پائیکار، بیر بھوم (مغربی بنگال): 18 اگست
طویل قانونی لڑائی، بے وطنی، گرفتاری اور ایک سال سے زیادہ عرصے کی جدوجہد کے بعد سوئیتی بی بی 8 جولائی کو آخرکار اپنے آبائی وطن مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع کے پائیکار گاؤں واپس پہنچ گئیں۔ لیکن وطن واپسی نے ان کی مشکلات ختم نہیں کیں۔آج بھی ان کے سامنے وہی سوال کھڑا ہے کہ گھر کہاں ہے، روزگار کہاں ہے اور بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا؟اس کے علاوہ سب سے اہم سوال اس کے سامنے یہ بھی ہے کہ کی وہ اپنی شہریت ثابت کرپائیں گیؤ۔
پائیکار میں اپنے والدین کے گھر بیٹھی سوئیتی بی بی جب گزشتہ سال پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتی ہیں تو ان کے چہرے پر خوف نمایاں ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ آگے بڑھاتی ہیں اور پھر گردن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیںکہ
’’بی ایس ایف کے بوٹوں کے نشانات آج بھی میرے جسم پر موجود ہیں۔‘‘
ان کا الزام ہے کہ جب انہیں اور ان کے بچوں کو بنگلہ دیش کی جانب دھکیلا جا رہا تھا تو انہوں نے بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں سے بار بار التجا کی کہ وہ بھارتی شہری ہیں، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔سوئیتی کے مطابق، انہوں نے اہلکاروں سے کہاکہ
’’ہم بنگلہ دیش کو نہیں جانتے۔ میں بھارتی شہری ہوں۔ آپ ہمیں آدھی رات کو اس گھنے جنگل میں کیوں چھوڑ رہے ہیں؟‘‘
ان کے بقول جواب ملا:
> ’’یہ بنگلہ دیش کی زمین ہے۔ ہم تمہیں یہاں چھوڑ رہے ہیں۔‘‘سوئیتی کا الزام ہے کہ جب انہوں نے دوبارہ سوال کیا تو اہلکاروں نے انہیں اور دیگر لوگوں کو لاتیں ماریں۔وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ سب کچھ اپنے بچوں کو بچانے کے لیے برداشت کیا۔
دہلی سے شروع ہوئی ایک طویل آزمائش
تقریباً آٹھ سال قبل سوئیتی بی بی اپنے شوہر عزیز ملا، والدہ نظیمہ بی بی اور دو کم عمر بیٹوں قربان اور ایمان کے ساتھ روزگار کی تلاش میں دہلی پہنچی تھیں۔خاندان کے پاس مستقل روزگار نہیں تھا۔ وہ دہلی کی سڑکوں سے پلاسٹک، کاغذ اور دیگر قابلِ استعمال کچرا جمع کرکے مقامی کباڑیوں کو فروخت کرتے تھے اور اسی سے گزر بسر ہوتی تھی۔تقریباً پانچ سال قبل سوئیتی کے شوہر لاپتہ ہوگئے۔ اس کے بعد سے وہ اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ تنہا زندگی گزار رہی تھیں۔پھر 17 جون 2025 کو ان کی زندگی ایک اور بڑے بحران سے دوچار ہوگئی۔
سوئیتی کے مطابق، دہلی پولیس نے ان کی جھونپڑی پر چھاپہ مارا اور انہیں اور ان کے بچوں کو حراست میں لے لیا۔ اسی کارروائی میں ان کی پڑوسی سونالی خاتون، ان کے شوہر دانش شیخ اور ان کے بیٹے صابر کو بھی حراست میں لیا گیا۔سوئیتی کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس کے ایک تھانے لے جایا گیا، جہاں ان پر بنگلہ دیشی شہری ہونے کا الزام لگایا گیا۔وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہوں نے پولیس کو اپنے شناختی دستاویزات دکھائے، لیکن اس کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔
سوئیتی کے مطابق
’’ہم سے کہا گیا کہ اگر تین لاکھ روپے دیں گے تو ہمیں چھوڑ دیا جائے گا۔ ہمارے پاس اتنی رقم کہاں سے آتی؟‘‘وہ یہ بھی الزام عائد کرتی ہیں کہ ان کی والدہ کو پولیس اسٹیشن کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور انکار کے بعد مبینہ طور پر ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا۔تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

دستاویزات کے باوجود ’غیر قانونی بنگلہ دیشی‘ قرار دینے کا الزام
بعد میں عدالت میں پیش کیے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق، فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس نے حراست میں لیے گئے افراد کو ان کے شناختی دستاویزات پیش کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر قرار دیا۔چند ہی دنوں میں انہیں دہلی سے گوہاٹی لے جایا گیا۔ اس کے بعد انہیں بی ایس ایف کی گاڑیوں کے ذریعے بین الاقوامی سرحد تک پہنچایا گیا اور مبینہ طور پر ایک ایسے مقام سے بنگلہ دیش کی جانب دھکیل دیا گیا جہاں سرحد پر باڑ موجود نہیں تھی۔یہ کارروائی 2 مئی 2025 کو مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ان ہدایات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتی ہے جن میں مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے سے قبل ان کی شناخت اور دعووں کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔رپورٹس کے مطابق، اس معاملے میں مغربی بنگال حکومت سے مبینہ طور پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
’ہم گھاس اور پتے کھا کر زندہ رہے‘
سوئیتی کے مطابق، بی ایس ایف اہلکاروں نے انہیں رات کے وقت ایک ویران جنگلاتی علاقے میں چھوڑ دیا اور واپس نہ آنے کی تنبیہ کی۔وہ اور دیگر افراد کئی دن تک سرحدی علاقے میں بے یار و مددگار رہے۔سوئیتی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس نہ مناسب کھانا تھا، نہ پانی اور نہ ہی رہنے کی کوئی جگہ۔’’ہم گھاس، نرم پتے اور ندی کا پانی پی کر زندہ رہے۔ رات کو کھلے آسمان کے نیچے سوتے تھے۔‘‘بعد میں مقامی بنگلہ دیشی دیہاتیوں نے انہیں کھانا اور کپڑے فراہم کیے۔سوئیتی کے مطابق، بعد میں بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے اہلکاروں نے انہیں دوبارہ ہندوستان کی جانب پہنچانے کی کوشش کی، لیکن بی ایس ایف نے انہیں پھر پکڑ لیا۔
وہ کہتی ہیںکہ ’’سونالی اور میں نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے خود کو ان کے آگے ڈھال بنا دیا۔ ہم نے مار کھائی تاکہ ہمارے بچوں کو کچھ نہ ہو۔ آج بھی وہ یادیں ہمیں خوفزدہ کرتی ہیں۔‘‘اس دوران سونالی خاتون حاملہ تھیں۔
بنگلہ دیش میں جیل اور بے وطنی
دوبارہ بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد یہ گروپ ایک دریا عبور کرکے بالآخر ڈھاکہ پہنچا۔دانش شیخ کو دیہاڑی مزدوری کا کام مل گیا، جبکہ خاندان کے افراد ریلوے اسٹیشنوں پر رات گزارنے اور سڑکوں پر مانگنے پر مجبور ہوئے۔بعد ازاں بنگلہ دیش پولیس نے انہیں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔سوئیتی کے مطابق، انہیں چپائنواز گنج جیل بھیج دیا گیا، جبکہ ان کے بڑے بیٹے قربان کو جیسور کی ایک جیل میں رکھا گیا۔یہیں سے مغربی بنگال میں ان خاندانوں کی صورتحال کی خبر سامنے آئی اور ان کی واپسی کے لیے آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔قانونی دستاویزات کے مطابق، خاندان کے افراد نے تین ماہ سے زیادہ عرصہ حراست میں گزارا۔یکم دسمبر 2025 کو چپائنواز گنج کے ایک مجسٹریٹ نے سونالی خاتون کی حمل کی حالت اور ان کے تین کم عمر بچوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام چھ افراد کی ضمانت منظور کرلی۔
مغربی بنگال میں احتجاج اور قانونی جنگ
بنگلہ دیش میں ہندوستانی شہریوں کے پھنسے ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد مغربی بنگال کے مختلف علاقوں میں احتجاج ہوا۔سونالی خاتون کے والد بھادو شیخ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی۔انہوں نے پائیکار کے 1952 کے زمین کے ریکارڈ، 2002 کی مرارائی ووٹر لسٹ میں خاندانی نام اور دیگر شناختی دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کیے۔26 ستمبر 2025 کو کلکتہ ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ حکام نے کارروائی میں غیر ضروری ’’جلد بازی‘‘سے کام لیا اور مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ چار ہفتوں کے اندر تمام چھ افراد کو واپس ہندوستان لایا جائے۔مرکزی حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور کلکتہ ہائی کورٹ کے دائرۂ اختیار پر سوال اٹھایا، کیونکہ کارروائی دہلی پولیس اور FRRO سے متعلق تھی۔
سپریم کورٹ: پہلے واپس لائیں، پھر شہریت کی جانچ کریں
24 نومبر 2025 کو چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی بنچ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ متاثرہ افراد کو پہلے ہندوستان واپس لایا جائے اور اس کے بعد ان کی شہریت سے متعلق دستاویزات کی جانچ کی جائے۔عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر خاندان کسی دوسرے ملک میں پھنسے ہوئے ہوں تو وہ وہاں رہتے ہوئے اپنی ہندوستانی شہریت کیسے ثابت کرسکتے ہیں۔سونالی خاتون کی حمل کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہیں اور ان کے آٹھ سالہ بیٹے صابر کو 5 دسمبر 2025 کو مالدہ کے راستے ہندوستان واپس لایا گیا۔ایک ماہ بعد، 5 جنوری 2026 کو سونالی نے رامپورہاٹ گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں ایک بیٹے کو جنم دیا۔تاہم سوئیتی، ان کے دو بیٹے اور دانش شیخ کی واپسی کا معاملہ بدستور زیرِ غور رہا۔
ایک سال بعد وطن واپسی
22 مئی 2026 کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ مرکزی حکومت سوئیتی اور دیگر افراد کی ہندوستان واپسی میں سہولت فراہم کرے گی، تاکہ ہندوستان میں ان کے شہریت کے دعووں کی جانچ کی جاسکے۔مرکزی حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ انسانی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے اور اسے اسی نوعیت کے دیگر ملک بدری کے معاملات کے لیے عمومی نظیر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔آخرکار جولائی 2026کو سوئیتی بی بی، ان کے دونوں بیٹے قربان اور ایمان اور دانش شیخ مالدہ کی مہدی پور لینڈ پورٹ کے راستے ہندوستان واپس پہنچے۔یہ ان کی ملک بدری کے ایک سال سے زیادہ عرصے بعد ہونے والی واپسی تھی۔لیکن وطن واپسی کے باوجود ان کی زندگی معمول پر نہیں آسکی۔
’نہ گھر ہے، نہ روزگار، اکثر دو وقت کا کھانا بھی نہیں‘
پائیکار کے فقیر پاڑہ میں سوئیتی بی بی آج اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہیں۔وہ کہتی ہیںکہ ’’ہمارے پاس نہ گھر ہے، نہ روزگار اور نہ ہی مستقل آمدنی۔ کئی بار پیٹ بھرنے کے لیے کھانا بھی نہیں ہوتا۔ میں اپنے بچوں کی پرورش کیسے کروں؟ مجھے ملازمت چاہیے۔‘‘سونالی خاتون کا 14 افراد پر مشتمل وسیع خاندان ایک خستہ حال مکان کے صرف دو چھوٹے کمروں میں رہ رہا ہے۔
سرکاری فلاحی اسکیموں تک ان کی رسائی بھی غیر یقینی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بائیومیٹرک عدم مطابقت کی وجہ سے خاندان کو پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (PDS) کے تحت سبسڈی والے اناج سے محروم ہونا پڑا، حالانکہ یہی شناختی دستاویزات عدالت میں ان کے ہندوستانی شہریت کے دعوے کی حمایت میں پیش کی گئی تھیں۔انہیں اسٹیٹ مائیگرنٹ ویلفیئر بورڈ سے بھی مبینہ طور پر اس بنیاد پر مدد نہیں مل سکی کہ دہلی منتقل ہونے سے قبل انہوں نے وہاں رجسٹریشن نہیں کرائی تھی۔خستہ حال مکان کی جگہ سرکاری ہاؤسنگ اسکیم کے تحت گھر فراہم کرنے کی درخواستوں پر بھی اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔مقامی ضلع پریشد کے ایک اہلکار کی جانب سے مبینہ طور پر دو لاکھ روپے کی یکمشت امداد کے علاوہ خاندان کو کوئی مستقل سرکاری مدد حاصل نہیں ہوئی۔

اب سوئیتی کی ایک ہی خواہش ہے
سوئیتی بی بی اپنے تین بچوں کے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچوں کو تعلیم ملے، انہیں کوئی روزگار حاصل ہو اور خاندان کو سرکاری ہاؤسنگ اسکیم کے تحت ایک محفوظ گھر مل سکے۔ایک سال سے زیادہ عرصے تک ملک بدری، سرحد پر مشکلات، جیل، بے گھری اور عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بعد وہ اپنے وطن واپس تو آگئی ہیں، لیکن ان کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ان کے لیے ہندوستان واپسی منزل نہیں بلکہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔
سوئیتی، سونالی اور دانش شیخ کی کہانی یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ اگر کسی شخص کو قانونی لڑائی کے بعد اپنے ملک واپس آنے کا حق مل جائے، تو کیا صرف وطن واپسی ہی اس کی مشکلات کا خاتمہ ہے؟سوئیتی کے لیے جواب واضح ہےکہ ’’ہم واپس تو آگئے ہیں، لیکن اب ہمیں زندہ رہنے کے لیے لڑنا ہے۔‘‘
بشکریہ : دی وائر
