نئی دہلی، 15 جون: قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (این سی ای آر ٹی) کی نویں جماعت کی نئی آرٹس کی درسی کتاب میں موہنجودڑو کی مشہور قدیم کانسی کی مورتی “رقاصہ” (Dancing Girl) کی تصویر میں کی گئی تبدیلی پر ماہرین تعلیم اور تاریخ دانوں کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے۔

نئی کتاب “ہسٹری آف آرٹس” میں شامل تصویر میں مورتی کے برہنہ بالائی حصے کو شیڈنگ کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا ہے، جبکہ اسی مورتی کی تصویر این سی ای آر ٹی کی چھٹی جماعت کی سماجی علوم کی کتاب میں اصل شکل کے قریب دکھائی گئی تھی اور اس میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

این سی ای آر ٹی کی نئی چھٹی جماعت کی سماجی علوم کی کتابوں کی تیاری کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مائیکل ڈینینو نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ “رقاصہ” کی اصل تصویر کو بعض حلقوں نے “عمر کے لحاظ سے موزوں نہیں” قرار دیا تھا۔

پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈینینو نے کہا کہ ان کی ٹیم اس مؤقف سے متفق نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں چھٹی جماعت کے اساتذہ سے بھی رائے لی گئی تھی اور اساتذہ نے کہا تھا کہ “رقاصہ” کی تصویر سے کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔

ڈینینو نے اس سوچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برہنگی کو غیر مناسب سمجھنا دراصل ایک فرسودہ وکٹورین نظریہ ہے، جبکہ آج بھارت میں تعلیم کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

انہوں نے نویں جماعت کی کتاب میں شائع شدہ تصویر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ اصل تاریخی فن پارے کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق، “اگر ہندوستانی فن کی تاریخ کے ایک باب میں موہنجودڑو کی رقاصہ کو اس کی اصل شکل اور تناسب کے ساتھ بھی شامل نہیں کیا جا سکتا تو یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔”

ڈینینو نے مزید کہا کہ تصویر میں کی گئی تبدیلی اصل تاریخی نوادرات کی غلط نمائندگی ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ قرونِ وسطیٰ میں مشہور مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کے شاہکار ڈیوڈ پر چرچ کی جانب سے انجیر کے پتے لگانے سے کیا، جسے بعد میں فن پارے کی اصل خوبصورتی کو مسخ کرنے کی مثال قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک کسی ٹوٹے ہوئے یا نامکمل نوادرات کی ممکنہ بحالی دکھانے کی ضرورت نہ ہو، تاریخی اشیا کی تصاویر میں تبدیلی کرنا دراصل ایک “جعلی نوادرات” تخلیق کرنے کے مترادف ہے اور یہ تاریخی ورثے کی پیشکش کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔

درسی کتاب میں موہنجودڑو کی اس کانسی کی مورتی کو تقریباً 2600 قبل مسیح کا فن پارہ قرار دیا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق یہ مجسمہ “لاسٹ ویکس ٹیکنیک” (Lost-Wax Technique) کے ذریعے تیار کیا گیا تھا، جو آج بھی مغربی بنگال، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے بعض علاقوں میں رائج ہے۔

کتاب میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ مورتی ایک خاص انداز میں کھڑی خاتون کو ظاہر کرتی ہے، جس میں ایک گھٹنا خمیدہ ہے، ایک ہاتھ کمر پر رکھا گیا ہے اور چہرہ قدرے اوپر اٹھا ہوا ہے۔

این سی ای آر ٹی کی جانب سے تصویر میں تبدیلی کے فیصلے پر تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم اس معاملے نے ایک بار پھر تعلیمی نصاب، فنونِ لطیفہ اور تاریخی ورثے کی پیشکش کے طریقوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔