ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کے باعث پاسپورٹ کی تجدید رُک گئی
کلکتہ:انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال سے شائع ہونے والا انگریزی اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے سابق ایڈیٹر آر راجاگوپال نے انکشاف کیا ہے کہ مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)کے دوران ووٹر لسٹ سے ان کا نام حذف کیے جانے کے بعد گزشتہ 100 دنوں سے ان کے پاسپورٹ کی تجدید (Renewal) رکی ہوئی ہے۔ اس معاملے پر سینئر صحافیوں اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگاریکا گھوش نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
راجاگوپال نے ایک تفصیلی نوٹ میں بتایا کہ مارچ 2026 میں کلکتہ کے بالی گنج اسمبلی حلقے کی ووٹر فہرست سے ان کا نام اس بنیاد پر حذف کردیا گیا کہ ایس آئی آر کے دوران نہ تو ان کا اور نہ ہی ان کے مرحوم والد کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں مل سکا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے والد ایک گاندھی وادی، ریٹائرڈ پروفیسر اور کیرالہ میں گاندھی اسمارک ندھی کے سابق ریاستی سکریٹری تھے۔ان کا انتقال 2016 میں ہوا تھا۔ راجاگوپال نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے والد کا نام ووٹر فہرست سے کیسے غائب ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ مغربی بنگال کے ان تقریباً 27 لاکھ افراد میں شامل ہیں جن کے نام مبینہ ’’منطقی تضادات‘‘ (Logical Discrepancies) کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنا میٹرک سرٹیفکیٹ بھی جمع کرایا، مگر اس کے باوجود انہیں نام حذف کیے جانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپیل سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت قائم ایک ٹریبونل میں زیر سماعت ہے، اور اسی وجہ سے وہ حالیہ انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کرسکے۔
راجاگوپال نے مزید بتایا کہ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کے باعث پولیس ویری فکیشن مکمل نہیں ہوسکی، اس کے نتیجے میں ان کے پاسپورٹ کی تجدید بھی روک دی گئی۔ ان کے مطابق انہوں نے 19 مارچ 2026کو بایومیٹرک کارروائی مکمل کرلی تھی، اور متعدد متبادل دستاویزات بھی جمع کرائیں، لیکن انہیں بتایا گیا کہ وہ کافی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 جون کو ان کے بایومیٹرکس مکمل ہونے کے 100 دن ہوگئے۔ گزشتہ ہفتے پاسپورٹ حکام نے انہیں اطلاع دی کہ کلکتہ پولیس نے ان کی درخواست پر منفی رپورٹ بھیجی ہے کیونکہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہے۔ انہیں فوری طور پر ریجنل پاسپورٹ آفس میں حاضر ہونے کو کہا گیا، مگر سب سے پہلی دستیاب تاریخ 17 جولائی کی ملی۔
راجاگوپال نے بتایا کہ وہ 17 اپریل کو سان فرانسسکو میں اپنی بیٹی کی شادی میں بھی شرکت نہیں کرسکے کیونکہ ان کے پاس فعال پاسپورٹ موجود نہیں تھا، حالانکہ ان کے پاس امریکہ کا دس سالہ کارآمد ویزا موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج کل ان کا بیشتر وقت اپنے خاندان کے پرانے ریکارڈ اور والدین سے متعلق کئی دہائیوں پرانے دستاویزات جمع کرنے میں صرف ہو رہا ہے تاکہ اپنی شہریت کا دعویٰ ثابت کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ چند دوستوں اور بعض عوامی شخصیات نے ان کی مدد کی، لیکن کسی بڑے میڈیا ادارے یا صحافیوں کی تنظیم نے اس معاملے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔
راجاگوپال نے واضح کیا کہ ان کا مقصد خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنا نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ اگر ایک قومی اخبار کا سابق مدیر بھی اس طرح کے مسائل کا شکار ہوسکتا ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سماج کے کمزور اور محروم طبقات کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔ انہوں نے اس معاملے پر مرکزی دھارے کے میڈیا کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔
راجاگوپال کے بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگاریکا گھوش نے کہا کہ اگر ایک سابق مدیر کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے تو سوچا جاسکتا ہے کہ محدود وسائل رکھنے والے عام شہری کس اذیت سے گزر رہے ہوں گے۔
<blockquote class=”twitter-tweet”><p lang=”en” dir=”ltr”>Shocking, heart rending account . If this can happen to R. Rajagopal, former Editor of <a href=”https://x.com/ttindia?ref_src=twsrc%5Etfw”>@ttindia</a> , imagine what citizens with far fewer resources are enduring. Deleted from the electoral roll. Denied the right to vote. Passport renewal stalled for 100 days because of an adverse… <a href=”https://t.co/57gjzMo7mu”>https://t.co/57gjzMo7mu</a></p>— Sagarika Ghose (@sagarikaghose) <a href=”https://x.com/sagarikaghose/status/2070884483289747566?ref_src=twsrc%5Etfw”>June 27, 2026</a></blockquote> <script async src=”https://platform.x.com/widgets.js” charset=”utf-8″></script>
انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونا، ووٹ دینے کے حق سے محرومی، پاسپورٹ کی تجدید رک جانا اور اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت نہیں کر پانا دراصل بنیادی شہری حقوق کے بتدریج ختم ہونے کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے واقعات کو ملک کے بیشتر مرکزی میڈیا میں کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی رویش کمارنے بھی سوال کیا کہ کیا اب پاسپورٹ کی پولیس ویری فکیشن کے دوران ووٹر لسٹ کی جانچ کی جا رہی ہے؟ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ ووٹر فہرست سے متعلق مسائل کی وجہ سے آخر کتنے لوگوں کے پاسپورٹ متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راجاگوپال کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ان تمام خدشات کی تصدیق کرتا ہے جوایس آئی آر کے حوالے سے پہلے ہی ظاہر کیے جا رہے تھے۔ ان کے الفاظ میں، پہلے ووٹ کا حق چھینا گیا، اب سفر کرنے کا حق بھی متاثر کیا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی گیتا شیشونے بھی کہا کہ راجاگوپال کا معاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ ووٹر لسٹ سے اخراج کے کیا سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں، اور یہ بھی کہ مرکزی دھارے کا میڈیا اقتدار سے جواب طلب کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک بھر میں بے شمار ووٹروں کو عملاً غیر شہری بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، اور یہ صورتحال نہ صرف ناقابلِ معافی بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔
