے اور مسجد کے ساتھ کھڑا نہیں ہے۔
وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب بے دخلی کی دیگر کارروائیاں
مسجد کا تنازع اس علاقے میں جاری وسیع تر بے دخلی کی مہم کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اس مہم کے تحت ریس کورس روڈ کے علاقے سے جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے افراد کو بھی ہٹایا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔
ہندوستان گزٹ کے مطابق، دہلی ہائی کورٹ نے پیر، 19 اکتوبر کو شہری حکام کو اس علاقے سے جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے افراد کو ہٹانے اور ان کی بازآبادکاری کے لیے اقدامات کرنے کی اجازت دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، متاثرہ رہائشیوں کو تقریباً 45 کلومیٹر دور واقع ساودا گھیورا کالونی میں منتقل کیا جانا ہے، جہاں تعلیم، نقل و حمل اور صفائی ستھرائی کی سہولیات فراہم کرنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے۔
ریس کورس مسجد کے معاملے میں اب بنیادی سوال یہ ہے کہ جب کسی مقام کو سرکاری ریکارڈ میں تاریخی ورثے کے طور پر درج کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تو اسے غیر قانونی قرار دے کر خالی کرنے کے نوٹس کی قانونی بنیاد کیا ہے؟ اسی طرح، مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کرنے اور اس تک رسائی محدود کرنے کے فیصلوں کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
مسجد کی قانونی حیثیت، تاریخی ورثے کے طور پر اس کی شناخت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کے بارے میں واضح معلومات سامنے آنا ضروری ہیں، تاکہ کسی بھی کارروائی میں قانون اور متعلقہ فریقوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
