سپریم کورٹ کا سخت ریمارکس حیران کن ۔۔کیا شہریوں کو سرکاری کام کاج کی نگرانی کا حق نہیں ہے؟

نئی دہلی:

سپریم کورٹ کی جانب سے ایک آر ٹی آئی کارکن کی پیشگی ضمانت مسترد کیے جانے کے دوران کیے گئے سخت ریمارکس نے ملک میں آر ٹی آئی کارکنوں کے کردار، عوامی نگرانی کے حق اور عدالتی مشاہدات کی حدود پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے سڑک تعمیراتی کام میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں نامزد آر ٹی آئی کارکن راکیش کمار بہل کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “آر ٹی آئی ایکٹیوزم اب ایک نیا کاروبار بن چکا ہے۔”

عدالت نے سوال اٹھایا کہ آخر ایک آر ٹی آئی کارکن سڑک کی تعمیراتی پیش رفت کی نگرانی کیوں کر رہا تھا، جبکہ درخواست گزار کا موقف تھا کہ وہ عوامی مفاد میں سرکاری منصوبے پر نظر رکھ رہا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق راکیش کمار بہل اور ایک دوسرے ملزم پر الزام ہے کہ انہوں نے سڑک کی تعمیر کے جاری سرکاری کام میں مداخلت کی، تعمیراتی عملے اور نگرانی کرنے والے افسر کو دھمکیاں دیں، کام میں رکاوٹ پیدا کی اور مبینہ طور پر جسمانی حملہ بھی کیا۔ ان پر درج فہرست ذاتوں اور قبائل (SC/ST) ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے پہلے ہی یہ کہتے ہوئے پیشگی ضمانت مسترد کر دی تھی کہ ایف آئی آر میں ملزم کی براہِ راست شمولیت کے مخصوص الزامات موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی اسی بنیاد پر ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق پیشگی ضمانت مسترد کرنے کا فیصلہ مقدمے میں لگائے گئے الزامات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا گیا، نہ کہ محض اس وجہ سے کہ درخواست گزار ایک آر ٹی آئی کارکن ہے۔

تاہم سماعت کے دوران عدالت کے اس تبصرے نے توجہ حاصل کی کہ “آر ٹی آئی ایکٹیوزم ایک کاروبار بن گیا ہے۔”

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک زبانی عدالتی مشاہدہ (Oral Observation) ہے، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔ اس لیے اسے آر ٹی آئی قانون یا آر ٹی آئی تحریک کے خلاف عدالتی حکم تصور نہیں کیا جا سکتا۔

آر ٹی آئی اور شہری نگرانی کا حق

بھارتی آئین کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت شہریوں کو اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ اسی آئینی روح کے تحت 2005 میں حقِ معلومات (RTI) قانون نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد سرکاری کاموں میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا ہے۔

ملک میں متعدد آر ٹی آئی کارکنوں نے بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی خامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ دوسری جانب عدالتوں اور سرکاری اداروں نے بعض مواقع پر آر ٹی آئی قانون کے مبینہ غلط استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی شخص آر ٹی آئی کارکن ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کا طرزِ عمل قانون کے دائرے میں ہے یا نہیں۔

اگر کوئی شہری معلومات حاصل کرتا ہے، شکایت درج کراتا ہے یا کسی سرکاری منصوبے میں بے ضابطگی کی نشاندہی کرتا ہے تو یہ اس کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ لیکن اگر وہ سرکاری کام رکواتا ہے، دھمکی دیتا ہے یا تشدد کا سہارا لیتا ہے تو ایسے اقدامات آئینی تحفظ سے باہر ہو جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حالیہ ریمارکس نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ عوامی نگرانی اور سرکاری احتساب جمہوریت کا لازمی حصہ ہیں، لیکن ان کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا حتمی قانونی نتیجہ تو عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آئے گا، تاہم یہ معاملہ آر ٹی آئی کارکنوں کے کردار، عوامی احتساب اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن سے متعلق ایک اہم آئینی بحث ضرور کھول گیا ہے۔