کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا اپنا پہلا مکمل بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم (MAME) کے محکمے کے بجٹ میں 62 فیصد کی نمایاں کٹوتی کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے محکمے کے لیے 2,143.17 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اسمبلی انتخابات سے قبل فروری میں پیش کیے گئے عبوری بجٹ میں اس محکمے کے لیے 5,617.13 کروڑ روپے کی تجویز رکھی گئی تھی۔
اقلیتی بجٹ میں کمی کا جواز پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سواپن داس گپتا نے کہا کہ گزشتہ حکومت اقلیتی امور کے محکمے کے لیے پانچ ہزار کروڑ روپے سے زائد مختص کرتی تھی، لیکن عملی طور پر صرف تقریباً 2,500 کروڑ روپے ہی خرچ ہو پاتے تھے۔ ان کے مطابق اسی لیے موجودہ حکومت نے حقیقت پسندانہ انداز میں بجٹ مختص کیا ہے۔
تاہم وزیر خزانہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا موجودہ حکومت مختص شدہ فنڈ کا سو فیصد استعمال یقینی بنائے گی یا نہیں۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ مرکزی حکومت بھی اقلیتی امور کے لیے مختص فنڈ کا بڑا حصہ استعمال نہیں کر پاتی۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان بنگال کی اقلیتی برادری، خصوصاً مسلمانوں، کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
اس سے قبل بی جے پی حکومت او بی سی ریزرویشن کو 17 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد مسلم برادریاں تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے فوائد سے محروم ہو گئی ہیں۔ اب اقلیتی بجٹ میں کٹوتی کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تعلیمی وظائف (اسکالرشپ) سمیت متعدد فلاحی منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔
بجٹ کے ساتھ جاری کی گئی جینڈر اینڈ چائلڈ بجٹ دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ اقلیتی فلاحی منصوبوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، گزشتہ حکومت نے “بے سہارا اقلیتی خواتین” کے لیے رہائشی اسکیم میں 10 کروڑ روپے مختص کیے تھے، جبکہ موجودہ بجٹ میں اس منصوبے کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔
اسی طرح معاشی طور پر کمزور اقلیتی طلبہ کے لیے جاری ایکیاشری (Aikyashree) اسکالرشپ کا بجٹ بھی نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے۔ یہ رقم مالی سال 2025-26 میں 741 کروڑ روپے تھی، جبکہ نئے بجٹ میں اسے گھٹا کر 250 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
ہائی اسکول اور مدارس کے طلبہ کو مفت سائیکل فراہم کرنے والی سبوج ساتھی اسکیم کے لیے بھی مختص رقم 100 کروڑ روپے سے کم کر کے صرف 15.5 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح اقلیتوں کی سماجی و معاشی ترقی اور بہبود کے دیگر منصوبوں کا بجٹ بھی کم کر کے 21 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ 85 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 103 کروڑ روپے تھا۔
گورنر کے خطبے پر بحث کے دوران وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ “بچوں کو صرف مدارس بھیجنے کے بجائے انہیں ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔”
تاہم ناقدین کا سوال ہے کہ جب اسکالرشپ پروگراموں میں بھاری کٹوتی کی جا رہی ہو اور ریزرویشن کے دائرے کو بھی محدود کر دیا گیا ہو، تو اقلیتی طلبہ اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ میدانوں میں کس طرح آگے بڑھ سکیں گے؟ گزشتہ چند برسوں میں مسلمانوں میں تعلیمی ترقی میں ریزرویشن اور اسکالرشپ اسکیموں نے اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن موجودہ فیصلوں سے اس پیش رفت کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) کے ایم ایل اے نوشاد صدیقی نے بجٹ میں اقلیتی فنڈ میں کٹوتی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا:
“بی جے پی ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے اقلیتی برادری کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کا نعرہ ضرور لگاتی ہے، لیکن عملی طور پر اقلیتوں کو ترقی کے عمل سے باہر کیا جا رہا ہے۔ مسلمان ہی نہیں بلکہ جین، عیسائی، بدھ اور دیگر اقلیتی برادریاں بھی ان فیصلوں سے متاثر ہوں گی۔ حکومت کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔”
دوسری جانب عام جنتا اڑھیکار پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے کہا کہ بی جے پی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ صرف ہندو ووٹروں نے ہی نہیں بلکہ بڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی ترنمول کانگریس کو مسترد کیا، جس کے نتیجے میں بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ ان کے مطابق اقلیتی فلاحی منصوبوں کے لیے فنڈ میں کمی نہ صرف معاشرتی ترقی کو متاثر کرے گی بلکہ حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گی۔
ادھر بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت “خوشامد کی سیاست نہیں بلکہ ترقی کی سیاست” پر یقین رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے اقلیتی محکمے کے ذریعے فنڈز کا غلط استعمال کیا، جبکہ موجودہ حکومت مذہب کی بنیاد پر دی جانے والی مراعات کے بجائے شفاف اور مساوی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کسی بھی طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرے گی۔
