• Skip to primary navigation
  • Skip to main content
  • Skip to primary sidebar

انصاف نیوز نیٹ ورک

  • سیاسیات
  • معیشت
  • قانون
  • ادب وثقافت
  • تجزیہ
  • خصوصی رپورٹ
  • مسلم ورثہ
  • مجھے ہے حکم اذاں

یہ ہمارے وجود کا سوال ہے. مساجد کے انہدام پر اے پی سی آرکا انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ

June 24, 2026 by Insaf News Network Leave a Comment

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس  نے ملک بھر میں مساجد کو تیزی سے نشانہ بنائے جانے اور ان کے انہدام (ڈھائے جانے) پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے مذہبی آزادی، آئینی حقوق کے تحفظ اور غیر قانونی طور پر مساجد کو شہید کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف سخت کارروائی اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں مساجد کا انہدام اور ہندوستان میں مذہبی آزادی پر حملہ کے عنوان سے منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں ملک بھر سے آئے وکلاء، قانون دانوں، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متاثرہ برادریوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم عبادت گاہوں کو ایک منظم منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

قانونی اور تاریخی جنگ لڑنے کی ضرورت

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشیدنے کہا کہ یہ ایک طویل قانونی لڑائی ہے اور متاثرہ برادریوں کو ہر دستیاب قانونی راستے کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس جدوجہد میں ہمیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اس کام کو بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے برادری پر زور دیا کہ وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر ہر عدالتی دروازے پر دستک دیں، کیونکہ یہ ایک قانونی اور تاریخی ریکارڈ قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے بابری مسجد کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناکام قانونی لڑائیاں بھی تاریخ کا حصہ بنتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ انہدام سے پہلے تمام آئینی راستے اختیار کیے گئے تھے۔

افسران کا احتساب اور سیاسی نتائج کی وارننگ

سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی انہدام کے ذمہ دار پولیس اور انتظامی افسران کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور ان سے مالی نقصان کا ازالہ کروایا جائے۔ انہوں نے سیکولر اپوزیشن پارٹیوں کو بھی خبردار کیا کہ اگر انہوں نے عوام کے ان سنگین مسائل پر توجہ نہ دی تو انہیں اس کے سیاسی نتائج بھگتنے ہوں گے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے متاثرہ خاندانوں اور برادریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ظالم کو کمزور اور مظلوم کو طاقتور ہونا پڑے گا۔ ہم آپ کو کمزور نہیں ہونے دیں گے، ہم سب مل کر مضبوط بنیں گے۔”

منظم نشانہ اور وجود کا مسئلہ
معروف مصنفہ اور سماجی کارکن ڈاکٹر سیدہ حمیدنے نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر کی حیثیت سے بات کرتے ہوئے موجودہ حالات کو ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی تاریخ کے تناظر میں دیکھا۔ انہوں نے بابری مسجد کے انہدام اور 2002 کے گجرات فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ معاملہ ہمارے وجود کا سوال بن چکا ہے۔ تاہم انہوں نے ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائیوں کے مابین باہمی یکجہتی پر امید کا اظہار بھی کیا۔

انسانی حقوق کے رہنما جون دیال نے کہا کہ اقلیتی اداروں پر حملے محض اکا دکا واقعات نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) میں حالیہ ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عیسائی تنظیمیں بھی شدید دباؤ میں ہیں۔

15 دنوں میں 20 مساجد کو نشانہ بنایا گیا

اے پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے حالیہ انہدام کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ گزشتہ 15 دنوں کے اندر اتراکھنڈ، اتر پردیش اور راجستھان میں کم از کم 20 مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مساجد پر یہ حملے موب لنچنگ (ہجوم کے تشدد) کے ماڈل کی طرح ایک منظم شکل اختیار کر چکے ہیں، جس کا مقصد مسلم کمیونٹی کو اجتماعی طور پر ذہنی اور نفسیاتی اذیت دینا ہے۔

راجستھان سے آئے ایڈوکیٹ سید سادات علی نے دعویٰ کیا کہ اکیلے باڑمیر ضلع میں تقریباً 300 مساجد کو انہدام کے نوٹس دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیگر مذہبی مقامات کی موجودگی کے باوجود صرف ایک ہی برادری کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ جبکہ ایڈوکیٹ ریاست علی نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو ذاتی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

بغیر نوٹس تاریخی مساجد کا انہدام
کانفرنس میں باڑمیر، جے پور، وارانسی، میرٹھ، سنبھل اور غازی آباد کے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والے انہدام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

خصوصی طور پر جے پور کے نندپوری میں واقع نورانی مسجدکا معاملہ اٹھایا گیا، جو 1981 سے قائم ایک سہ منزلہ مسجد تھی۔ مقررین نے بتایا کہ یہ مسجد حکومت کے 2003 کے سروے میں شامل تھی اور وقف پورٹل پر بھی درج تھی، لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے مسجد کمیٹی کو کوئی پیشگی نوٹس دیے بغیر اسے منہدم کر دیا۔

آئین اور قانون کی بالادستی کا مطالبہ

پریس کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے ضمیر اور پسند کے مطابق کسی بھی مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ ہندوستان کے کثرت پسندی (Pluralistic) کے کردار کو برقرار رکھنے کے لیے تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔شرکاء نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، تمام انتظامی کارروائیاں منصفانہ، شفاف اور بغیر کسی بھید بھاؤ کے کی جائیں، اور اقلیتوں کے آئینی و مذہبی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

Filed Under: سیاسیات

Reader Interactions

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Primary Sidebar

Recently Posts

  • بنگال میں اقلیتی فنڈ میں بھاری کٹوتی، اسکالرشپ پروگرام خطرے میں
  • بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام برکت اللہ یونیورسٹی ہی رہے گا۔ نام تبدیل نہیں ہوگا
  • نوآکھالی میں گاندھی کی ہم آہنگی کی تلاش
  • یہ ہمارے وجود کا سوال ہے. مساجد کے انہدام پر اے پی سی آرکا انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ
  • بی جے پی بنگال کی تقسیم کا جشن کیوں منا رہی ہے؟

Categories

  • Video
  • ادب وثقافت
  • تجزیہ
  • خصوصی رپورٹ
  • سیاسیات
  • قانون
  • مسلم ورثہ
  • نور اللہ جاوید کے کالمس
Follow us
  • Facebook
  • YouTube
  • WhatsApp

Pages

Copyright © 2026 · News Pro on Genesis Framework · WordPress · Log in