جاویدگیا۔۔ترجمہ نور اللہ جاوید
“بھارت کے قلب (ہارتھ لینڈ) پر لکھی گئی یہ کتاب اردو کو مٹانے کے عمل کی نشاندہی کرتی ہے” (جاوید گیا کی تصنیف ’Heartland Rising: The Making of Majoritarian India‘ سے ایک اقتباس)
زبان، بے جان اشیا کے مقابلے میں، انسان کے لیے کہیں زیادہ بنیادی اور اہم حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نثر، شاعری اور ڈرامے کی صورت میں ایک عظیم تہذیبی اور ثقافتی ورثے کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ زبان دراصل ایک ایسی آزاد کرنے والی قوت ہے جو انسان کو اپنے جذبات، احساسات اور خیالات کے بھرپور اظہار کا موقع فراہم کرتی ہے۔ معروف ادبی نقاد جارج اسٹینر (George Steiner) کے الفاظ میں:
’’کوئی بھی دو زبانیں، یا ایک ہی زبان کے اندر دو بولیاں یا مقامی محاورے، اپنی دنیا کی شناخت، نشاندہی اور نقشہ سازی ایک ہی انداز میں نہیں کرتے۔ ان میں محفوظ یادیں، اپنے گرد و پیش کا ادراک، وہ سماجی رشتے جنہیں زبان منظم اور منعکس کرتی ہے (مثلاً رشتہ داری)، اور رنگوں کے بارے میں ان کا لسانی شعور، اکثر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
ہندوستان کے تہذیبی اور ثقافتی تانے بانے میں زبان ہمیشہ ایک بنیادی عنصر رہی ہے۔ اس لیے زبان کا تحفظ درحقیقت ثقافتی تنوع اورتکثرتیت (Plurality) کے تحفظ کے مترادف ہے۔
جب ہندوستانی آئین کا مسودہ تیار کیا جا رہا تھا تو ثقافتی حقوق، بالخصوص اقلیتوں کے لسانی اور ثقافتی حقوق، ابھی ابتدائی بحث کا حصہ تھے۔ بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا اقلیتوں کو مذہب، زبان اور ثقافت کے معاملے میں مکمل آزادی کی آئینی ضمانت دی جانی چاہیے، اور کیا انہیں ریاست کی جانب سے کسی بھی قسم کے امتیاز یا مداخلت سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے؟ کانگریس نے 1931ء کی کراچی قرارداد (Karachi Resolution) میں ہی اقلیتی ثقافت، رسم الخط اور زبان کے تحفظ کی پالیسی کی حمایت کر دی تھی۔
تاہم،ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے ثقافت کے تحفظ میں ریاست کے کردار کو محدود تصور کیا۔ مصنفہ روچنا باجپائی (Rochana Bajpai) اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
’’آخرکار آئین میں ثقافتی تحفظات کو جس شکل میں شامل کیا گیا، اس کے مطابق اقلیتیں اپنی ثقافت کے فروغ کے لیے آزاد تو تھیں، اور ریاست کی جانب سے تعاون کا امکان بھی موجود تھا، لیکن یہ ان کا آئینی حق (Entitlement) نہیں تھا۔
چنانچہ ریاست کا کردار نہایت محدود ہو کر رہ گیا۔ اس پر اقلیتوں کی ثقافت اور لسانی ورثے کے تحفظ کی کوئی فعال آئینی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی۔
ثقافتی تحفظ کے معاملے میں یہ بے اعتنائی ایک ایسے معاشرے میں خاصی تشویش کا باعث تھی جو بظاہر تکثیریت (Pluralism) کا دعویدار تھا، کیونکہ اکثر صورتوں میں ثقافتی انضمام (Assimilation) عملاً ثقافتی فنا یا مٹ جانے (Annihilation) کے مترادف ثابت ہوتا ہے۔ جدید سیاسی اور سماجی فکر کثیرالثقافتی معاشروں میں ثقافتی تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔
اتر پردیش اور بہار کے مسلمانوں کے لیے اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ان کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ تھی۔ اس کے باوجود 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں اتر پردیش میں مسلسل برسرِ اقتدار رہنے والی کانگریسی حکومتیں اقلیتی لسانی ثقافت اور ورثے کو عملی طور پر نظر انداز کرتی رہیں، حالانکہ ایسی قانونی گنجائش موجود تھی جس کے ذریعے اردو کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکتا تھا۔ اس نکتے پر کتاب میں آگے مزید تفصیل سے بحث کی گئی ہے، تاہم اس مرحلے پر بھی یہ واضح ہے کہ ثقافتی تحفظ کا حق غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔
اس پالیسی کو اس تاریخی پس منظر میں سمجھنا چاہیے جہاں شمالی ہند کے اشرافیہ کی بنیادی زبان فارسی تھی، جبکہ اردو ایک خالص ہندوستانی زبان تھی۔ جنوبی ایشیائی ادب کی ممتاز محقق فرانسسکا اورسینی (Francesca Orsini) کے مطابق انیسویں صدی میں اردو نے رفتہ رفتہ فارسی کی جگہ لے لی۔ اس دور میں اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں سمجھی جاتی تھی، اگرچہ اس کا تعلق زیادہ تر تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقے (Upper Classes) سے ضرور تھا۔
اتر پردیش میں مسلمانوں کے علاوہ کایستھ، کھتری اور کشمیری پنڈت بھی بڑی تعداد میں اردو بولتے اور لکھتے تھے۔ مثال کے طور پر پنڈت جواہر لال نہرو 1950ء کی دہائی تک اپنی تحریروں میں اردو استعمال کرتے رہے، جبکہ انہوں نے 1960ء کی دہائی کے اوائل میں دیوناگری رسم الخط اختیار کیا۔
سن 1900 کے شمالی ہندوستان میں اردو عوامی گفتگو پر پوری طرح حاوی تھی۔ درحقیقت، کالم نگار سنتوش کمار کھرے لکھتے ہیں کہ ’’ہندی اور اردو کے دو الگ الگ زبانوں کے طور پر ابھرنے کا تصور 19 ویںصدی کے پہلے نصف میں فورٹ ولیم کالج میں پروان چڑھا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’دونوں زبانوں کے لسانی اور ادبی ذخائر بھی اسی بنیاد پر تشکیل دیے گئے۔اردو نے فارسی اور عربی سے الفاظ اخذ کیے، جبکہ ہندی نے سنسکرت سے استفادہ کیا۔
تاہم، ان کے استدلال کا سب سے اہم نکتہ جو ہندی کے حامیوں کے لیے یقیناً ناگوار ہوگا وہ یہ ہے کہ ’’جدید ہندی (یا کھڑی بولی) دراصل ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایک مصنوعی تخلیق تھی، جس میں اردو کی صرف و نحو اور لہجے کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ‘غیر ملکی اور ‘دیہاتی الفاظ سے پاک کیا گیا اور ان کی جگہ سنسکرت کے مترادفات شامل کر دیے گئے۔
یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ آج آر ایس ایس (RSS)، جو خود کو ہندی کی سب سے بڑی علمبردار قرار دیتی ہے، انگریزی بولنے والوں کا تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں ’’میکالے کی اولاد‘‘(Macaulay’s Children) کہتی ہے، حالانکہ ہندی کی موجودہ شکل خود نوآبادیاتی دور کی ایک منصوبہ بند تشکیل کا نتیجہ تھی۔ دوسری جانب، اردو کے معاملے میں آر ایس ایس کا رویہ واضح طور پر معاندانہ رہا ہے۔ وہ اس بات کا بھی مذاق اڑاتی ہے کہ اتر پردیش میں ایک اقلیتی زبان ہونے کے باوجود اردو کو کسی قسم کا آئینی یا سرکاری تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم، ایک اعتبار سے اتر پردیش کے اردو بولنے والوں کی موجودہ صورتِ حال، 1932 میں کمیونل ایوارڈ (Communal Award) کے اعلان کے بعد بنگال کے ’’بھدرلوک‘‘(Bhadralok) کی کیفیت سے مشابہ نظر آتی ہے۔ اس ایوارڈ کے تحت مختلف برادریوں کے لیے جداگانہ انتخابی حلقے قائم کیے گئے، جس کے نتیجے میں بنگالی بھدرلوک کی قانون ساز اسمبلی میں اکثریتی حیثیت ختم ہو کر اقلیتی نمائندگی تک محدود ہوگئی۔اس فیصلے کے خلاف بھدرلوک برادری نے بنگال کے سابق گورنر لارڈ زیٹلینڈ کو ایک احتجاجی یادداشت پیش کی، جس میں کہا گیا تھاکہ
’’آپ کے عرض گزار بنگال کی ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو ایک اقلیتی برادری ہے، اور اسی حیثیت سے وہ ان تمام تحفظات کی حق دار ہے جو دیگر صوبوں کی اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ بنگال کی ہندو اقلیت، ایک تسلیم شدہ اقلیت ہونے کے ناطے، نمائندگی میں اپنے جائز اور متناسب حصے کی دعویدار ہے‘‘۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ’’ثقافت‘‘ کے نام پرجو ایک نہایت مبہم اصطلاح تھی اور جس میں زبان کو شامل نہیں کیا گیا تھابھدرلوک نے پہلے وفاقیت اور بعد ازاں، 1946 میں متحدہ بنگال کی تجویز سامنے آنے پر، تقسیم کی حمایت کی۔اتر پردیش کے مسلمانوں، یا کم از کم اشرافیہ، کو ہمیشہ اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ اردو کے تحفظ پر اصرار کرتے تھے۔ یہ تاثر دیا گیا کہ ایک محدود اشرافیہ کا اپنی اعلیٰ ثقافت پر اصرار کرنا اور اس کے نتیجے میں تقسیم ہند کی حمایت کرنا غیر معقول تھا۔ حالانکہ اس مسئلے کا ایک معتدل حل بھی ممکن تھا۔ اتر پردیش میں سنسکرت، جسے عملاً بہت کم لوگ بولتے تھے، کی بجائے اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر برقرار رکھا جا سکتا تھا۔
اس کے باوجود، بنگال کے بھدرلوک کے طرزِ عمل کا شاید ہی کبھی اس تناظر میں جائزہ لیا جاتا ہے، حالانکہ انہوں نے ثقافتی غلبے کے خدشے کی بنیاد پر صوبے کی تقسیم کی حمایت کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر اشرافیہ کا اردو کے تحفظ پر اصرار غیر مناسب قرار دیا جاتا ہے، تو پھر بھدرلوک کا ثقافتی بالادستی کے خوف کی بنیاد پر تقسیم کا مطالبہ کس طرح قابلِ قبول سمجھا گیا؟
ہم اس حقیقت کا شاید ہی پورا اندازہ لگا پاتے ہیں کہ شمالی ہندوستان کی روزمرہ زندگی سے اردو کو کس قدر منظم انداز میں بے دخل کیا گیا۔ جیسا کہ مؤرخ مشیر الحسن لکھتے ہیں: ’’ہندی نواز لابی، جو آئین ساز اسمبلی میں غیر معمولی طور پر فعال تھی، بالآخر اپنا مؤقف منوانے میں کامیاب رہی‘‘۔
پہلی سے پانچویں لوک سبھا تک رکنِ پارلیمان رہنے والے سیٹھ گووند داس نے ایک موقع پر کہا تھاکہ
ہندی اور ہندوستانی کے درمیان تنازع اس لیے ختم ہوگیا کہ آئین کا آرٹیکل 120 پارلیمنٹ کی کارروائی کے لیے صرف ‘ہندی یا انگریزی کا ذکر کرتا ہے۔ اس طرح ‘ہندوستانی کا سوال ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔
اسی سوچ کے تحت اتر پردیش بورڈ آف ہائی اسکول اینڈ انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے 1953 سے ہائی اسکول کے امتحانات میں ہندی کو ذریعۂ تعلیم اور ذریعۂ امتحان کی واحد زبان قرار دے دیا۔
اردو بولنے والوں کے لیے اپنی لسانی اور تہذیبی روایت نئی نسل تک منتقل کرنا مزید دشوار بنانے کی غرض سے اتر پردیش اور بہار کی حکومتوں نے اردو میڈیم اسکولوں کی مالی امداد بھی معطل کر دی۔ مشیر الحسن لکھتے ہیں کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اس سخت گیر اور اردو مخالف پالیسی پر شدید تشویش رکھتے تھے، لیکن سیاسی حالات کے باعث وہ مؤثر مداخلت نہ کر سکے۔ ایک موقع پر انہوں نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ
’’اگر میرے ساتھی اس معاملے پر متفق نہیں ہیں تو میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا‘‘۔
اردو کے لیے حقیقی دھچکا وہ سہ لسانی فارمولا (Three-Language Formula) ثابت ہوا، جسے بعد میں مختلف ریاستوں کے اسکولوں میں نافذ کیا گیا۔ اتر پردیش میں اس فارمولے کے تحت پہلی زبان ہندی، دوسری زبان سنسکرت، جبکہ تیسری زبان کے طور پر انگریزی اور اردو میں سے کسی ایک کا انتخاب دیا گیا۔
نئے ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم، سرکاری ملازمت اور سماجی ترقی کے لیے انگریزی کی اہمیت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ بیشتر والدین نے فطری طور پر اردو کے بجائے انگریزی کو ترجیح دی۔ اس لیے ان مسلمانوں یا اردو داں خاندانوں پر تنقید کرنا مناسب نہیں ہوگا جنہوں نے بہتر مستقبل کی خاطر انگریزی کا انتخاب کیا۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ سہ لسانی فارمولا بنیادی طور پر ہندی اور سنسکرت کے حق میں ترتیب دیا گیا تھا، جبکہ اردو کو بتدریج تعلیمی اور عوامی زندگی سے بے دخل کرنا اس کا ایک واضح نتیجہ تھا۔
اردو کے حامی صرف مسلمان نہیں تھے۔ متعدد ممتاز ہندو دانشور اور رہنما بھی اردو کے تحفظ کے علمبردار تھے۔ ان میں سر تیج بہادر سپرو نمایاں تھے، جنہوں نے شمالی ہندوستان کی سرکاری زبان کے طور پر اردو کو برقرار رکھنے کی بھرپور حمایت کی۔ ان کے نزدیک ہندی کو ضرورت سے زیادہ سنسکرت زدہ بنانے کی کوشش دراصل اس مشترکہ زبان کو تبدیل کرنے کی ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی تھی، جس میں اردو کے بے شمار الفاظ، محاورے اور اسالیب کو دانستہ خارج کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اردو کی ادبی روایت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہی۔ متعدد ممتاز ہندو ادیبوں اور شاعروں نے اردو زبان و ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔ منشی پریم چند، فراق گورکھپوری، پنڈت ہری چند اختر اور آنند نرائن ملا جیسے نام اس کی روشن مثال ہیں۔ اردو برصغیر میں مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کے درمیان ایک مضبوط ثقافتی اور سیکولر پل کی حیثیت رکھتی تھی، اور اس نے اعلیٰ ادب، شاعری اور فکری روایت کو فروغ دینے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔
اردو کی جگہ جس ہندی کو فروغ دیا گیا، وہ عوامی بول چال کی فطری زبان نہیں بلکہ ایک حد تک مصنوعی، حد سے زیادہ سنسکرت زدہ اور سرکاری دفتروں کی زبان بن کر رہ گئی۔ نوبیل انعام یافتہ ادیب اور ہندوستان میں میکسیکو کے سابق سفیر اکتاویو پاز نے اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاکہ
’’آج ہندوستان میں رائج سرکاری ہندی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے انگریزی، فارسی اور عربی سمیت تمام بیرونی لسانی اثرات کو مسترد کر دیا ہے اور ان کی جگہ سنسکرت کے نئے الفاظ وضع کیے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے انگریزی زبان سے تمام فرانسیسی الاصل الفاظ صرف اس وجہ سے نکال دیے جائیں کہ وہ نارمن حملے کی یادگار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ہندی کو بہت کم لوگ پوری طرح سمجھتے ہیں۔ یہ ایک مصنوعی اور بیوروکریٹک زبان بن چکی ہے۔ اگر ‘ ہندی کو واقعی ایک زندہ زبان بننا ہے تو اسے عوامی بول چال سے رشتہ جوڑنا ہوگا اور ہر ماخذ سے آنے والے الفاظ کو قبول کرنا ہوگا، کیونکہ زندہ زبانیں ہمیشہ اختلاط اور تنوع سے جنم لیتی ہیں۔
ان تمام شواہد سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ہندی کے فروغ کی سرکاری مہم صرف ایک لسانی اصلاح نہیں تھی، بلکہ اس کے پس منظر میں اردو کو عوامی زندگی سے بتدریج بے دخل کرنے اور اس مشترکہ تہذیبی ورثے کو کمزور کرنے کی ایک واضح سیاسی اور ثقافتی حکمتِ عملی بھی کارفرما تھی۔
اگر اتر پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کے طور پر برقرار رکھا جاتا تو یہ آئین کے آرٹیکل 29 کی روح سے پوری طرح ہم آہنگ ہوتا، جو ہر شہری گروہ کو اپنی زبان، رسم و رواج اور ثقافت کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ اتر پردیش، جو اردو کی تشکیل و ارتقا کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، اس زبان کی تہذیبی، ادبی اور ثقافتی روایت کا امین رہا ہے۔ اردو نہ صرف وہاں کے علمی اور ادبی ورثے کی علامت تھی بلکہ ریاست کی تقریباً 20 فیصد آبادی کی مادری زبان بھی تھی۔ اس اعتبار سے وہ محض تحفظ ہی نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی اور سماجی احترام کی بھی مستحق تھی۔
ماہرِ قانون اور ماہرِ تعلیم فیضان مصطفیٰ نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 350(A) کے تحت ریاستی حکومتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لسانی اقلیتوں کے بچوں کو ابتدائی مرحلے پر ان کی مادری زبان میں تعلیم کی مناسب سہولتیں فراہم کریں۔ اسی طرح آرٹیکل 350(B) لسانی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی افسر کے تقرر کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
اس کے باوجود اتر پردیش میں ان آئینی تقاضوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اردو کو دانستہ طور پر ایک ’’لسانی اقلیت‘‘ کی زبان کے بجائے صرف ’’مذہبی اقلیت‘‘کی زبان کے طور پر پیش کیا گیا۔ نتیجتاً اس کے تحفظ کو آئینی حق کے بجائے ایک فرقہ وارانہ مطالبے کی صورت دے دی گئی، جس سے اس کی تدریجی حاشیہ بندی اور عوامی زندگی سے بے دخلی کی راہ ہموار ہوئی۔
صورتِ حال یہاں تک پہنچی کہ اتر پردیش میں اردو میڈیم اسکولوں کی سرکاری سرپرستی تقریباً ختم کر دی گئی، حالانکہ مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں اردو میڈیم تعلیم کو اس شدت کے ساتھ محدود نہیں کیا گیا تھا۔ ممتاز اردو ادیب اور نقاد شمس الرحمن فاروقی نے اس حقیقت کی صراحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آزادی کے بعد اتر پردیش میں اردو کو سماجی اور تعلیمی زندگی سے منظم طریقے سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی۔
البتہ بعض حلقوں کی جانب سے اس پالیسی کا دفاع بھی کیا گیا۔ ان کا استدلال تھا کہ اردو رسم الخط نسبتاً مشکل تھا، جبکہ دیوناگری زیادہ سادہ، عملی اور آسان رسم الخط ہے۔ بظاہر یہ دلیل معقول محسوس ہوتی ہے اور اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ معاملہ محض انتظامی سہولت کا تھا، نہ کہ کسی مذہبی یا ثقافتی تعصب کا۔
لیکن یہ استدلال اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب ہندسوں (Numerals) کے معاملے کو دیکھا جائے۔ ہندی کے بعض حامیوں نے مغربی عربی ہندسوں (0، 1، 2، 3.) کو اختیار کرنے سے انکار کرتے ہوئے دیوناگری ہندسوں کو سرکاری طور پر نافذ کرنے پر زور دیا، حالانکہ یہی عربی الاصل ہندسے پوری دنیا میں مستعمل تھے۔
مؤرخ گیانیش کُڈائسیا کے مطابق، اس مخالفت کی ایک بنیادی وجہ ان ہندسوں کا مبینہ ’’اسلامی ماخذ‘‘تھا، اگرچہ اس کا اظہار ہمیشہ کھلے الفاظ میں نہیں کیا جاتا تھا۔ اگر مغربی دنیا نے انہی ہندسوں کو بلا تردد اپنا لیا تھا تو ہندوستان میں ان کی مخالفت کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ اسلامی تہذیبی ورثے سے وابستہ ہر علامت کو مسترد کرنے کا رجحان موجود تھا۔
1949 میں آئین ساز اسمبلی میں دیوناگری ہندسوں کو سرکاری طور پر اپنانے کی تجویز معمولی فرق سے منظور ہونے کے قریبڪ پہنچ گئی تھی، مگر پنڈت جواہر لعل نہرو نے مداخلت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اتنے معمولی اکثریتی فرق کی بنیاد پر دیوناگری ہندسوں کو پورے ملک پر مسلط کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کی مداخلت کے نتیجے میں موجودہ بین الاقوامی طور پر رائج ہندسے برقرار رہے۔
یہ واقعہ محض ہندسوں کے انتخاب کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس وسیع تر ذہنیت کی عکاسی کرتا تھا، جس کے تحت اسلامی یا مشترکہ تہذیبی ورثے سے وابستہ بہت سی علامتوں کو قومی زندگی سے بتدریج خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ خاص طور پر اتر پردیش میں یہ رجحان زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے، جہاں ایک بڑی، قدیم اور گہری جڑیں رکھنے والی لسانی اقلیت کے ساتھ کسی متوازن اور باوقار ثقافتی مفاہمت کے بجائے، اس کی شناخت کو محدود کرنے کی پالیسیاں اختیار کی گئیں۔
اردو کو منظرِ عام سے ہٹانے پر اس ضدی اصرار کے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ زبان کے ساتھ اس کا ادب بھی وابستہ ہوتا ہے، اور ادب کے ساتھ ایک بھرپور تہذیبی ورثہ جڑا ہوتا ہے، جسے جارج اسٹینر نے **”ثقافتی وراثت” (Cultural Patrimony)** سے تعبیر کیا ہے۔
پروفیسر کے۔ سی۔ کانڈا(K.C. Kanda )اور دیگر باصلاحیت مترجمین نے اردو شاعری کو دیوناگری اور رومن رسم الخط میں منتقل کرنے کی قابلِ قدر کوششیں کی ہیں، لیکن یہ کام ہرگز آسان نہیں۔ عموماً جب کسی زبان کا رسم الخط زوال پذیر ہو جاتا ہے یا متروک ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس زبان کی ادبی روایت بھی بتدریج معدوم ہونے لگتی ہے۔
اس حقیقت کو ایک اور ہند آریائی زبان، یعنی سندھی، کی مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد سندھی بولتے ہیں، اور یہ زبان بالخصوص اس برادری سے وابستہ ہے جس نے ہندوستان میں اپنی نسبتاً کم آبادی کے باوجود تجارت، صنعت، دولت کی تخلیق اور فلاحی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
سندھی زبان متعدد رسم الخطوں میں لکھی جاتی ہے، جن میں فارسی-عربی رسم الخط بھی شامل ہے۔ سندھی ادب کے عظیم ترین شاعر اور صوفی بزرگ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی اپنی تخلیقات اسی رسم الخط میں تحریر کیں، جن میں سندھی لوک داستانوں، روایات اور صوفیانہ فکر کو محفوظ کیا گیا ہے۔
یہ ایک گہرا المیہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان سندھی اپنے کلاسیکی ادب اور مشترکہ تہذیبی ورثے سے براہِ راست استفادہ کرنے سے محروم ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے روایتی فارسی-عربی رسم الخط کو ترک کر کے اس کی جگہ ایک ایسا رسم الخط رائج کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں سندھی کے کلاسیکی ادبی ذخیرے کا بیشتر حصہ موجود ہی نہیں۔
اس بحث کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا، جبکہ انگریزی کو عبوری زبان کے طور پر برقرار رکھا گیا۔ تاہم، محقق فرانسسکا اورسینی کے بقول، ’’ہندی حامیوں کی یہ کامیابی درحقیقت ایک ‘پیریک فتح‘‘ (Pyrrhic Victory) ثابت ہوئی، کیونکہ ہندی کبھی بھی انگریزی کا حقیقی متبادل نہیں بن سکی۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ خود ہندی بولنے والی ریاستوں میں بھی ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے لیے انگریزی میڈیم اسکولوں کی مقبولیت مسلسل بڑھتی رہی ہے، اور ہندی کے بیشتر حامی اگر سب نہیںاپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اداروں میں ہی تعلیم دلاتے رہے ہیں۔
اس تمام تر صورتِ حال کے باوجود ایک دلچسپ تضاد یہ ہے کہ ہندو دائیں بازو کی جانب سے اردو کو حاشیے پر دھکیلنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہ زبان عوامی سطح پر اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کالم نگار شعیب دانیال کے مطابق
عوامی اردو (Demotic Urdu)، اپنے فارسی الاصل الفاظ کے ایک بڑے ذخیرے کے ساتھ، آج بھی ہندوستان میں زندہ ہے۔ 19ویںصدی میں اعلیٰ طبقے کی زبان ہونے کے باعث شمالی ہندوستان کے لوگ اب بھی اپنی تہذیبی اور ثقافتی اظہار کے لیے اردو ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔”**
اس کی ایک بڑی وجہ بالی ووڈ کی زبان بھی ہے، جس نے اردو آمیز ہندوستانی کو پورے ملک میں مقبول بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی عوامی ہندوستانی، جس کی بنیاد بڑی حد تک اردو پر استوار ہے، شمال اور جنوب کے درمیان لسانی فاصلے کو اس خشک، حد سے زیادہ سنسکرت زدہ اور دفتری ہندی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر انداز میں کم کرتی ہے، جو عام لوگوں کی روزمرہ بول چال سے خاصی دور ہو چکی ہے۔
(بشکریہ: Heartland Rising: The Making of Majoritarian India، جاوید گیا، ویسٹ لینڈ)
