نئی دہلی
وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے معاملے پر استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نوجوانوں کی قیادت میں طلبہ تنظیمیں ایک ماہ سے زائد عرصے سے نئی دہلی میں احتجاج کر رہی ہیں۔ 20 مئی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
نوجوانوں (جنریشن زیڈ) کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کے استعمال کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔ ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ اقتدار میں اسے اب تک کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی اہم اپوزیشن جماعتوں نے بھی ان مسلسل جاری احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اور گرفتاریاں پیش کیں، جس کے باعث وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے کا مطالبہ مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ایسے وقت میں جب دنیا کی متعدد جمہوری ریاستوں میں غیر مقبول حکومتیں یا متنازع وزراء عوامی دباؤ کے باعث استعفیٰ دے دیتے ہیں یا انہیں برطرف کر دیا جاتا ہے، بھارت میں دھرمیندر پردھان بدستور اپنے منصب پر برقرار ہیں۔
بھارتی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ کوئی حیران کن بات نہیں، بلکہ یہ نریندر مودی کے تقریباً بارہ سالہ دورِ حکومت کا ایک مستقل طرزِ عمل بن چکا ہے، جس میں انہوں نے شدید تنازعات کے باوجود متعدد وزراء کے استعفے یا برطرفی کے عوامی مطالبات کو بارہا نظر انداز کیا ہے۔
مہیش شرما
2014 میں اقتدار سنبھالنے کے تقریباً ایک سال بعد، اتر پردیش کے ضلع دادری کے گاؤں بساہڑا میں 50 سالہ مسلم لوہار محمد اخلاق کو ایک مشتعل ہجوم نے اس شبہے میں گھر سے گھسیٹ کر قتل کر دیا کہ اس نے گائے ذبح کی ہے اور اس کا گوشت اپنے فریج میں رکھا ہوا ہے۔ بھارت میں ہندو مذہب کے پیروکار گائے کو مقدس مانتے ہیں اور بیشتر ریاستوں میں اس کے ذبح پر پابندی عائد ہے۔
28 ستمبر 2015 کی رات پیش آنے والا محمد اخلاق کا قتل گائے کے نام پر ہجومی تشدد (Mob Lynching) کے اس سلسلے کا آغاز ثابت ہوا، جس نے بعد ازاں ملک بھر میں شدید احتجاج کو جنم دیا۔
اس وقت کے ثقافت اور سیاحت کے وزیر مہیش شرما، جو اسی پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتے تھے، نے اس قتل کو محض “ایک حادثہ” قرار دیا۔ ان کے اس بیان پر مسلم تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا، تاہم انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا اور مودی کابینہ کا حصہ بنے رہے۔
ایک سال بعد مہیش شرما بساہڑا پہنچے اور روی سسودیا کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، جو محمد اخلاق قتل کیس کے 18 ملزمان میں شامل تھا اور گردے اور سانس کی بیماری کے باعث انتقال کر گیا تھا۔ اس موقع پر سامنے آنے والی تصاویر، جن میں شرما قومی پرچم میں لپٹے سسودیا کے تابوت کے سامنے تعظیم کرتے دکھائی دیے، نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کی برطرفی کے مطالبات مزید زور پکڑ گئے۔
متعدد اسپتالوں کے مالک مہیش شرما کو بالآخر 2019 میں مودی حکومت کی دوسری مدت کے آغاز پر کابینہ سے باہر کر دیا گیا، تاہم وہ آج بھی بی جے پی کے رکنِ پارلیمان ہیں۔
اسمرتی ایرانی اور بندارو دتاتریہ
محمد اخلاق کے قتل کے چند ماہ بعد، 17 جنوری 2016 کو حیدرآباد یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل کے کمرے سے 26 سالہ دلت پی ایچ ڈی اسکالر روہت ویمولا کی لاش برآمد ہوئی۔
اس سے قبل روہت ویمولا اور چار دیگر دلت طلبہ کو مبینہ طور پر آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی (ABVP) کے ایک رہنما پر حملے کے الزام میں ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا اور ان کے ماہانہ وظیفے بھی بند کر دیے گئے تھے۔
چونکہ یہ طلبہ نجی رہائش کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس لیے انہوں نے یونیورسٹی کیمپس میں خیمہ لگا کر بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ ان کا الزام تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ کارروائی اُس وقت کے مرکزی وزراء اسمرتی ایرانی اور بندارو دتاتریہ کے خطوط کے دباؤ میں آکر کی۔
کیمپس میں کشیدگی بڑھنے کے بعد روہت ویمولا نے خودکشی کر لی۔ ان کا خودکشی نوٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد ملک بھر میں طلبہ تحریکیں شروع ہوئیں اور دونوں وزراء سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔
سابق ٹی وی اداکارہ اور اس وقت کی وزیرِ تعلیم اسمرتی ایرانی کو پارلیمنٹ میں روہت ویمولا کی موت سے متعلق مبینہ طور پر گمراہ کن بیانات دینے اور یونیورسٹی انتظامیہ کا دفاع کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے باوجود دونوں وزراء مودی کابینہ کا حصہ برقرار رہے۔
اسمرتی ایرانی کو جولائی 2016 میں وزارتِ ٹیکسٹائل منتقل کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں انہیں وزارتِ اطلاعات و نشریات بھی سونپی گئی۔ دوسری جانب بندارو دتاتریہ نے ستمبر 2017 میں وزارتِ محنت سے استعفیٰ دیا، تاہم بعد میں انہیں ہماچل پردیش اور پھر ہریانہ کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔
اجے مشرا ٹینی
2021 میں مرکزی وزیرِ مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں چار کسان اور ایک صحافی ہلاک ہو گئے، جبکہ بعد میں ہونے والے تشدد میں بی جے پی کے تین کارکن اور اجے مشرا کا ڈرائیور بھی مارے گئے۔
اس واقعے کے بعد اجے مشرا ٹینی کے استعفے کا مطالبہ ملک بھر میں شدت اختیار کر گیا، مگر وہ تقریباً تین برس تک اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ بالآخر 2024 کے عام انتخابات میں انتخابی شکست کے بعد وہ وزارت سے باہر ہوئے۔
ہرش وردھن
مودی حکومت میں عوامی دباؤ کے نتیجے میں کسی وزیر کے منصب چھوڑنے کی نمایاں مثال صرف کورونا وبا کے دوران سامنے آئی۔
2021 میں جب بھارت کورونا کی دوسری اور نہایت مہلک لہر سے گزر رہا تھا اور حکومت کے ردِعمل پر شدید تنقید ہو رہی تھی، تو اُس وقت کے مرکزی وزیرِ صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے کے بعد انہوں نے عملی سیاست سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔
مودی حکومت کے ناقدین اس طرزِ عمل کا موازنہ سابقہ کانگریس حکومتوں سے کرتے ہیں، جہاں داخلہ، خارجہ اور دیگر اہم وزارتوں کے وزراء نے عوامی احتساب اور سیاسی دباؤ کے نتیجے میں یا تو استعفیٰ دیا یا انہیں اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
