"بیت اللحم کے منجر اسکوائر میں اتوار کو منعقد ہونے والے 12ویں بین الاقوامی یومِ یوگا پروگرام کے سلسلے میں رام اللہ کے یو این آر ڈبلیو اے ویمنز ٹریننگ کالج میں ایک تعارفی تقریب (Curtain-Raiser) کا انعقاد کیا گیا۔"
بین شوکرون
اتوار کے روز بھارت فلسطین کے شہر بیت اللحم میں ’’یوگا کے آفاقی پیغامِ ہم آہنگی‘‘ کا جشن منانے جا رہا ہے۔ لیکن جب غزہ کی فضاؤں میں بھارت کے تیار کردہ جنگی ڈرون پرواز کر رہے ہوں تو پھر ’’ہم آہنگی‘‘ کا مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟
یوگا گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارتی ثقافتی سفارت کاری کا ایک نمایاں حصہ بن چکا ہے۔ 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی حکومت نے یوگا کو اپنی ’’سافٹ پاور‘‘ کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر بھرپور انداز میں فروغ دینا شروع کیا۔

2014 میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا تھا: ’’یوگا واقعی ایک آفاقی عمل ہے۔ جب ہم یوگا کرتے ہیں تو جسمانی طور پر خود کو توانا، ذہنی طور پر پُرسکون اور جذباتی طور پر متوازن محسوس کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’یوگا صرف چٹائی پر کی جانے والی ورزشوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک طرزِ زندگی ہے؛ صحت اور فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر، خیالات اور اعمال میں بیداری کا راستہ، اور اپنے آپ، دوسروں اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی سے جینے کا ذریعہ ہے۔‘‘
بھارت کی یوگا ڈپلومیسی کا بڑا حصہ مغربی ممالک پر مرکوز رہا ہے۔ وزارتِ آیوش (آیوروید، یوگا، نیچروپیتھی، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی) کی قیادت میں حکومت نے یوگا کو بھارت کی امن، ہم آہنگی اور تحفظ کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
یہ صورتِ حال اس لیے بھی زیادہ متنازع ہے کہ مودی حکومت کے دور میں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور آمرانہ رجحانات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
محققہ انوشا لکشمی نے 2020 میں لکھا تھا: ’’مودی نے یوگا کو اپنی حکومت کے تحت بڑھتے ہوئے تشدد، سخت گیری اور اختلافِ رائے کے خلاف عدم برداشت پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔‘‘
اور شاید فلسطین وہ مقام ہے جہاں بھارت کی یوگا ڈپلومیسی سب سے زیادہ مسئلہ خیز نظر آتی ہے۔

پہلی مثال: 9 مارچ 2025
غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران فلسطین میں بھارتی مشن نے ’’وزیرِ اعظم یوگا ایوارڈ‘‘ کے لیے نامزدگیاں طلب کیں۔
سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک گرافک میں مشن نے لکھا: ’’لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے والی یوگا کی طاقت کا جشن منائیں۔‘‘
اس اعلان سے صرف ایک دن قبل، 8 مارچ 2025 کو اسرائیلی حملوں میں غزہ میں سات فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد مجموعی شہادتوں کی تعداد 48,453 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ ایک لاکھ گیارہ ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے تھے۔ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے تھے۔
9 مارچ کی صبح اسرائیل کے وزیرِ توانائی ایلی کوہن نے غزہ کو بجلی کی فراہمی فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا، جس سے سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے ان پلانٹس کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا جن پر لاکھوں فلسطینی انحصار کرتے ہیں۔
رمضان المبارک کا مہینہ تھا، امدادی سامان کی شدید قلت تھی اور جنگ بندی کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی تھی۔

اسی دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں جنین، طولکرم اور طوباس میں فلسطینی شہریوں پر حملے جاری تھے۔ رپورٹس کے مطابق جنوری 2025 میں ایسے تقریباً 10 واقعات پیش آئے، جبکہ فروری میں ان کی تعداد تقریباً 100 تک پہنچ گئی۔
مسلح تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے ACLED کے مطابق، ’’21 جنوری سے جاری فوجی کارروائیوں کے بعد جنین اور طولکرم کے کیمپوں سے تقریباً 40 ہزار فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جو 1967 کی جنگ کے بعد سب سے بڑی جبری نقل مکانی ہے۔‘‘
ان تمام المیوں کے درمیان بھارت کا ردِعمل فلسطینیوں میں یوگا کی تشہیر تھا۔
دوسری مثال: 21 دسمبر 2025
دسمبر 2025 میں فلسطین میں بھارتی مشن نے ایک پوسٹ کے ذریعے فلسطینیوں کو ’’ورلڈ میڈیٹیشن ڈے‘‘ کے موقع پر ’’داجی کے ساتھ آن لائن مراقبہ‘‘ میں شرکت کی دعوت دی۔
یہ ایک عجیب اور تلخ تضاد تھا کہ جس وقت اسرائیل غزہ کی تاریخی اور قدیم مساجد کو بمباری کے ذریعے تباہ کر رہا تھا، اسی وقت بھارتی حکومت فلسطینیوں کو ’’امن، ہمدردی اور اتحاد‘‘ کے لیے آن لائن مراقبے میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہی تھی۔
اسی روز، 21 دسمبر 2025 کو درج ذیل واقعات پیش آئے:
- الخلیل (ہیبرون) کے قریب محمد وائل الشروف نامی فلسطینی کو اسرائیلی فوج نے سر میں گولی مار کر شہید کر دیا۔
- الجزیرہ کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے قباطیہ میں اسرائیلی فوج کے چھاپے کے دوران ایک 16 سالہ فلسطینی نوجوان جاں بحق ہوا۔
- اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں 19 نئی غیر قانونی یہودی بستیوں کی منظوری دی۔
ان تمام واقعات کے باوجود بھارتی مشن کی پوسٹ فلسطینیوں کو مراقبے کی طرف متوجہ ہونے کا مشورہ دے رہی تھی۔
بظاہر ان پوسٹس کو صرف غیر حساس یا نامناسب وقت پر جاری کی گئی مہمات قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اسرائیل کے ساتھ بھارت کے گہرے تعلقات کو دیکھتے ہوئے اس تاثر سے بچنا مشکل ہے کہ یہ سرگرمیاں دراصل امن کے مظاہرے کے ذریعے اپنی شراکت داری اور ممکنہ ذمہ داریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔
اس بات کی سب سے واضح مثال بھارتی مشن کی وہ مسلسل مہم ہے جس میں یوگا کو فلسطینیوں کے لیے ’’حوصلے اور مزاحمت‘‘ کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، مگر ان حالات کا ذکر تک نہیں کیا جاتا جنہوں نے فلسطینیوں کو ایسی مزاحمت پر مجبور کیا ہے۔
متعدد ماہرین کے مطابق یوگا، اور عمومی طور پر ’’ویلنیس‘‘ یا فلاح و بہبود کی صنعت، کسی طور غیر سیاسی نہیں ہے۔
اس کی مثال اسرائیل میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں صہیونی حلقوں نے اسرائیل کے حق میں یوگا مظاہروں کا اہتمام کیا، جبکہ سابق اسرائیلی فوجیوں نے جنگ کے نفسیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے یوگا گروپ تشکیل دیے۔
اگرچہ اسرائیلی فوجیوں کا یوگا کے ذریعے جنگی صدمات کا علاج کرنا ایک عجیب تصور معلوم ہوتا ہے، لیکن فلسطین میں بھارت کی یوگا مہم بھی اسی نوعیت کی ثقافتی سفارت کاری ہے جو غیر جانبداری اور خیر سگالی کا تاثر پیدا کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ اس کے عسکری اور تزویراتی تعلقات پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہیں۔
یہ حقیقت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب فلسطینیوں کے سامنے نرم اور مثبت چہرہ پیش کرنے کے لیے بھارت کے دیگر اقدامات کو دیکھا جائے۔
یوگا پروگراموں کے علاوہ بھارتی مشن فلسطینی طلبہ کو تعلیمی وظائف فراہم کرتا ہے اور مغربی کنارے میں بھارت-فلسطین تجارتی روابط کو بھی فروغ دیتا ہے۔
دوسری جانب، بھارت اسرائیلی اسلحے کا دنیا میں سب سے بڑا خریدار ہے، جو دوسرے بڑے خریدار سے تقریباً چار گنا زیادہ خریداری کرتا ہے۔
مزید یہ کہ 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل نے جن فلسطینی مزدوروں کے ورک پرمٹ منسوخ کیے، ان کی جگہ لینے کے لیے بھارت نے ہزاروں تعمیراتی مزدور اسرائیل بھیجے۔ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے تعلقات کو ’’خصوصی تزویراتی شراکت داری‘‘ تک بھی وسعت دی ہے۔
بھارتی مشن کی دیگر پوسٹس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی مہم ’’ون نیشن، ون مشن: پلاسٹک آلودگی کا خاتمہ‘‘ کے تحت پلاسٹک کے استعمال میں کمی کی اہمیت پر بھی زور دیا جاتا ہے، مگر یہ مہم بھی زمینی حقائق سے کٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ان پوسٹس میں اس حقیقت کا کوئی ذکر نہیں کہ اسرائیلی آبادکار مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے زیتون کے درختوں کو مسلسل نقصان پہنچاتے اور تباہ کرتے ہیں، یا یہ کہ جیوش نیشنل فنڈ فلسطینی دیہات کے کھنڈرات پر بیرونی اقسام کے صنوبر کے جنگلات لگا رہا ہے۔

قبضے اور نسل کشی جیسے حالات میں پلاسٹک آلودگی کے خلاف مہم کو مرکزی مسئلہ بنا دینا، یا فلسطینیوں کو یوگا کی دعوت دینا، دراصل ایک ایسا علامتی مظاہرہ ہے جو اسرائیل کے ساتھ بھارت کے قریبی تعلقات پر پردہ ڈالنے کا کام کرتا ہے۔
