بھارتی صحافت عوام اور میڈیا کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو کیسے بحال کرتی ہے، اسی پر بھارت کے نیوز ایکو سسٹم کا مستقبل منحصر ہوگا۔
گزشتہ ایک ماہ سے دہلی میں امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اور بکھرتے ہوئے تعلیمی نظام کے خلاف نوجوان مسلسل سڑکوں پر ہیں۔ 20 جولائی کو جس انداز میں طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور پولیس و نیم فوجی دستوں کے ذریعے احتجاج کو دبانے کی کوشش کی گئی، وہ آزاد بھارت کی تاریخ کے متنازع واقعات میں شمار کیا جائے گا۔ مگر طاقت کے اس استعمال کے باوجود نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ احتجاج نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کا دائرہ دہلی سے نکل کر ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے۔
اس دوران بالی ووڈ کی وہ شخصیات بھی، جو طویل عرصے سے خاموش تھیں، اب اپنی آواز بلند کرنے لگی ہیں۔ بالی ووڈ کی اجتماعی خاموشی اور پھر اس میں آنے والی تبدیلی ایک الگ بحث ہے، لیکن آج ہماری توجہ اس پہلو پر ہے جو ایک صحافی کی حیثیت سے ہمارے لیے باعثِ تشویش بھی ہے اور باعثِ شرمندگی بھی—وہ ہے عوام کا صحافیوں اور میڈیا اداروں سے تیزی سے اٹھتا ہوا اعتماد۔
حکومت، وزیرِ تعلیم اور بی جے پی کے سیاسی بیانیے کے خلاف نوجوانوں نے جس شدت سے احتجاج کیا، اسی شدت سے انہوں نے مین اسٹریم میڈیا پر بھی سوالات اٹھائے۔ نوجوانوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ اب انہیں ہندو مسلم کے بیانیے میں الجھایا نہیں جا سکتا۔ ان کے اصل مسائل تعلیم، روزگار، مہنگائی اور مستقبل ہیں۔
اگرچہ صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر مین اسٹریم میڈیا کے نمائندوں کو نوجوانوں کے غصے، نفرت اور تمسخر کا سامنا کیوں کرنا پڑ
رہا ہے؟
کبھی طنزیہ شاعری کے ذریعے ان نیوز چینلوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن پر اقتدار کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کا الزام ہے، کبھی پوسٹروں میں صحافیوں اور حکمران سیاست دانوں کے مبینہ قریبی تعلقات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور بعض مواقع پر روزگار کی مجبوری میں کام کرنے والے رپورٹر بھی عوامی غصے کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگرچہ تشدد کی کوئی گنجائش نہیں، لیکن اس غصے کی
وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔
موجودہ طلبہ تحریک ماضی کی تحریکوں سے اس لیے مختلف ہے کہ نوجوان کھل کر یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ مودی حکومت اور مین اسٹریم میڈیا ایک دوسرے کے ساتھ قدم بہ قدم چلتے رہے ہیں۔ روایتی میڈیا، یعنی بڑے اخبارات اور ٹی وی نیوز چینلز، کئی دہائیوں تک عوامی رائے سازی کا سب سے بڑا ذریعہ رہے ہیں۔ بھارت میں اس وقت تقریباً 900 نجی سیٹلائٹ ٹی وی چینلز موجود ہیں، جن
میں سے تقریباً نصف خبریں نشر کرتے ہیں۔
اس کے باوجود دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس احتجاج کی قیادت وہ نسل کر رہی ہے جس نے نہ ٹی وی نیوز دیکھنے کی عادت اپنائی اور نہ ہی اخبارات کو اپنی بنیادی خبر کا ذریعہ بنایا۔ 18 سے 24 سال
کی عمر کے نصف سے زیادہ نوجوان اپنی خبریں بنیادی طور پر انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل کرتے ہیں۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نوجوان ٹی وی نہیں دیکھتے تو ان کی سب سے زیادہ تنقید ٹی وی نیوز چینلز پر کیوں ہے؟
اس کا جواب صرف ایک ہے: نئی نسل صحافت میں اصلیت اور جوابدہی تلاش کرتی ہے۔ ان کے نزدیک صحافت کا کام اقتدار کے ساتھ کھڑا ہونا نہیں بلکہ عوام کی آواز بننا ہے۔
آج صحافت کے سامنے سب سے بڑا اور مشکل سوال یہی ہے کہ عوام اور میڈیا کے درمیان اعتماد کا رشتہ کیوں ٹوٹ گیا؟
نوجوانوں نے برسوں تک دیکھا کہ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی بحران، امتحانی بدانتظامی، کسانوں کے مسائل اور سماجی عدم تحفظ جیسے بنیادی سوال یا تو خبروں سے غائب رہے یا انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ جن نیوز چینلوں کا فرض عوام کی نمائندگی کرنا تھا، وہ اکثر حکومت کے مؤقف کے ترجمان بلکہ بعض اوقات وکیل بنتے ہوئے دکھائی دیے۔ عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث کے بجائے ہندو مسلم کی سیاست کو پرائم ٹائم کا مستقل موضوع بنایا گیا، جو یقیناً حکمراں جماعت کے سیاسی بیانیے کے لیے زیادہ مفید تھا۔
گزشتہ چند برسوں میں متعدد ٹی وی نشریات نے اپنے ناظرین کو یہ تاثر دیا کہ کووڈ کا کوئی بڑا بحران نہیں تھا، تعلیمی نظام متاثر نہیں ہوا، دو برس تک اسکول بند رہنے سے کوئی نقصان نہیں ہوا، بے روزگاری کوئی بڑا مسئلہ نہیں اور مہنگائی عوام کی زندگی کا حقیقی بحران نہیں ہے۔
صبح و شام بھارت کو “وشو گرو” اور عالمی طاقت قرار دینے والے میڈیا نے شاید ہی کبھی یہ بنیادی سوال پوری سنجیدگی سے اٹھایا ہو کہ ملک میں بے روزگاری کیوں بڑھ رہی ہے، ہر سال لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار کیوں ہوتے ہیں، ستر فیصد سے زیادہ آبادی آج بھی سرکاری غذائی تحفظ اسکیموں پر کیوں منحصر ہے، سرکاری اسکولوں کا معیار کیوں گرتا جا رہا ہے اور طلبہ کے ڈراپ آؤٹ کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے۔
واضح شواہد بتاتے ہیں کہ کووڈ کے دوران لاکھوں بچے آن لائن تعلیم سے محروم رہے، امتحانی نظام بار بار بحران کا شکار ہوا اور تعلیم مکمل کرنے والے نوجوان ایک کمزور روزگار مارکیٹ میں داخل ہوئے۔
ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں ٹی وی نیوز چینلز نے ان بنیادی مسائل پر کتنا وقت صرف کیا؟
شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں تمام عمر کے افراد میں سے نصف سے زیادہ لوگ کبھی کبھار یا اکثر خبروں سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
-ایک نوجوان بجا طور پر یہ سوال پوچھ سکتا ہے:
“آج کی خبریں میری زندگی، میرے مستقبل اور میرے مسائل کے بارے میں آخر کیا بتاتی ہیں؟”
اسی خلا کو سوشل میڈیا نے پُر کیا ہے۔ آج احتجاج کی ویڈیوز، میمز، مختصر کلپس اور متبادل بیانیے سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلتے ہیں۔ نئی نسل اس زبان کو سمجھتی ہے، اسی میں گفتگو کرتی ہے اور –
اسی کے ذریعے اپنی آواز دوسروں تک پہنچاتی ہے۔
کئی سینئر صحافی نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر میڈیا کو دیکھیں، لیکن نوجوان بھی بجا طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا گزشتہ ایک دہائی کی رپورٹنگ واقعی غیر جانب دار تھی؟ کیا میڈیا نے نوجوانوں کے معاشی مستقبل، بے روزگاری، تعلیمی بحران اور امتحانی بدانتظامی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا؟ آخر صحافت کس کے سامنے جوابدہ ہونی چاہیے؟
=
اگر میڈیا اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو عوام اس سے جوابدہی کس طرح طلب کریں؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوری 2012 سے فروری 2024 کے درمیان بھارت میں 805 مرتبہ انٹرنیٹ بند کیا گیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ صرف 2025 میں بھی 65 انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن نافذ کیے گئے۔ بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بھی مسلسل تنزلی کا شکار رہا ہے۔
اگر اختلافِ رائے اور تنقید کہیں زندہ رہی تو وہ زیادہ تر ٹی وی اسٹوڈیوز میں نہیں بلکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا میں نظر آئی۔
ممکن ہے نوجوانوں اور حکومت کے درمیان موجودہ کشمکش وقت کے ساتھ ختم ہو جائے، لیکن جو بحران سب سے زیادہ سنگین ہے، وہ عوام اور میڈیا کے درمیان اعتماد کے رشتے کا ٹوٹ جانا ہے۔
بھارتی صحافت کے سامنے آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے خود احتسابی، غیر جانب داری اور عوامی مسائل کی طرف واپس لوٹے گی، یا اقتدار کے قریب رہنے کی قیمت عوام کے اعتماد کی صورت میں ادا کرتی رہے گی؟
بھارت کے نیوز ایکو سسٹم کا مستقبل اسی فیصلے پر منحصر ہے۔
اور شاید سب سے اہم سوال یہی ہے:
کیا نئی نسل دوبارہ مین اسٹریم میڈیا پر اعتماد کرے گی، یا اپنی خبریں، اپنی آواز اور اپنی امید ہمیشہ کے لیے متبادل پلیٹ فارمز میں تلاش کرے گی؟
