انصاف نیوز نیٹ ورک کریم گنج (آسام)
زندگی میں بعض خواب صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ آسام کے ضلع کریم گنج کے ایک چھوٹے سے پسماندہ گاؤں کھیلوربند کے رکشہ چلانے والے احمد علی کی کہانی بھی ایسی ہی ایک مثال ہے، جن کی اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی خواہش نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے ہزاروں بچوں کے لیے علم کے دروازے کھول دیے۔
احمد علی کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ غربت کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ کم عمری میں ہی روزگار کی تلاش میں رکشہ چلانا شروع کر دیا تاکہ گھر کا خرچ چلایا جا سکے۔ تاہم ان کے دل میں ہمیشہ یہ حسرت باقی رہی کہ اگر انہیں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا تو شاید ان کی زندگی مختلف ہوتی۔
باپ بننے سے پہلے ہی بدل گئی سوچ
احمد علی بتاتے ہیں کہ جب وہ پہلی بار باپ بننے والے تھے تو خوشی کے ساتھ ساتھ ایک خوف بھی ان کے دل میں پیدا ہوا۔ انہیں فکر ستانے لگی کہ ان کے گاؤں میں تعلیم کی سہولت نہیں ہے ۔ جس طرح سے وہ تعلیم سے محروم ہو گیے تھے اسی طرح ان کے اپنے بچے بھی محرومی کا شکار ہوں گے۔
وہ روزانہ رکشہ چلاتے ہوئے شہر کے بچوں کو اسکول چھوڑتے تھے۔ انہی دنوں ان کے ذہن میں ایک خیال آیا کہ اگر وہ دوسروں کے بچوں کو اسکول پہنچا سکتے ہیں تو اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے بھی ایک اسکول قائم کیوں نہیں کر سکتے۔
احمد علی نے ایک انٹرویو میں کہاکہ
میں روز رکشہ چلاتے ہوئے بچوں کو اسکول لے جاتا تھا۔ اسی دوران میرے دل میں خیال آیا کہ اگر میں اپنے گاؤں میں اسکول قائم کر دوں تو میرے بیٹے، بیٹیاں اور دوسرے غریب بچوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا۔
اپنی زمین حکومت کو عطیہ کر دی
احمد علی نے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے سرکاری افسران سے ملاقات کی۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو افسران نے جواب دیا کہ اگر وہ اسکول کے لیے زمین فراہم کر دیں تو حکومت تعاون کرے گی۔یہ سن کر احمد علی نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنی ذاتی زمین حکومت آسام کے نام عطیہ کر دی۔ اس وقت ان کی مالی حالت انتہائی کمزور تھی، لیکن انہوں نے ذاتی مفاد پر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دی۔
ان کی قربانی رنگ لائی اور 1978 میں گاؤں کا پہلا اسکول قائم ہو گیا۔ بعد ازاں 1985 میں اس اسکول کو سرکاری منظوری اور گرانٹ بھی حاصل ہو گئی۔
ایک اسکول سے پورے تعلیمی انقلاب تک
پہلے اسکول کی کامیابی نے احمد علی کے حوصلے کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ صرف ایک ادارہ کافی نہیں، بلکہ پورے علاقے کو تعلیم کی روشنی سے منور کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ تقریباً 40 برسوںکے دوران احمد علی نے مدھوربند اور آس پاس کے علاقوں میں نو تعلیمی ادارے قائم کیے۔ان اداروں میں
تین لوئر پرائمری اسکول
متعدد پرائمری اسکول
ایک ہائی اسکول
دیگر بنیادی تعلیمی مراکز
شامل ہیں، جہاں آج ہزاروں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
میں نہیں چاہتا کوئی غریب بچہ تعلیم چھوڑے
احمد علی کہتے ہیں کہ غربت نے ان سے تعلیم چھین لی، لیکن وہ نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا بچہ بھی اسی محرومی کا شکار ہو۔

ان کے الفاظ میں:
غربت کی وجہ سے مجھے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی۔ اس کا دکھ آج بھی میرے دل میں ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی غریب خاندان کا بچہ تعلیم سے محروم رہے۔ جب میں گاؤں کے بچوں کو اسکول جاتے دیکھتا ہوں تو مجھے حقیقی خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جہالت سب سے بڑا مسئلہ ہے
احمد علی کا ماننا ہے کہ معاشرے کی بیشتر برائیاں ناخواندگی کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔
وہ کہتے ہیںکہ
جہالت ایک گناہ ہے۔ معاشرے کی اکثر مشکلات کی جڑ تعلیم کی کمی ہے۔ اگر ہر بچے کو تعلیم مل جائے تو بہت سی سماجی برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
اب کالج قائم کرنا چاہتے ہیں
نو اسکول قائم کرنے کے باوجود احمد علی کا سفر ختم نہیں ہوا۔اب ان کا خواب اپنے علاقے میں ایک ڈگری کالج قائم کرنا ہے تاکہ دیہی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
وہ کہتے ہیں:
میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، لیکن میری خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں ایک کالج بھی قائم کر دوں تاکہ میرے گاؤں کے نوجوان اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہیں۔
شہرت نہیں، صرف تعلیم کی خدمت مقصد
آج جب سماجی خدمت کے ساتھ تشہیر بھی عام ہو چکی ہے، احمد علی نے ہمیشہ خاموشی سے کام کیا۔
انہوں نے قائم کیے گئے نو اداروں میں سے صرف ایک اسکول اپنے نام سے منسوب کیا، وہ بھی اس لیے کہ گاؤں والوں نے مسلسل اصرار کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل خوشی اس وقت ملتی ہے جب ان کے قائم کردہ اسکولوں کے طلبہ ڈاکٹر، استاد، سرکاری ملازم یا دوسرے شعبوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے بھی کیا ذکر

احمد علی کی خدمات کو قومی سطح پر بھی سراہا گیا۔سال 2018 میں وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ریڈیو پروگرام من کی بات میں احمد علی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک رکشہ چلانے والے شخص کا نو اسکول قائم کرنا ملک کے عوامی عزم اور خدمت کے جذبے کی بہترین مثال ہے۔
یہ لمحہ احمد علی اور ان کے خاندان کے لیے انتہائی خوشی کا باعث تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ سب اللہ کے فضل، مقامی لوگوں کی دعاؤں اور تعاون کی بدولت کر سکے۔
علاقے کے صاحبِ حیثیت افراد سے اپیل
احمد علی نے معاشرے کے مخیر حضرات اور صاحبِ حیثیت افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ میں ان کا ساتھ دیں تاکہ مزید اسکول اور ایک کالج قائم کیا جا سکے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر معاشرہ مل کر تعلیم کے میدان میں سرمایہ کاری کرے تو غربت، بے روزگاری اور سماجی مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
تعلیم سے روشن مستقبل
احمد علی کی زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ تبدیلی ہمیشہ حکومتوں سے نہیں بلکہ عام انسانوں کے عزم سے بھی آ سکتی ہے۔ ایک رکشہ چلانے والے باپ کی اپنے بچوں کے لیے دیکھی گئی چھوٹی سی خواہش آج ہزاروں بچوں کی زندگیوں میں علم، امید اور روشن مستقبل کی کرن بن چکی ہے۔
ان کی جدوجہد یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو محدود وسائل بھی ایک پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتے ہیں، اور تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو نسلوں کو غربت، جہالت اور محرومی کے اندھیروں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
