چنئی: تمل فلم “حبیبی” ایک ایسے وقت میں ریلیز ہو رہی ہے جب بھارتی سینما میں مسلمانوں کی نمائندگی اور ان کی تصویر کشی پر بحث مسلسل جاری ہے۔ حالیہ برسوں میں بعض ہندی اور علاقائی فلموں میں مسلم کرداروں کو دہشت گردی، انتہا پسندی یا سکیورٹی سے متعلق موضوعات کے تناظر میں پیش کیے جانے پر ناقدین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ اسی پس منظر میں ہدایت کار میرا کتیروان کی نئی فلم “حبیبی” ایک مختلف اور تازہ تجربے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
یہ فلم نہ دہشت گردی کی کہانی ہے، نہ کسی سکیورٹی آپریشن کی، نہ کسی مذہبی تنازع کی اور نہ ہی کسی سیاسی نعرے کی۔ اس کے برعکس “حبیبی” ایک عام مسلم خاندان کی روزمرہ زندگی، محبت، رشتوں، محنت، ثقافت اور خوابوں کی سادہ مگر مؤثر داستان بیان کرتی ہے۔
مسلم کردار: تنازع نہیں، ایک مکمل انسانی وجود
فلمی مبصرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں متعدد فلموں اور ویب سیریز میں مسلم کرداروں کو یا تو سکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں دکھایا گیا یا انہیں محض ثانوی کرداروں تک محدود رکھا گیا۔
“حبیبی” اس رجحان سے ہٹ کر ایک مختلف راستہ اختیار کرتی ہے۔ یہاں مسلمان کسی تنازع یا سیاسی بحث کا موضوع نہیں بلکہ کہانی کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کی زندگی میں محبت بھی ہے، خاندانی رشتے بھی، معاشی مشکلات بھی اور بہتر مستقبل کے خواب بھی۔
مسلم ثقافت کی فطری اور حقیقی عکاسی
فلم کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مسلم ثقافت اور سماجی زندگی کو کسی غیر معمولی یا پراسرار شے کے طور پر پیش نہیں کرتی بلکہ اسے ایک فطری انسانی حقیقت کے طور پر دکھاتی ہے۔
عید کی نماز، مسجد کا ماحول، دعائیں، خاندانی رسومات، شادی بیاہ اور سوگ کے مواقع کو فلم میں ایسی سادگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جو بھارتی سینما میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
یہ مناظر ناظرین کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ مسلم معاشرہ بھی اسی طرح محبت، خوشی، غم، امید اور جدوجہد سے عبارت ہے جیسے ملک کا کوئی بھی دوسرا سماجی طبقہ۔
خواتین کے کردار اور بدلتے سماجی رجحانات
فلم کا ایک اور اہم پہلو مسلم خواتین کی نمائندگی ہے۔ نیلوفر اور پروین کے کردار دو مختلف ادوار اور سماجی رویّوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
خصوصاً پروین کا کردار اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ مسلم خواتین ہمیشہ خاموش یا بے اختیار ہوتی ہیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ، خوداعتماد اور اپنے فیصلے خود لینے والی نوجوان خاتون کے طور پر سامنے آتی ہے، جو جدید مسلم خواتین کی بدلتی ہوئی شناخت کی نمائندگی کرتی ہے۔
“حبیبی” کیوں اہم ہے؟
فلمی ناقدین کے مطابق “حبیبی” کی اصل اہمیت اس کی کہانی سے زیادہ اس انتخاب میں پوشیدہ ہے کہ اس نے کس طبقے کی کہانی سنانے کا فیصلہ کیا۔
ایسے وقت میں جب مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے بحث جاری ہے، “حبیبی” ایک متبادل اور انسانی بیانیہ پیش کرتی ہے۔ یہ فلم مسلم شناخت کو خوف، تشدد یا سیاسی تنازع کے بجائے محبت، ثقافت، خاندان اور انسانی تجربات کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
مجموعی جائزہ
“حبیبی” صرف ایک رومانوی یا خاندانی فلم نہیں بلکہ بھارتی سینما میں نمائندگی کے سوال پر ایک خاموش مگر مؤثر مداخلت ہے۔ یہ فلم یاد دلاتی ہے کہ پردۂ سیمیں پر کسی بھی طبقے کی موجودگی صرف تعداد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس بات کا بھی سوال ہے کہ اس کی کہانی کس انداز میں سنائی جاتی ہے۔
اسی لیے “حبیبی” کو صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک ایسے ثقافتی لمحے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو بھارتی سینما میں مسلم زندگی کی زیادہ متوازن، انسانی اور حقیقی تصویر پیش کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتی ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف تمل سینما بلکہ پورے بھارتی فلمی منظرنامے کے لیے ایک مثبت اور اہم مثال ثابت ہو سکتا ہے۔
