اسکول کے بچوں نے ۱۲ اگست کو نئی دہلی میں یوم آزادی سے قبل کارتویہ پاتھ پر انڈیا گیٹ کے قریب ایک ریلی کے دوران قومی پرچم لہرایا۔ | اے ایف پی
قوم پرستی کا ظاہری اور علامتی مظہر اس بات کا پیمانہ نہیں ہے کہ کسی شخص کی ریاست سے وفاداری کتنی گہری ہے۔
سمنوی نارنگ
’’توہینِ قومی وقار (ترمیمی) ایکٹ، 2026‘‘، جسے منگل کے روز صدرِ مملکت کی توثیق حاصل ہو گئی ہے، کے تحت ’’وندے ماترم‘‘ کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کی توہین کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ قانون ایک انتہائی سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے: کیا جمہوری نظام میں ملک سے وفاداری کا فیصلہ آئینی اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی بنیاد پر ہونا چاہیے، یا ان اقدامات کی بنیاد پر جنہیں قانونی طور پر ’’حب الوطنی‘‘ قرار دے دیا گیا ہو؟
منگل کے روز حکومت نے اعلان کیا کہ 15 اگست کو لال قلعہ پر یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران ’’وندے ماترم‘‘ گایا جائے گا۔
نئے قانون کے ذریعے 1971 کے توہینِ قومی وقار ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ ’’وندے ماترم‘‘ کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ 1875 میں لکھا جانے والا یہ گیت طویل عرصے سے بھارت کے لیے تحریک کا باعث رہا ہے۔ کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وندے ماترم احترام کا مستحق نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ’’وندے ماترم‘‘ کا احترام قانون کی پابندی بنا دیا جانا چاہیے؟
جنوری 1950 میں آئین ساز اسمبلی، جو بھارت کا دستور وضع کرنے کے لیے تشکیل دی گئی تھی، نے تحریکِ آزادی میں اس گیت کے تاریخی کردار کے پیشِ نظر ’’جن گن من‘‘ کو قومی ترانے اور ’’وندے ماترم‘‘ کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا۔ آئین ساز اسمبلی نے شعوری طور پر قومی ترانے اور قومی گیت کے درمیان فرق رکھا تھا۔
اسمبلی کے ارکان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ اگرچہ قوم پرستی کے تناظر میں ’’وندے ماترم‘‘ بڑی اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس گیت کے کچھ حصوں میں ایسے مذہبی استعارے شامل ہیں جن سے بعض کمیونٹیز کے لیے خود کو ہم آہنگ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یکسانیت مسلط کرنے کے بجائے اسمبلی نے لچک کا راستہ اختیار کیا۔ نئے قانون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قومی علامتوں کے لیے بنائے گئے دیگر قوانین کی طرز پر اس قومی گیت کے حوالے سے بھی یہ توازن متزلزل ہو جائے گا، جہاں خلاف ورزی پر فوجداری سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
آئین ساز اسمبلی کے مباحثوں کے دوران چیئرمین ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے اسی صورتِ حال کا اندازہ لگا لیا تھا جس کا سامنا آج بھارت کو ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’آئینی اخلاقیات کوئی قدرتی جذبہ نہیں ہے، اسے پروان چڑھانا پڑتا ہے۔‘‘
ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ اس طرح کے اخلاقی رویوں کے فقدان پر سزا دینے کے لیے قانون بنانا ان کے فروغ کا مثالی طریقہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس، یہ قدریں تعلیم اور سماجی سطح پر دلیل و فہم کے ذریعے پروان چڑھتی ہیں۔ قوانین لوگوں کو ان کی پابندی پر مجبور تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ دل میں آئین کے لیے سچی عقیدت پیدا نہیں کر سکتے۔
پچھلے 10 برسوں کے دوران عوامی مباحثوں کا رخ اس بات پر زیادہ مرکوز رہا ہے کہ حب الوطنی کا عملی مظاہرہ کیسے کیا جائے اور اسے آئینی وفاداری کی دلیل کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 2016ء میں سپریم کورٹ نے سنیما گھروں میں فلم شروع ہونے سے پہلے قومی ترانہ بجانے کا حکم دیا تھا، تاہم دو سال بعد اس فیصلے کو اختیاری کر دیا گیا۔ یہاں لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری سے ہٹ کر ریاست کی طرف سے شہریوں پر حب الوطنی کا ظاہری اظہار کرنے کے لیے دباؤ بڑھنے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
اس معاملے میں بھارت تنہا نہیں ہے۔ اسٹیون لیویٹسکی اور ڈینیئل زیبلاٹ کی تصنیف ’’ہاؤ ڈیموکریسیز ڈائی‘‘ اور ٹام گنزبرگ اور عزیز حق کی تصنیف ’’ہاؤ ٹو سیو اے کانسٹی ٹیوشن‘‘ کے مطابق جمہوریت کا زوال ایک ایسا تدریجی عمل ہے جو انتظامی اختیارات کو وسعت دینے اور اختلافِ رائے کے لیے دستیاب جگہ کو محدود کرنے کے لیے قوانین کا سہارا لیتا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں جمہوری مطابقت مسلط کرنے کے لیے علامتی قوم پرستی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کاغذ پر بھارتی سپریم کورٹ نے قومی علامتوں کو زبردستی کے آلے کے طور پر استعمال کیے جانے کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ 1986ء کے مقدمے ’’بیجو ایمانوئل بنام ریاستِ کیرالہ‘‘ میں عدالت کے فیصلے نے ضمیر کی آزادی کے اصول کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ مقدمہ ’’یہوواہ کے گواہ‘‘ مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ سے متعلق تھا جنہیں قومی ترانہ گانے سے گریز کرنے، لیکن اس کے احترام میں باوقار انداز میں کھڑے رہنے پر اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ان کا مذہب انہیں صرف یہوواہ کی عبادت کی اجازت دیتا ہے اور وہ کسی دوسری ہستی کی علامتی تعریف یا ستائش کی اجازت نہیں دیتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملک سے محبت کو زبردستی مسلط کیے گئے افعال سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اس فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دراصل آئین سے وفاداری ہی بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اختلافِ رائے بھی آئینی آزادیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے قابلِ قبول ہے۔
’’توہینِ قومی وقار (ترمیمی) ایکٹ، 2026‘‘ نہ صرف اپنے مقاصد بلکہ اس کی قانونی مسودہ سازی کے حوالے سے بھی گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔
یہ ترمیم ایسے شخص کو مجرم قرار دیتی ہے جو ’’وندے ماترم‘‘ کی گائیکی میں ’’جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالتا ہے یا اس میں مصروف مجمع کے لیے خلل کا باعث بنتا ہے‘‘، لیکن یہ قانون کہیں بھی اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ ایسی رکاوٹ یا خلل سے کیا مراد ہے۔ اس سے یہ ابہام پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس قانونی ذمہ داری کا اطلاق صرف جسمانی خلل تک محدود ہے یا اس میں خاموش عدم شرکت، احتجاج، تقریر یا اظہارِ خیال کی دیگر شکلیں بھی شامل ہوں گی؟ کیا ’’وندے ماترم‘‘ گانے سے کسی شخص کا خاموش انکار اس زمرے میں آئے گا کہ اس نے جان بوجھ کر اس کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالی ہے؟ کیا اس کی گائیکی کے دوران پُرامن احتجاج کرنا کسی خلل کے مترادف ہوگا؟
2015ء میں ’’شریہ سنگھل بنام یونین آف انڈیا‘‘ کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66A کو، دیگر وجوہات کے ساتھ، اس لیے کالعدم قرار دیا تھا کہ وہ مبہم اور حد سے زیادہ وسیع تھی۔ عدالت نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ غیر واضح مجرمانہ ضوابط قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضرورت سے زیادہ صوابدیدی اختیارات دے دیتے ہیں، جس سے محفوظ اظہارِ رائے پر گہرا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
یہاں بھی بالکل ایسا ہی خدشہ سر اٹھاتا ہے۔ ’’وندے ماترم‘‘ کی گائیکی میں ’’جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے‘‘ یا ’’خلل پیدا کرنے‘‘ کے لیے کسی واضح قانونی حد کے بغیر یہ نیا قانون شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، دونوں کو مجرمانہ گرفت کے دائرۂ کار کے بارے میں شدید بے یقینی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
1971ء کا اصل توہینِ قومی وقار ایکٹ قانون سازی میں اعتدال اور ضبط کا مظہر ہے۔ پارلیمنٹ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ قومی وقار کا تحفظ جمہوری اظہارِ آزادی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
اس قانون کے مقاصد اور وجوہات کے بیان میں واضح طور پر درج ہے کہ اس کا مقصد قومی علامتوں پر دیانت دارانہ اور نیک نیتی پر مبنی تنقید پر پابندی لگانا نہیں ہے۔ یہ قانون یہاں تک اجازت دیتا ہے کہ لوگ آئین اور قومی پرچم میں تبدیلیوں کی تجویز بھی دے سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ تبدیلیاں قانونی طریقوں کے مطابق ہوں۔ موجودہ نئے قانون میں اس طرح کا کوئی حفاظتی نکتہ یا استثنا شامل نہیں ہے۔ اس طرح کی محدود کرنے والی زبان کے فقدان کی وجہ سے جرم کا دائرۂ کار بڑی حد تک انتظامی تشریح پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
وندے ماترم کا بھرپور احترام کیا جانا چاہیے، لیکن کیا اس احترام کو نافذ کرنے کے لیے فوجداری قوانین کا سہارا لیا جانا چاہیے؟ ایک آئینی جمہوریت میں سب سے بڑی وفاداری خود آئین اور اس کی بنیادی اقدار، یعنی آزادی، مساوات، بھائی چارے اور انصاف کے ساتھ ہوتی ہے۔ جب قومی علامتوں سے وابستگی کو تعزیری سزاؤں کے خوف کے تحت جوڑا جائے تو وہ شہری مطابقت کا ایک زبردستی تھوپا گیا مظہر بن کر رہ جاتی ہے۔
کوئی بھی جمہوری اور آئینی نظام اپنی طاقت اس بات سے حاصل نہیں کرتا کہ وہ شہریوں کے لیے حب الوطنی کے اظہار کا کوئی مخصوص طریقہ مسلط کرے، بلکہ اس کی اصل طاقت اس آزادی کے تحفظ میں پوشیدہ ہے جو وہ شہریوں کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کے اظہار یا عدم اظہار کے لیے فراہم کرتا ہے۔ آئین اس لیے قابلِ احترام اور وفاداری کے لائق ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کی حفاظت کرتا ہے، بشمول ان لوگوں کے جن کا حب الوطنی کا انداز نسبتاً کم جوش و خروش والا ہی کیوں نہ ہو۔
(مصنفہ سمنوی نارنگ، جندل گلوبل لا اسکول، او پی جندل گلوبل یونیورسٹی میں قانون کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔)
