کلکتہ :
شمالی کلکتہ کے وارڈ نمبر 6میں واقع جیوتی نگر کالونی جہاں مسلمانوں کی 5000ہزار کے قریب آبادی ہے۔ایک مہینے بعد بھی پانی کی سپلائی بحال نہیں ہوسکی ہے اور مقامی لوگوں کو اب تک یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر ان کا قصور کیا ہے اور نہ انتظامیہ کی جانب سے اس سے متعلق کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔پانی کی سپلائی نہیں ہونے کی وجہ سے مقامی افراد گنگا کے پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں ۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ روز مرہ کی زندگی کیلئے انہیں گنگا ندی پر انحصار کرنا پڑرہا ہے ۔بچوںکو نہانے کیلئے گنگا ندمی میں جانا پڑتا ہے ۔جب کہ بچوں کو تیرنابھی نہیں آتا ہے اور ہر وقت حادثہ کا خوف رہتا ہے۔
جیوتی نگر کالونی کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے تحت کاشی پور علاقے کے وارڈ نمبر 6 میں واقع ہے۔ تقریباً 5000افراد گزشتہ چھ دہائیوں سے اس کالونی میں مقیم ہیں۔ رہائشیوں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے، جبکہ ہندو خاندانوں کی بھی ایک چھوٹی تعداد اس علاقے میں رہتی ہے، جسے مقامی طور پر ملا پاڑہ یا مسلم کالونی کہا جاتا ہے۔
بہت سے رہائشی انتہائی معمولی اجرت پر تعمیراتی مزدور کے طور پر یا بوتل پگھلانے والے یونٹوں میں کام کرتے ہیں۔
انگریزی ویب سائٹ ’’مکتوب ڈاٹ کام ‘‘ سے بات کرتے ہوئے جیوتی نگر کالونی کی 60 سالہ رہائشی سرسوتی بسواس نے کہاکہ برسوں سے دونوں ہندو اور مسلم برادریوں کے غریب لوگ ایک دوسرے کی مشکلات کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن یہ بحران ہمارے لیے بالکل نیا ہے۔کالونی میں پانی کے چھ نلکے ہیں، جن میں 29 جولائی سے پانی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے۔ رہائشیوں کا الزام ہے کہ جہاں ان کے نلکے خشک پڑے ہیں، وہی اسی سڑک پر واقع ہندو اکثریتی کالونیوں کے نلکوں میں پانی کی فراہمی مسلسل جاری ہے۔
مکتوب کی رپورٹ کے مطابق کلکتہ میونسپل کاپوریشن کے اہلکار 27 جولائی کو کالونی میں پانی کی پائپ لائن کی مرمت کے لیے آئے تھے۔ کارکنوں نے 29 جولائی تک مرمت کا کام جاری رکھا اور رہائشیوں کو اس دن پانی ملا۔ تاہم اسی دن رات تقریبا 11:30 بجے انہوں نے اچانک دیکھا کہ پانی کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے اگلے دن پولیس اور میونسپل کارپوریشن کے دفتر سے رابطہ کیا لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل نہیں ملا۔ اگلے دن، کالونی کی سڑکوں کی بجلی بھی کاٹ دی گئی۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آلودہ ندی کا پانی استعمال کرنے کی وجہ سے کئی بچوں کو بخار، سر درد اور جلد کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ بہت سے لوگ گھاٹ کے کیچڑ بھرے اور پھسلن والے زینوں پر پھسل کر شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر بزرگوں، بصارت سے محروم افراد اور معذور افراد کے لیے انتہائی خطرناک ہے، جو نہانے اور دیگر روزمرہ کی ضروریات کے لیے ندی کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
رہائشیوں نے مزید شکایت کی کہ اسٹریٹ لائٹس کاٹنے سے بچوں کی حفاظت مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ 15 سالہ اسکول کی طالبہ اسما خاتون نے بتایا کہ پانی کے بحران کی وجہ سے وہ اسکول نہیں جا پارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران نے ان کی پڑھائی کو شدید متاثر کیا کیونکہ یہ ان کے امتحانات کے دنوں میں شروع ہوا۔ یہاں تک کہ جھگی جھونپڑی کے اسکول کو بھی پانی کا کنکشن نہیں دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “سڑکوں سے لائٹس کاٹنا کالونی کی خواتین کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ تھا۔سرسوتی بسواس نے کہاکہ ہندو-مسلم سیاست کر کے بی جے پی غریب لوگوں کو ہراساں کر رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس طویل آبی بحران کی وجہ سے جھگی کا ہر رہائشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سی پی آئی (ایم) نے ‘پچھم بنگا بستی اونین کمیٹی کے ساتھ مل کر ہر تین سے چار دن میں ایک بار کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے ذریعے پینے کے پانی کا انتظام کرنے کی کوشش کی ہے۔
سی پی آئی (ایم) کے مقامی برانچ سکریٹری عالمگیر بسواس نے کہاکہ ہم 700 روپے ادا کر کے KMC کے واٹر ٹینکر بک کر رہے ہیں۔ لیکن تین سے چار دن کے وقفے سے پانی کا ایک ٹینکر 500لوگوں کے لیے کافی نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا، “پولیس کو اطلاع دے دی گئی ہے اور کارپوریشن کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا ہے۔ اب تقریباً ایک مہینہ ہو چکا ہے۔”انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے بدھ کے روز کالونی کی اسٹریٹ لائٹس کو بحال کرنے کے لیے فعال طور پر کام کیا ہے۔
اس علاقے سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر سمن سنگھ کونسلر منتخب ہوئیں تھیں چوںکہ کلکتہ کارپوریشن میں بورڈ کو تحلیل کردیا گیا ہے۔اس لئے ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ۔تاہم سابق کونسلر ہونے کی حیثیت سے بھی وہ اس علاقے کا دورہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔
رہائشیوں نے اس آبی بحران کو بی جے پی کے ممبر اسمبلی رتیش تیواری کے مبینہ بیانات سے جوڑرہے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ ان اقلیتوں کے لیے کام نہیں کریں گے جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔
ڈی وائی ایف آئی کے کارکن ملن بسواس نے کہاکہ بی جے پی ایم ایل اے رتیش تیواری نے اس سے قبل ایک پارٹی اجلاس میں اس بستی کے لوگوں کو غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کہا تھا۔ ان کی یہ تقریر کہ وہ اقلیتوں کے لیے کام نہیں کریں گے، آن لائن وائرل ہوئی تھی۔ وہ یقیناً اپنے الفاظ پر عمل کر رہے ہیں۔
بستی کے رہائشیوں کو بے دخلی (گھروں کو توڑنے) کی مہم کا بھی ڈر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی بی جے پی کارکنان انہیں بے دخلی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی فتح کے بعد سڑک کے تاجروں اور بستی کے رہائشیوں کو بے دخل کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔
سرسوتی بسواس نے کہاکہ میں پچھلے 60 سالوں سے یہاں رہ رہی ہوں۔ یہ بستی ہی میری سب کچھ ہے۔ میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی۔”
صحافی اور کالم نگار ارکا بھادوری نے کہا کہ”جیوتی نگر کالونی کے رہائشیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہندوستانی جمہوریت کے لیے باعثِ شرم ہے۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔ انہیں اس ناقابل تصور گی ی صورتحال سے صرف اس لیے گزرنا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔کلکتہ کی سول سوسائٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ ’’یہ ہم سب کے لیے شرم کی بات ہے کہ کلکتہ اور بنگال کی سول سوسائٹی سڑکوں پر نہیں اتری۔ یہ بلاشبہ اس اندرونی اسلاموفوبیا (مسلمانوں سے بغض) کو ظاہر کرتا ہے جو ہم سب کے اندر موجود ہے۔
پانی کی کٹوتی کی وجہ سے مسجد جانے والے نمازی بھی وضو کرنے سے قاصر تھے۔
بے دخلی کے خوف کے درمیان، ‘پچھم بنگا بستی اونین کمیٹی نے بستی کو بچانے کے لیے عدالت کا رخ کیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے شمیم احمد اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں اور انہوں نے بتایا کہ گروپ نے بے دخلی کے خلاف اسٹے آرڈر (حکمِ امتناعی) حاصل کر لیا ہے۔تاہم، یہ بستی اب بھی پانی کے بغیر ہی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
