کلکتہ:انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے بعد ذات کے سرٹیفکیٹس کی بڑے پیمانے پر جانچ کے معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ ریاستی حکومت نے کلکتہ ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ 2011 کے بعد ووٹر شناختی کارڈ کی بنیاد پر جاری کیے گئے ذات کے سرٹیفکیٹس کی دوبارہ تصدیق کی جائے گی۔ تاہم پین کارڈ جیسے دیگر دستاویزات کی بنیاد پر جاری کیے گئے سرٹیفکیٹس کو اس عمل سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔
یہ معاملہ سی پی آئی (ایم) کی جانب سے دائر ایک عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جس میں ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت ایس آئی آر کے تناظر میں ذات کے سرٹیفکیٹس کی بڑے پیمانے پر دوبارہ جانچ کا حکم دیا گیا ہے۔
ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کا مطلب سرٹیفکیٹ کی منسوخی نہیں
سماعت کے دوران ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل نے واضح کیا کہ ایس آئی آر کے دوران کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے حذف ہوجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا ذات کا سرٹیفکیٹ خود بخود منسوخ ہوجائے گا۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر کسی شخص کا نام ایس آئی آر کے دوران انتخابی فہرست سے حذف کیا جاتا ہے تو صرف اسی بنیاد پر اس کا ذات کا سرٹیفکیٹ واپس نہیں لیا جائے گا۔
تاہم جب عدالت نے سوال کیا کہ کیا ایسے افراد کے سرٹیفکیٹس کو دوبارہ جانچ کے لیے پیش کیا جائے گا، تو ریاست کی جانب سے اس امکان کی تائید کی گئی۔ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ کسی شخص کا انتخابی فہرست سے نام حذف ہونا، موجودہ قانونی نظام کے تحت ذات کے سرٹیفکیٹ کی منسوخی یا دوبارہ جانچ کی براہ راست بنیاد نہیں بن سکتا۔عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ذات کے سرٹیفکیٹس کے اجرا، تصدیق اور منسوخی کے لیے قانون میں پہلے سے مقررہ طریقۂ کار موجود ہے اور اسی کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس نے ان دستاویزات کی تفصیلات طلب کی ہیں جن کی بنیاد پر مختلف افراد کو ذات کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے تھے۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت کو ایسی مثالوں کی اطلاع ملی ہے جہاں گھوش اور بوس جیسے سرناموں رکھنے والے افراد کو بھی ذات کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ریاست کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں یہ جانچ ضروری ہے کہ سرٹیفکیٹ جاری کرتے وقت متعلقہ دستاویزات اور قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی کی گئی تھی یا نہیں۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ محض کسی خاص سرنامے کا ہونا کسی شخص کے ذات کے دعوے کو غلط ثابت نہیں کرتا اور ہر معاملے میں قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
سی پی آئی (ایم) کا اعتراض: اجتماعی جانچ کیوں؟
سی پی آئی (ایم) کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ بکاس رنجن بھٹاچاریہ نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ذات کے سرٹیفکیٹس کی حقیقی اور مشتبہ معاملات میں دوبارہ جانچ کے خلاف نہیں ہے، لیکن 2011 سے جاری تمام سرٹیفکیٹس کو اجتماعی طور پر جانچ کے دائرے میں لانے پر اعتراض ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سرٹیفکیٹ کے بارے میں شکایت یا دھوکہ دہی کا کوئی مخصوص معاملہ سامنے آتا ہے تو موجودہ قانونی نظام کے تحت اس کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ لیکن محض ایک انتظامی حکم کی بنیاد پر گزشتہ کئی برسوں میں جاری کیے گئے تمام سرٹیفکیٹس کی دوبارہ جانچ نہیں کی جاسکتی۔بھٹاچاریہ نے عدالت میں کہا کہ قانون نے سرٹیفکیٹ کی منسوخی اور جانچ کا باقاعدہ طریقۂ کار مقرر کر رکھا ہے اور حکومت کو اسی طریقۂ کار پر عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے عدالت کو متنبہ کیا کہ اس طرح کی اجتماعی جانچ سے حقیقی مستحق افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور سماجی عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
عدالت نے پورے عمل پر روک لگانے سے گریز کیا
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ وہ ریاستی حکومت کے پورے سرکلر پر فوری طور پر روک لگانے کے حق میں نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے حقیقی طور پر مشتبہ معاملات میں کارروائی بھی رک سکتی ہے۔عدالت نے کہا کہ اگر کسی شخص کا ذات کا سرٹیفکیٹ واقعی مشکوک ہے تو حکام کو اس معاملے پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا اختیار برقرار رہنا چاہیے۔تاہم عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ 2011 یا اس کے بعد جاری کیے گئے سرٹیفکیٹس کی جانچ بھی قانون میں مقررہ اصولوں اور حفاظتی ضوابط کے تحت ہی کی جاسکتی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی گئی کہ ریاست نے صرف 2011 کے بعد جاری کیے گئے ذات کے سرٹیفکیٹس ہی نہیں بلکہ دوآرے سرکار‘ اسکیم کے ذریعے جاری کیے گئے سرٹیفکیٹس کو بھی جانچ کے لیے نشان زد کیا ہے۔درخواست گزار نے سوال اٹھایا کہ اگر قانون میں پہلے سے تصدیق اور منسوخی کا طریقۂ کار موجود ہے تو حکومت کو مخصوص سال یا کسی خاص اسکیم کے تحت جاری کیے گئے تمام سرٹیفکیٹس کی اجتماعی جانچ کا حکم دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
سماعت سے یہ بات واضح ہوئی کہ ریاستی حکومت ذات کے سرٹیفکیٹس کی دوبارہ جانچ کا عمل آگے بڑھانا چاہتی ہے، لیکن عدالت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی سرٹیفکیٹ کی منسوخی محض ایس آئی آر میں ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی۔2011 سے جاری سرٹیفکیٹس کو جانچ کے لیے منتخب کیے جانے کے باوجود ہر معاملے میں متعلقہ قانونی ضابطوں، شواہد اور مقررہ طریقۂ کار کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔
اس طرح معاملہ صرف انتخابی فہرست کی نظرثانی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات ذات کے سرٹیفکیٹس، سرکاری فوائد اور قانونی شناخت سے متعلق وسیع تر سوالاتتک پہنچ گئے ہیں۔ عدالت کے آئندہ احکامات اس بات کا تعین کریں گے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی یہ وسیع پیمانے کی جانچ کس حد تک قانونی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھ سکتی ہے۔
