کلکتہ:
مغربی بنگال کے علاقے باروئی پور میں ایک 11 سالہ بچی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے واقعے نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کیس میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک مبینہ ملزم پربھاش منڈل آدھی رات کے بعد پولیس انکاؤنٹر میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔
پولیس کے ایک بیان کے مطابق، تفتیشی ٹیم جرم کی ازسرنو تشکیل (کرائم ری کری ایشن) کے لیے ملزم منڈل کو رات کے وقت جائے وقوعہ پر لے گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہاں ملزم نے پولیس اہلکار کا اسلحہ چھین لیا، پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ملزم زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
کلکتہ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور، جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور میں اتوار کے روز ایک 11 سالہ لڑکی کی بوری بند لاش برآمد ہونے کے بعد سے شدید کشیدگی کا ماحول ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کی تصدیق کے بعد پولیس نے قتل، اجتماعی عصمت دری اور بچوں کے تحفظ کے سخت قانون (پوکسو ایکٹ) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس گھناؤنے جرم کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے۔
دوسری جانب، واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہی جرم میں ملوث ہونے کے شبہ میں ایک شخص کو باروئی پور کے بازار میں مشتعل ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ اس دوران مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں اور ٹائروں کو آگ لگا دی، جس کے بعد پولیس نے بمشکل صورتحال پر قابو پایا۔
مغربی بنگال کے رہنما سویندو ادھیکاری نے پیر کے روز باروئی پور کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ لواحقین پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔ ادھیکاری نے یہ بھی واضح کیا کہ ہجوم کے ہاتھوں مارا جانے والا نوجوان اندرجیت منڈل بے قصور تھا۔ انہوں نے کہا، “پولیس کے مطابق موب لنچنگ کا شکار ہونے والا نوجوان بے قصور تھا، اسے بھی انصاف ملے گا۔ میں نے اس کے خاندان سے بھی ملاقات کی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے 200 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے سیاسی مخالفین پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں مسترد ہونے والے اور کچھ انتہا پسند عناصر لوگوں کو اکسا رہے ہیں، جنہیں حکومت سبق سکھائے گی۔
دوسری طرف، مقتولہ کی ماں نے پولیس پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا، “جب ہم نے ہفتے کی رات 9 بجے گمشدگی کی شکایت درج کرائی، اگر پولیس اسی وقت تلاشی مہم شروع کرتی اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھتی، تو میری بیٹی زندہ بچ سکتی تھی۔”
اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے حکام نے پولیس سربراہ سے 72 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر پولیس کی طرف سے ایک فیصد بھی لاپرواہی ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ متاثرہ خاندان نے ملاقات کے بعد اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں انصاف کی امید ہے اور انہوں نے علاقے میں پولیس چوکی قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
