نیویارک: ایجنسی
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے نیویارک میں منعقدہ ایک بین المذاہب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص خود کو ہندو کہتا ہے لیکن یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو بھارت سے نکال دیا جانا چاہیے، وہ ہندو نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی وحدت کے بارے میں ہندو روایت میں کسی مذہبی برادری کو ملک سے بے دخل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
بھاگوت نے ہفتے کے روز نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقدہ ‘ پروگرام سے خطاب کیا۔ تقریب میں مختلف مذاہب، بالخصوص ہندو مت، اسلام، عیسائیت اور یہودیت سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں 2018 کی اپنی لیکچر سیریز کا حوالہ دیتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ اس وقت بعض مسلم افراد نے ان سے سوال کیا تھا کہ اگر وہ ’’ہندو راشٹر‘‘ کی بات کرتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو بھارت سے باہر نکال دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے کہا تھا کہ نہیں، یہ ہندوتوا نہیں ہے۔ اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ بھارت میں کوئی مسلمان نہیں ہونا چاہیے تو وہ ہندو نہیں رہے گا۔ اگر آپ خود کو ہندو کہنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ ماننا ہوگا کہ تمام راستے ایک ہی منزل کی طرف جاتے ہیں اور ہر انسان کا اپنا وقار ہے۔ انسانوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔‘‘
’’تنوع اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں‘‘
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ہندو روایت کے مطابق مختلف مذاہب خدا یا حقیقت کی تلاش کے الگ الگ راستے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت نے تاریخی طور پر مختلف مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کو بھی پناہ دی جنہیں دنیا کے دوسرے حصوں میں تحفظ نہیں ملا۔
تاہم بھاگوت نے اعتراف کیا کہ ’’ماضی کے کچھ بوجھ‘‘ نے مختلف برادریوں کے درمیان کشیدگی پیدا کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ مذہبی اور ثقافتی تنوع انسانوں کے بنیادی اتحاد کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے مزید خوبصورت بناتا ہے۔
بھاگوت کے مطابق، ’’تنوع ہمارے اندرونی اتحاد کا زیور ہے۔ اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ جس طرح میں اپنی مخصوص فطرت کی حفاظت کرتا ہوں، اسی طرح مجھے دوسروں کی مخصوص شناخت اور فطرت کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔ تنوع قدرت کا قانون ہے اور اتحاد قدرت کے پیچھے کی حقیقت ہے۔‘‘
’’سیاست سے نہیں، معاشرے سے تبدیلی شروع ہوگی‘‘
بھاگوت نے کہا کہ آر ایس ایس سماجی طاقت پیدا کرنے اور بالآخر عوامی رائے کے ذریعے پالیسی اور سیاست پر اثر انداز ہونے کی خواہش رکھتی ہے، لیکن یہ عمل براہِ راست سیاست سے شروع نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم پالیسیوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، ہم جنگیں روکنا چاہتے ہیں، اسی لیے ہم سیاست کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اس کام کی شروعات سیاست سے نہیں کر سکتے۔‘‘
ان کے مطابق آج کی سیاست بڑی حد تک ذاتی مفاد کا کھیل بن چکی ہے۔
بھاگوت نے کہا، ’’جہاں ’میں اور میرا‘ ہے، وہاں کوئی حل نہیں ہے۔ ’ہم اور ہمارا‘ ہی حل ہے۔‘‘
انہوں نے بھارت میں آر ایس ایس کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سماجی سطح پر لوگوں کے درمیان رابطہ اور اعتماد پیدا کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ 2018 کی لیکچر سیریز کے بعد شروع ہونے والے مکالمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’بات چیت پہلا قدم ہے اور خدمت دوسرا۔‘‘
چرخی دادری فضائی حادثے کا حوالہ
آر ایس ایس سربراہ نے 1996 کے چرخی دادری فضائی حادثے کا بھی حوالہ دیا، جس میں سعودی عربین ایئرلائنز اور قازقستان ایئرلائنز کے دو طیارے فضا میں ٹکرا گئے تھے۔
بھاگوت نے کہا کہ اس حادثے کے بعد آر ایس ایس کے کارکن امدادی سرگرمیوں اور متاثرین کی آخری رسومات کے انتظام میں پیش پیش رہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے یہ نہیں سوچا کہ متاثرین مسلمان ہیں۔ اگر ہم سیاست میں ہوتے تو شاید ہم ایسا نہ کر پاتے۔‘‘
بھاگوت نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس ایسے سماجی کاموں کے لیے شہرت یا تشہیر کی خواہش نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے بارے میں پائی جانے والی بعض غلط فہمیاں ’’غلط بیانیوں‘‘ کا نتیجہ ہیں، تاہم ان کے بقول اگر لوگ تنظیم کو قریب سے دیکھیں تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں۔
’’عوامی رائے سیاست کو متاثر کرتی ہے‘‘
بھاگوت نے کہا کہ جمہوریت میں سیاست بالآخر عوامی رائے پر منحصر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر کسی معاملے پر مضبوط عوامی رائے موجود ہو تو کوئی بھی سیاست دان اس کے خلاف جانے کی جرأت نہیں کرے گا۔‘‘
انہوں نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک ساتھ لانے اور ان کے درمیان بنیادی انسانی وحدت کو سمجھنے کی کوشش کو ایک ’’دائمی کام‘‘ قرار دیا۔
بھاگوت نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو یہ پیغام وسیع پیمانے پر انسانیت تک پہنچانا ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ کام مشکل، محنت طلب اور وقت لینے والا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات مسلمان اور عیسائی ان سے کہتے ہیں کہ کئی مرتبہ ملاقات کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس پر ان کا جواب ہوتا ہے کہ ’’بیٹھتے رہو، کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔‘‘
بھاگوت کے مطابق اگر مقصد نیک اور حقیقی ہو تو کمیوں کو دور کرتے ہوئے آگے بڑھا جا سکتا ہے اور اس کوشش کو نسلوں تک جاری رکھنا ہوگا۔
نائجیریا کے کیتھولک رہنما کی بھی شرکت
کانفرنس کے مقررین میں نائجیریا کے معروف کیتھولک مذہبی رہنما کارڈینل جان اولورونفیمی اونائیکان بھی شامل تھے، جو 1994 سے 2019 تک ابوجا کے آرچ بشپ رہے۔
اونائیکان نے بھی مذہبی تنازعات کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ میں اسلام اور عیسائیت کے پھیلاؤ کی تاریخ میں مذہب کی تبدیلی اور اثر و رسوخ کے لیے مسابقت کا عنصر موجود رہا ہے، جس کے اثرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ماضی کا بہت سا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہمیں اسے اتار پھینکنے کی ضرورت ہے۔‘‘
اونائیکان نے مذہبی برادریوں کی جانب سے دوسروں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کی مسلسل کوششوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو اپنے اپنے مذہبی صحائف اور روایات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس تصور سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ ہر مذہبی برادری کا مقصد پوری دنیا کو اپنے پیروکاروں میں تبدیل کرنا ہے۔
ان کے مطابق مذہبی اختلافات کو اس مقام تک نہیں پہنچنا چاہیے جہاں لوگ ایک دوسرے کو اس وقت تک قتل کرتے رہیں جب تک سب ایک ہی مذہب اختیار نہ کر لیں۔
زوہران ممدانی نے آر ایس ایس کے پروگرام کی مخالفت کی تھی
موہن بھاگوت کے نیویارک پروگرام سے قبل نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے آر ایس ایس کے نظریے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس پروگرام کی حمایت نہیں کرتے۔
ممدانی نے آر ایس ایس کے نظریے کو ’’تفریق پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بھارت کے اس کثیرالمذہبی، سیکولر اور تکثیری تصور کے برخلاف ہے جس میں وہ پلے بڑھے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ یہ ایک نجی تقریب ہے، اس لیے انہیں معلوم نہیں کہ نیویارک شہر کے پاس اسے منسوخ کرنے کا قانونی اختیار ہے یا نہیں۔
بھاگوت کا نیویارک دورہ آر ایس ایس کے صد سالہ سال کے سلسلے میں جاری عالمی رابطہ مہم کا حصہ ہے۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والے پروگرام میں تقریباً 5,000 افراد کی شرکت متوقع تھی۔
