گوہاٹی
گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام کے ایک مسلم شہری کو غیر ملکی قرار دینے والے فارنرز ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔جب کہ متعلقہ شخص نے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے 15 اہم دستاویزات پیش کئے تھے، جن میں 1951کا نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز، متعدد ووٹر لسٹیں، اسکول سرٹیفکیٹ، پین کارڈ اورووٹر آئی ڈی شامل تھے۔
جسٹس کلیان رائے سورنا اور جسٹس شمیمہ جہاں پر مشتمل بنچ نے منگل کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار امین الحق، فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 9 کے تحت اپنے اوپر عائد ثبوت کے بوجھ کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ اس قانون کے مطابق کسی بھی شخص کو خود ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ غیر ملکی نہیں بلکہ بھارتی شہری ہے۔
عدالت نے کہا کہ صرف زبانی گواہی کافی نہیں کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ درخواست گزار وہی شخص ہے جس کا نام 1990 اور بعد کی ووٹر لسٹوں میں درج ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ اگرچہ درخواست گزار نے 15 دستاویزات پیش کیے، لیکن یہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ وہ بھارتی شہری ہیں اور غیر ملکی نہیں۔درخواست گزار امین الحق، جو ایک یومیہ مزدور ہیں، نے 2019 میں فارنرز ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی افسر نے جانبدارانہ رپورٹ پیش کی تھی، اس کی بنیاد پر انہیں غیر ملکی قرار دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد، دادا اور خاندان کے دیگر افراد کے نام 1951 کےNRC میں ضلع گوالپارہ کے ایک گاؤں میں درج تھے۔ بعد میں دریائے برہم پترا کی کٹاؤ کی وجہ سے خاندان نے مختلف مقامات پر نقل مکانی کی، مگر ان کے نام 1966 سے ووٹر لسٹوں میں مسلسل موجود رہے۔
امین الحق نے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے 1951 NRC، 1966 سے 2017 تک کی ووٹر لسٹیں، 1973 کی زمین خریداری کی دستاویز، اسکول سرٹیفکیٹ، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی عدالت میں پیش کیے۔
فارنرز ٹریبونل نے کہا کہ دستاویزات میں کئی تضادات موجود ہیں۔ خاندان کے افراد کے نام مختلف جگہوں پر الگ الگ ہجے میں درج ہیں۔عمر کے اندراجات میں فرق پایا گیا۔ مختلف دستاویزات میں خاندان کے افراد تین الگ الگ دیہاتوں سے منسلک دکھائے گئے۔
ٹریبونل کا ماننا تھا کہ یہ ریکارڈ ایک مسلسل خاندانی سلسلہ ثابت نہیں کرتے۔گوہاٹی ہائی کورٹ نے بھی اسی بنیاد پر ٹریبونل کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (NLSIU)اور کوئین میری یونیورسٹی لندن کی 2025 کی ایک رپورٹ میں آسام کے فارنرز ٹریبونلز پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔
رپورٹ ”Unmaking Citizens” میں کہا گیا تھا کہ فارنرز ٹریبونل اکثر دستاویزی اور زبانی ثبوتوں کو مسترد کرتے ہیں، قانونی تحفظات ناکافی ہیں، اور یہ نظام شہریوں کو حقوق سے محروم کرنے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ موجودہ فارنرز ٹریبونل نظام کو ختم کرکے ایک ایسا نظام بنایا جائے جو قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں پر مبنی ہو۔
؎
